مزدوروں کی بے بسی اور حکمراں تماشائی!

Spread the love


اختر حسین
ریسرچ اسکالر, ڈپارٹمنٹ آف سوشل ورک
مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

انسانی زندگی کی وجودوبقا میں معاش کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسی پر زندگی کی تعمیر وترقی اور عروج وزوال کا مکمل انحصار ہے۔ حصول معاش کی خاطر انسان شب و روز مختلف ومتنوع تگ و دو اور جدو جہد کرتارہتا ہے۔اسی کی خاطر انسان نہ جانے کتنے ذہنی دباؤ اور تناؤ کو جھیلتا ہے اور جسمانی صعوبتوں کو برداشت کرتا ہے۔ اس کے عوض میں اسے جو رقم حاصل ہوتا ہے اس سے وہ اپنی اور اپنے متعلقین کی ضرورتوں کو پوراکرنے کے ساتھ حسب استطاعت دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ حصول معاش کی اس جنگ میں بعض لوگ کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ زندگی بھر در در بھٹکتے پھرتے ہیں۔
حصول معاش کے لئے انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ ’’کام‘‘، ’’مزدوری‘‘ ،’’ملازمت ‘‘یا ’’نوکری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بظاہر سب ہم معنی الفاظ ہیں اور سب کا مقصد بھی تقریباً ایک ہی جیسا ہے؛ حصول معاش، گزر بسرِ زندگی، کفالت ِاہل وعیال، ضرورتوں یا خواہشات کی تکمیل ؛ خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وغیرہ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ سماج ہر ’’کام‘‘ اور کام کرنے والے کو نہ کبھی ایک نظر سے دیکھتاہے اور نہ ہی ان کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھتا ہے؛ بلکہ کام کی نوعیت ، طرز عمل ، کام کرنے والے کی طرز زندگی اور ظاہری زیب و زینت کی بنیاد پر ’’کام‘‘ کا معیار، قدر وقیمت ،اہمیت کا پیمانہ متعین کیاجاتا ہے۔ اسی لحاظ سے کام کرنے والے کی عزت و وقار ، قدرو منزلت اور مقام و مرتبہ طے پاتا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ خود کام گار، مزدور ، نوکر اور ملازم سبھی، کام کے مراتب میں سماجی دستور ِبالادستی کو قائم رکھنے کو ہی اپنی شان سمجھتے ہیں۔
کام کی نوعیت کی بنیاد پر کام کرنے والے ، مزدوری کرنے والے اور نوکری کرنے والوں کے مابین تفریق ، امتیازی سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی سماجی اور مذہبی رسم ورواج کا نتیجہ ہے۔ ہندو مذہب میں کام کی نوعیت کی بنیاد پرمذہبی اعتبار سے انسانوں کو چار معروف طبقات (برہمن، چھتری، ویش اور شودر)میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں برہمن کوسب پر برتری حاصل ہےجبکہ شودر کو سب سے ابتر سماجی حیثیت دی گئی ہے۔ شودر کو اپنے سے اوپر تینوں طبقات کی خدمات کی ذمہ داری سونپی گئی۔
بھارت میں طبقاتی نظام اور رنگ ونسل کے درمیان امتیاز وتعصب کی تاریخ کافی طویل اور داستان بڑی دلخراش ہے۔ سب سے کمزور شودروں پر، برہمنوں کی ظلم وستم اور چھوا چھوت کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ انسانوں کے ساتھ ایسا سلوک دنیا میں شاید کسی قوم کے ساتھ روا رکھا گیا ہو۔ ان بے چاروں کی زندگی کا فقط ایک مقصد برہمن و بنیا کی ہر ظلم وستم کو آنکھ بند کرکے سہہ لینا تھا۔
دنیا میں مزدوروں کی استحصال کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر دور اور ہر قوم میں مزدروں کو سماج کا ادنی ٰ ترین طبقہ تصورکرکے ان کا ہر طرح سے استحصال کیاجا تا رہا ہے۔یہ اور بات ہے کہ استحصال کی شکلیں اور نوعیت وقت وحالات کے ساتھ مختلف رہی ہیں ۔ ۱۸۴۰ء میں برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ داروں نے مزدوروں پر مظالم کا سلسلہ اتنا بڑھا دیا تھا کہ مجبورا ً مزدوروں کومتحد ہوکر بغاوت کرنی پڑی تھی ۔ خود بھارت میں انگریز دور قتدار میں یہاں کے لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ ہر بھارتی انگریزی جبر واستبداد کے شکار تھے۔ اس عہد میں بھی زمیندار طبقہ مزدوروں کے ساتھ ذرہ برابررحم و کرم کا برتاؤ نہیں کرتا تھا۔ دنیا میں جتنے بھی نظام وجود میں آئے خواہ وہ اشتراکی نظام ہو یا سرمایہ دارانہ نظام سب نے مزدور اور کمزور طبقات کا نہ صرف استحصال کیا بلکہ انہیں تمام انسانی حقوق سے محروم رکھ کر ان کی فرضی مسیحائی کرتے رہے۔ مزدروں کی آہ وفغان، درد وکرب اور بے کسی وبے بسی کو کسی نے سنا اور نہ محسوس کیا ۔
آج پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور غیر معینہ مدت تک لاک ڈاؤن کی اذیت ناک دور سے گذررہی ہے۔ اس دور میں سب سے زیادہ جو طبقہ متاثر ہوا وہ مزدور ہے۔ بھارت میں مزدوروں کی دردناک صورتحال ناقابل بیان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ طبقہ بھارتی سماج کاعضو معطل ہے۔ اسی وجہ سے ان کی کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔ نہ حکومت ان کے مسائل کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں اور نہ سرمایہ دار طبقہ ،جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے تخت شاہی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے یقینا سماج کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے لیکن جس اذیت ناک صورتحال سے مزدور دو چار ہے وہ روح فرسا ہے۔بے یقینی کی وہ صورتحال جہاں نہ جیب میں پیسہ ہے، نہ کھانے کو کچھ میسر ہے، نہ سفر کا پتہ ہے نہ منزل کا لیکن نکل پڑے ہیں اپنے عارضی ٹھکانوں سے ۔ بس چلے جارہے ہیں ،اورچلے جارہے ہیں۔ کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ حکمرانوں نے گویا انہیں موت کے منہ ڈھکیل دیا ہے۔کسی کو ان کی کوئی فکر نہیں ۔ جو رپورٹس آرہی ہیں وہ حکمرانوں کی ناکامی اور مزدروں کی بے بسی کی منہ بولتی تصویر ہے۔
موجودہ صورت حال کو دیکھ کر دستورمیں دئے گئے انسانی وملکی حقوق بے معنی نظر آتے ہیں۔ وہ مثالی باتیں اگرچہ دستور کا حصہ ہیں لیکن عملی طور پر زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ پڑھنے، پڑھانے اور سننے وسنانے کی حد تک وہ باتیں بڑی سنہری معلوم ہوتی ہیں لیکن حقیقت کی دنیامیں ان کی حیثیت افسانے سے زیادہ کی نہیں ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ کروڑوں مزدور جو اس ملک کی تعمیر وترقی میں مضبوط کردار کے حامل ہیں وہ آج سڑکوں پر ہیں، پولس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں،مالک کی بے رخی کے شکار ہیں اور ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہیں۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں راستے ہی میں دم توڑ رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر جو کچھ بھی کیا جارہا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسےموقع پر بھی انسان نما حیوانوں کی کمیشن خوری عروج پر ہے۔
ملک کا ہر سیاسی رہنما اور ہر سیاسی پارٹی غریبوں کی مسیحائی کا دم بھرتی ہے۔ لیکن اس جاں کناں مصیبت کی گھڑی میں سارے گھڑیال شکار کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔ مزدوروں اور غریبوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے یہ ظالم آج بھی انہیں مذہبی منافرت کی آگ میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔ میڈیا جن کے کاندھوں پر اس مہاماری کے دور میں سب سے بڑی ذمہ داری تھی وہ بھی مخصوص رنگ میں رنگ کر مخصوص مذہب وطبقہ کے خلام خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے۔ یہی مزدور اور غریب طبقہ ملک کی سیاست اور معیشت کے مضبوط ستوں ہیں اگر یہ نمایاں کردار ادا نہ کریں تو دونوں کی دیواریں زمیں دوز ہوجائیں گی۔ لیکن افسوس ان غریبوں کو ان کی اہمیت کا خود ہی اندازہ نہیں ہے۔
کاش! یہ مصیبت کی گھڑی نہ ہوکر انتخابات کی گھڑی ہوتی تو منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ انہی غریب اور مزدوروں کی وہ آو بھگت اور ناز برداری کی جاتی کہ ہرانسان قابل رشک ہوجاتا۔ آج جو انہیں بے سمت ، بے یارو مددگار سفر پر نکلنا پڑا ہے ،ایسا نہیں ہوتا بلکہ انہیں کرایہ بھاڑا دیکر بڑی عزت وتوقیر کے ساتھ بلایا جاتا۔ خوشنما وعدوں کا دور ہوتا ۔ہر ایک، چھوٹے بڑے ، امیرو غریب کے سامنے ہاتھ جوڑنے ،جھکنے اورگریہ وزاری کا دور ہوتا۔ کاش کہ یہ وقت انتخابات کا ہوتا!
آج بھی ملک کے مختلف شہروں کے متعدد مقامات پر لوگوں کا ہجوم آئے دن نظر آرہے ہیں ، لیکن یہ کسی انتخابی ریلی کے لئےجمع نہیں ہوئے ہیں بلکہ جس حکومت اپنا ووٹ دیکر اقتدار پر بیٹھایا ہے اس سے گریہ وزاری ہے ، مدد کی پکار ہے اور اپنی آپ بیتی بیان کر رہے ہیں ۔ اس عالمی وباء اور تالابندی کی مار جو لوگ سب سے زیادہ جھیل رہے ہیں ، وہ لوگ تو مفت میں اس کاشکار ہیں۔ در حقیقت اس وباء کا پر زور استقبال کرنے والے، آن بان شان کے ساتھ دوسرے ممالک سے لانے والے کوئی اور ہیں ، جن کے اوپرمزدوروں کا عشر عشیر بھی تالا بندی کا اثر نہیں ہے۔ ایسا صرف اس لئے کہ وہ حضرات مزدوروں کے قبیل سے نہیں ہیں، ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، ان کی سنوائی نا گہانی صورت حال میں بھی ممکن ہے؛ کیونکہ ان کا تعلق صاحب ثروت اور جاہ و منصب والوں سے ہے۔
ملک کی دار الحکومت دہلی سے مختلف شہروں کے لئے ٹرینیں چلائے جانےکے بارے میں جب لوگوں نے سنا تو ہر شہر ی کے دل میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی کہ اب ہم اپنے مقام تک بآسانی پہنچ جائیں گے لیکن جب تفصیلات معلوم ہوئیں تو پتہ چلا کہ یہ غریب عوام کے لئے نہیں بلکہ صاحب ثروت لوگوں کے لئے ہیں۔ اس لئے کہ اس کا جو کرایہ ہے وہ عام، غریب ،مزدور وں کی استطاعت سے کافی زیادہ ہے ساتھ ہی غریب بے چارہ کہاں سے آئی آر سی ٹی سی سے ٹکٹ بنا پائیں گے۔ بالآخر حکومت کا یہ پروگرام بھی عوام کے لئے جھنجھنا ثابت ہوا۔
تالابندی کے ابتداء سے لیکر اب تک حکومت نے جتنے بھی فیصلے کئے ہیں ان میں دانشمندی اور دور اندیشی دور دور تک نظر نہیں آتی۔ کوئی مضبوط لائحہ عمل نہیں ، ماہرین کے ساتھ کوئی تال میل نہیں ،تالی ،تھالی اور دیا سےاوپر کی سوچ نہیں۔ایسے میں جو راحتی پیکیج کے اعلانات ہیں وہ پندرہ لاکھ کے انتخابی جملے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔
دانشوروں کا خیال ہے کہ کسی کی کارکردگی کو بہتر بنانے یا انجام دہی کے معیار کو بلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بنیادی سامان ، سہولیات اور لوازمات دستیاب ہوں۔ ذہنی و جسمانی تناؤ سے محفوظ ماحول میسرہو۔ انہیں ان کے کام کا مناسب معاوضہ دیا جائے ،ان کے لئے ترغیبی اقدام اٹھائے جائیں ؛ خواہ وہ رقم کی شکل میں ہو، تحفظاتی بیمہ ہو۔ لیکن موجودہ وقت میں ملک کی صورت حال بالکل خلاف از قیاس اور غیر انسانی ہے۔شاید حکمرانوں کا ماننا ہے کہ اساسی ساز و سامان اور بنیادی ضروریات و سہولیات کی تکمیل کے بغیر ہی تھالی اور تالی بجانے ، قمقمے اور دئیے جلانے اور بہارو پھول برساؤ جیسے تقریبات کے انعقاد سے کرونا کے خلاف میدان میں جنگ لڑرہے لوگوں کی ہمت افزائی اور عزت افزائی ہوجائے گی، یہ محض ڈھکوسلہ ہے۔ انہیں بنیادی سہولیات اور تحفظات فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔تالی، تھالی اورپھول سے ان لوگوں کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ظلم وستم کی چکی سدا چلتی نہیں۔ مظلوم کی آہ رائیگاں جاتی نہیں ۔پانی جب سر سے اونچا ہوجائے تو قدرت کو جلال آہی جاتاہے۔ قدرت کسی کو لمبی مہلت نہیں دیتا بلکہ ظالم پر اس کا قہر نازل ہو کے رہتا ہے۔ مظلوموں کی صبر کا باندھ ٹوٹنے کی دیری ہے یہ حکومت، یہ تخت وتاج، یہ شان وشوکت ختم ہونے میں لمحے بھر دیر نہیں لگے گی۔لہذا سوتے شیر کے پونچھ پر پیر رکھنے کی حماقت نہیں کی جائےورنہ تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
موجودہ حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مہاماری کے اس پورے دورانئے میں رضاکار تنظیمیں ، انفرادی ادارے، رفاہی ادارے غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بعض ریاستی حکومت کا کردار بھی قابل ستائش ہے، لیکن مجموعی طور پر صورتحال افسوسناک ہے۔اللہ اس مصیبت سے دنیا کو نجات دے۔ حکمرانوں کو عقل سلیم دے۔ ملک کی حفاظت فرمائے۔

اختر حسین
Latest posts by اختر حسین (see all)

اختر حسین

Akhtar Hussain is a Research Scholar in the Department of Social Work, Maulana Azad National Urdu University, Hyd. You may contact him at [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے