جہاد اور عصر حاضر

Spread the love


۱۹ نومبر ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
تاریخ عالم میں ہمیشہ تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے، حالات و ظروف کبھی یکساں نہیں رہتے، تبدیلیاں ناگریز امر ہیں، بسا اوقات کسی مخصوص وقت میں ایک چیز کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، مگر بعینہ وہی چیز کسی دوسرے وقت میں ثانوی درجہ اختیار کرلیتی ہے، کامیاب و کامران قومیں وہی ہوتیں ہیں جن کے اندر لچک ہوتی ہے، جو حالات و ظروف کے مطابق خود کو ڈھالنے کا فن جانتی ہیں، جب ضرورت فلسفہ کی ہوتی ہے تو فلسفہ میں منتہائے کمال کو پہونچتی ہیں، اور جب ضرورت سائنس کی ہوتی ہے تو سائنس میں کمال حاصل کرتی ہیں، غرضیکہ ہر معاملے میں حکمت کے پہلو کو مد نظر رکھتی ہیں۔
کچھ یہی معاملہ جہاد کا ہے، تاریخ کے پچھلے ادوار کچھ ایسے تھے کہ سلطنتوں کا زمانہ تھا، ہر ایمپائر اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ اپنی ریاست کے پھیلاؤ کا متمنی تھا، یہی وجہ ہے کہ ہر طاقتور کمزور پہ حملہ کرتا تھا، کوئی انگلی اٹھانے والا نہیں تھا، لیکن اب زمانہ بدل گیا، اب سرحدوں کا دور ہے، Territorial Integrity بہت معنی رکھتے ہیں، اب کسی ملک پہ حملہ آسان نہیں، پوری دنیا مخالف ہوجاتی ہے، معاشی اور اقتصادی پابندیاں عائد کردی جاتی ہیں، وہ دور کچھ اور تھا، آج کا دور کچھ اور ہے، ایک زمانہ تھا کہ اسلامی فوجیں سلطنتوں پہ سلطنتیں فتح کرتی جاتیں تھیں، کوئی سوال نہیں کھڑا کرتا تھا کیونکہ جنگ ایک حقیقت تھی، چاہے وہ مذہب کے دائرے میں رہ کے لڑی جائے یا ریاست کی توسیع کے خاطر، آج حال ایسا ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک پہ ڈائریکٹ رول نہیں کرسکتا ہے، کہ کسی ملک پہ حملہ کرے، اور اسے اپنا علاقہ قرار دیکر وہاں پہ اپنی حکومت قائم کردے، بلکہ اسے ہر حال میں وہیں کے باشندوں کی حکومت قائم کرنی ہوتی ہے۔
آج کے دور میں جب جدید تاریخ داں تاریخ پہ نظر ڈالتے ہیں، تو پچھلے واقعات کو آج کے Parameters پہ تولنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب وہ اسلام کے نظریہ جہاد کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ بس کیجئے، اسلام جہاد ہی کے ذریعہ پھیلا، اسلام کے نیچر ہی میں شدت، سختی اور غیر مسلموں سے نفرت ہے، پھر جب یہ بات مسلمانوں کو معلوم ہوتی ہے تو وہ Apologetic ہوجاتے ہیں، اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں، طرح طرح کے دلائل اور الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں کہ کہاں اسلام اور کہاں تلوار، اسلام تو صوفیوں کے ذریعہ پھیلا، تاجروں کے ذریعہ پھیلا، اِن کے ذریعہ پھیلا، اُن کے ذریعہ پھیلا، غرضیکہ جس طریقے سے ممکن ہوسکتا ہے، اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں وہ دوسری انتہا پہ جاکے اسلام کے پھیلاؤ میں جہاد کے Contribution پہ سوالیہ نشان کھڑا کردیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے پھیلاؤ میں لوگوں کی جہاں انفرادی کوششیں شامل ہیں، وہیں جہاد کا بھی بہت رول رہا ہے، بھلا بتائیے مسلم فوجیں اگر دوسرے ممالک پہ حملہ آور نہ ہوتیں، تو وہاں کے باشندگان مسلمانوں کے اخلاق سے متاثر کیسے ہوتے، یا انہیں پتہ کیسے چل پاتا کہ اس دین کے ماننے والے کیسے ہوتے ہیں، اور پھر اگر جہاد نہ ہوتا تو مسلمانوں کا اتنا بڑا ایمپائر کیسے کھڑا ہوتا۔
جہاد اسلام کی ایک حقیقت ہے، اس کا انکار کرنا گویا سورج کا انکار کرنا ہے، اصل یہ ہے کہ جو لوگ اس پہ سوال اٹھاتے ہیں ان کو کاؤنٹر کیسے کیا جائے؟ تو اس سلسلے ایک اہم بات یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ فتوحات یاد رکھتی ہے، ہارنے والے ماضی کے صفحات میں گم ہوجایا کرتے ہیں، جنگیں اس دور کی حقیقت تھیں، ہر ایمپائر دوسرے ایمپائر کے خلاف لڑتا تھا، خود ہندوستان کی تاریخ دیکھ لیجئے، کس طرح چھوٹی چھوٹی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف دست گریباں رہتی تھیں، یا کس طرح صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے خلاف جنگ کو عیسائی پادریوں نے مقدس قرار دیا تھا، غرضیکہ جنگیں کس نے نہیں کیں، سابقہ ادوار میں جس کو بھی موقع ملا، اس نے اپنی فکر، اپنی سوچ یا اپنے مذہب کے پھیلاؤ کے لئے جنگ کی، مسلمانوں نے بھی کی، تو اس میں پرابلم کیا ہے، ہاں ما بہ الامتیاز جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنے مذہب کو مفتوحین پہ Impose نہیں کیا، ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، "لا اکراہ فی الدین” کے فارمولے پہ عمل کیا، اور ان کی حفاظت اور سیکورٹی کا کام انجام دیا، اس کی سب سے بڑی مثال خود ہندوستان ہے، مسلمانوں نے یہاں جتنے سالوں تک حکومت کی، اگر زبردستی تبدیلی مذہب ان کے نیچر میں ہوتا تو شاید آج ہندوستان میں ایک بھی غیر مسلم دکھائی نہ دیتا، اور نہ ہی ان کے صدیوں پرانے منادر و معابد باقی رہتے۔
کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جب جنگیں اس دور کی حقیقت تھیں، تو پھر اپنے ہی قوم کے جنگوں پہ کیا افسوس جتلانا، یا کیا اس پہ Defensive ہونا، جس طرح سب جنگ کرتے تھے، ہم نے بھی کیں، اب یہ الگ بات ہے کہ چونکہ تاریخ ہماری فتوحات سے بھری ہوئی ہے اس لئے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارے نیچر میں شدت پسندی ہے، جب کہ ایسا بالکل نہیں، شدت پسندی کا دور دور تک ہم سے کوئی واسطہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کو Interprete کیسے کریں، کیا آج بھی وہی معنی مراد لیں جو کبھی جہاد کا خاصہ تھا، یعنی تلواروں اور گھوڑوں سے جہاد کرنا، ایک ملک کا دوسرے ملک پہ مذہب اسلام کے نام پہ حملہ کرنا، یا جدید ہتھیاروں کے ذریعہ پوری کی پوری آبادیوں کو تباہ کرنا، عمارات منہدم کرنا یا پھر جہاد کو دور حاضر کے اعتبار سے کسی اور سینس میں استعمال کیا جائے۔
اس سلسلے میں جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ "جہاد” عربی لفظ ہے، جس کے معنی کوشش اور جد و جہد کرنے کے ہوتے ہیں، قران و حدیث میں جہاد کی مختلف شکلیں بتائی گئیں ہیں، جہاد بالنفس، جہاد بالمال اور جہاد بالقلم وغیرہ وغیرہ، ہر قسم کے جہاد کے مقصد صرف اور صرف ایک ہے، اور وہ ہے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اسلام پہونچانا، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو خیبر کی طرف روانہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا، "دھیرے دھیرے جانا یہاں تک کہ ان کے میدان میں پہونچ جانا، پھر انہیں اسلام کی دعوت دینا اور اللہ تعالی کے جو حقوق ان پر فرض ہیں ان کے بارے میں انہیں بتلانا، اللہ کی قسم (یاد رکھو) کہ اللہ تعالی تمہارے ذریعہ سے کسی کو ہدایت دیدے یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔” (صحیح مسلم: 2604).”
معلوم ہوا دعوت کا کام ہی اصل مقصود و مطلوب ہے، چاہے کسی بھی ذریعہ سے ہو، حالات و ادوار کے اعتبار سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کس دور میں کون سا جہاد بہتر ہے، یا کس جگہ کون سا Method استعمال کیا جانا چاہیئے، اگر جنگ کئے بغیر لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا جاسکتا ہے، تو پھر جنگ کی ضرورت ہی کیا ہے، اب دیکھئیے آج کے ادوار میں دعوت پھیلانا کتنا آسان ہے، اب مختلف ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے گھر گھر اور ہاتھوں ہاتھوں تک اسلام کے دعوت کو پہونچایا جاسکتا ہے، پہلے زمانے میں مختلف قسم کے Restrictions (پابندیاں) عائد تھیں، جنہیں ختم کئے بغیر دعوت کے کام کو انجام نہیں دیا جاسکتا تھا، ان پابندیوں کو توڑنے کے لئے جہاد ناگریز عمل تھا، جب کہ آج کے دور میں ایسا نہیں ہے، جمہوریت کا دور ہے، پوری دنیا نے Idealism (مثالیت) کو اپنا طرز زندگی قرار دے دیا ہے، امن و سلامتی کو انسانی زندگی کا جزء لاینفک اور جنگوں کو مسئلوں کے حل کے بجائے خود ایک مسئلہ مان لیا ہے، آزادی کے ساتھ کسی بھی مذہب کو قبول کرنے، اسے پھیلانے اور اس کی نشر و اشاعت کو انسان کے بنیادی حقوق میں شمار کرلیا گیا ہے، غرضیکہ اب کوئی ایسی پریشانی رہی نہیں جسے ختم کئے بغیر دعوت نہیں پھیلائی جاسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے جتنی تیزی سے یوروپ اور امریکہ میں لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے پہ کام ہورہا ہے، لوگ ڈر رہے ہیں کہ اگر یہی حالت رہی تو کچھ دن میں آدھا یوروپ مسلمان نظر آئے گا، جیسا کہ مختلف رپورٹیں اس ڈر کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔
آج کا دور میدان میں جہاد کرنے کا نہیں، بلکہ ذہنوں میں جہاد کرنے کا دور ہے، اکیڈمک وار کا دور ہے، آئیڈیاز اور نظریات کی جنگ ہے، اور یہ جنگ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے سطح پہ کررہے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا میں جتنی بھی تنظیمیں جہاد کے نام پہ وجود میں آئی ہیں، چاہے وہ القاعدہ ہوں، دولت اسلامیہ یا پھر حزب اللہ و حزب المجاھدین، ان سب نے اسلام کو بدنام کرنے کے سوا اور کیا ہی کیا ہے؟ داڑھی ٹوپی کرتے کو مشتبہ بنا دیا، غلط غلط قران و حدیث کی تشریح و توضیح سے عام لوگوں کو متنفر کردیا، اب یہ حالت ہوگئی کہ لوگ اسلام اور جہاد کے نام سے ہی ڈر جاتے ہیں، جب کہ ہمارا مذہب لوگوں کو ڈرانے کے لئے تھوڑی آیا ہے، وہ سب کو اپنا بنانے کے لئے آیا ہے۔
میں نہیں کہتا کہ آج کے دور میں جہاد ساقط ہے، ہرگز نہیں، جہاد کی ضرورت جیسے کل تھی، آج بھی ہے، بس اس کے Forms الگ الگ ہوسکتے ہیں، کل اگر تلوار کے ذریعہ جہاد کی ضروت تھی، تو آج افکار و نظریات کے ذریعہ جہاد کی ضرورت ہے، ہاں پھر جب کبھی حالات بدلیں گے، مسلمانوں کے جان و مال اور ان کے ممالک کو متحدہ خطرہ لاحق ہوگا، اور ہتھیاروں سے جہاد ناگریز امر ہوجائے گا تو ہتھیار اٹھایا جائے گا، مگر انفرادی سطح پہ نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پہ، اور پوری امت کے علماء کے Consensus (اجماع) کے ساتھ ۔
خلاصئہ کلام یہ کہ جس طرح ادوار بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح Priorities (اولیات) بدلتے رہتے ہیں، جب ضرورت تھی سیف و سنان کی، مسلمانوں نے اس کا خوب استعمال کیا، آج ضرورت ہے تعلیم و ترقی کی، تو چاہیئے کہ مسلمان اس میدان میں خوب ترقی کریں، دوسری قوموں سے مار دھاڑ اور Confrontation سے اجتناب کریں، کیونکہ مقابلہ آرائی سے کچھ ہونے والا نہیں، آنکھیں کھول کر دیکھیں، دنیا کی قومیں کس طرح ترقی کے بام عروج تک پہونچ رہی ہیں، ستاروں سے آگے دیگر جہانوں کی تلاش شروع ہوچکی ہے، ہم کب تک اسی بات کو لیکے بیٹھے رہیں گے کہ پوری دنیا میں حاکمیت الہ قائم ہو، کیسے قائم ہوگا، کن بنیادوں پہ قائم ہوگا، ہمارے پاس NASA جیسے ادارے نہیں، ہمارے پاس سائنٹسٹ اور انجینئر نہیں، یہاں تک کہ اسلامیات پہ بھی اچھا خاصہ ریسرچ کا کام یوروپین یونیورسٹیوں میں ہورہا ہے، اور جس لیول کا وہاں پہ ہورہا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کہیں اور ہورہا ہوگا، تو میرے بھائیو! حقیقت کی دنیا میں آئیے، اپنا اور دیگر قوموں کا کمپریزن کیجئے، پھر معلوم ہوگا کہ کس جگہ ہم کھڑے ہیں، لہذا جتنا ہوسکے ترقی کے راستے کو اپنائیے، اسلام کے دعوت کو عام کیجئے، کہ اسی میں کامیابی مضمر ہے، بقیہ کوئی بھی انفرادی کوشش جیسے جہاد کے نام پہ بم پھوڑنا، دہشت گردانہ حملہ کرنا، خود کش بمبار بننا وغیرہ وغیرہ صرف اسلام کے صاف و شفاف چہرے کو داغدار کرنے کے لئے ہوگا، اس کے سوا کچھ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے