جلا سکو تو جلاؤ تم آرزو کے چراغ

Spread the love

۲۹ مارچ ۲۰۱۸ (عزیر احمد، بلاگ)
مجھے ایسی تحریریں لکھنے والے سخت ناپسند ہیں جن کی تحریروں میں یاس و قنوطیت کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے، جو امت کے مسائل و مصائب کو حل کرنے کے بجائے صرف حالات کا رونا روتے رہتے ہیں، حالات سے روشناس کرانا اچھی بات ہے، مگر اس پہ منفی پہلو کو زیادہ غالب کردینا بالکل بھی مناسب نہیں ہے.
حالات یکساں کبھی نہیں رہتے، اور نہ ہی حالات ہمیشہ اچھے رہتے ہیں، امت مسلمہ ہند آج جن پریشانیوں سے گزر رہی ہے، اس سے بڑی بڑی پریشانیاں اس کے سر پہ آ چکی ہے، مگر خدا کی یہ شریعت اتنی کمزور نہیں کہ ہوا کا ہلکا سا دباؤ بھی جھیل نہ سکے، آپ تاریخ پہ نظر ڈالئے نا، سقوط دمشق، سقوط بغداد، سقوط غرناطہ، سقوط دہلی، انگلیوں پہ صرف زوال کی داستانیں گنتے چلے جائیں، زبانیں تھک جائیں گی، قلم کی سیاہی ماند پڑ جائے گی، مگر پھر بھی یہ احساس باقی رہے گا ابھی امت کے زوال کے بارے میں بہت کچھ کہنا سننا باقی رہ گیا ہے.
لیکن ان مصائب و مشکلات سے کیا ہوا، نہ اسلام بگڑا، نہ شریعت پہ آنچ آئی، نہ کتابیں مسخ ہوئیں، نہ حدیثیں دنیا سے ختم ہوئیں، نہ اس پہ عمل کرنے والوں کا خاتمہ ہوا، پھونکوں سے یہ چراغ تھوڑی نہ بجھایا جا سکتا ہے، اب دیکھئیے نا، آج کے دور میں بھی اتنی مخالفتوں کے باوجود اسلام سب سے سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا مذہب ہے.

تاریخ کے اوراق کو زیادہ مت پلٹئے، صرف ہندوستان کی آزادی سے پہلے کے حالات پہ نظر ڈالئیے، آپ کو لگے گا کہ جو مصیبتیں ہم جھیل رہے ہیں وہ اس دور کے بالمقابل کچھ بھی نہیں، آج تو ہمارے لاکھوں علماء کرام کو پھانسیاں بھی نہیں دی جارہی ہیں، ہمارے گھروں کو منطم طریقے سے اسٹیٹ کے ذریعہ تباہ و برباد نہیں کیا جا رہا ہے، ہمیں کالا پانی کی سزائیں نہیں دی جا رہی ہیں، ہماری عصمتوں اور عزتوں سے اس دور کی طرح کھلواڑ بھی نہیں کیا جا رہا ہے، ہر طرف سے ہمارا ناطقہ بھی بند نہیں کیا جارہا ہے، مگر پھر بھی ہم ہیں کہ راستہ ڈھونڈنے کے بجائے حالات کی سختیوں کا رونا روئے جا رہے ہیں.

یاد رہے ہمارا دشمن بہت ہوشیار ہے، اسے معلوم ہے کہ اس قوم کو ختم کرنا آسان نہیں، اور ظاہر سی بات ہے کسی بھی ملک سے تیس کروڑ آدمیوں کو یونہی ختم کردینا ممکن نہیں، اگر کوشش بھی کی جائے تو اس کے جو نتائج نکل سکتے ہیں اس کا عملی مشاہدہ ہم ہندو مسلم فسادات کی شکل میں ہم دیکھ سکتے ہیں.
فسادات جب ہوتے ہیں، تو اس میں صرف مسلمان نہیں مرتے ہیں، ہندو بھی مرتے ہیں، پراپرٹی اور جائداد ان کی بھی تباہ ہوتی ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ ایسی اگر کسی قسم کی سازش کی جائے گی تو نقصان تو پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا، اس لئے ہمارا دشمن ایسا کچھ کرے گا بھی نہیں، الا یہ کہ ملک کی دوبارہ تقسیم کا من بنالے، وہ صرف نفسیات کا کھیل کھیلنا چاہتا ہے، ذہنی طور پہ ہمیں مرعوب کردینا چاپتا ہے، ہمارے دل و دماغ پہ وہ ڈر کی حکمرانی اس طریقے سے قائم کردینا چاہتا ہے کہ ہم اپنے بارے میں بھی سوچنے سے ڈرنے لگیں، ہم اپنے مفادات کے حصول سے پیچھے ہٹ جائیں، ہم اپنی "مسلم شناخت” کو پس پشت ڈال دیں، اپنے قانونی حقوق کو ترک کردیں.
ہمارا دشمن ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے، نفسیاتی کھیل، اور یہ کھیل صرف ایک محاذ پہ نہیں، بلکہ ہر جگہ کھیل رہا ہے، ہر ممکنہ طریقے سے کھیل رہا ہے، فلموں کے ذریعہ ہمارے تاریخی کرداروں کو مسخ کر رہا ہے، ہندو لٹریچر کے بہاؤ کے ذریعہ ہماری تہذیب، ہمارے کلچر کو اڑا لے جانا چاہتا ہے، میڈیا کے ذریعہ ہمارے خلاف پروپیگنڈے کر رہا ہے، سوشل میڈیا پہ نفرت پھیلا رہا ہے، ہمارے اپنوں ہی میں سے افراد تیار کرکے عدالتوں میں ان کے ذریعہ پٹیشن دائر کروا کے شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کر رہا ہے، سلیبس میں تبدیلیاں کروا رہا ہے، سابقہ تاریخی ہندی مسلم مملکتوں کو ظالم تصور کروا رہا ہے، غرضیکہ ہر وہ کام کر رہا ہے جس کے ذریعہ ہمیں نفسیاتی طور پہ مغلوب کیا جاسکے، اور ہم ہیں کہ دھرنے اور پروٹسٹوں میں پڑے ہوئے ہیں.
ضرورت ہے کہ دشمن کا مقابلہ اسی کے ہتھیار سے کیا جائے، امت کے کریم طبقہ کو جمع کرکے تھنک ٹینک تیار کیا جائے، جس کا مقصد امت کے لئے لائحہ عمل اور اولویات کو ترتیب دینا ہو، اور امت کو افراد کو معاشرے کے ہر فیلڈ میں اتارنے کے لئے پلان بنایا جائے، انہیں تاریخ داں بنایا جائے، انہیں ماہر قانون داں بنائے جائے، انہیں بیوروکریسی میں داخل کیا جائے، انہیں میڈیا میں جگہ دلائی جائے، غرضیکہ انہیں ہر میدان میں ایک چمکتا ہوا ستارہ بنایا جائے، تاکہ چار و ناچار ان کی مدد کے بغیر کوئی کام نہ ہوسکے.
ہمارے دشمن نے بھی تو محنت کی ہے، سو سال تک محنت کی ہے میرے دوست، اور آج اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ اس کے افراد ۲۳ اسٹیٹ پہ حکومت کر رہے ہیں اور ملک کے ٹاپ تین عہدے (صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، اور وزیر اعظم) پہ ان کے افراد ہیں، بقیہ بیوروکریسی میں تقریبا ہر ہزار میں سے چھ سو ان کے افراد یا ان کے انسٹیٹیوشنز سے تعلیم یافتہ لوگ ہیں، کس فیلڈ میں نہیں ہیں وہ لوگ، اعلی سے اعلی دماغ کو انہوں نے اپنا اسیر بنا رکھا ہے، بڑے سے بڑے سائنٹسٹ، تاریخ داں، ماہر سماجیات غرضیکہ ہر شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد ان کے پاس موجود ہیں، راکیش سنہا انڈین ایکسپریس میں کھلے بندوں رام جنم بھومی اور ہندو راشٹر کی حمایت میں لکھتا ہے اور ہمارے پاس اتنے قابل لوگ نہیں ہیں جو اس کا جواب دے سکیں، رام چندر گوہا کھلے لفظوں میں مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پبلک لائف میں اپنی "Muslimness” کو چھوڑ دیں، وہ برقعہ کو "ترشول” کے مماثل قرار دیتے ہیں، مگر ہمارے پاس وہ قابل افراد نہیں ہیں جو ان کا کاٹ انہیں کی زبان میں کر سکیں، ان کے دلائل کو انہیں پہ پلٹ سکیں، لے دے کے جو کچھ ہیں بھی ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا ہم نے کبھی انتظام نہیں کیا اور نہ ہی پلان بنایا، اس لئے وہ بھی تقریبا نہ ہی ہونے کے برابر ہیں، جب کہ وہیں دوسری طرف ہمارے دشمن نے اپنے سے وابستہ ایک ایک فرد کے لئے ہندو مذہبی تعلیم کا بند و بست کر رکھا ہے، اور ہم ہیں کہ اگر ہمارے معاشرے کا کوئی بندہ یونیورسٹی میں گیا یا اسکول و کالج کی راہ اپنائی، تو اسے یہ سوچ کے چھوڑ دیتے ہیں کہ اب تو یہ گمراہ ہوگیا ہے، اس لئے اس سے دوری اختیار کرلینا بہتر ہے.
میری رائٹر طبقہ سے یہی گزارش ہے کہ اپنی تحریروں میں بہت زیادہ حالات کا رونا رونے کے بجائے اس سے نکلنے کے اسباب پہ فوکس کریں، یاس و قنوطیت کے بجائے تقابل و تقارن کے ذریعہ امت کی حوصلہ افزائی اور اس کی تشجیع کا کام کریں، اپنے لفظوں کے ذریعہ امت کو تعلیم و تعلم کی طرف موبلائز کریں، اور ایک بار نہیں بار بار لکھیں، اور کچھ ایسا لکھیں کہ ہر دور اور ہر زمانے کے لئے وہ مشعل راہ ثابت ہوں، آنے والی نسلوں کے لئے وہ Inspiration بن جائیں، ورنہ حالات کا کیا ہے، وہ تو ہمیں بہت سارے ذرائع سے معلوم ہی ہوجاتا ہے، کہ کیا سچویشن ہے کیا نہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے