کٹاس راج کی بھڑیں

Spread the love


آوارہ گرد کی ڈائری
مبشر سلیم
ڈاکٹر مبشر سلیم کا تعلق پاکستان سے ہے, پیشے وہ ڈاکٹر ہیں, مگر قلم اور کیمرے سے انہیں جنون کی حد تک لگاؤ ہے, خوبصورت تصویروں کے ساتھ خوبصورت تحریریں وجود میں لانا ان کا خاصہ ہے, ان کی ایک کتاب بھی ہے "کلینک سے کتاب تک”. بقول شہباز ملک "مبشر سلیم پرفیکشنسٹ نہیں ہیں لیکن زندگی کے رنگوں سے لطف کشید کرنا جانتے ہیں ۔ پروگریسیو ذہن رکھتے ہیں لیکن اپنے ماضی و حال سے محبت کا جو اظہار ان کے افسانوں میں ملتا ہے وہ واقعی چشم بینا کا بنایا ہوا ایک معصوم سا عکس ہے اور “کلینک سے کتاب تک” ایسے ہی معصوم دلوں کے تار چھیڑنے کی ایک شاندار کاوش ہے”۔
زیر نظر ان کا یہ مضمون ایک تاریخی ورثہ کے تئیں حکومت و عوام کی ناقدری پر شکوہ کناں ہے۔



کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ بہت تاریخی اہمیت کی حامل جگہ ہے. مقدس مقام ہے. وہاں پر سیاحوں کو بھی ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے۔ یہ جگہ ناصرف ہندوؤں بلکہ بدھ مت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی مقدس جگہ ہے. ہزاروں لوگ بھارت اور دوسرے ممالک سے ہرسال اس جگہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس لیئے جانے سے پہلے ذہن میں ایک بہت صاف شفاف اور پرسکون جگہ کا تصور تھا۔۔

لیکن وہاں جانے کے بعد معلوم ہوا یہ جگہ بھی پاکستان کی دوسری تاریخی جگہوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک مندر کے قریب کچھ لوگ باربی کیو کا اہتمام کررہے تھے اور دوسرے مندر کے ساتھ چاول پک رہے تھے۔ ایک جگہ کچھ نوجوان چپس کھاتے ہوئے، کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں سے مندر کی دیواروں کا نشانہ لے رہے تھے۔نسبتاً کھلی جگہ، ایک فیملی دستر خوان بچھائے کھانے کا اہتمام کررہی تھی۔ کچھ نوجوان مندر کے اوپر چڑھنے کی شرط پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے تو کسی کو کھڑکیوں پر چڑھ کر سیلفی بنانے کا شوق ستا رھا تھا۔ اور یوں ایک دیومالائی جگہ کی تصویر جو کئی سالوں سے میں نے سنبھال کررکھی تھی.چند گھنٹوں کے قیام کے بعد ٹوٹ چکی تھی۔
متعدد ہندو دیو مالائی داستانوں کے مطابق شیو نامی دیوتا نے ستی نامی دیوی کے ساتھ شادی کے بعد کئی سال کٹاس راج میں ہی گزارے تھے۔

چوآ سیدن شاہ سے کچھ ہی دوری پر کٹاس کا کمپلکس واقع ہے۔ جو سات مندروں اور بدھ مت اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا ایک سلسلہ ہے. دو ہزار پانچ میں جب بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی پاکستان آئے تھے تو انہوں نے خاص طور پر کٹاس راج کی یاترا کی تھی.
ہندو عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی سیتا کا جب انتقال ہوا تھا تو شیو کے آنسوؤں سے دو لڑیاں جاری ہوگئی تھیں جن سے پانی کے دو تالاب وجود میں آئے تھے ۔ ایک تو بھارت میں پشکارجو اب نینی تال کہلاتا ہے، میں وجود میں آیا تھا اوردوسرا کٹاشکا میں بنا تھا.جو بگڑتے بگڑتے اب کٹاس رہ گیا ہے۔لیکن کچھ داستانوں میں ذکر ہے کہ شیو جی پتنی کے مرنے پر نہیں بلکہ اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کے مرنےپر روئے تھے،۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو، شیو جی روئے ضرور تھے۔

اس تالاب کے پانی کو مقدس جانا جاتا ہے اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے عقیدے کے مطابق مخصوص تہواروں کے موقع پر اس میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔کٹاس راج کے تالاب کی گہرائی تیس فٹ ہے اور یہ تالاب آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ علاقے میں قائم سیمنٹ فیکٹریاں بتائی جاتی ہیں.لیکن ایک مقامی بندے کے مطابق اس پانی میں کمی کی وجہ چوہا سیدن شاہ کے کیڈٹ کالج میں لگے ٹیوب ویل ہیں۔
ایک ہندو روایت کے مطابق کوروں کے ساتھ لڑائی کے بعد شکست کھا کر پانڈوں نے بارہ سال کٹاس میں گزارے تھے۔ جس دوران انہوں نے متعدد مندر تعمیر کروائے۔پانڈوں اور کوروں بارے مزید بات ہسٹری میڈ ایزی میں کیا جائے گا..اس روایت سے ان مندروں کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوروں اور پانڈوں یعنی مہا بھارت کے زمانے سے پہلے کٹاس کے یہ مندر موجود تھے۔





ایک.مندر میں گھسا تو ایک جوڑا رازو نیاز میں مصروف تھا…شرمندہ ہوکر دوسرے کا رخ کیا تو بھڑوں نے حملہ کر دیا…حویلی کا رخ کیا تو انتطامیہ نے دروازے بند کرکے تالہ لگا دیا….جس مندر کی نزئین و آرائش کی گئی ہے وہاں جانے سے لوگوں نے روک دیا کہ بھڑیں بہت ہیں..
کٹاس کی شہرت کی ایک وجہ وہ قدرتی چشمے بھی ہیں، جن کا پانی مل کرگنیا نالہ کو وجود میں لاتے ہیں۔۔

سکھ جنرل نلوا نے کٹاس راج میں جو حویلی تعمیر کروائی، اس کے چند جھروکے آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں.رش کی وجہ سے حویلی کے دروازوں کو تالے لگا کر بند کردیا گیا تھا.اس لیئے حویلی کہ سیر جھڑکوں تک محدود رہی۔۔
اگرچہ ہمیں تو کہیں نظر نہیں آئیں لیکن ایک گائیڈ نے بتایا کہ کٹاس راج کے مندروں اور دوسری عمارات کے کئی حصوں میں مونگے کی چٹانوں، جانوروں کی ہڈیوں اور فوصل شدہ آبی حیات کی ایسی قدیم باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان صدیوں پرانے آثار کی تعمیر میں سمندری یا دریائی پانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
مقامی لوگوں سے یہ بھی سننے میں آیا کہ البیرونی نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کرہ ارض کا قطر ماپا تھا۔۔
بحرحال تاریخی اہمیت کی یہ جگہ اگر کسی بھی زندہ قوم کے پاس ہوتی تو یقینا ایک عظیم تاریخی ورثہ سمجھ کر اسے اپنے ملک کی پہچان بنا کر پوری دنیا میں متعارف کروایا جارہا ہوتا۔۔
اور یہاں محض ایک پکنک پوائنٹ کا درجہ لیئے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے