ہندوستان کی مسلم خواتین کا تاریخی انقلاب

Spread the love


ڈاکٹر محسن عتیق خان
مدیر سہ ماہی عربی میگزین "اقلام الہند”
‌ہم جس تاریخی دور سے گزر رہے ہیں اور مسلم خواتین کے جن جراتمندانہ انقلابی جلوسوں، اور بہادرانہ احتجاجی مظاہروں کا بنظر خود مشاہدہ کر رہے ہیں اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہم نے خواتین کی خدمات کے بارے میں بہت کچھ پڑھا لکھا، حضور اکرم صلی االلہ علیہ وسلم کے دور میں فوجیوں کی تیمار داری میں انکا رول، محلات میں بیٹھ کر حکومت سازی میں انکا کردار، علم کے میدان میں انکے جلوے، مگر صنف نازک کو کبھی اتنا بیباک نہیں پایا۔ اُنھوں نے دقیانوس مولویوں کی قبائیں چاک کر دیں، مسلم عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والی حکومت کی زبان گنگ کردی، اور اُنہیں مظلوم ومحكوم اور بے زبان سمجھنے والی دلال میڈیا کے سامنے ایسے سوال داغے کی نام نہاد صحافیوں سے جواب نہیں بن پڑا۔
‌کیا یہ تبدیلیاں انکے اندر پہلے ہو رہیں تھیں یا سب کچھ اچانک سے برپا ہو گیا، یہ سمجھ پانا آسان نہیں ہے۔
اگر اس کی شروعات پر غور کریں تو ہمیں اس واقعے کی طرف جانا ہوگا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس دن پیش آیا جب دہلی پولیس نے اپنی بربریت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آقاؤں کے کہنے پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پر امن طریقے سے احتجاج کر رہے طلباء پر نا صرف لاٹھیان برسائیں بلکہ گولیاں بھی چلائیں۔ اسی رات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں چل رہے پروٹسٹ پر بھی پولیس ٹوٹ پڑتی ہے اور پولسیا مظالم كي نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ ان دونوں یونیورسٹیوں میں پولیسیا کارروائی کی خبر جیسے ہی جواہر لال نہرو پہنچتی ہے وہاں کی student Union فوراً دہلی پولیس کے ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کرنے کے لئے کال دے دیتی ہے۔ اور وہاں پر لوگ جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اس رات پولیس کی بربریت کے بہت سارے ویڈیوز وائرل ہوئے اُن میں ایک وہ بھی تھا جس میں جامعہ کی کچھ طالبات پولیس سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر تکرار کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک طالب علم بیچ میں آجاتا ہے اور اُن طالبات کو اندر جانے کے لیے بولنے لگتا ہے، پولیس اس طالب علم کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر کھینچ لیے جاتی ہے اور بے تحاشا اس کو مارنا شروع کر دیتی، مگر لڑکیاں اُس کے بچاؤ میں پلٹ پڑتی ہیں اور پولیس کو چیلنج کرتے ہوئے اسے چھاپ بیٹھتی ہیں حتی کہ پولیس کو اپنا ہاتھ روکنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ عورتوں کی بہادری کی ایک علامت بن جاتا ہے اور اسی رات دیکھتے دیکھتے جامعہ سے لگے شاہین باغ کی مائیں جن کے بچے پولیس کی بربریت کا شکار ہوئے تھے اپنے جگر پاروں کی محبت میں گھر سے باہر نکل پڑتی ہیں اور شاہین باغ سے ہوکر گزرنے والی اور دہلی سے نوئیڈا کو جوڑنے والی روڈ کو جام کرکے دھرنے پر بیٹھ جاتی ہیں۔ اور اس طرح شروع ہوتا ہے ہندوستان میں مسلم خواتین کا پہلا تاریخی اور بے مثال احتجاجی مظاہرہ۔ اس کے اگلے ہی دن پورے ملک میں احتجاجات کا سیلاب اُمنڈ پڑتا ہے جس میں مسلمان پیش پیش نظر آتے اور ان کے شانہ بشانہ کچھ مخلص غیر مسلم احباب بھی نظر آتے ہیں۔ یہ احتجاجات اُن صوبوں میں پر امن رہتے ہیں جہاں سیکولر پارٹیوں کی حکومت ہے البتہ بھاجپا يا اسکی ساتھی پارٹیوں کی حکومت والے صوبوں میں حکومت میں بیٹھی فسطائی طاقتوں کو مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا پورا موقع مل جاتا ہے۔ اُتر پردیش، کرناٹک، گجرات اور دہلی میں خونی کھیل کھیلا جاتا ہے جس میں درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں اور اس طرح دھیرے دھیرے حکومت اور پولیس کا متعصّب چہرہ دنیا کے سامنے آ جاتاہے۔ ان صوبوں میں تھوڑی دیر کے لیے ایسا لگتا ہے کہ خاموشی چھا گئی ہو اور حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ظلم و تعدی کے ذریعے احتجاجات کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس بیچ دوسرے صوبوں میں الگ الگ انداز میں دھرنے جاری رہتے ہیں اور مسلسل جاری ہیں مگر شاہین باغ کا دھرنا خالص عورتوں کا دھرنا ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں موضوع بحث بن جاتا ہے اور ہندوستان سے آگے بڑھ کر عالمی میڈیا میں اس کی آواز گونجنے لگتی ہے خاص طور سے 31 دیسمبر کی رات کو لاکھوں لوگوں کی شرکت کے بعد۔
شاہین باغ کی خواتین سے متاثر ہوکر دھیرے دھیرے دوسرے شہروں میں بھی خواتین گھر سے باہر نکل کر کھلے میدانوں میں مستقل دھرنے پر بیٹھنے لگتی ہیں اور پولیس اور حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود وہ سخت سردی سے لڑتے ہوئے ڈٹ جاتی ہیں۔
شاہین باغ کے بعد دہلی کے آرام پارک خورجی میں بھی عورتوں کا دھرنا شروع ہو جاتا ہے اور پولیس کی تمام کوششوں اور رکاوٹوں کے باوجود یہ چل پڑتا ہے۔ کولکاتا کے سرکس پارک میں بھی شاہین باغ کی طرز پر دھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ گجرات کے احمدآباد میں بھی اسی طرز پر دھرنا شروع ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے یہ لسٹ لمبی ہونے لگتی ہے۔ اُتر پردیش میں مردوں کے ابتدائی احتجاج کے نتیجے میں نوجوانوں کی جو شہادتیں ہوئیں اسکے بعد حکومت اور میڈیا کو لگا کہ سب کچھ نارمل ہو گیا ہے مگر اندر اندر ایک لاوا اُبل رہا تھا اور آخر کار کانپور اور الہ آباد میں شاہین باغ کے طرز پر عورتوں کا دھرنا شروع ہو گیا۔ لکھنو اب تک خاموش تھا کیونکہ سب سے زیادہ تشدّد وہیں دیکھنے کو ملا تھا مگر زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور 17 جنوری کی رات کو دیکھتے ہی دیکھتے گھنٹہ گھر کے پاس عورتوں کا مجمع اکٹھا ہونا شروع ہو گیا اور سخت سردی کے باوجود، پولیس کے زریعے کمبل چرا لینے، کّھانے پینے کی اشیاء ضبط کرلینے، سائباں نہ لگانے دینے اور آس پاس کے بیت الخلاء مقفل کرنے، اور بہت سی خواتین کے گرفتار کرنے کے باوجود جو دھرنا شروع ہوا اسے کوئی روک نہ سکا اور مستورات کا یہ دھرنا 24* 7چلنے لگا اور تعداد مسلسل بڑھنے لگی۔ شاہین باغ کے طرز کے عورتوں کے مستقل دھرنوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے حتٰی کہ اب یہ معاملہ فہرست کی حدوں سے پار ہوچکا ہے۔ صرف بہار میں ہی گیارہ ضلعوں کے اندر اس طرز پر احتجاجات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ باقی یوپی، پونے، مدراس، پنجاب، مغربی بنگال وغیرہ شامل ہیں، اور اس طرح شہر شہر شاہین باغ نظر آنے لگا۔
عورتوں کے یہ احتجاجات تاریخی نوعیت کے ہیں کیونکہ مسلم خواتین کی طرف سے اس طرح کے طاقتور مظاہرے کبھی دیکھنے کو نہیں ملے۔ مگر اپنے بچوں اور مردوں کی شہادتوں کے بعد عام طور سے پردہ میں رہنے والی ان خواتین کے پاس گھر کے آرام کو چھوڑ کر میدان میں بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں بچا، کیونکہ مسئلہ انکے وجود اور ہندوستان میں انکے بچوں کے مستقبل کی بقا کا ہے۔ ان مظاہروں نے مسلمان عورتوں کی مظلوم ومقهور اور ان پڑھ والی جو امیج ہندوستانی حکومت اور میڈیا نے بنا رکھی تھی اس کو ایک دم سے چکنا چور کر دیا۔ ہو سکتا ہے عورتوں کے بااختیار بنانے یہ بننے کے تعلق سے معاشرہ میں تبدیلیاں پہلے سے ہو رہی ہوں مگر وہ اتنی نمایاں نہ رہی ہوں کی ان کا احساس کیا جاسکے۔
انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اکثریت اور قوت کے نشے میں چور بھاجپا کی فسطائی مرکزی حکومت ان مظاہروں کے مطالبات سننے کے بجائے انکو بدنام کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ پہلے شاہین باغ کے تعلق سے مظاہرین کے 500 لیکر دھرنے پر بیٹھنے کی افواہ بھاجپا کی آئی ٹی سیل نے اڑائی مگر جلد ہی اسے غلط ثابت کر دیا گیا، پھر کشمیری پنڈتوں کے ایک گروپ کو وہاں بھیج کر خلفشار مچانے کی کوشش کی، اسکے بعد نیوز نیشن کے گمنام اور چاپلوس دیپک چوراسیا کے زریعے شاہین باغ میں خود کی ہیکلنگ کی خبر اڑائی گئی، اور اب کبھی شاہین باغ پروٹست کا حصہ رہے شرجیل امام کے بارے میں ملک مخالف بیان دینے کی بات کہی گئی ہے اور انکے خلاف دیش سے غدّاری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جب کہ کچھ دنوں قبل دہشت گردوں کے ساتھ پکڑے گئے دیویندر سنگھ کے خلاف غدّاری کا مقدمہ نہیں دائر کیا گیا تھا۔ اُمید ہے کہ جیسے جے این یو طلبہ پر لگایا گیا یہ الزام پچھلی بار غلط ثابت ہوا تھا ان شاء اللہ اس بار بھی غلط ثابت ہوگا۔ کیونکہ ہم اپنے اس ملک کی گنگا جمُنی تہذیب و ثقافت کی بقا کیلئے، اور یہاں کے لسانی، مذہبی، نسلی اور علاقای تنوع کی حفاظت کے لیے، اور ہمارے بزگوں کے ذیعے تیار کیے گئے دستور کی حمایت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کی وہ ان مظاہروں کو بدنام کرنے کے حربے اپناتے رہیں گے اور جھوٹ بولتے رہیں گے جیسا کہ میں نے پہلے اپنی غزل میں کہا تھا:
الزام ابھی اور بھی آئیں گے دیکھنا
ہر روز نیا جھوٹ وہ لائیں گے دیکھنا
انکو محبتوں سے نہیں کچھ بھی سروکار
نفرت کو ابھی اور بڑهائیں گے دیکھنا
مگر ہمیں خاموش نہیں بیٹھنا ہے بلکہ اپنے حقوق، اپنے اس ملک کی سالمیت اور دستور کی بقا کے لیے اپنا احتجاج پوری قوت سے جاری رکھنا اور ساتھ ساتھ فسطائی طاقتوں کے ہر جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہے اور اُنکے ہر حربے کو ناکام کرنا ہے۔

One thought on “ہندوستان کی مسلم خواتین کا تاریخی انقلاب

  • جنوری 26, 2020 at 12:51 شام
    Permalink

    No doubt
    This is true

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے