جامعہ پروٹسٹ: ایک نظر میں

Spread the love


شمیم منیر
جواہرلال نہرو یونیورسٹی

آج جامعہ ملیہ اسلامیہ اور SIO نے ملکر ایک احتجاج کا کال دیا تھا، جے این یو کے ہم مسلم طلبہ نے اسکو مکمل سپورٹ کیا، ہم نے تقریباً آٹھ ہزار سے زائد پمفلٹ چھپوا کر بٹلہ ہاؤس کے تمام چھوٹی بڑی مسجدوں میں تقسیم کیا۔ اور احتجاج میں شرکت کی اپیل کی اور خود بھی شرکت کی اور پوری کوشش کی کہ اس پروٹسٹ کو کامیاب بنایا جائے لیکن بہت افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ جس کامیابی کی امید تھی یا جو کامیابی ملنی چاہیے وہ نہیں مل سکی۔
اس کے کچھ وجوہات جو مجھے سمجھ میں آئے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں۔
1: کسی بھی احتجاج کو کامیاب بنانے کےلئے پہلے اس کے لیے اسٹریٹجی تیار کی جانی چاہیے، اور کچھ لوگوں کو آگے رکھنا چاہیے کہ کسی بھی طرح کی کوئی بات ہو تو وہ برجستہ کوئ فیصلہ لے سکیں تاکہ بدنظمی نا ہو، جس کی اس پروٹسٹ میں شدید کمی دیکھنے کو ملی۔
2: کسی بھی پروٹسٹ کا کیا میسیج اور پیغام ہے، اس کو لوگوں تک کیسے پہچانا ہے، ہم حکومت کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، اور ہمارا ڈیمانڈ کیا ہے، یہ اہم مدعا ہوتاہے، اس کے لئے ہمیں تو سب سے پہلے ایک بڑا سا بینر تیار کرنا چاہیے، اور اس میں اپنا اصل مقصد بڑے بڑے حروف میں لکھا جانا چاہیے، اسکے علاوہ ہم کو چھوٹا چھوٹا پلے کارڈ اور پوسٹر بھی بنانا چاہئے، تاکہ لوگ دیکھ کر سمجھ سکیں کہ ہمارا ڈیمانڈ کیا ہے! انہیں ہم سے پوچھنا نہ پڑے کہ آپ کس وجہ سے پروٹسٹ کررہے ہیں، جب کہ آج اس پروٹسٹ میں ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔
3: کسی بھی احتجاج کو مقصد تک پہچانے کے لیے ہمیں وقت کا بہت خیال رکھنا چاہیے، احتجاج کے لئے جو وقت متعین کیا جائے اس سے پندرہ بیس منٹ رک کر ہی نکلا جائے تاکہ سب لوگ ایک ساتھ اکٹھا ہوکر چل سکیں، آج کے اس پروٹسٹ میں وقت کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا گیا۔
آج کے پروٹسٹ میں 3 بجے کا وقت دیا گیا تھا اور بجائے اس کے کہ تھوڑی دیر سب کا انتظار کیا جاتا تین بجے سے پہلے ہی پروٹسٹ شروع کردیا گیا، جس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑا کہ بڑی مشکل سے بیریکیٹ توڑنے کے بعد بھی لوگ آگے نہیں بڑھ سکے اور جہاں سے شروع کیا وہیں تک رہ گئے۔
4: ہمیں چند ایسے بچوں کو آگے رکھنا چاہیے جن کی آواز بلند ہو، جو نعرہ لگانے میں مہارت رکھتے ہوں تاکہ بھیڑ کے اندر جوش و خروش کم نہ ہونے پائے اور سب ایک ساتھ آگے بڑھتے رہیں آج جب ہم اور ہمارے کچھ دوست ملکر بیریکیٹ توڑنے میں لگے تھے تو اسی دوران ایک عمر دراز چچا اور دو نوجوان بیریکیٹ پر کھڑے ہوکر کھ رہے تھے کہ بیریکیٹ مت توڑو یہیں نعرے بازی کرو، ارے بھائی تو پھر پارلیمنٹ کا کال کیوں دیا تھا؟
یہ بات تو سچ ہے کہ کوئی بھی پروٹسٹ بڑی مشکل سے اپنے مقرر کردہ مقام تک پہونچ پاتا ہے لیکن ہم کچھ دور تک تو ضرور جاسکتے ہیں، ہمارا اصل مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ہمارے پروٹسٹ کو میڈیا کا کوریج ملے تاکہ لوگوں تک اور سرکار تک یہ بات پہونچ سکے کہ لوگوں میں کس قدر ناراضگی ہے اگر نیشنل میڈیا کا کوریج نہیں ملتا تو پھر اس بڑے پیمانے پر پروٹسٹ کا خاطر خواہ کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
5: ہمیں اپنے پروٹسٹ کو کامیاب بنانے کےلئے کم ازکم کچھ گھنٹوں تک روڈ پر رک کر یہ بتایا جائے کہ ہم لوگوں کا ڈیمانڈ کیا ہے، اور نیشنل میڈیا میں اسکو کوریج ملے، چند لمحوں میں آکر غائب ہو جانا اس سے کوئی فائدہ نہیں اور خاص طور سے جب لڑائی بڑی اور اہم ہو۔
6: کسی بھی پروٹسٹ میں ہمیں یہ دھیان دینا چاہیے کہ کسی طرح کی بد امنی نا ہونے پائے کیونکہ کہ اگر شروعاتی دور میں ہی وائلینس ہوجائے گا تو ہمارا پروٹسٹ اور موومینٹ پائیدار نہیں ہوسکتا اور کمزور پڑجائے گا گرچہ کہ وقت کی نزاکت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کبھی کبھی تھوڑا سا وائلینس ہونا بھی ضروری ہے لیکن شروعاتی دور میں بالکل نہیں۔
7: ہمیں یہ عزم کرکے نکلنا چاہیے کہ ہمارے پروٹسٹ میں جتنے لوگ شامل ہوں گے ہم انہیں کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف اور نقصان نہیں ہونے دیں گے آج ہم نے بٹلہ ہاؤس سے آتے ہوئے بہت سے نوجوانوں کو گالی گلوج کرتے ہوئے سنا جو پروٹسٹ میں شرکت کرنے آرہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے آج مریں گے یا ماریں گے۔
لیکن معاملہ کچھ الٹا ہی دیکھنے کو ملا جب ہم بیریکیٹ کو توڑنے کے بعد آگے بھاگنے کی کوشش کی تو پولیس والوں نے لاٹھی چارج کرنا شروع کردیا ایسے موقعوں پر اگر سب لوگ اپنی اپنی جان بچاکر آگے بھاگیں گے اور جو پٹے اسے پٹتا ہی چھوڑ دیں گے تو وہ شخص دوبارہ کسی بھی پروٹسٹ میں شامل نہیں ہوگا۔
جب پولیس کسی بچے پر لاٹھی چارج کرے تو لوگوں کو بھاگنے کے بجائے چار چار لوگ پولیس والوں کو پکڑو اور انہیں مارنے سے منع کرو اور بھاگو نہیں ان کی لاٹھی پکڑو، انہیں تو اور موقع ملتا ہے جب آپ بھاگتے ہو۔
اس لڑائی میں اس بات کو دھیان میں رکھیں کہ ہماری لڑائی پولیس والوں سے نہیں بلکہ حکومت کے ظلم وستم کے خلاف ہے۔
اگر ہم پولیس والوں سے ہی الجھ بیٹھیں گے تو ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے، اور میڈیا میں اس کا تاثر بھی غلط جائے گا جس سے ہمارا پروٹسٹ کمزور پڑجائے گا اور ہمارا ایمیج بھی خراب ہوگا۔
خیر اس پروٹسٹ کا کوئی بڑا فائدہ تو حاصل نہیں ہوسکا، ہمارے بہت سے طالب علم زخمی ہوگئے، مگر ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں سلام کرتا ہوں اپنے ان ساتھیوں کو جنہوں نے اپنے بدن پر لاٹھیاں کھائیں، اور اپنے آپ کو پیچھے نہیں موڑا آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی۔ انہیں کے لاٹھیاں کھانے کا ہی اثر ہے کہ اس پروٹسٹ کو الجزیرہ نے بھی رپورٹ کیا، اور پرشانت بھوشن جیسے افراد نے پرشنسا کی۔
الجزیرہ کا رپورٹ پڑھنے کے لئے کلک کریں:

Police use tear gas and batons as students in India’s New Delhi protest ‘anti-Muslim’ citizenship law.
پرشانت بھوشن نے لکھا:


منوج جھا نے لکھا:


بہرحال
ابھی تو ہم نے جنگ کا اعلان کیا
ابھی تو جنگ شروع کہاں ہوئ ہے۔
دیار شوق میرا شہر آرزو میرا ۔
تو صدیوں سلامت رہے اور ظلم کے خلاف برق بن کر ان ظالموں کے خلاف گرتا رہے۔
کفر دم توڑ دے ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ،
تم نِکل آؤ اگر نعرۂ تکبیر کے ساتھ،
راہِ حق میں بڑھو سامان سفر کا باندھو!!
تاج ٹھوکر پہ رکھو سر پہ عمامہ باندھو!!
تم جو چاہو تو زمانے کو ہِلا سکتے ہو،،
فتح کی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہو،،
حق پرستوں کے فسانے میں کہیں مات نہیں!!
تم سے ٹکرائے، زمانے کی یہ اوقات نہیں
جے ہند انقلاب زندہ باد
اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی نصیب کرے اور ظلم کا خاتمہ فرمائے۔
آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے