جے این یو طلبہ: آپ ہماری واحد امید ہیں!

Spread the love


اویجیت پاٹھک
ایک ایسے وقت میں کہ جب جھوٹ آفیشیل نظریہ بن چکا ہے، برائی اچھائی میں تبدیل ہوچکی ہے، آمریت کو جمہوریت کا نام دیا جانے لگا ہے، اور بھدا یکطرفہ ڈائیلاگ فیصلہ سازی کا آرٹ بن چکا ہے، میں جے.این.یو طلباء سے گزارش کروں گا کہ وہ پر عزم رہیں اور ساتھ‌ ہی ساتھ انتہائی پر امن بھی۔
(یہ مضمون دی وائر انگلش میں 17 نومبر 2019 کو شائع ہوچکا ہے)

میں یہ مضمون شدید درد اور اضطراب کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک بار پھر ہنگامہ برپا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتہائی بے حس / غیر مکالماتی انتظامیہ ، اور طلبہ برادری کی تکلیف کی وجہ سے یونیورسٹی سیکھنے سکھانے اور پڑھنے پڑھانے کے ماحول کے لئے ضروری چیزوں کو کھو رہی ہے، یعنی: ہمدردی ، کمیونیکیشن اور ڈائیلاگ۔
بحیثیت ایک استاد ، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں معاشرے کو ضرور بتلانا چاہئے چاہئے کہ اصل بحران کیا ہے ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کہ پروپیگنڈا مشینری یونیورسٹی اور اس کی طلباء برادری کو بدنام کرنے میں سرگرم عمل ہے۔
شور و غل مچانے والا ٹی وی چینل اور نظروں سے اوجھل شخص کی موجودگی
سب سے پہلے تو مجھے یہ بتانے دیجئے کہ مدت ہوگئی وائس چانسلر کا دیدار کئے ہوئے، اور یہ میرے لئے نہات حیران کن بھی ہے کیونکہ میں نے اپنے دوسرے وائس چانسلرز کو چلتے پھرتے، مسکراتے، طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ گفتگو کرتے، شاپنگ کمپلیکس کا دورہ کرتے، آلو پیاز خریدتے ، اور کسی دوسرے عام پروفیسر کی طرح برتاؤ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ہمارے طلباء بھی ان سے ملاقات کرنے اور بہت سارے ایشوز پر کھل کر گفتگو کرنے کے لئے ان کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، خاص طور پر اس مکمل تنازع کے بارے میں جو کہ ہاسٹل کے نئے قانون پرمبنی ہے، لیکن ان سے ملاقات مشکل ہے، حالانکہ ایک ’قلعہ‘ موجود ہے ، جہاں میں ، یقین کرتا ہوں کہ وہ آتے ہیں ، اور اپنے نائبوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے سرکلر اور شوکاز نوٹسز کے ذریعے ہم پر بمباری کریں۔
تاہم ایک دن، ایک طالب علم نے مجھے اطلاع دی کہ سر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، ہمارے وی سی اب منظر عام پر عام پر آچکے ہیں، میں نے پوچھا کہاں تو اس نے کہا کہ سر ذرا فلاں ٹی وی چینل آن کریں، یہ ٹی وی چینل اپنے بے ہنگم شور و غل مچانے والے اینکر کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے جو کہ بنیادی طور پر "ریپبلک” کی تقدیر سے منسلک ہے، اگرچہ میں ہائپر ریئل ٹیلیویژن شوز کا زیادہ شوق نہیں رکھتا ہوں ، لیکن چونکہ معاملہ یہاں ہمارے وائس چانسلر سے جڑا ہوا تھا، اس لئے کسی نہ کسی طریقے سے چینل دیکھنے کی کوشش کی۔
میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا ہوجاتا اگر اس ’نیشنلسٹ‘ اینکر کے ساتھ اپنا بے حد ‘قیمتی‘ وقت گزارنے کے بجائے ، وہ کچھ لمحے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ بانٹ دیتے؟ لیکن کیا ہی کرسکتے ہیں ان کی اپنی ترجیحات مختلف ہیں۔
ٹیلیویزن چینل اس پورے جدو جہد کو منفی طریقے سے دیکھتا ہے، وہ اسے act of ‘vandalism’ گردانتا ہے، اور مجھے تعجب بھی نہیں ہے، مارکیٹ پر چلنے والی ثقافتی قوم پرستی کے مباحثے میں شامل اسٹیبلشمنٹ ، امکانی آمریت کے دور میں ، ان چینلز کے ذریعہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ جے این یو کو حد درجہ لاڈ پیار دیا چکا ہے، حالانکہ اس کے طلباء انتشار پسند ہیں ، اور اس کے اساتذہ ‘بائیں بازو کی جماعتوں’ کا ایک گروپ ہے- وہ اس وائس چانسلر کو پریشان کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جو واقعی یونیورسٹی میں ڈسپلن لانے ، نظم و ضبط بحال کرنے ، اینٹی نیشنل طلباء کی ‘بدانتظامیوں’ کی اصلاح کرنے، اور یونیورسٹی کو ‘مرکزی دھارے’ کے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس نوعیت کے کسی چینل پر وائس چانسلر کو دیکھ کر زیادہ افسوس نہیں ہوا۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ چیخنے والے اینکر کی زبان بنیادی طور پر اس جے این یو انتظامیہ سے مختلف نہیں ہے جس کی وہ قیادت کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو کسی بھی احتجاج یا اختلاف رائے کے کسی بھی عمل کی یہ کہہ کر تضحیک کرنے میں ذرا بھی عار نہیں ہے کہ یہ طلباء اور اساتذہ کے ایک "چھوٹے سیکشن” کے ذریعہ شروع کیا گیا ’’ خلل انگیز ‘‘ برتاؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کو چارج شیٹ جاری کی جارہی ہیں ، اور جے این یو گیٹ کے باہر پولیس کی موجودگی کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ طلباء کی تحریک غنڈہ گردی اور توڑپھوڑ کے کام کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کون ان ٹیلی ویژن اینکروں کو جانکاری فراہم کرے گا؟ انہیں کون بتلائے گا کہ جے این یو میں ہم انتظامیہ کے تیار کردہ جھوٹ کے بنڈل کے درمیان رہتے ہیں؟ مثال کے طور پر ، نہ تو وائس چانسلر اور نہ ہی ریکٹرس یونیورسٹی کے حالیہ EC اجلاس کے انعقاد کے لئے کنونشن سینٹر میں حاضر ہوئے۔ اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ، اجلاس کے مقام کو تبدیل کردیا گیا – ٹیچنگ کمیونٹی میں سے منتخب ممبران کنونشن سینٹر میں انتظار کرتے رہے ، اور آخری وقت پر ہی انہیں اجلاس کے نئے مقام سے آگاہ کیا گیا۔
اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکے۔ یہ حقیقت میں کسی متبادل آواز کے امکان کو ختم کرنے جیسا تھا۔
پھر بھی ، انتظامیہ اتنی بے شرم ہے کہ اس نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا کہ ای سی ممبروں کو کنونشن سنٹر میں داخل ہونے سے روکا گیا ، اور اسی وجہ سے ای سی کا اجلاس کہیں اور ہوا۔ کون کس کو بے وقوف بنا رہا ہے؟ یہ "نیا نارمل” ہے–اب جھوٹ آفیشیل نظریہ بن چکا ہے، برائی اچھائی میں تبدیل ہوچکی ہے، آمریت کو جمہوریت کا نام دیا جانے لگا ہے، اور بھدا یکطرفہ ڈائیلاگ فیصلہ سازی کا آرٹ بن چکا ہے۔
یہ اس معنی میں اگر دیکھا جائے تو وائس چانسلر واقعی یونیورسٹی کو قومی دھارے کے قریب لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ممکنہ طور پر ، انہوں نے بگ باس سے کچھ اہم سبق سیکھے ہیں۔
طالب علمی اور عدم تشدد کا فن
مجھے اپنے طلباء کی فکر ہے۔ میں ان کی تکلیف کی وجوہات کو سمجھتا ہوں۔ ایک ضدی / غیر مکالماتی انتظامیہ بنیادی طور پر موجودہ بحران کا ذمہ دار ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہاسٹل مینول میں معمولی تبدیلی ان کو مطمئن کرنے والی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں احتجاج جاری رہے گا۔
اگرچہ غصہ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ غلطیاں (جیسے طلباء کے اسوسیٹ ڈین کی قید) رونما ہوئی ہیں ، لیکن میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ہمارے طلباء اس کے خطرے کو نہیں سمجھیں گے۔ ممکنہ طور پر ، جے این یو ابھی بھی اس غیر معمولی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں طلباء کافی حد تک تہذیب یافتہ ، بحث و مباحثہ کرنے والے ، فکری طور پر متحرک اور نظریاتی طور پر افزودہ ہیں۔ اور میں یہ ماننے سے انکار کرتا ہوں کہ اگر وہ تنقیدی آواز یا یہ کہئے کہ اکثریتی مذہبی قوم پرستی یا نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو وہ کچھ بھی ’’ ملک مخالف ‘‘ کر رہے ہیں۔ جوان ہونے کا مطلب الرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ طبیعت میں نرمی اور سوجھ بوجھ کا حامل ہونا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر میں نے اپنے طلبا پر فخر محسوس کیا ہے۔ جب میرے ایک طالب علم نے حال ہی میں منعقدہ کانووکیشن کی تقریب کا بائیکاٹ کرنے کا انتخاب کیا تو مجھے فخر محسوس ہوا۔ اس کے اس فعل میں میں نے اس کا انضمام صحیح مقصد کے لئے لڑ رہے طلباء میں دیکھا۔ جب میں اپنے ایم اے کے نوجوان طلباء کو پوری ایمانداری اور self-criticism کے جذبے کے ساتھ مکمل بحران پر غور کرتا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے امید نظر آتی ہے۔
مزید یہ کہ ، موجودہ تحریک میں مجھے گہرا فلسفہ نظر آتا ہے۔ یہ صرف ہاسٹل کے اخراجات کو کم کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ ایک اچھی عوامی یونیورسٹی کی ضرورت کے بارے میں بھی ہے – جو کہ سستی / اچھے معیار کی تعلیم کا آئیڈیل ہو۔ یہ بہت اہم ہے ، خاص طور پر نیولبرل مارکیٹ پر چلنے والے اخلاقیات کے دور میں ، کہ جب ریاست تعلیم کے میدان سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے۔ ایسے وقت میں جب ہر طرح کی فینسی پرائیویٹ یونیورسٹیاں اعلی تعلیم کے حصول کو ایک کموڈٹی (سامان) بنانے کے عمل میں مصروف ہیں ، جے این یو طلباء ریاست کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ جب تک ریاستی فنڈ والے پبلک انسٹیٹیوشنز کے ذریعہ اچھی اور بامعنی تعلیم سب کے لئے قابل رسائی نہ ہوجائے تب تک ہمارے معاشرے کو جمہوری بنانے کا عمل نامکمل ہی رہے گا۔
یہ معاشرتی عدم مساوات کے مسلسل ری پروڈکشن کے خلاف جنگ کرنا ہے۔ یعنی علم کی پولیٹیکس جو بہت زیادہ قیمتوں والی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی ترقی کی خصوصیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ٹیلیویژن اینکر جو ہر وقت ’’ قوم ‘‘ کے لئے چیختے ہیں ، وہ سمجھدار نہیں ہیں اور نہ ہی اس کو سمجھنے کے لئے اتنے تعلیم یافتہ ہیں۔
لیکن انتظامیہ کے بارے میں کیا؟ انتظامیہ یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ یونیورسٹی چلانا ‘الیکٹریکل انجینئرنگ’ نہیں ہے۔ یہ وژن کا تقاضا کرتا ہے – ایک تدریسی تخیل ، یا ایک سیاسی اخلاقی حساسیت۔
تاہم ، میں طلبہ سے یہی گزارش کروں گا کہ وہ پر عزم بھی رہیں ، اور پرامن بھی ۔ کیوں کہ تشدد کا کوئی بھی عمل – یہاں تک کہ علامتی / نفسیاتی تشدد بھی طالب علمی کے جذبے کے خلاف ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کمیونیکیشن کے سارے چینلز ٹوٹ جاتے ہیں تو کسی منفی رد عمل کے رویے کے پھوٹ پڑنے کے لئے ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ میری پریشانی یہ ہے کہ میں نے اس کے آثار دیکھنا شروع کردیئے ہیں۔ کسی بھی قیمت پر اس سے گریز کرنا ہے۔ سجھدار آوازیں غالب ہونے دیں۔
بہرحال ، ہماری امید ہمارے طلباء میں ہے – اندرونی ضمیر کی خوبصورتی سے عاری منتظمین میں نہیں۔
(اویجیت پاٹھک جے.این.یو میں سوشیالوجی کے پروفیسر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے