ہر طرف نفرت کے سوداگر خدا خیر کرے!

Spread the love


 

ڈاکٹر عبداللہ صابر
اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن
بیرکپور راشٹر گروسریندر ناتھ کالج، کولکاتا

تقریبا دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت کرونا کی زد میں ہیں۔ اس مہلک وبا نےپوری دنیاکو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔ پورا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ ہر چہار جانب افراتفری اور انتشارکا ماحول ہے۔ اس غیر مرئی وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لئے کسی کو کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ سپر پاور طاقتیں اس کے سامنےسرنگوں اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ دنیا کا ہر ملک بلاتفریق مذہب وملت ،ذات وبرادری اور رنگ ونسل کے اس موذی وبا سے لڑنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کررہا ہے۔ بھارت ہی وہ واحد ملک ہے جس نے اس وائرس کو مذہبی رنگ میں رنگ کر مشترکہ جدوجہد کی رہ میں روکاوٹ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خطرناکی کو مزید دوبالا کردیا ہے۔
تبلیغی جماعت کے حوالے سے جیسے ہی کرونا کا مذہبی کرن ہوا ساری فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے کرونا کو چھوڑ کر عمدا مسلمانوں کے خلاف صف آرائی اور محاذ آرائی شروع کردیں۔ عوامی سطح پر منصوبہ بند طریقے سے ایسا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مانو ہر مسلمان قصدا کرونا کا شکار ہوا ہے ، تاکہ وہ غیر مسلموں میں بڑے پیمانے پر اس کو پھیلا سکے۔ حد تو یہ ہے اسے کرونا جہاد تک کا نام دیاگیا۔ ایسے ایسے القاب اور نام دئے گئے جن سے خود بے چارہ مسلمان ناواقف ہے۔ نتیجہ ظاہر تھا ہر طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت وعداوت کی ایسی آگ لگی کہ کئی بے گناہ اس میں جل کر راکھ ہو گئے۔
بھارت گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ملک ہے ،لیکن مخصوص فرقہ پرست نظریہ کے حاملین کو یہ قطعی راس نہیں آتی۔ ان کی روزی روٹی اور وجود کا انحصار ہی نفرت وعداوت کی کاشت پر ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں نفرت وعداوت کی کھیتی مکمل تیارہو چکی ہے۔ ہر طرف ہر یالی ہی ہر یالی ہے۔ ایک عام انسان سے لے کر اعلیٰ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ تک ہر ایک کا ذہن ودماغ مسموم اور زہر آلود ہوچکا ہے۔ ہر مسلمان ان کی نظر میں دیش دروہ اور دہشت گرد ہے۔ دیش کا غدار اور پاکستان کا وفادار ہے۔ مسلمانوں کے خلاف فرضی بیانیہ تیار کرکے انہیں اس قدر پھیلایا گیا جس کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اس معاملے میں میڈیا کا منفی کردار سب سے زیادہ افسوسناک اور قابل اعتراض ہے۔ اس نے مسلمانوں کے خلاف جھوٹی افواہ اور پروپیگنڈہ پھیلا کر پوری فضا کو ناقابل بیان حد تک مسموم کردیا ہے ۔ تل کوپہاڑ اور رائی کوہمالہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ بے بنیاد کو بنیاد بناکر وہ طوفان بد تمیزی برپا کی کہ الامان والحفیظ۔ اب تو خود انصاف پسند میڈیا کےلوگ ہی ان زر خرید اور چاٹوکار میڈیا والوں پر تھو تھو کررہے ہیں اور لوگوں کو مشورہ دیتے پھر رہے ہیں کہ اگر دیش کی بھلائی چاہتے ہو تو ٹی وی دیکھنا چھوڑ دو۔ میڈیا کی منفی اور غیر اخلاقی کردار کے حوالے سے میڈیا کے غیر جانبدار سیکولرلوگ سامنے تو آنے لگے ہیں، لیکن ان کی آواز صد بصحرا ثابت ہورہی ہے۔ بہرحال یاس وقنوط ،حوصلہ شکنی اور ناامیدی کے گھنگھور گھٹا میں یہ ایک امید کرن اور خوش آئند بات ہے۔

بھارت گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ملک ہے ،لیکن مخصوص فرقہ پرست نظریہ کے حاملین کو یہ قطعی راس نہیں آتی۔ ان کی روزی روٹی اور وجود کا انحصار ہی نفرت وعداوت کی کاشت پر ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں نفرت وعداوت کی کھیتی مکمل تیارہو چکی ہے۔ ہر طرف ہر یالی ہی ہر یالی ہے۔ ایک عام انسان سے لے کر اعلیٰ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ تک ہر ایک کا ذہن ودماغ مسموم اور زہر آلود ہوچکا ہے۔ ہر مسلمان ان کی نظر میں دیش دروہ اور دہشت گرد ہے۔ دیش کا غدار اور پاکستان کا وفادار ہے۔ مسلمانوں کے خلاف فرضی بیانیہ تیار کرکے انہیں اس قدر پھیلایا گیا جس کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔

میڈیا کے ذریعے لگایا گیا نفرت کا پوداب تناور اور پھل دار درخت بن چکا ہے۔ جس کی زندہ وجاوید مثال کانپور کی گنیش شنکر ودیارتھی میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر آرتی لال چندانی کی حالیہ اسٹنگ آپریشن ہے۔ محترمہ کی نیچ سوچ پر مبنی یہ ویڈیو سوشل میڈیا میں خوب وائرل ہورہا ہے۔ ان کے اس سطحی اور منفی سوچ کی چو طرفہ مذمت ہورہی ہے، وہیں محترمہ کی بھی ہینکڑی نکل چکی ہے۔ دفاعی ویڈیو جاری کرکے مسلمانوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی پھررہی ہے۔ اپنے آپ کو مسلمانوں کا مسیحا،دوست اور ہمدرد ثابت کرنے کے لئے نہ جانے کیا کچھ جتن کررہی ہے۔
محترمہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معزز پیشے سے وابستہ ہیں۔ ایک ایسا انسانیت نواز پر اعتماد پیشہ ،جس سے وابستہ افراد، لوگوں کی نظر میں بھگوان کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس فرقہ پرستی کی زہریلی فضااور پر تعفن ماحول میں پرورش پانے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے اور فرقہ پرستی کی بدبودار کھائی میں ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے ہیں۔ جب تک انسانی ذہنیت کی صحیح پرورش وپرداخت نہ ہو، اسے انسانیت کی درسگاہ میں زانوئے تلمذ تہ نہ کرایا گیا ہو ،انسان چاہے دعویٰ کچھ بھی کرے ،وہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن انسان نہیں ہوسکتا۔یہی معاملہ محترمہ کے ساتھ ہے۔ محترمہ جس قدر خوش شکل اور خوش لباس ہے اس سےکئی ہزار گنا وہ بدگفتار بد دماغ اور خبث باطن کی شکار ہے۔
ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کے بیان کا اگر باریکی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ محترمہ کا تعلق ایک ایسی فرقہ پرست تنظیم سے ہے جس کی زندگی کا ہدف اورمنشا ہی نفرت وعداوت ہے۔ کسی بھی ادارے کے سربراہ کا اس قدر زہریلا ہونا پورےا دارے کے لئے نحوست ہے۔ ایسے تنگ دل ، تنگ نظر اورمنحوس لوگ جہاں بھی رہیں گے اپنے ذہنی غلاظت سے دوسروں کو تعفن زدہ کرتے رہیں گے۔
کس طرح یہ خاتون تبلیغیوں کے ساتھ عام مسلمانوں کے خلاف بھی زہر اگل رہی ہے۔ سب سے پہلے اسی نے تبلیغیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا کہ یہ لوگ نہایت غیر مہذب ہوتے ہیں، جہاں تہاں تھوک دیتے ہیں ، ڈاکٹر زاورنرس کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتے ہیں، کھانے میں گوشت کا تقاضہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جب ان فرضی الزاموں کا بھانڈا پھوڑ ہوا ،سچائی سے پردہ اٹھا اور حقیقت واضح ہوگئی تو محترمہ نے کھسیانی بلی بن کر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔ مسلمانوں کو ملک کی معیشت پر بوجھ گردانتے ہوئے انہیں تمام تر سہولیات سے محروم کردینے کی سفارش تک کرڈالی۔ ایسا لگتا ہے مسلمان اس ملک کے قانونی طور پرشہری نہیں، رفیوجی ہیں اور ان جیسے زہریلی ذہنیت والوں کے رحم وکرم پر ہی مسلمان اس دیش میں ہیں۔ کس بے باکی کے ساتھ اس نے بھارتیوں کے تمام مسائل کے ذمہ دارمسلمانوں کو قرار دیا۔
کہا جاتا ہے کہ خواتین فطری طور پر رحم دل ہوتی ہیں، لیکن گجرات کی مایا کوڈنانی اور کانپور کی آرتی لال چندانی کو دیکھ کر یہ مفروضہ غلط ثابت ہورہا ہے۔ ۲۰۰۲ کے گجرات فسادات میں مایاکوڈنانی کے کردار کوپوری دنیااور بالخصوص مسلمان کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ اس نے شقی القلبی کی تمام حدوں کوپار کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمانوں کو موت کی گھاٹ اتارنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مجھے شک ہے کہ خفیہ طورپرکانپور کی چندانی محترمہ کے ہاتھ بھی بہت سے بے گناہ مریضوں کے خون سے رنگے ہوئے نہ ہوں۔ نہ جانے کتنے مسلم مرد و خواتین دوران علاج اس کی زہر آلو ذہنیت کی ہتھے چڑھ گئے ہوں گے۔ ورنہ یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ تبلیغیوں کو تو اسپتال کے بجائے جیل میں ڈال دینا چاہئے، انہیں جنگل میں پھینک دینا چاہئے۔ ان کے اوپر حکومت کو اپناسرمایہ ضایع نہیں کرنا چاہئے۔ جس کی ذہنیت اس قدر زہریلی ہو اس سے کسی بھی قسم کے رحم وکرم کی امید رکھنا عبث ہے
اس واقعہ نے یہ مفروضہ بھی غلط ثابت کردیا کہ فرقہ پرست اور نفرتی عموما ان پڑھ اور غریب لوگ ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کشادہ دل، کشادہ ذہن اور سیکولر ہوتے ہیں۔ وہ دنیا دیکھے ہونے کی وجہ سے وسیع القلب ہوتے ہیں۔ انہیں فرقہ پرستی چھو کر بھی نہیں گذرتی بلکہ یہ لوگ وسیع المشربی کے قائل ہوتے ہیں۔ کیا محترمہ چندانی اور مایا کوڈنانی ایک معمولی تعلیم یافتہ ہیں؟ کیا انہوں نے دنیا نہیں دیکھی ہیں؟کیا ان کا سابقہ دیگر مذاہب بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ کبھی نہیں ہواہے؟ ۔ سچ تویہ ہے کہ فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت کا تعلق تعلیم سے ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔ اس کا تعلق پرورش وپرداخت اور ماحول سے ہے۔ اس وقت ملک میں جتنی فرقہ پرست تنظمیں شب روز ملک کی فضا میں مذہبی زہر گھولنے میں مصروف ہیں ان سب کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کررہے ہیں۔ساری منصوبہ بندی اور پلاننگ انہی تنگ دل اور پسماندہ فکردانشوروں کی ہوتی ہے۔ کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ بے چارہ تو بس آلہ کار ہوتے ہیں۔انہیں استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، وہ تو بس کرائے کے ٹٹو ہوتے ہیں۔
پورے ملک میں لاک ڈاؤن اورمزدوروں کی پیدل مارچ کے دوران مسلمان جو غیر معمولی خدمات اور کارہائےنمایاں انجام دے رہے ہیں وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے قابل ہیں۔ الحمدللہ اب تو غیر بھی برملا اور کھلے دل سے اس کا اظہارکرنے لگے ہیں۔سوشل میڈیا کے حوالے سے بہت سی امید افزا خبریں بھی آرہی ہیں۔ مسلمانوں کی خدمات کا تذکرہ بڑے زور وشور سے کیا جارہاہے۔بعض لوگوں نے تو یہاں تک کہا کہ’’ اگر مسلمان نہ ہوتے تو نہ جانے کتنے مزدوربھوکے پیاسے ہی راستے میں دم توڑ دیتے‘‘۔بعض نے مسلمانوں اور سکھوں کے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ’’یہی لوگ ملک کے حقیقی مسیحا ہیں، یہ نہ ہوتے تو صورتحال مزید بد تر اورخوفناک ہوتا‘‘۔ایک صاحب نے توزکوٰۃ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ’’ ڈھائی فیصد زکٰوۃ کی افادیت اس قدر زیادہ ہے،تو اب میں بھی زکوٰۃ نکالا کروں گا‘‘۔ اللہ انہیں توفیق دے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے ملک کی خاطر کسی بھی طرح کی قربانی پیش کرنے سے کبھی دریغ محسوس نہیں کیا۔وطن پر جب کبھی آنچ آیا مسلمانوں نے سینہ سپر ہو کراس کا مقابلہ کیا۔ جانبازی اور شجاعت کی ضرورت پڑی تو بریگیڈیئر عثمان اور ویر عبدالحمید نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ملک کی طرف دشمن کبھی میلی آنکھ اُٹھا کر دیکھ نہ سکے اس کے لئےاے پی جے عبد الکلام نےنیو کلیئر طاقت عطا کی۔ ملک کی معیشت غرقاب ہونے والی تھی تو نظام حیدرآباد نے اپنے دست فیاض سے اسے ساحل سے ہمکنار کیاتھا۔ کرونا سے مقابلہ کے وقت جب حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تو عظیم پریم جی جیسے سخی میدان میں آکر اسے سنبھالنے کی کوشش کی۔ کیا کیا گنایا جائے اور کس کس کو شمار کیا جائے چمن میں بکھری پڑی ہے داستان ہماری۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا ہماری وفاداری، وطن پرستی ، ہمدردی اور جانبازی کی گواہی دیں گے۔
تمام تر تاریخی شہادتوں اور بے لوث قربانیوں کے باوجود فرقہ پرستوں کو مسلمان ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ سب کچھ جاننے کے باوجود ارادتامسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے دن ورات انتھک کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کا مضبوط نٹ ورک ، تربیت یافتہ افرادکی جماعت اور طئے شدہ ہدف کے تحت بس اسی کام میں لگے ہوئےہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے پاس کون سا منصوبہ ہے؟، کون سی پلاننگ ہے؟ کتنے افراد ہیں؟ کچھ بھی تونہیں ،سب صفر۔
موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کے پاس اللہ نصرت وتائید کے ساتھ سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ مظلوموں اور کمزوروں کے ساتھ اتحاد قائم کیا جائے۔ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ان کے ہر سکھ دکھ میں شریک ہوا جائے۔ جہاں کہیں بھی کسی مذہبی اقلیت یا درج فہرست ذات اور رج فہرست قبائل پر کوئی ظلم وزیادتی ہو فورا نوٹس لے کر اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے۔ جب تک انصاف نہ ملے اور ظالم کیفر کردار تک نہ پہنچ جائے خاموشی اختیار نہ کیا جائے۔
دشمن بہت شاطر ہے، وہ مظلوموں اور مسلمانوں کو کبھی یکجا ہونے نہیں دینا چاہتے۔ وہ ہمیشہ دونوں کو ایک دوسرے سے بر سر پیکا ررکھنااوردیکھنا چاہتےہیں۔ دونوں کو بوقت ضرورت اپنا آلہ کاربنا کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔لہذا بربریت پسند عناصر کے خاتمے کے لئے صدیوں سے مظلومیت کی زندگی گذار رہے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کوسہارا دے کر آگے لانا ہوگا۔ یہی ان کے خاتمے کا ذریعہ بنیں گے ان شا ءاللہ۔ نوشتہ دیوار کی یہی پکار ہے کہ مستقبل قریب میں شودرہی اس ملک سے’’برتریت پسندوں‘‘ کا قلع قمع کریں گے۔ یہ آواز بہت زوردار اندازمیں اٹھنے بھی لگی ہے۔ اب مسلمانوں کو اپنا کردار اور مقام خود طئے کرنا ہوگا ۔ اگر وقت رہتے مسلمانوں نے ہمہ جہت منصوبندی کے ساتھ اپنا مقام اور کردار خود طئے نہیں کیا تو پھر داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

ڈاکٹر عبداللہ صابر
Follow Him

ڈاکٹر عبداللہ صابر

Dr. Abdullah Sabir is an Assistant Professor in the department of Journalism and Mass Communication, Barrackpore Rastraguru Suredranath College, kolkata. You may contact him at [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے