نفرت پاکستان سے یا مسلمانوں سے؟

Spread the love


سعید الرحمان مغیرہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ, نئی دہلی
کچھ دنوں پہلے میرے ایک کٹر ہندو دوست نے مجھ سے کہا تم لوگ پاکستان مردہ باد کے نعرے کیوں نہیں لگاتے ہو؟ تم لوگ ہندوستان کے وفادار نہیں ہو۔ میں نے کہا خود کو ہندوستانی لکھتا ہوں، یوم آزادی چودہ اگست نہیں پندرہ اگست کو مناتا ہوں، ٹیکس بھارت کو دیتا ہوں، کوئی پریشانی ہوتی ہے تو پاکستان نہیں بھارت ہی کی انتظامیہ سے شکایت کرتا ہوں، آئین بھی بھارت ہی کا مانتا ہوں۔ کوئی بھی غیر قانونی حرکت کرنے سے بچتا ہوں، ملک کو نقصان پہنچانے والی باتوں سے خود بھی بچتا ہوں اوروں کو بھی روکتا ہوں۔ اور کیا چاہئے وفاداری کا ثبوت۔ کہنے لگا نہیں تم لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہو۔ پاکستان مردہ باد نہیں کہتے ہو۔
یہ کوئی ذہنیت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جس نے بڑے پیمانے پر سادہ دل ہندوؤں کے ذہنوں کو بری طرح متاثر اور آلودہ کیا ہے۔ ہندوستان میں سنگھ لابی نے سیکولرازم کو آزادی کے بعد ہی سے اس طرح یرغمال بنا رکھا ہے کہ مسلمان کو اپنے عقیدے کا کھل کر اظہار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لیکن ہندوستانی مسلمان ساری دنیا سے اظہار اخوت کر لیں، پاکستان کے مسلمانوں سے اظہار اخوت نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنے کی کسی نے جرأت کی اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، اسے دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا، اس پر ہزار مقدمے ٹھونک دئے جائیں گے۔ حالانکہ کسی ملک سے اظہار اخوت کرنے سے اپنے ملک کا کوئی نقصان نہیں ہے۔( ہاں نفرت کی سیاست ضرور متاثر ہوتی ہے۔) ایک ہند نژاد برطانوی، برطانیہ کا شہری ہونے کے باوجود اس کا دل اپنے بھارتی بھائیوں کے لئے دھڑکتا ہے اور وہ اسکا اظہار بھی کرتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ برطانیہ کے وفادار نہیں ہیں۔ اکشے کمار بھارت چھوڑ کر کناڈا شفٹ ہو گئے ہیں پھر بھی بھارت پریمی ہیں اور کناڈا کے غدار بھی نہیں ہیں۔ لیکن ایک بھارتی مسلمان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں سے اظہار اخوت نہ کرے۔ یہاں تو ہر مسلمان کو ملک پاکستان کا وفادار سمجھا جاتا ہے اگرچہ وہ پاکستان مردہ باد کے نعرے بنا کسی مجبوری کے لگائیں۔ بہت سے کٹر ہندوؤں کا اکثر یہ کہنا کہ "کھاتے ہندوستان کا ہیں گاتے پاکستان کا ہیں” سنگھیوں کی اسی کم ظرفی, گری ہوئی اور زہر آلود ذہنیت کی مثال ہے۔
ہندوؤں کو پریشانی ہو تو وہ سرکار سے ایک دشمن کی طرح ٹکرا کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ لیکن مسلمان اپنے اوپر ہو رہی زیادتیوں سے گھبرا کر صرف اتنا کہ دے کہ” ہمیں ملک میں ڈر لگ رہا ہے” تو ان کی خیر نہیں۔ ساری گالیاں، سارے طعنے، پاکستان بھیجنے کی دھمکیاں سب تمام ہو جاتی ہیں۔
ہمارا عقیدہ اس جھوٹے سیکولرازم سے بہت اوپر ہے۔ ہمیں دل سے اور ببانگ دہل اس کا اعلان بھی کرنا چاہئے۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان وہ چاہے امریکہ میں رہتا ہو چاہے سیریا میں، لندن میں رہتا ہو چاہے پاکستان میں، سب ہمارے بھائی ہیں۔ اور ہماری یہ اخوت ہمارے خونی رشتوں سے زیادہ افضل ہے۔ ہم ہر حال میں اپنے بھائی کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ درست ہے تو اس کا ساتھ دے کر اور اگر وہ غلط یا ظلم کر رہا ہے تو اسے ظلم سے روک کر۔ لیکن ایک مسلمان اپنے اسلامی بھائی سے نفرت نہیں کر سکتا۔ سرحدوں کی بنیاد پر تو ہرگز نہیں۔
اسی طرح ہمارے ملک میں یہی نفرت کا پرچار کرنے والی لابی یہ چاہتی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جن میں سے اکثر کے اجداد ہندوستانی ہیں وہ اپنا رشتہ تاریخ کی مسلمان شخصیات سے نہ جوڑ کر ہندو تاریخی اور دیومالائی شخصیات سے جوڑیں کیوں کہ انکے اصل اجداد یہی ہیں۔ میں پھر وہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کے ہاں رشتے خون سے بنتے ہیں ہمارے ہاں عقیدہ اور کلمہ لا الہ سے رشتے قایم ہوتے ہیں۔ اور جو رشتہ کلمہ لا الہ سے قائم ہوتا ہے وہ خونی رشتہ سے بھی زیادہ مقدس ہوتا ہے۔ دنیا کو نیشن اسٹیٹس میں بانٹ کر انکے اخوت کے معیار بدلے جا سکتے ہیں، محمد عربی کی امت کا معیارِ اخوت وہی ہے جو قرآن نے فرما دیا کہ "سارے کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں”۔
آپ کو نفرت ہو گی پاکستان سے یہ آپ کی ذہنیت ہوگی۔ ہمیں تو محبت ہے ساری دنیا کے مسلمانوں سے چاہے وہ پاکستان ہو یا بریطانیا,امریکہ یا فلسطین یا دنیا کے کسی خطہ میں جیسے باقی لوگوں سے ہے. ہم بھارت سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن آپ کی نظر میں بھارت کی محبت کا مطلب پاکستان کو گالی بکنا ہے تو آپ کی محبت آپ کو مبارک۔
ایک اور دلچسپ بات جو سنگھی ہندوؤں کی گندی ذہنیت کو واضح کرتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ چین بھارت کے لئے پاکستان سے زیادہ خطرناک رہا ہے۔ ہمیشہ بھارت کو دھمکیاں دیتا اور فوجی دراندازی کرتا آیا ہے لیکن سنگھیوں کی رگ حمیت چین کے معاملے میں نہیں پھڑکتی ہے۔ چین مردہ باد کے نعرے نہیں لگتے ہیں۔ ہم مسلمانوں سے چین مردہ باد کے نعرے نہیں لگوائے جاتے۔ ان سنگھیوں کو نفرت پاکستان سے ہے۔ پاکستان سے بھی نہیں مسلمان سے ہے۔ وہ چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتا ہو۔ یہ اسرائیل کی فلسطین پر بمباری سے خوشی کے مارے نہال ہو جاتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتل عام سے انکے کلیجے میں ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔ تو آپ ہی بتائیں کیا آپ پاکستان مردہ باد کہہ کر انہیں خوش کر سکیں گے۔ انہیں تو آپ کے وجود سے ہی گھن آتی ہے۔
ان کی دہشت اور ملک کے سیکولر طبقے سے امید ہم بھارتی مسلمانوں کے ذہن میں اس انداز میں گھر کر چکی ہے کہ دلی مسلم کش حملے کے خلاف بنگلہ دیشی مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ہمیں ایک ان دیکھے خوف نے آ لیا کہ کہیں کوئی یہ نا کہہ دے کہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا ہندوستان کے مسلمانوں سے کیا تعلق ہے؟ پاکستان سے ہندوستان کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کوئی آواز اٹھتی ہے تو ہم چونک کر یہاں سے پاکستان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ پاکستان کو ہندوستانی مسلمانوں سے اتنی ہمدردی کیوں ہے؟ ارے کوئی رشتہ نہ سہی انسانیت کے ناطے ہی کوئی آواز اٹھا سکتا ہے۔ انسانیت کا بھی تو ایک رشتہ ہے۔ جو سارے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ یہاں تو انسانیت کے ساتھ ساتھ ایک دینی رشتہ بھی قایم ہے جو سارے رشتوں سے پرے ہے۔ اور ہمارے ایمان و عقیدے کا جز ہے۔
ہندوستان میں امریکہ کی حمایت میں تالیاں بج سکتی ہیں، وہاں کے الیکشن کے لئے یہاں کا وزیراعظم کمپین کر سکتا ہے جس امریکہ نے ہندوستان کی ساری دوستی کا جواب ایک جملے میں یہ دیا کہ "بھارت کا رویہ ہمارے ساتھ درست نہیں ہے” ایسے امریکہ سے محبت کی جا سکتی ہے تو پاکستان سے اتنی نفرت کرنے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اس نفرت کی آنچ میں تپانے کے پیچھے کون سی نیت کارفرما ہے؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے