شاہین باغ سے شاہین باغ قبرستان تک!

Spread the love


جنازے ہیں ، مگر کندھا دینے والے نہیں!!
عمارہ رضوان
جامعہ سينئر سيكنڈرى اسكول ، نئى دہلى

شاہين باغ ، جامعہ نگر كى ایک كالونى ہے ، تقريبا بيس پچيس سال پہلے لوگوں نے يہاں آباد ہونا شروع كيا ، اور دیکھتے ہى دیکھتے پورا ميدان اينٹ و پتھر سے بنى ہوئى عمارتوں ميں تبديل ہوگيا۔ پہلے ایک دو بلڈنگوں كے درميان ایک دو پلاٹ خالى نظر آتے تھے جو محلے كے بچوں كے لئے پارک كے طور پر كام آتے تھے، كہيں چھوٹے بچوں كا ايك غول كركٹ کھیلتے ہوئے نظر آتا تھا ، تو كسى دوسرے پلاٹ ميں چھوٹى بچياں اپنى اپنى رسيوں كے ساتھ اچھل كود ميں نظر آتى تھیں۔ مگر يہ سنہرے دن بھی دھیرے دھيرے ختم ہوگئے ، اب تو ہر طرف عمارتوں كا جال بچھ گيا ، اورہزاروں كى آبادى لاكھوں ميں تبديل ہو گئى۔ بعض بلڈروں نے تو قربت كى ناقابل تسخير مثاليں قائم كى ہيں ، ایک بلڈنگ سے دوسرى بلڈنگ كى كھڑكياں آپس ميں گلے مل رہى ہيں، خير، كورونا كے زمانے ميں جب انسان گلے ملنے سے دور بھاگتے ہيں تو يہ كھڑكياں ہى انسانوں كى جانب سے فرض كفايہ ادا كررہى ہيں ۔ ہمارے فليٹ سے تھوڑى ہى دورى پر علامہ شبلى روڈ پر واقع ايك بلڈنگ ہے ، چار منزلہ بلڈنگ ، اس كى چوڑائى گراونڈ فلور پر بمشكل تمام تين فٹ ہوگى ليكن پہلے منزلے سے چوتھی منزل تک آگے اور پيچھے ملا كر آٹھ فٹ ميں تبديل ہوجاتى ہے، گراونڈ فلور كے ايك بڑے گيٹ پر "هذا من فضل ربّى” كى معنويت نگاہوں كو اوپر اٹھانے پر معلوم ہوتى ہے۔
شاہين باغ اب كہيں بھی محتاج تعارف نہيں رہا ، شاہين باغ كى خواتين نے اس كو آفاقى نام ديا ہے ، ميرى امى جان نے لاک ڈاؤن سے پہلے تو جيسے پانچ نمازوں كے ساتھ شاہين باغ كے مظاہرے ميں شامل ہونے كو دین كا چھٹا ركن بنا رکھا تھا۔ 2011 كے اپريل ماه ميں جب ہم لوگ لکھنؤ سے دہلى منتقل ہوئے تو شاہين باغ، ابوالفضل كے تابع تھا ، ابو بھی اپنى ڈاک منگوانے كے لئے ايڈريس ميں شاہين باغ كے آگے ابوالفضل پارٹ 2 لکھا كرتے تھے ، مگر اب ابوالفضل كے مكينوں كو يہ بتانا پڑ رہا ہے كہ ہم ابوالفضل كے نواسى ہيں جو شاہين باغ كے بازو ميں واقع ہے، شاہين باغ كى اس شہرت كانقصان بھی ہے، CAA كے خلاف مظاہرے كے دوران شاہين باغ كى شہرت نے يہاں كے رہنے والوں كو بہت تكليف بھی پہونچائى ، ابو نے دسترخوان پر ایک دن بتايا كہ اس دوران ائیرپورٹ سے ٹيكسى والے شاہين باغ كا نام سنتے ہى يہاں آنے سے انكار كرديتے تھے، بصورت مجبورى كبھی ان كو سريتا وہار ، اور کبھی اپولو كا نام لينا پڑتا تھا اور جب يہاں پہونچتے تھے تو ڈرائيور كى منت سماجت كركے گھر پہونچتے تھے۔
شاہين باغ كى شہرت امريكہ اور يوروپ تک پہونچى، عام دنوں كے علاوه ایک بار ميں لگاتار تين دن تک شاہين باغ كے مظاہرے ميں اپنى كلاس ميٹس كے ساتھ حاضر رہى كہ آج اقوام متحده كى جانب سے حقوق انسانى كى ایک ٹيم ملنے كے لئے آنے والى ہے ،اور جب پہلے دن نہيں آئى تودوسرے دن ، پھر تيسرے دن ، آج بھی ميں نے نيويارك ٹائمز كى وه خبر بہت سنبهال كر ركھا ہے جس ميں شاہين باغ كى خواتين نے اپنے دستورى حقوق كا تعارف كرايا ہے۔ ميرا خيال ہے كہ شاہين باغ كے لوگوں كو اپنے پوسٹل ايڈريس پر شاہين باغ كے بعد صرف نئى دہلى لکھنا چاہئے ، اب ہمارى يہ بستى كسى اور تعارف كى محتاج نہيں۔
لاک ڈاؤن ميں ہم بھی اپنے تمام ہم درس كى طرح گھر ميں قيد ہيں ، ہمارے وزير اعظم نے لاک ڈاؤن كے چوتهے مرحلے كا آغاز كرديا ہے ، ہوسكتا ہے اس كے بعد پانچويں اور چھٹے مرحلے كا تعارف ہو، ہم نے بھی مصروفيات كى چيزيں نكال لی ہيں ، ہمارا كمره بھی اب ہم سے مانوس ہو گيا ہے اور آخر كيوں نہ ہو اب تو ہمارا اور اس كا ساتوں دن اور چوبيس گھنٹے كا ساتھ ہے ، يہى رات ميں سونے كا كمره ہے ، يہى اسٹدى روم بھی اور باجماعت نماز ادا كرنے كے لئے مسجد بھی اور کبھی کبھی عبد الله وياسر كے لئے کھیل كا ميدان بھی۔
ہمارے ابو جان تو مودى جى سے بھی زياده سختى سے لاک ڈاؤن كى پابندى كراتے ہيں ، تالى وتھالى والے دن سے ہمارے قدم گيٹ سے باہر نہيں پڑے ہيں ، گھر كے ہر كام كا ذمہ انہوں نے اپنے سر پر لے رکھا ہے ، اور اسى بہانے وه باہر نكلنے كى كوئى نہ كوئى سبيل نكال ليتے ہيں ، اور تازه ہوا كے ساتھ ، كالونى كى تازه خبريں بھی لے آتے ہيں۔
كچھ دن پہلے امى كے وہاٹس اپ پر كسى نے ایک ويڈيو كلپ بھیجی تھى ، ويڈيو شاہين باغ قبرستان كى تھی جسں میں ميت كے ساتھ تين چار لوگ دفن كرنے كے لئے قبرستان ميں حاضر ہوئے تھے, ایک دوسرى ويڈيو جو انڈيا گيٹ قبرستان كى بتائى گئى اس ميں ميت كے ساتھ مكمل طور پر پلاسٹک ميں ملبوس چند ڈاكٹر نظر آرہے ہيں اور ميت كو بڑى بے رحمى سے ایک گہرے كھڈے ميں ڈھكيل رہے ہيں ، اور اس كے بعد بلڈوزر مٹى ڈالنے كا اپنا كام كرتا ہے۔ کبھی ان قبرستانوں ميں ميت كى تدفين كے موقع پر آدميوں كا جمّ غفير ہوتا تھا ، ٹولے محلے كے علاوه ، دور و نزدیک كے رشتہ دار بھی خوشى وغمى كے موقع پر شريك ہو جاتے تھے ، اب تو چاه كر بھی لوگ شريک نہيں ہو پا رہے ہيں ، جنازے ميں شركت كے لئے بيس لوگوں كى اجازت ہے ، ايسے ميں يا تو ميت كے گھر والے قرعہ اندازى كريں اور اس كى بنياد پر لوگوں كو شركت كى اجازت ديں ، يا پھر دور اور قريب كے لحاظ سے رشتہ دارى كا فيصلہ كريں اور جو زياده قريبى رشتہ دار ہو اس كے حصے ميں جنازے كو كندھا دينے كا ثواب آئے ، جب تک زنده ہيں تب تك كندھے سے اوپر گلے ملنے پر پابندى ہے اور مرنے كے بعد كندھا لگانے سے راه فرار ، اب حال يہ ہو گيا ہے كہ جنازے تو ہيں مگر كندھا دينے والے كندھے نہيں۔

(مضمون نگار جامعہ سينئر سيكينڈرى اسكول ميں بارہويں كى طالبہ ہيں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے