مسلمان اپنی ترقی کیسے کریں؟

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]

کچھ لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ یہاں بات صرف مسلمانوں کی ترقی کی ہی کیوں کی جا رہی ہے، جب کہ ہر سماج اور برادری میں پسماندگی پائی جاتی ہے؟ بےشک پسماندگی ہر طرف ہے۔مسلمان ہی پسماندہ نہیں ہیں بلکہ دلت اور آدی واسی بھی غربت، تعصّب اور تشدد کے شکار ہیں۔ مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ ہندوتو کے دور میں مسلمانوں کا "خوف "دکھا کر اور اُن کو نشانہ بنا کر سیاست کی جا رہی ہے۔
بلا شبہ مسلمانوں کی طرح دلتوں اور آدی واسیوں کے مسائل بھی بڑے ہیں۔ مثلاً دلت آج بھی چھوت چھات کے شکار ہیں اور ان کی ایک بڑی آبادی زمین اور دیگر وسائل سے محروم رکھی گئی ہے۔ آدی واسی لوگ اپنے ہی گھر سے اجاڑے جا رہے ہیں اور اپنے ہی وسائل سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ میری یہاں ہر گز یہ یہ کوشش نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کو سب سے بڑا بتایا جائے۔ مگر اتنا تو ضرور کہنا چاہونگا کہ مسلمانوں کے مسائل کی نوعیت کچھ الگ ہی دکھ رہی ہے۔
جہاں دلتوں اور آدی واسیوں کو ریزرویشن حاصل ہے، وہیں مسلمانوں کے لیے الگ سے کوئی کوٹا نہیں ہے۔ جن دلت مسلمانوں کو ایس سی درجہ حاصل تھا انہیں اچانک ایک صدراتی فرمان لا کر باہر کر دیا گیا۔ ایک ہندو دھوبی ایس سی ریزرویشن کا فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اسی گاؤں کے ایک مسلم دھوبی کو اس پالیسی سے باہر رکھا گیا ہے۔ آج پبلک ڈیبیٹ اس طرح ہندوتو کے رنگ میں رنگ دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی بات کر ڈالی تو اُن پر ہی”کمیونل” ہونے کا "ٹیگ” چسپاں کر دیا جائےگا۔ اعلیٰ تعلیم، سرکاری نوکری اور قانون ساز اسمبلی میں مسلمان آج کہیں نظر نہیں آتے اور اُن سے بہتر حالت تو دلتوں کی ہے۔
یہ بات سب جانتے ہیں مگر بہت کم لوگ اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوتو کے دور میں مسلمان اس قدر الگ تھلگ کر دیے گئے ہیں کہ ان کے حقوق کی بات کرنا ایک "گناہ” سمجھا جانے لگا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو آج مسلمانوں کے لیے انصاف کی بات کہنا "ہندو مخالفت” اور "ملک مخالفت” سے تصوّر کیا جا رہا ہے۔ وہیں دلت مفاد کی بات کرنا، خواہ وہ اوپری ہی من سے کیوں نہ ہو، "پولیٹیکلی کریکٹ” پوزیشن بن گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مخصوص اقلیت مسلم سماج کی ترقی کے بارے میں بات کرنے سے بہت بہت ساری سیکولر طاقتیں کتراتی ہیں۔ یہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بی جے پی کی پوری سیاست ہندو بنام مسلمان کی ہے اور انتخابات کو کمیونل کر نے کی وجہ سے بھگوا طاقت اقتدار پر قابض ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ بہت سارے رائے دہندگان نے بی جے پی کو ووٹ اس لیے دیا کیوں کہ بھگوا طاقتوں نے ان کے دلوں اور دماغوں میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ ہندو اور مسلمان کے مفادات جدا جدا ہیں اور بی جے پی "ہندوؤں کی پارٹی” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی پر بات کرنا اور اس سے متعلق تجاویز پیش کرنا ایک بے حد مشکل امر ہے۔
مگر وقت کا تقاضا ہے کہ بات ترقی کی ہی ہو اور منفی اور جذباتی باتوں سے گریز کیا جائے۔بات مزید آگے بڑھائے سے پہلے ترقی سے میری مراد کیا ہے واضح کر دینا چاہوں گا۔ ترقی یعنی "وکاس” کی بات آج کل ملک کے ایک بڑے لیڈر بھی دن رات کرتے نہیں تھکتے، مگر میری سمجھ اُن سے الگ ہے۔ ترقی کا یہاں مطلب انسان کی بھلائی سے ہے، بڑے بڑے صنعت کاروں کی تجوری بھرنے سے نہیں۔ اسی معنی میں مسلمانوں کی ترقی کا یہاں مطلب یہ ہے کہ ملک کے کمزور ترین اقلیت سماج کو سماجی، تعلیمی، سیاسی اور اقتصادی طور سے مضبوط کرنا۔ انسان کے مفاد کی بات کرنا ملک کے مفاد سے جدا بھی نہیں ہے جیسا کچھ لوگ دلیل پیش کرتے ہیں۔ ملک کے شہری چاہےہندو یا مسلمان مضبوط ہو جائیں گے تو ملک بھی خود بخود مضبوط ہو جائےگا۔
اپنی ترقی کے لیے مسلمانوں کو سب سے پہلے منفی باتوں، غیر سنجیدہ اور جذباتی بیانات سے پرہیز کرنا ہوگا۔ خواہ اُن کو کتنا بھی اکسانے کی کوشش کی جائے انہیں اپنا صبر اور ضبط نہیں کھونا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیانات سوچ سمجھ کر دیے جائے اور فرقہ پرستوں کا جواب اُن کی زبان میں ہرگز نہ دیا جائے۔ اسی طرح کوئی بات بولنے سے پہلے پوری تیاری ہو۔
مگر افسوس کہ بعض اوقات ان باتوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر آسام کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نے حال کے دنوں میں ایک بیان دیا تھا کہ مسلم بدستور بچہ پیدا کرتے رہیں گے۔ یہ بیان دینے سے پہلے اُن کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ آسام میں انتخابات قریب ہیں اور فرقہ پرست طاقتیں بڑھتی ہوئی (مسلم) آبادی کے نام پر رائے دہندگان کو پولرائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی درمیان یہ کہنا کہ مسلمان بچے پیدا کرتے رہیں گے چاہے کوئی بھی قانون بن جائے ہوشیاری نہیں ہے۔ یہ بیان فرقہ پرستوں کو اُن کے مطابق بائٹ مفت فراہم کرنے سے کم نہیں ہے۔ جناب نے ہی کچھ مہینوں پہلے تین طلاق کے مسئلے پر بولتے ہوئے مسلمانوں کے ایک خاص مسلک کو پارلیمینٹ کے فلور سے دہشت گرد کہہ ڈالا تھا! بعد میں انہوں نے اپنے بیان سے رجوع بھی کیا مگر جتنا نقصان پہونچنا تھا اتنا پہنچ چکا تھا۔ لہٰذا تقریر کرتے ہوئے مسلم سیاسی لیڈران اور ملی اور مذہبی پیشواؤں کو بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور ان کو کسی طرح کی پرجوش بیان بازی نہیں کرنا چاہیے۔ مذہبی پیشواؤں کو بھی چاہئے کہ وہ مسلکی اختلافات پر گفتگو کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے فائدہ بہت کم اور نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ہم سب کو یہ بات ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ لوگوں کے درمیاں عقیدہ، رسومات، زبان، کھان پان، پوشاک اور دیگر معاملوں میں تنوع پایا جاتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ اگر مسلمان بھی سب کو ایک رنگ میں رنگنے کی ضد پکڑ لیں تو وہ فرقہ پرستوں سے بھلا کیسے بہتر ہیں؟
دوسری بات سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو سیاست میں آنا چاہیے کیونکہ اُن کی گرتی ہوئی سیاسی نمائندگی ہندوستانی جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ مگر مسلم سیاسی لیڈران کو مخصوص مسلمانوں کی سیاست ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مسلمانوں نے مذہب کے نام پر لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تو اس کا فائدہ ہندوتو طاقتوں کو ملےگا۔ مسلم سیاست کو کوشش کرنی چاہیے کہ ایک بڑا اتحاد بنے جس میں سماج کے ہر دبے کچلے اور کمزور لوگوں کو ساتھ لیا جائے۔ سیاست دنیاوی معاملوں پر ہونی چاہیے۔ مذہب پوری طرح سے انفرادی معاملہ ہونا چاہیے اور سیاسی جماعت کو سیکولر اقدار میں یقین رکھنا چاہیے۔ سیکولرازم میں یقین رکھنے کا یہ بالکل مطلب نہیں ہے کہ سب کو کہا جائے کہ وہ مذہب کو جبراً ترک کر دیں۔ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں ہم آہنگی کے لیے سارے دھرموں کا احترام کرنا ضروری ہے۔ سیکولر ازم اسی کا نام ہے۔(جاری, بشکریہ انقلاب)

(مضمون نگار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی جمع کی ہے۔)
(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے