کرۂ ارض سےمتعلق اسلام کا آفاقی نظریہ

Spread the love


سلمان عارفی ندوی

عصر حاضر میں جدید علمی وسائنسی اکتشافات نے جہاں ایک جانب انسانی زندگی کو ترقی وسرعت سے ہمکنار کیا وہیں دوسری جانب عالمی پیمانے پر کچھ ایسے اسلام مخالف نظریات بھی عام کیے جو دینی ومادی دونوں اعتبار سے حقیقت سےکوسوں دور ہیں، انہی میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ "انسانوں کی حد سے بڑھتی ہوئی آبادی اور زمین کے مختلف اسباب ووسائل (آب وغذا اور معدنیات وغیرہ) کے استعمال میں ان کی بدنظمی اور ابتری کے سبب اس کرۂ ارض پہ انسانی زندگی عدم توازن کا شکار ہو چکی ہے، نتیجۃ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آنے والے وقت میں نہ صرف اس زمین کے تمام وسائل انتہائی محدود یا ختم ہو جائیں بلکہ نوع انسانی کا وجود مکمل طور سے تباہی وبربادی کے دہانے پر آ جاۓ، لہذا اس ممکنہ خطرے سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان جتنی جلدی ہو سکے "خلائی استعمار ” کی منصوبہ بند کوششیں شروع کر دے، اور اپنے وجود وبقا کی خاطر کائنات میں موجود دیگر سیاروں پہ قبضہ کے تمام ضروری اسباب مہیا کر لے تاکہ وہ از سرِ نو ایک پرامن اور خوشحال زندگی کی شروعات کر سکے وغیرہ ” یہ نظریہ قرآنی تعلیمات اور اسلام کے بنیادی عقائد سے کلی طور پر متصادم ہے۔
کتاب وسنت کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہر صحیح العقیدہ مسلمان اس بات کا مکمل یقین رکھتا ہے کہ کرۂ ارض سمیت یہ وسیع کائنات، اسکے بے شمار سیاروں کا وجود اور ان کا نظم ونسق بحکم الٰہی اس وقت تک قائم ومتحرک رہیں گے، نیز نسل انسانی اس سرزمین کے مختلف اسباب وذرائع سے تب تک مستفید وفیض یاب ہوتی رہے گی جب تک کہ صور نہ پھونک دیا جائے اور قیامت نہ قائم ہو جائے، جیسا کہ تخلیق کائنات، وجود آخرت، قیامت کا وقوع اور اسکی علامات کے حوالے سے متعدد قرآنی آیات واحادیث اس حقیقت کا واضح ثبوت پیش کرتی ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس عالم موجودات سے متعلق قرآن کریم میں جو حقائق بیان فرمائے ہیں ان کی صداقت وحقانیت ابدی و لازوال ہیں، جن کے آگے دنیا کے تمام فلسفے ونظریات سوئی کی نوک پہ لگی گرد کے برابر بھی نہیں، آج موجودہ سائنس اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ نوع انسانی کی ابتدا اسی کرۂ ارض پر ہوئی، چنانچہ اب تک کی جملہ سائنسی تحقیقات کسی اور سیارے پر انسانی وجود کے معمولی سے آثار بھی ڈھونڈ نے میں ناکام رہی ہیں، ٹھیک ایسے ہی جدید سائنس اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود اس قضیہ کو حل کرنے سے عاجز ہے کہ اب تک انسان نے جن سیاروں تک رسائی حاصل کی ہے آیا وہ نسل انسانی کے لئے قابل رہائش ہیں یا نہیں ؟ یہ تو بہت دور ! ابھی تک ان کی ساری تحقیق ودریافت اسی جانب مرکوز ہیں کہ آیا وہاں انسانی جسم کے موافق آب وہوا ،غذا اور مٹی بھی ہیں یا نہیں ؟ اگرچہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والی چند دہائیوں یا نصف صدی کے بعد سائنس ان دریافت شدہ سیاروں پہ انسانی زندگی کے وسائل تلاش کرنے کے قابل ہو جائے لیکن چاند کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ جو زمین کا سب سے قریب تر ایک ذیلی سیارہ ہے اور جہاں امریکی خلاباز "نیل آرمسٹرانگ” نے اب سے تقریبا پچاس برس قبل اپنے قدم جما لیے تھے اس طویل عرصے میں اب تک تو وہاں انسانوں کی متعدد نہ سہی کم از کم ایک کالونی یا چند افراد ہی آباد ہو جانے چاہیے تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی انسانی زندگی کا کوئی گزر نہیں۔
انسانی عقل کسی بھی زاویے سے ان قرآنی حقائق کا انکار نہیں کر سکتی کہ نوعِ انسانی کے سب سے پہلے فرد سیدنا آدم علیہ السلام بحکم الٰہی اسی کرۂ ارض پر مبعوث ہوۓ، پھر ان کی بعثت کے ایک نا معلوم دور سے لے کر اب تک نسل انسانی اسی کرۂ زمیں پہ نہ صرف آباد ومعمور ہوتی آئی ہے بلکہ اس کی ولادت،نشو ونما،نقل وحرکت، عارضی قیام، فلسفۂ موت وحیات، اور ہنگامۂ زیست کے تمام امور اسی سرزمین پہ واقع ہوۓ اور ہو رہے ہیں، اسی جہانِ ارضی پر انسانی تاریخ کےعظیم واقعات وحوادث رونما ہوۓ اور بےشمار اقوام وملل کے وجود وفنا کی داستانیں رقم ہوئیں، اسکے علاوہ، اس روۓ زمین کی ہیئت وکیفیت کا انسانی زندگی سے بالکل مطابقت رکھنا مثلاً اس کا مسطح وہموار ہونا، اسکی آب وہوا،مختلف غذا اور موسموں کا انسانی جسم اور مزاج کے موافق ہونا، اسکے بےشمار منافع وذخائر کا بآسانی دستیاب ہونا، اور انکی فراہمی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہونا، پھر انسان کو ان کے استعمال پر قدرت واختیار حاصل ہونا، نیز لیل ونہار کی گردش اور نظام شمس وقمر کا اس زمین سے وابستہ ہونا، اسی روۓ زمیں پر قدرتِ الٰہی کے بےشمار وعظیم الشان مظاہر ندی، چشمے، دریا، پہاڑ، بارش، آبشار، صحرا وسمندر، پیڑ پودے، چرند وپرند وغیرہ کا موجود ہونا، اور ان سب سے بڑھ کر، اس عالم خاکی پر خداۓ عز وجل کی ان عظیم اور ناقابل تردید نشانیوں (وحی الٰہی کا نزول،حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر نبیِ آخر صلی اللہ علیہ وسلم تک مختلف زمانوں میں متعدد انبیاء کرام کی بعثت، اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر خانۂ کعبہ کا وجود اور اس کا مختلف فتنوں سے مامون ہونا، اللہ کی نیابت وخلافتِ ارضی کا ظہور وقیام، آخری صحیفۂ ہدایت کا نزول وغیرہ) کا ظاہر ہونا، جنکے واسطے اللہ تعالیٰ نے اس عالمِ کائنات کو وجود بخشا اور اس کی ہر ایک شے کو منظم وآراستہ کیا، اور جن نشانیوں نے اس روۓ زمین کے مختلف خطوں کو شرف وعظمت کا مقام عطا کیا، الغرض، اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے انسان کی دینی واخلاقی، تہذیبی ومعاشرتی، اقتصادی ومعاشی، تمدنی وسیاسی،علمی وثقافتی،حتی کہ جسمانی، روحانی اور نفسیاتی زندگی سے متعلق تمام امور اور واقعات کو برپا کرنے کے لئے صرف اور صرف اسی عالم ارضی کا انتخاب کرنا کوئی اتفاقی حادثہ ہرگز نہیں! بلکہ یہ ارادۂ خداوندی کا ایک واضح اشارہ ہے اس حقیقت کی جانب کہ انسانی بقا وفنا کا انحصار صرف اور صرف اسی کرۂ ارض سے منسلک ہے۔
بلا شبہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ یہ تمام امور وحوادث، کرۂ ارض کے علاوہ کائنات میں موجود کسی اور سیارے پر بھی بقضاء الہی ظہور پذیر ہوۓ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ "رب العالمین” کے پیشِ نظر جس طرح ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کرۂ ارض سمیت اس وسیع کائنات میں موجود بے شمار سیاروں کا خالق ومالک، نگراں ومحافظ باری تعالی کی ہی ذات ہے اسی طرح ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اگر بالفرض ان نامعلوم سیاروں پر جِن وانس کی مانند کوئی مکلف مخلوق بستی ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں نظامِ الہی اور قانونِ الہی کے ہی تابع ہوگی، لیکن جیسا کہ واضح ہے نہ کتاب وسنت سے اس بات کی کوئی شہادت ملتی ہے اور نہ ہی اب تک کی جملہ سائنسی تحقیقات واکتشافات سے..!

شاید کسی کے ذہن میں یہ اعتراض ہو کہ لفظِ "ارض” کا اطلاق کرۂ زمین کے علاوہ اور بھی سیاروں پہ کیا جا سکتا ہے..؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو لفظِ واحد کے ذریعہ عموماً کسی شی کی کثرتِ تعداد کو ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے شئے واحد ہی مراد لی جاتی ہے، ورنہ اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں تھا کہ اپنی کتاب میں جس طرح دوسرے الفاظ کی جمع مثلاً جبال، انہار، جنات وسماوات وغیرہ کا ذکر فرمایا اسی طرح لفظ "ارض” کی جمع "آراضی” کا بھی ذکر کر دیتے، دوسرے یہ کہ جدید سائنس نے بھی بجز کرۂ ارض کےکسی اور سیارے کو لفظ "أرض” (Earth) سے موسوم نہیں کیا، اب اس حقیقت کے متعلق ہم خود ہی فیصلہ کریں کہ اگر کائنات میں کرۂ ارض کے سوا انسانوں کے قابلِ رہائش کوئی اور زمین ہوتی تو قرآن سے پہلے اور اس سے بہتر، اسکی خبر دینے والا کون ہو سکتا تھا..؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کہ کوئی ایک آیت حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایک حدیث بھی اس امرِ موہوم کی وضاحت نہیں کرتی..! بھلا یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے وجود وبقا کے تعلق سے ہم سے ہی اتنی بڑی حقیقت چھپا لے..!

مزید اس کرۂ ارض سے متعلق قرآن کریم کا ایک ایسا عظیم اور حیرت انگیز انکشاف ہے جو ہر صاحب بصیرت کو حقیقت سے روشناس کرنے کے لئے کافی ہے اور جسکا برملا اظہار قرآن کریم پچھلے ساڑھے چودہ سو برسوں سے کرتا آرہا ہے، لیکن افسوس ! مسلمانوں کی اکثریت مادہ پرستی کے پرفریب دام میں آکر مغرب کے لغو وبے بنیاد فلسفوں پر ایسا قوی ایمان رکھنے لگی ہے کہ خود اپنی ہی کتابِ ہدایت کی ناقابل تردید حقیقتوں کے ادراک سے محروم ہے، اور اس میں کوئی تعجب نہیں ایمانی حکمت وبصیرت کا فقدان اور باطل نظریات پر ایمان، کتاب وسنت سے دوری کا ہی نتیجہ ہیں، بہرِ کیف! وہ عظیم انکشاف یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں لفظ "الارض” کی کوئی جمع استعمال نہیں کی گئی، پورے قرآن کا مطالعہ کر لیں آپ پائیں گے کہ جتنی دفعہ بھی یہ لفظ وارد ہوا، صیغۂ واحد کے ساتھ ہی ہوا، (ولله ملك السماوات والأرض) (وله من في السماوات والأرض) و (رب السماوات والأرض)، یہ لفظ واحد ہماری عقل کی پرتیں کھولنے اور ان پہ جمی مادیت کی دھول صاف کرنے کے لیے کافی ہے، اور اس حقیقتِ کبری کی جانب واضح اشارہ ہے کہ نسلِ انسانی کی عارضی بقا، نشو ونما، سکونت ورہائش اور موت وحیات کے لائق صرف اور صرف یہی سرزمین ہے جس پہ ہم موجود ہیں اور جس پہ نسلِ انسانی حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے بستی چلی آئی ہے، اور جس کے نیچے خداۓ عز وجل کی لامحدود نعمتوں کے سرچشمے انسانی زندگی کو مسلسل سیراب کرتے آئے ہیں اور تا قیامت کرتے رہیں گے۔
شاید کسی کے ذہن میں یہ اعتراض ہو کہ لفظِ "ارض” کا اطلاق کرۂ زمین کے علاوہ اور بھی سیاروں پہ کیا جا سکتا ہے..؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو لفظِ واحد کے ذریعہ عموماً کسی شی کی کثرتِ تعداد کو ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے شئے واحد ہی مراد لی جاتی ہے، ورنہ اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں تھا کہ اپنی کتاب میں جس طرح دوسرے الفاظ کی جمع مثلاً جبال، انہار، جنات وسماوات وغیرہ کا ذکر فرمایا اسی طرح لفظ "ارض” کی جمع "آراضی” کا بھی ذکر کر دیتے، دوسرے یہ کہ جدید سائنس نے بھی بجز کرۂ ارض کےکسی اور سیارے کو لفظ "أرض” (Earth) سے موسوم نہیں کیا، اب اس حقیقت کے متعلق ہم خود ہی فیصلہ کریں کہ اگر کائنات میں کرۂ ارض کے سوا انسانوں کے قابلِ رہائش کوئی اور زمین ہوتی تو قرآن سے پہلے اور اس سے بہتر، اسکی خبر دینے والا کون ہو سکتا تھا..؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کہ کوئی ایک آیت حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایک حدیث بھی اس امرِ موہوم کی وضاحت نہیں کرتی..! بھلا یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے وجود وبقا کے تعلق سے ہم سے ہی اتنی بڑی حقیقت چھپا لے..!
یہ کتنی غیر معقول بات ہے کہ جس ذات اقدس نے ہمارے واسطے اس روۓ زمین کو پیدا کیا، اس کی تمام مخلوقات پہ ہمیں فضیلت وبرتری عطا کی، اس پہ ہماری زندگی کے تمام اسباب و وسائل اور بےشمار نعمتیں مہیا کیں، اسکی ہر ایک شے کو نہ صرف قوت واستحکام بخشا بلکہ ہمارے لیے اسے مسخر بھی کیا اور ہمیں یہ یقین دہانی کرائی کہ "وہی اللہ ہے جس نےتمھارے ليے زمین کے سارے خزانے پیدا کیے” (البقرہ:29)، کیا اس کریم ذات سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ہم سے اس سرچشمۂ حیات زمیں کو چھوڑ کر کسی نامعلوم دنیا کی طرف کوچ کر جانے کا مطالبہ کرے؟ جہاں انسانی زندگی کا نام ونشاں تک نہ ہو! اس بات کی پروا کیے بغیر کہ ہم وہاں تک پہونچنے اور زندگی کے وسائل تلاش کرنے کےمتحمل بھی ہیں یا نہیں..! کیا یہ اسکی حکمت ومشیت کے خلاف نہیں؟ کیا یہ اسکی شانِ ربوبیت والوہیت کے منافی نہیں؟ کیا یہ اسکی قدرتِ مطلقہ کی جانب نقص اور عیب کو منسوب کرنا نہیں؟ کیا یہ اسکی صفتِ رحمن ورحیم کا مذاق نہیں؟ کیا یہ قرآن میں مذکور اہل یہود کے گستاخانہ نظریات کی تائید نہیں؟ جیسا کہ انہوں نے اللہ تعالی کے بارے میں کہا تھا کہ "الله تعالی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں” (المائدہ:64) اور "اللہ تعالی تو فقیر ہیں اور ہم مالدار ہیں” (آل عمران:181) کیا ہماری عقل سلیم کبھی اس باطل نظریہ کی تائید کر سکتی ہے کہ ذاتِ الہی قیامت سے قبل اس کرۂ ارض پہ بسنے والے تمام انسانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے عاجز و بےبس ہو جائے گی؟ (نعوذ بالله من كل ذلك)
آپ کا کیا خیال ہے کیا گذشتہ قوموں نے ہم سے کم بے دریغ طریقہ سے زمین کے وسائل ومنافع کو نچوڑا ہے؟ جو اب ہميں ان وسائل کے ختم ہونے کا اندیشہ ہونے لگا؟ یا پھر دورِ حاضر میں انسانوں کی روز افزوں تعداد کو دیکھ کر ہم مغرب کے اس بے بنیاد نظریہ کی تائید کر بیٹھے، قرآن کریم نے ہمیشہ اس عالم انسانیت سے متعلق ہمیں اللہ عز وجل کے محکم اصول وقوانین میں غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے، اور انہی میں سے اللہ کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ اس عالمِ خاکی کی ابتدا سے لے کر جب بھی انسان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اس رو‎ۓ زمین پہ شر وفساد، ظلم وطغیان، سرکشی ونافرمانی، بدامنی وابتری پھیلی اللہ نے اس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر دوسری قوم کو آباد کیا، اور وجود وفنا کا یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔
درحقیقت یہ اسلام مخالف نظریہ دورِ حاضر میں ان مغربی اقوام کا سب سے بڑا جھوٹ ہے جو عالم غیب وآخرت پر ایمان کی دولت سے محروم ہیں، جنھوں نے اپنی تہذیب وتمدن کی بنیاد خالص دہریت ومادیت پر مبنی بے بنیاد فلسفوں پر رکھی ہے، جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے ” آپ (اے نبیۖ) ان کو ہی سب سے زیادہ دنیا کی زندگی کا حریص پائیں گے” (البقرہ:96) یہی وجہ ہے کہ وہ اس مادی دنیا کے عارضی حصار سے خود کو باہر نہیں نکال پا رہے، اور ان کی کوتاہ نظر کائنات کی ان لامحدود وسعتوں سے بھی کہیں آگے پردۂ غیب میں موجود اس عالمِ آخرت کو دیکھنے سے قاصر ہے جو ایک لازوال اور ابدی دنیا ہے اور جسکے علاوہ اس کائنات کے متحرک وغیر متحرک، مرئی و غیر مرئی تمام سیاروں پہ فنا وزوال کی مہرِ الہی ثبت ہے، اس محدود مادی تصور نے ہی ان کی تمام علمی کاوشوں کو اس خلا میں تیرتے ہوئے محض چند سیاروں تک ہی سمیٹ دیا، اور اس کرۂ ارض پر ان کے دائرۂ حیات کو اس قدر تنگ کر دیا کہ اب وہ دوسرے سیاروں پر اپنی موہوم زندگی کی تلاش میں سرگرداں ہیں، آج وہ اپنے اس جھوٹے نظریہ کی اشاعت ویڈیو گیمز اور ہولی وڈ کی سائنس فکشن موویز کے ذریعہ کرتے ہیں، ان فلموں کے اندر کبھی وہ خلائی دنیا میں ایک موہوم انسانی زندگی کے ظہور کا مظاہرہ کرتے ہیں، اورکبھی ڈرامائی انداز میں کرۂ ارض کی یک لخت تباہی وبربادی کا ایک خیالی وغیر حقیقی منظر پیش کرتے ہیں، اور ان تفریحی وسائل کے ذریعہ وہ نہ صرف بےشمار مادی منافع حاصل کرتے ہیں بلکہ کمزور دماغوں میں اپنے غلط تصورات کو بھی پیوست کرتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں کائنات کے اسرار ورموز کی چھان بین سے ہرگز منع نہیں کیا، تحقیق وجستجو تو انسان کا فطری خاصہ ہے، یہ تمام انکشافات انہی سائنسی موشگافیوں کا نتیجہ ہیں، ہم شوق سے چاند، مریخ، زہرہ اور عطارد کی سیر پر جائیں لیکن اگر ہم وہاں اس فکر اور عقیدے کے ساتھ جاتے ہیں کہ "ان سیاروں پہ ایک نئی دنیا آباد کرنی ہے کیونکہ یہ کرۂ ارض مع اپنے تمام وسائل وذرائع کے جلد ہی فنا ہونے والا ہے” تو اسلام کو نہ صرف ہماری اس سوچ سے اختلاف ہے بلکہ وہ ہمارے ایمان اور عقیدے کو بھی شک وشبہ کی نظر سے دیکھتا ہے جو ہمارے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
امتِ مسلمہ ایک بے حد نازک دور سے گزر رہی ہے، ہم سیاست وحکومت، تجارت ومعیشت، آلاتِ حرب وضرب اور زندگی کے مختلف میدانوں میں تو کمزور اور بے بس ہو ہی چکے ہیں، رہ گئی ہماری دینی میراث اور ایمانی فہم وفراست انھیں بھی مغرب کے یہ باطل نظریات، دین سے ہماری حد درجہ غفلت وکوتاہی کی وجہ سے ہائی جیک کر رہے ہیں، ہمیں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنا دینی محاسبہ کرنے اور کتاب وسنت کی روشن تعلیمات سے ایک گہرا ربط وتعلق پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہم خود کو اور اپنی نوجوان نسل کو ان گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھ سکیں، اللہ تعالی ہماری دینی فہم وفراست اور ایمانی بصیرت کو مزید تقویت عطا فرمائے.. آمین

 

سلمان عارفی ندوی
Latest posts by سلمان عارفی ندوی (see all)

سلمان عارفی ندوی

Salman Aarifi is a Research Scholar in the Center for Arabic and African Studies, Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے