نشانے پر اعظم خان بھی، جوہر یونیورسٹی بھی

Spread the love



کمال الدین سنابلی ،دہلی
(مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی روداد)
رامپور کے با اثر سیاسی لیڈر، سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما، رکن پارلیمنٹ اعظم خان کا ایک خواب تھا کہ وہ مسلمانوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے رامپور میں ایک یونیورسٹی قائم کریں، اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے انہوں نے رامپور کے عظیم مجاہد آزادی مولانا جوہر کے نام پر "محمد علی جوہر یونیورسٹی” قائم کرنے کے لیے یوپی کی اسمبلی میں بل پیش کیا، لیکن یہ یونیورسٹی اپنے ابتدائی ایام ہی سے سیاسی رسہ کشی کی شکار رہی، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں لیکن اسمبلی میں یونیورسٹی کا بل منظور نہ ہو سکا۔
بالآخر اعظم خان کی محنت رنگ لائی اور 2006 میں اتر پردیش اسمبلی میں محمد علی جوہر یونیورسٹی بل منظور ہو گیا، اس کے بعد اعظم خان یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات محنت کرنے لگے، ظاہر ہے یونیورسٹی پانچ دس ایکڑ میں قائم نہیں ہوتی، اس کے لیے وسیع و عریض زمین چاہیے، اعظم خان صاحب نے یونیورسٹی کے لحاظ سے شہر سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر زمین خریدنی شروع کی، کسانوں سے زمینیں خریدیں، ان کی رقوم ادا کیں اور بالآخر یونیورسٹی کے لیے قریب سات سو ایکڑ (تقریباً 150 بیگھا زمین) حاصل کرنے میں کامیاب رہے، اس کے بعد اس وسیع و عریض زمین پر عالیشان خوبصورت عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا، خوبصورت مین گیٹ، یونیورسٹی کا مین آفس، الگ الگ فیکلٹیز کی الگ الگ عمارتیں، ایک عالیشان لائبریری، خوبصورت مساجد، کھیل کا میدان، اور اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی کی جو بھی ضروریات ہو سکتی ہیں، انہیں پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔
کیونکہ یہ یونیورسٹی خصوصی طور پر مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے قائم ہوئی ہے، اس لیے محمد علی جوہر یونیورسٹی ٹرسٹ نے یونیورسٹی میں اسٹوڈینٹس کی %50 سیٹیں مسلم اسٹوڈینٹس کے لیے ریزرو کی ہیں، اسی کے ساتھ محمد علی جوہر یونیورسٹی ٹرسٹ نے یونیورسٹی کے اقلیتی اسٹیٹس کو منظور کرنے کے لیے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں 2012 میں ایک درخواست دی، اس معاملے پر فیصلہ لینے کے لئے قومی کمیشن نے کمیشن کے چیئرمین جسٹس محمد سہیل اعجاز صاحب صدیقی کی قیادت میں ایک کورٹ بینچ بنائی جس میں ڈاکٹر مہندر سنگھ ، ڈاکٹر سیرک تھامس اور ظفر آغا کو شامل کیا گیا، بنچ نے تمام دستاویزات اور ثبوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد 2013 میں یونیورسٹی کے اقلیتی درجے کو منظوری دے دی، کمیشن کی عدالت میں بنچ کے فیصلہ سنانے کے بعد جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ٹرسٹ کے تمام ممبران مسلمان ہیں، ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد میں لکھا ہیکہ اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بنایا گیا ہے، ٹرسٹ کے سیکشن 6 میں مسلمانوں کی فلاح اور سیکشن 8 میں یونیورسٹی میں مسلمانوں کے 50 فیصد ریزرویشن کا ذکر ہے، نیز اتر پردیش حکومت بھی یہ وضاحت کر چکی ہے کہ یہ یونیورسٹی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ہوئی ہے، اس کے بعد اس یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ نہ دینے کا سوال ہی نہیں، ہم نے اتر پردیش کے گورنر کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کے لیے لکھا تو گورنر کی طرف سے جواب آیا آیا کہ قومی کمیشن اگر محمد علی جوہر یونیورسٹی کے اقلیتی اسٹیٹس کو منظوری دینا چاہتی ہے تو اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے (واضح رہے کہ 2007 سے 2012 تک اتر پردیش میں بننے والے گورنروں کے پاس یونیورسٹی کے اقلیتی درجے کے لیے کئی بار درخواست بھیجی گئی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی اور فائل دھول چاٹتی رہی، 2012 میں نئے سرے سے درخواست دی گئی) تمام باتیں واضح ہونے کے بعد بنچ نے تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ دے دیا۔
اعظم خان اور یونیورسٹی پر فرقہ پرستوں کے عتاب کیوجہ
اعظم خان ایک بیباک لیڈر ہیں، یہی وجہ ہے کہ رامپور کے مسلمان اعظم صاحب کو دل و جان سے چاہتے ہیں، انہوں نے رامپور میں اعظم خان کے علاوہ کسی سیاستداں کو جمنے نہیں دیا، فرقہ پرستوں کے خلاف اپنی بیباکی کے سبب اعظم خان ہمیشہ سے مخالفین بالخصوص بی جے پی کی نگاہوں میں کھٹکتے رہے، 2017 میں یوپی میں بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی، 2019 میں اعظم خان نے رامپور سے MP کا الیکشن لڑا اور بی جے پی کو رامپور میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، بی جے پی کے تمام تر پروپیگنڈہ کے باوجود اعظم صاحب چار لاکھ ووٹوں سے جیتے، اس ہار سے بی جے پی بلبلا اٹھی، کیونکہ صوبے میں بی جے پی حکومت تھی، اس لیے یوگی سرکار نے اپنی ہار کا بدلہ لینے کے لیے اعظم خان اور ان کے ذریعے قائم کی گئی یونیورسٹی کے خلاف پوری طرح سے مورچہ کھول دیا۔
آزمائشوں کا دور
یوں تو اعظم خان اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مخالفین کچھ نہ کچھ سازشیں رچتے رہے ہیں لیکن 2019 میں رامپور سے بی جے پی کی شکست فاش کے بعد یوگی حکومت نے یونیورسٹی کے خلاف مختلف بہانوں سے کھلم کھلا انتقامی کارروائی شروع کر دی، جس کی چند جھلکیاں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:
اردو گیٹ کا انہدام
اعظم خان نے یونیورسٹی کے نزدیک ہی باہر روڈ پر چالیس لاکھ کی لاگت سے خوبصورت "اردو گیٹ” تعمیر کروایا تھا، پولس انتظامیہ نے راتوں رات اس گیٹ پر بلڈوزر چلوا کر اسے منہدم کر دیا، پوچھنے پر صفائی دی کہ کیونکہ یہ گیٹ رامپور سے اتراکھنڈ جانے والی شاہراہ پر سرکاری زمین پر ہے، گیٹ کیوجہ بسوں کو شہر کے اندر سے گزرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ شہر میں ٹریفک لگ جاتا ہے، اس لیے یہ کارروائی کی گئی، سوچنے والی بات یہ ہے کہ شہر یا کسی خاص علاقے کے لیے گیٹ کوئی اپنے گھر اور ذاتی زمین پر کب بنواتا ہے؟ یہ عام شاہراہ پر ہی بنوایا جاتا ہے اور اس کا تعلق شہر کے ڈیکوریشن سے ہوتا ہے، لیکن چونکہ گیٹ کا نام "اردو گیٹ” تھا، اس لیے فرقہ پرستوں کو وہ ایک آنکھ نہ بھایا، یہ مارچ 2019 کا واقعہ ہے۔
یونیورسٹی پر 4 کروڑ کا جرمانہ
جون 2019 میں یونیورسٹی کو 4 کروڑ کے جرمانے کا ایک نوٹس ملتا ہے جس میں یہ بھی کہا گیا کہ وقت پر جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر ماہ 8 لاکھ کا اضافہ ہوتا رہے گا، الزام یہ تھا کہ جس دن اعلیٰ افسران پولس اور میڈیا کے ساتھ یونیورسٹی کی زمین کی پیمائش کے لیے آئے تھے، اس دن یونیورسٹی انتظامیہ نے ان اعلیٰ افسران کے ساتھ مار پیٹ کی ہے، اعظم خان نے میڈیا کو بلا کر وہ نوٹس بھی دکھایا اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی دکھائی جس میں افسران کے ساتھ مار پیٹ کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور حیرت ہے کہ اعلیٰ افسران کے ساتھ میڈیا بھی آئی تھی لیکن کسی میڈیا نے اس مارپٹائی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
مدرسہ عالیہ کی بلڈنگ میں اسکول پر تنازع، نیز یتیم خانہ، رامپور پبلک اسکول کی تعمیر پر روک
رامپور میں نوابی دور کا ایک قدیم مدرسہ تھا مدرسہ عالیہ کے نام سے، لیکن اس مدرسے کو بند ہوئے مدتیں ہو گئیں، بس بطور نام مدرسہ کی عمارت تھی اور برائے نام ہی کچھ اسٹاف، مدرسے کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں تھا، بلکہ لوگوں نے مدرسے کی زمین پر ناجائز قبضے کر لیے تھے، مدرسے ہی کی زمین پر آیوروید کا ایک دوا خانہ بھی کھل گیا، اعظم خان نے اپنے دورِ اقتدار میں آیوروید کے اس دواخانے کو ہٹوایا اور زمین پر قابض لوگوں سے زمین خالی کروائی، اور پھر اس زمین کو تمام متعلقہ سرکاری افسروں سے منظوری کے بعد محمد علی جوہر ٹرسٹ کے نام لیز پر لے لیا اور اس کی بلڈنگ میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اسکول چلانے لگے، مدرسہ اور ہسپتال کو کہیں اور منتقل کر دیا، اب یہ الزام لگا کر اعظم خان کے مدرسہ عالیہ والے اسکول کو لیکر کیس درج کیے گئے ہیں کہ اعظم خان نے غیر قانونی طریقے سے مدرسہ عالیہ کی بلڈنگ لیز پر لی اور اس میں اسکول کھولا ہے، اسی طرح رامپور کے نواب نے یتیموں کے لیے ایک زمین وقف کی تھی، اس پر بھی لوگوں نے قبضے کر لیے تھے (حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ وقف نے یہ زمین ان کے نام الاٹ کی ہے، لیکن اعظم خان کے مطابق وہ ناجائز قبضے تھے) اعظم خان نے زمین کو لوگوں کے قبضے سے آزاد کروایا اور اس وجہ سے کہ یہ زمین یتیموں کے لیے وقف کی گئی تھی، اس جگہ یتیموں ہی کے لیے یتمیم خانہ رامپور پبلک اسکول کھولنے کا اعلان کیا، جس کی تعمیر کے بعد تعلیم بھی شروع ہو گئی، اس میں غریب یتیم بچے برائے نام صرف 20 روپیے کی فیس پر تعلیم حاصل کرتے لیکن شروع جولائی 2019 میں پولس انتظامیہ نے یتیم خانہ رامپور پبلک اسکول کی باقی بچی تعمیر پر روک لگا دی۔
ممتاز لائبریری پر چھاپہ
جولائی 2019 کے آخر میں ایک دن پولس نے اچانک یونیورسٹی کی عالیشان "ممتاز لائبریری” پر چھاپا مارا، الزام یہ لگایا گیا کہ اعظم خان نے مدرسہ عالیہ کی کتابیں چوری کرکے اس لائبریری میں رکھی ہوئی ہیں، جبکہ یہ کتابیں چوری نہیں کی گئی تھیں، بلکہ مدرسہ عالیہ کے ذمہ داران سے بات چیت کرکے انہیں یونیورسٹی کی لائبریری میں اعظم خان نے منتقل کیا تھا، کیونکہ مدرسہ عالیہ میں ان کتابوں کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں تھا اور کتابیں پرانی اور نادر تھیں، سو اعظم خان نہیں چاہتے تھے کہ یہ کتابیں ضائع ہو جائیں، نیز مدرسہ عالیہ کی کتابیں اسوقت کے ڈی ایم اور پولس کی موجودگی میں اور رضامندی سے لائی گئی تھیں، لیکن برا وقت آتا ہے تو نہ آپ کے ثبوت مانے جاتے ہیں اور نہ آپ کی بات سنی جاتی ہے، خیال رہے کہ مدرسہ عالیہ سے متعلق تمام کاروائی مدرسے کے ایک کاغذی مسلم پرنسپل کی شکایت پر کی گئی ہے، یوگی حکومت کو مدرسے کی طرف سے کیس کرنے والا بس ایک چہرہ چاہیے تھا جو ان کو آسانی سے مل گیا۔
زمینوں کے مقدمے
مسلمان کسانوں کی طرف سے بہت سارے مقدمے کیے گئے ہیں، ان کا الزام ہیکہ اعظم خان نے ان سے یہ زمینیں زبردستی خریدی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ اب تک کہاں تھے؟ اچانک بیدار کیوں ہوئے؟ جبکہ اعظم خان کے مطابق یہ زمینیں ان کی مرضی سے خریدی گئی ہیں، ان کو پوری قیمتیں دی گئی ہیں، ان تمام زمینی کارروائیوں کے اعظم کے پاس کاغذات موجود ہیں، نیز پہلے بھی ایک مرتبہ جب یہ معاملہ اٹھا تھا تو زمین بیچنے والوں نے کورٹ میں اپنے حلف نامے داخل کیے تھے کہ ہم نے اپنی مرضی سے یہ زمینیں بیچی ہے، تمام ثبوت موجود ہیں لیکن چند لوگوں کے اچانک سر ابھارنے سے لگتا یہ ہے کہ یہ لوگ مخالفین کے ورغلانے یا تھوڑے بہت لالچ میں آ گئے ہیں، اب یہ کیس کر رہے ہیں اور یوگی حکومت پلاننگ کے تحت اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔
موجودہ صورتحال
راقم نے 11 ستمبر 2019 کو عام آدمی پارٹی کے اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان صاحب کی معیت میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زیارت کی، امانت اللہ خان اپنی پارٹی کی طرف سے اعظم خان اور یونیورسٹی کو سپورٹ کرنے کے لیے رامپور نہیں گئے تھے، بلکہ ان کے اعظم خان کے بیٹے، رکن اسمبلی اور یونیورسٹی کے سی ای او عبد اللہ اعظم سے دوستانہ تعلقات ہیں، ان تعلقات کی بنیاد پر امانت اللہ خان کا یہ نجی دورہ تھا، لیکن جیسے ہی رامپور قریب آیا ہمیں اندازہ ہو گیا کہ حالات انتہائی نازک ہیں، یونیورسٹی کی طرف جانے والے تمام راستوں پر بے انتہا پولس فورس تعینات ہے، آنے جانے والے لوگوں پر نگاہ رکھی جا رہی ہے، انہیں روکنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی پہونچ کر امانت اللہ خان کی معیت میں ہم لوگوں نے پسر اعظم خان، رکن اسمبلی اور یونیورسٹی کے سی ای او عبد اللہ اعظم صاحب سے ملاقات کی اور ان کی زبانی حالات جانے، انہوں نے جو کچھ بیان کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوپی کی بی جے پی حکومت پوری طرح سے اعظم فیملی اور یونیورسٹی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے، ان پر مقدمات کیے جا رہے ہیں، ان سے ملنے جلنے والوں پر مقدمات کیے جا رہے ہیں، عبد اللہ اعظم صاحب نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اگر اسوقت کمرے میں ہمارے 10 لوگ ہیں تو ان میں سے آٹھ لوگوں پر مقدمہ ہے، ملنے جلنے اور قریبی لوگوں پر یہ مقدمات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ وہ ڈر کر ہم سے دور ہو جائیں، اعظم خان کے خلاف 150 سے زیادہ مقدمات لکھے گئے ہیں اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ان مقدمات میں اس طرح کے بھی مقدمے ہیں جیسے :
اعظم خان نے بھینسیں چُرائیں۔
اعظم خان نے ٹریکٹر چرایا۔
اعظم خان نے بجلی چرائی۔
اعظم خان نے کتابیں چوری کیں۔
اعظم خان نے بائک چوری کی۔

اعظم خان نے بکری چوری کی۔
ان تمام باتوں سے لگتا ہے کہ ان سب کے پیچھے بی جے پی حکومت کے دو مقاصد ہیں : یونیورسٹی کو بند کروانا، کیونکہ یونیورسٹی سے خصوصی طور پر مسلمانوں کو فائدہ ہوگا، اور یہ بھی ہیکہ یونیورسٹی کیوجہ سے مسلمانوں میں اعظم خان کی مقبولیت اور ہمدردی میں اضافہ ہوگا۔
اعظم خان کی ساکھ کو کمزور کرنا، رامپور میں اعظم کی جو سیاسی ساکھ اور پکڑ ہے، اس کے رہتے ہوئے کسی اور کا وہاں جیتنا مشکل ہے، لہذٰا اعظم خان کی ذات کو اتنا بدنام کیا جائے کہ رامپور کی عوام کے ذہن پر یہ نقش ہو جائے کہ اعظم خان ایک نیچ اور برا انسان پے، اسی پروپیگنڈے کے تحت رامپور کے لوکل نیوز اخبارات میں روزانہ اعظم خان کے خلاف نئی نئی سرخیاں لگوائی جا رہی ہیں، یونیورسٹی کی ملکیت کے ایک جنریٹر کا تار کاٹ کر جاتے ہیں اور اخبار میں ہیڈنگ لگواتے ہیں کہ "بجلی وبھاگ نے اعظم خان کے ذریعے کی جانے والی سرکاری لائٹ کی چوری کی سپلائی کاٹی” سرکاری عملہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اتنی بدتمیزی سے پیش آ رہا ہے کہ 2018 میں انڈین آرمی نے یونیورسٹی کے لیے تحفے میں جو ایک ٹینک اعظم خان کو دیا تھا، جس کی سب کو خبر ہے ، سرکاری عملہ یونیورسٹی آتا ہے تو اس ٹینک کو بھی ٹیرھی نگاہ سے دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ کہاں سے آیا؟ جس پر عبد اللہ اعظم نے طنزیہ جواب دیا کہ یہ بھی چرایا ہے، جاؤ انڈین آرمی سے معلوم کر لو۔
پکڑ دھکڑ کا حال یہ ہے کہ جس دن ہم یونیورسٹی پہونچے ہیں اس دن بھی عبد اللہ اعظم کے ایک دوست سالم کو پولس نے صبح ہی صبح اٹھا لیا اور شام تک اس کا پتہ نہیں تھا کہ پولس نے اسے کہاں رکھا ہوا ہے، پولس ان کے سپوٹرس میں سے مختلف بہانوں سے جسے چاہتی ہے جب چاہتی ہے ہراساں کرنے کے لیے اٹھا لیتی ہے،حال یہ ہے کہ دو ماہ سے اعظم خان رامپور نہیں آئے ہیں، اس سے حالات کی نازکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
رامپور میں اعظم خان کے صاحبزادے عبد اللہ اعظم تمام مشکلات کو فیس کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ لوگ ہمارے کسی بھی کیس کو عدالت میں نہیں لیکر گئے ہیں، یہ اپنی مرضی سے چارج شیٹ میں جو کچھ کہہ دیں، لیکن عدالت میں ہم ان کے تمام کیسیس کا سامنا کریں گے اور ہمیں عدلیہ پر پورا یقین ہے کہ وہاں سے ہمیں انصاف ملے گا۔
آخر میں ہم رامپور کے ان مسلمانوں سے اپیل کریں گے جنہوں نے اعظم خان یا یونیورسٹی پر کسی بھی طرح کا کیس کیا ہے کہ خدارا اپنے کیسیس واپس لیں، کسی کے بہکاوے یا مالی لالچ میں نہ آئیں، اگر اپنے دورِ اقتدار میں اعظم خان آپ کے ساتھ کسی معاملے میں سختی سے کبھی پیش بھی آ گئے ہوں یا واقعتاً آپ کی چیز آپ کی مرضی کے بغیر خرید لی ہو تب بھی اللہ کی خاطر، قوم کی خاطر اب سب کچھ بھلا دیں، یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ساتھ بیٹھیں اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر لیں، کیونکہ اب معاملہ صرف ایک اعظم خان کا نہیں ہے، بلکہ پوری یونیورسٹی کا وجود داؤ پر ہے، اگر آپ کی وجہ سے اللہ نہ کرے یونیورسٹی بند ہو گئی تو تاریخ میں آپ کو اچھائی کے ساتھ کبھی یاد نہیں کیا جائے گا اور آنے والی نسلیں آپ کے ذریعے کیے گئے ان مقدمات پر بس لعنتیں ہی بھیجیں گی، یاد رکھیے، ان شاء اللہ دشمن یونیورسٹی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اگر ہمارے کچھ افراد ان کے ساتھ ملے ہوئے نہ ہوں، اللہ کے واسطے پُرانی لکیریں اب مت پیٹیے اور آگے بڑھ کر سب کے سب یونیورسٹی کے حق اور حمایت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے