زبانوں کی تو تو میں میں!

Spread the love


خضر شمیم

خدا کی اس سرزمین پر مختلف زبانیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں ، کتنی زبانیں مر جاتی ہیں اور کتنی ہی نئی زبانیں ان کی جگہ لے لیتی ہیں ۔ ہر زبان کی اپنی کچھ الگ الگ خصوصیات ہوتی ہیں ، الگ الگ محاورے ، الگ الگ آوازیں اور اظہار کے طریقے ہوتے ہیں ۔ اب دیکھئے کہ ہر آواز ہر زبان میں نہیں ہوتی ۔ مثلاً روسی زبان کو ہی دیکھ لیجئے جس میں "ح/ہ” کی آواز نہیں ہوتی لہذا وہ محمد کو مخمد اور احمد کو اخمد بولتے ہیں ، آپ ان سے کتنی بھی کوشش کروا لیں مگر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ح/ہ نہ بولنے کی قسم کھا لی ہو ۔ مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کیوں ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ چونکہ وہ اتنے ٹھنڈے اور برفیلے علاقے میں رہتے تھے کہ انہیں لگتا رہا ہوگا کہ اگر وہ ہ/ح بولنے کے لئے پورا منہھ کھولیں تو برف ان کے منہ میں گھس جائے گی لہذا وہ خ بولنے پر ہی اکتفا کر لیتے تھے ۔ اور آپ کو ہنسی تو اس وقت آئے گی جب روسی لوگ قہقہہ لگانے کے لئے منھ کھولتے ہیں تب بھی ہاہاہاہا کے بجائے خاخاخاخا کہتے ہیں مطلب کہ انٹرجیکشن (Interjection) میں بھی ہ کے بجائے خ کا استعمال کرنا نہیں بھولتے۔
وہیں دوسری طرف ارطغرل کی قوم عثمانی ترک ہیں جو روسیوں کی مخالفت اس طرح کرتے ہیں کہ خ کبھی نہیں بولتے بلکہ اس کی جگہ بھی ہ کا استعمال ہی کرتے ہیں ۔ دھیان رہے کہ میں یہ بات صرف عثمانی ترکوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں مرکزی ایشیا (Central Asia ) کے ترکوں کے بارے میں نہیں جو پوری فراخدلی اور سخاوت سے خ بھی بولتے ہیں اور ہ بھی ۔ جو شخص بھی عثمانی اور روسی تاریخ سے واقف ہے وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ماضی میں یہ دونوں سلطنتیں ایک دوسرے کی کتنی سخت دشمن رہ چکی ہیں اور آپس میں کتنی جنگیں لڑ چکی ہیں ۔ اصل میں روس میں آرتھوڈوکس مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور قسطنطنیہ آرتھوڈوکس مذہب کے لوگوں کا مکہ کی حیثیت رکھتا تھا یہاں تک کہ 29 مئی 1453 کو عثمانیوں نے محمد فاتح کی قیادت میں اس شہر کو فتح کر لیا ۔ تبھی سے روسی زاروں (Russian Tzars ) کے دل میں اس کو لے کر ہمیشہ ٹیسیں اٹھتی رہیں اور وہ اس کو پھر سے حاصل کرنے کے لئے عثمانیوں سے ہمیشہ برسرپیکار رہے ۔ بلکہ خلیفہ عبد الحمید ثانی (1842 – 1918 ) کے دور میں ایک مرتبہ 1878 عیسوی میں تو روسی فوجیں قسطنطنیہ کے بہت قریب تک پہنچ گئی تھیں اور انہوں نے ادرنہ (Adrianople) فتح کر لیا تھا جو کہ استانبول سے بہت نزدیک ہے اور قریب تھا کہ عثمانی سلطنت کا چراغ گل ہو جاتا اگر انگریزوں نے عین وقت پر مداخلت کرکے روس کو ایسا کرنے سے روکا نہ ہوتا ۔ انگریزوں کے اس میں اپنے مفادات تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ روس کو گرم پانی یعنی بحر روم تک پہنچنے دیں کیونکہ اس سے ان کے مفادات خطرے میں آ جاتے ۔
بہرحال بات زبان کی ہو رہی تھی تو یہ میں سلطنتوں کی تاریخ میں کہاں گھس آیا لیکن یہ بھی تو ہے کہ زبان کی تاریخ کو قوموں کی تاریخ سے الگ کرکے دیکھا نہیں جا سکتا ۔ ہاں تو میں یہ بتا رہا تھا کہ عثمانی ترک خ نہیں بولتے اور مجھے لگتا ہے کہ ایسا انہوں نے جان بوجھ کر روسیوں کی دشمنی اور مخالفت میں کیا ہے کیونکہ ان کی حریف قوم روسی لوگ ہ نہیں بولتے ۔ چنانچہ یہ عثمانی ترک ‘خاص’ کو Has ، خان کو Han ، خاقان کو Hakan ، خدمت کو Hizmet ، خبر کو Haber ، خوش کو Hoş ، خاطر کو Hatir ، خستہ کو Hasta ، خلافت کو Hilafet ، خدیجہ کو Hatice اور نہ جانے ایسے کتنے الفاظ ہیں جو خ سے شروع ہوتے ہیں جن کو یہ عثمانی ترک ہ سے بولتے ہیں ۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میں جے این یو میں ایک بار ترکی کی کلاس میں تھا اور میرے ترک استاذ بتانے لگے کہ وہ کل حوض خاص گھومنے گئے تھے تو جب میں نے ” حوض خاص ” کے ان دونوں لفظوں کا آپریشن کرکے انہیں بتایا کہ یہ دونوں لفظ ان کی ترکی زبان میں بھی پائے جاتے ہیں اور اگر ہم اسے ترکی میں کہنا چاہیں تو اسے Havuz Has کہہ سکتے ہیں تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

جو شخص بھی عثمانی اور روسی تاریخ سے واقف ہے وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ماضی میں یہ دونوں سلطنتیں ایک دوسرے کی کتنی سخت دشمن رہ چکی ہیں اور آپس میں کتنی جنگیں لڑ چکی ہیں ۔ اصل میں روس میں آرتھوڈوکس مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور قسطنطنیہ آرتھوڈوکس مذہب کے لوگوں کا مکہ کی حیثیت رکھتا تھا یہاں تک کہ 29 مئی 1453 کو عثمانیوں نے محمد فاتح کی قیادت میں اس شہر کو فتح کر لیا ۔ تبھی سے روسی زاروں (Russian Tzars ) کے دل میں اس کو لے کر ہمیشہ ٹیسیں اٹھتی رہیں اور وہ اس کو پھر سے حاصل کرنے کے لئے عثمانیوں سے ہمیشہ برسرپیکار رہے ۔ بلکہ خلیفہ عبد الحمید ثانی (1842 – 1918 ) کے دور میں ایک مرتبہ 1878 عیسوی میں تو روسی فوجیں قسطنطنیہ کے بہت قریب تک پہنچ گئی تھیں اور انہوں نے ادرنہ (Adrianople) فتح کر لیا تھا جو کہ استانبول سے بہت نزدیک ہے اور قریب تھا کہ عثمانی سلطنت کا چراغ گل ہو جاتا اگر انگریزوں نے عین وقت پر مداخلت کرکے روس کو ایسا کرنے سے روکا نہ ہوتا ۔ انگریزوں کے اس میں اپنے مفادات تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ روس کو گرم پانی یعنی بحر روم تک پہنچنے دیں کیونکہ اس سے ان کے مفادات خطرے میں آ جاتے ۔

وہیں دوسری طرف عربوں اور یہودیوں کو لیجیے تو یہ دشمنی اور بھی زیادہ واضح صورت میں نظر آئے گی اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہودیوں نے اپنے آپ کو عربوں سے ہر طرح سے ممتاز کرنے کے لئے عبرانی زبان میں بھی خوب آپریشن کیا ہے ۔ عبرانی زبان بھی چونکہ سامی خاندان سے تعلق رکھتی ہےاس لئے عربی سے بہت ملتی جلتی ہے لیکن یورپ سے آئے اشکنازی یہودیوں ( Ashkenazi Jews ) نے اس کے تلفظ کو ایسا بگاڑ کے رکھ دیا ہےکہ اگر اب آپ کسی کو عبرانی بولتے ہوئے سنیں تو آپ کو لگے گا کہ آپ سامی خاندان سےتعلق رکھنے والی ایک زبان نہیں سن رہیں بلکہ کوئی یوروپی زبان سن رہے ہیں ۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ عبرانی زبان میں حرف ع اور حرف ق دونوں پائے جاتے ہیں لیکن صرف وجود کی حد تک ۔ آج کے یہودی انہیں تلفظ نہیں کرتے ، وہ ع کو الف اور ق کو ک کے طور پر بولتے ہیں ۔ اور جیسے اتنا کرنا کافی نہیں تھا تو انہوں نے آگے بڑھ کر مزید آپریشن کرنا شروع کیا اور یہ کیا کہ جہاں پر عربی میں بڑی شین استعمال کرتے ہیں وہاں پر وہ چھوٹی سین استعمال کرنے لگیں اور جہاں پر ہم اہل عرب (اگر میں اپنے آپ کو زبانی اعتبار سے عرب میں شمار کر لوں ) چھوٹی سین یا حرف ث استعمال کرتے ہیں وہاں پر وہ بڑی شین استعمال کرنے لگے چنانچہ وہ "تسعہ” کو تو تشعہ (תשעה) بولتے ہیں لیکن عشرہ کو عسرہ (עשׂרה) بولتے ہیں ، اسی طرح سلام کو شلوم (שלום) ، سمع کو شمع (שמע) ، رأس کو روش (ראש) ، سنہ کو شنہ (שנה) ، لباس کو لبوش (לבוש) ، سماء کو شماییم (שמים) ، رسمی کو رشمی (רשמי) سوق کو شوق (שוק ) ، شعر بمعنی بال کو سعر (שׂער ) ، شفہ کو سفہ (שׂפה ) ، شمال کو سمول (שׂמאל ) اور نہ جانے ایسے کتنے یکساں الفاظ دونوں زبانوں میں ہیں جنہیں عرب اگر سین سے تلفظ کرتے ہیں تو یہود شین سے اور اگر وہ الفاظ عربی میں شین سے ہے تو یہودی لوگ اسے سین سے تلفظ کرتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے سیاسی دشمنی کی شدت اور حدت میں یہودیوں نے زبانی محاذ پر بھی جنگ چھیڑ رکھی ہو ۔
اب آتے ہیں اپنے برصغیر میں ۔ جب ہم برصغیر اور اہل برصغیر پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عربوں کو اگر اس بات پر فخر ہے کہ وہ اہل ضاد ہیں تو ہم ہندی مسلمان اس پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہم بھی تو یہاں ہنود کے درمیان اہل "ز” ہونے کا شرف رکھتے ہیں ۔ یہ بہت معلوم چیز ہے کہ برادرانِ وطن ز/ذ نہیں بول پاتے ہیں اور اس کی جگہ بھی وہ ج بولتے ہیں ۔ چنانچہ ذلیل کو جلیل ، ظہور میاں کو جہور میاں ، ظالم کو جالم ، ظلمت کو جلمت ، مظلوم کو مجلوم اور ظاہر کو جاہر بولنے پر مجبور ہیں ۔ اور یقین مانئے کہ جب وہ ذائقہ کو جائقہ بولتے ہیں تو زبان کا پورا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ انہیں اس محرومی کا احساس نہیں ہے لہذا وہ برابر اس کی اصلاح کے لئے تگ و دو میں رہتے ہیں اور دیکھئے کہ اب تو انہوں نے اپنی زبان میں ز کے لئے ایک الگ حرف بھی بنا لیا ہے ज़ ۔ لیکن چونکہ وہ بیچارے یہ نہیں جانتے کہ کونسا لفظ ز اور ذ سے ہے اور کونسا لفظ ج سے اس لئے بار بار لڑکھڑا کر گر پڑتے ہیں جیسے محبوبہ کی زدائی میں عاشق کا ذہن لڑکھڑا جاتا ہے اور اس کی جندگی کا سارا مجہ کھراب ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بہت مزبور سمجھنے لگتا ہے ۔ اور تبھی تو زی نیوز والے جہاد کو زہاد کہنے پر مجبور ہیں ۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو ہم اپنی ہنسی پر قابو نہیں پا پاتے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں کچھ احساسِ برتری ہوتا ہے کہ ہم اگر اہل ض نہیں ہیں تو کیا ہوا کم از کم اہل ز تو ہیں ۔

خضر شمیم

خضر شمیم

Muhammad Khizr Shamim hails from Muzaffar pur, Bihar. After learning the Quran by heart in his childhood, he turned to the famous seminary Madrasa al-Islah and there studied up to Fazilat. For higher education, he got admitted at Jawaharlal Nehru University in Delhi, where he did BA and MA in Arabic Language and Literature, then worked for a few months at Amazon and now works as a freelancer. From time to time his articles keep on appearing on various newspapers and social media platforms. You may contact him: [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے