سیاست میں شخصیت پرستی انحطاط اورحتمی آمریت کا راستہ

Spread the love


سولی جے. سربجی
یہ مضمون پہلی بار 15 اکتوبر 2019 کو انڈین ایکسپریس کے پرنٹ ایڈیشن میں ‘باباصاحب کی وارننگ’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ مضمون نگار ہندوستان کے سابق اٹارنی جنرل ہیں۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہمارے قارئین کے لئے اس کا ترجمہ محمد اویس ندوی کے قلم سے پیش کیا جارہا ہے. مترجم جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں طالب علم ہیں.

بھیم راؤ رام جی امبیڈکر جنہیں پیار سے باباصاحب امبیڈکر کے نام سے جانا جاتا ہے،ہمارے آئین کے مرکزی معمار تھے۔ *آزاد ہندوستان کے آئین کی تشکیل کا کام قابل تحسین تھا۔ اس مقصد کے لئے آئین ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 6؍دسمبر 1946 کو منعقد ہوا ۔ امبیڈکر 29 ؍اگست 1947 کو مسودہ کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔ وہ اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ بنیادی حقوق کی ضمانتوں اور ان معالجاتی تدابیر کو واضح طور پر آئین میں شامل کیا جائے جن کے ذریعے ان کا نفاذ آسان اور تیز تر ہوجائے۔ اس کے پیش نظر ، موجودہ آرٹیکل 32 کے مطابق آرٹیکل 25 کے مسودہ کو شامل کیا گیا۔ امبیڈکر نے کہا "اگر مجھ سے اس آئین میں کسی خاص آرٹیکل کے بارے میں پوچھا جاتا جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو – ایسا آرٹیکل جس کے بغیر یہ آئین کالعدم معلوم ہو تا – تو میں اس آرٹیکل کے علاوہ کسی اور آرٹیکل کا نام نہیں لیتا ۔ یہ آئین کا روح ہے اور اس کا دل ہے۔
*آئین کے کامیاب عمل کے لئے امبیڈکر کا نسخہ یہ تھا کہ کوئی واضح عدم مساوات نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی ایک ظالم اور ایک مظلوم طبقہ ہونا چاہئے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک کسی آئین کے اخلاقی اقدار کو برقرار نہیں رکھا جائے گا ، اس وقت تک پرشکوہ الفاظ لوگوں کی آزادی اور جمہوری اقدار کا تحفظ نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے آئین کے عمل میں آئینی اخلاقیات کو بہت اہمیت دی جس کا مطلب تھا "آئینی شکلوں کے لئے ایک خاص عزت واحترام ، ان شکلوں کے تحت اور ان کے اندر کام کرنے والی اتھارٹی کی تابعداری قائم کرنا ، مگر اظہار رائے کی عادت کے ساتھ ، اور ایسے عمل کی عادت کے ساتھ جو مخصوص قانونی کنٹرول ،اور ان بہت سارے حکام کی غیر محدود تنقید، اسی طرح ان کے تمام عوامی کاموں کی تنقید کے بارے میں ہوں ۔ امبیڈکر کے مطابق آئینی اخلاقیات فطری جذبات نہیں ہیں۔ اس کی کاشت کاری کی جانی تھی۔ ہمیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہمارے افراد کو ابھی اسے سیکھنا باقی ہے ۔
26 ؍نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی کے اختتامی دن امبیڈکر نے یادگار الفاظ میں ہمارے ملک میں جمہوریت کی کامیاب عمل درآمدگی کے بارے میں خدشہ کا اظہار کیا: "میرے ذہن میں ایک خیال آتا ہے: اس کے جمہوری آئین کا کیا ہوگا؟ کیا وہ اسے برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا یا وہ اسے دوبارہ کھو دے گا؟ جب معاشی اور معاشرتی مقاصد کے حصول کی خاطر آئینی طریقوں کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہتا تو غیر آئینی طریقوں کے جواز کا ایک بہت بڑا عمل وجود میں آتا ہے ۔ لیکن جہاں آئینی طریقے کھلے ہیں وہاں ان غیر آئینی طریقوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ طریقے طوائف الملوکی کے قواعد کے سوا کچھ نہیں ہیں اور جتنی جلد انھیں ترک کردیا جائے ہمارے لئے بہتر ہوگا۔ طوائف الملوکی کے قواعد ابھی بھی مروجہ ہیں اور امبیڈکر کی یہ امید کہ اسے ترک کردیا جائے گا بار آور نہیں ہوسکی ۔
شخصیت پرستی ہمارے ملک میں ایک ایسی علاقائی بیماری ہے جو روز بروز بڑھتی جارہی ہے ۔ ہمارے قائدین کی ہیرو کی طرح تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن اس عمل میں اس رجحان کا خطرہ یہ ہے کہ ایسے افراد کو وسیع اختیارات سونپ دیئے جائیں کہ ان کا کوئی احتساب نہ ہو ،اور ان اختیارات کے استعمال کو غیر تنقیدی طور پر قبول کرلیا جائے ۔ جو کہ کسی بھی حقیقی جمہوریت کی لازمی شرط ہے۔
امبیڈکر ان پوشیدہ خطرات سے واقف تھے۔ انہوں نے اس ہدایتی مشاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالی جسے جان اسٹوارٹ مل نے جمہوریت کی بحالی میں دلچسپی لینے والے تمام لوگوں سے کہا تھا "یہاں تک کہ کسی عظیم انسان کے قدموں پر اپنی آزادی نہیں رکھنا ، یا اس پر ایسی قوت سے اعتماد نہ کرنا جو انھیں تمہارے اداروں کو تہہ و بالا کرنے کے قابل بنادے "۔ ان عظیم افراد کا شکر گزار ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمات انجام دینے میں صرف کردیں۔ لیکن شکرگزاری کے بھی حدود ہیں۔
امبیڈکر نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے معاملے میں یہ احتیاط کہیں زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ہندوستان کی سیاست میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلہ میں بھکتی، یا جسے عقیدت یا شخصیت پرستی کہا جاسکتا ہے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔بھکتی مذہب میں روحانی نجات کا راستہ ہوسکتی ہے۔ لیکن سیاست میں بھکتی یا شخصیت پرستی ، انحطاط اور حتمی آمریت کا یقینی راستہ ہے۔
آئین ساز اسمبلی کے آخری دن امبیڈکر نے ان یادگار الفاظ میں "تضادات کی زندگی” کے خطرات کی نشاندہی کی: "26؍ جنوری 1950 کو ہم تضادات کی زندگی میں داخل ہونے جارہے ہیں۔ سیاست میں ہمارا مساوات ہوگا اور معاشرتی اور معاشی زندگی میں ہم عدم مساوات کا شکار ہوں گے۔ سیاست میں ہم ایک آدمی کے ایک ووٹ اور ایک ووٹ کی ایک اہمیت کے اصول کو تسلیم کرتے رہیں گے۔ ہماری معاشرتی اور معاشی زندگی میں ہم اپنے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کی وجہ سے ایک آدمی کی ایک اہمیت کے اصول سے انکار کرتے رہیں گے۔ ہم کب تک اپنی معاشرتی اور معاشی زندگی میں مساوات کا انکار کرتے رہیں گے؟ اگر ہم زیادہ دیر تک اس کی تردید کرتے رہے تو ہم اپنی سیاسی جمہوریت کو خطرے میں ڈال کر ہی ایسا کریں گے۔ ہمیں جلد از جلد اس تضاد کو ختم کرنا ہوگا بصورت دیگر جو عدم مساوات کا شکار ہیں وہ سیاسی جمہوریت کے اس ڈھانچے کو گرادیں گے جسے اس اسمبلی نے بہت محنت سے بنایا ہے”۔
امبیڈکر نے جو پریشان کن سوالات اٹھائے وہ ہمیں پریشان کرتے رہیں گے۔ مساوات اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ، اچھوت پن کا انسداد اور اس سے وابستہ غیر انسانی سلوک امبیڈکر کے ذہن میں سب سے اوپر تھے۔ وہ اچھوت ہونے کی تکلیف اور رسوا ئی سے صرف واقف ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس کا سامنا بھی کیا تھا، وہ ان لوگوں کی تکلیف سے بھی آگاہ تھے جو اچھوت ہونے کی وجہ سے بے خانماں تھے۔ سماجی انصاف جو ہمارے آئین کی امتیازی دھن ہے اب بھی ہم سے دور ہے۔ سیاسی قائدین ، نام نہاد دانشوران ، نامور صحافی آئینی اخلاقیات کے پابند نہیں ہیں۔ لیکن معاشرتی انصاف کے لئے جدوجہد عزم کے ساتھ جاری رہنا چاہئے۔ اس کا حصول بہترین خراج تحسین ہوگا جو ہم ہندوستان کے سب سے بڑے بیٹے باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو پیش کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے