اظہار رائے کی آزادی، یوگی آدتیہ ناتھ اور مسلمان

Spread the love


کرن تھاپر (دی انڈین ایکسپریس، 29 جنوری2020)
عام طور پر میں یوگی آدتیہ ناتھ کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ہوں، کیونکہ وہ سیاسی حکمت عملی سے یقینی طور پر ایک محروم شخص ہیں، اور ان کی خرابی یہ ہے کہ انہوں نے مضحکہ خیز اور احمقانہ باتیں کرنے کی ایک عادت بنا لی ہے، لیکن شہریت ترمیمی ایکٹ کی حمایت میں گزشتہ ہفتہ کانپور میں بی جے پی کی ایک ریلی میں جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کا جواب دیا جانا چاہیے اور ان کی گزشتہ حماقتوں کے برعکس اس بیان کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
پہلی بات انہوں نے یہ کہی کہ آزادی کا نعرہ لگانے والے مظاہرین پر سیڈیشن کا کیس لگایا جائے گا، "دھرنا اور مظاہرہ کے نام پر اگر آپ نے آزادی کا وہ نعرہ جو کبھی کشمیر میں لگتا تھا لگایا تو اس پر سیڈیشن کا کیس لگایا جائے گا اور حکومت سخت کاروائی کرے گی”، یہ بیان کئی پہلوؤں سے غلط ہے۔
اس موضوع پر آئین و قانون سے ہم اپنی بات شروع کریں گے، آئین کا آرٹیکل19(الف) کہتا ہے کہ:” تمام شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہوگی،”آرٹیکل19(ب) کہتا ہے کہ:”ہندوستان کے اتحاد وسالمیت اور خودمختاری کے مفادات میں معقول پابندیاں لگانے کے لیے اسٹیٹ کو قانون بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے. "
یہاں دو باتیں ہیں، آرٹیکل19(ب) خودمختاری کی بنیاد پر آزادی رائے پر پابندی کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ ایک خصوصی اختیار ہے نہ کہ فی نفسہ قانون، آرٹیکل 19(ب) کو عمل میں لانے کے لیے ان خطوط کے ساتھ ایک قانون کو پارلیمنٹ کے ذریعہ نافذ کئے جانے کی ضرورت پڑتی ہے.
کیا اب اس طرح کا کوئی قانون موجود ہے؟ 1962 تک سیڈیشن کے لیے ضابطہ تعزیرات ہند (سیکشن 124اے) اس طرح کا ایک قانون تھا، لیکن کیدارناتھ سنگھ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے اسے موقوف کر دیا، اب یہ صرف اس وقت نافذ ہوگا جب سچ میں کوئی تشدد بھڑکایا جائے، 1995 کے بلونت سنگھ کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دے کر کہ "خالصتان زندہ باد” باغیانہ اور ملک مخالف نعرہ نہیں ہے 1962 کے فیصلہ کو برقرار رکھا، حال ہی میں2016 کو سپریم کورٹ نے واضح طور پر اس فیصلہ کی پھر سے تصدیق کردی ہے:” کافی غور و فکر کے بعد ہمارا ماننا یہ ہے کہ ضابطہ تعزیرات ہند کی دفعہ124 اے کے تحت آنے والے جرائم پر غور وفکر کرنے کے دوران اٹھارٹی کو ان اصولوں پر چلنا چاہئے جو اصول کیدار ناتھ بنام ریاست بہار والے کیس میں آئینی بینچ کے ذریعہ دئے گئے ہیں”.
لیکن آج کل جو حالات ہیں وہ معمولی حالات ہیں، آئین ہندوستان کے اتحاد وسالمیت اور خود مختاری کے مفاد میں آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے لیے ایک قانون بنانے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن یہ قانون صرف اس وقت نافذ ہوگا جب تشدد بھڑکایا جائے لیکن اگر حکومت آزادی کے غیر متشدد نعروں کو جرم قرار دینا چاہتی ہے تو اسے ایسا کرنے کے لئے ایک خاص قانون پاس کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ آرٹیکل19(ب) اس کے لئے کافی نہیں ہے۔
اس آرٹیکل کا مطلب یہ ہے کہ ہر ہندوستانی شہری کو غیر متشدد اور پر امن طریقے سے آزادی کا نعرہ لگانے کا حق حاصل ہے اور اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ پر امن طریقے سے باقی ہندوستان سے آسام کو جوڑنے والی سڑکوں کو بلاک کرنے کی شرجیل امام کی کال ملک مخالف اور باغیانہ نہیں ہے، اس طرح کا مظاہرہ خاص طور سے منی پور میں پہلے بھی ہوچکا ہے اور امام نہ ہی تشدد کی وکالت کررہا ہے اور نہ ہی تشدد بھڑکا رہا ہے۔
یہ صاف ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ قانون سے بالکل ناواقف ہیں، اور بدقسمتی سے بی جے پی کے بہت سے لیڈران اسی طرح کے ہیں، اور یہ بھی سچ ہے کہ تقریباً ہر بار پولیس سیڈیشن کے الزامات ختم کر دیتی ہے، کیونکہ وہ سب ایک ہی طرح کے جاہل ہیں، پولیس جس سیڈیشن کا دعویٰ کرتی ہے شاید ہی وہ اب تک کسی کیس میں ثابت ہوا ہو۔
تو کیا اب بی جے پی ایسا کوئی قانون پاس کرے گی؟ نہ کہنے کے ہمارے پاس دو اسباب ہیں، آزادی کے بعد متصل کچھ سالوں تک ہندوستان شاید ایک کمزور ملک تھا جس کا مستقبل غیر یقینی تھا، اسی لئے تقسیم کی وکالت کرنے والے پرامن نعرے بھی ملک کے لیے خطرہ تھے اور اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی لیکن اب یہ معاملہ نہیں ہے آج تو ہمیں اتنا نرم اور لچکدار ہونا چاہیے کہ ہم کالج کے طلبہ کے بیان کو سن سکیں، بلکہ ان کے بیان کی آزادی ہماری قوت وطاقت کا ثبوت ہونا چاہیے۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ1962 میں سی این انادورائے نے راجیہ سبھا کی اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ:”ڈراوڈ لوگ اپنی خودمختاری کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں…. ہمیں جنوبی ہند کے لیے ایک الگ ملک چاہیے ".جب 58 سال پہلے خطرہ سمجھنے کے بجائے ان کے الفاظ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو آج بھی یقینی طور پر اس طرح کی باتوں کو بلکل اسی طرح غیر سنجیدہ انداز میں لینا چاہیے۔
میرے مشورہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آزادی کے نعرے ناپسندیدہ اور جارحانہ نہیں ہیں کیونکہ آزادی رائے میں بھی غصہ و ناراضگی کا پہلو شامل ہوتا ہے اور جو بھی ہمیں کمتر ثابت کرے اس کے خلاف تحفظ کا ایک قانون ہو، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ جمہوری طور پر مضبوط ہونے کے بجائے ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں، ہمیں بامقصد حصول کے بغیر خود کو شرمسار کرنے والے رویوں کو ختم کرنا ہوگا۔
آدتیہ ناتھ کے ذریعہ کیا گیا دوسرا احمقانہ دعویٰ جوکہ بہت ہی بدترین ہے اور یہ ان مسلم خواتین پر حملہ ہے جو مظاہرے کر رہی ہیں، اس نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بھائیوں کے دباؤ میں مظاہرے کررہی ہیں کیونکہ مسلم مرد خود مظاہرہ کرنے سے ڈر رہے ہیں۔
ان الفاظ سے آدتیہ ناتھ نے کئی چیزیں صاف کر دی ہے وہ یہ کہ آدتیہ ناتھ یہ مانتے ہیں مسلم خواتین کے پاس خود اپنا دماغ نہیں ہے اور اپنے حق کی خاطر لڑنے کے لیے انہیں حق حاصل نہیں ہے، وہ ان مسلم خواتین کو بطور انسان کے نہیں دیکھتے ہیں بلکہ انہیں شوہر، باپ اور بھائیوں کی ملکیت سمجھتے ہیں کہ جو انہیں کہا جائے گا وہی وہ کریں گی، در اصل اس نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ ایسا خود اپنی چاہت سے کررہی ہیں، لیکن شاید ایک ایسے شخص کی طرف سے اس طرح کی بات کوئی حیرت انگیز نہیں ہے جس کا عقیدہ ہی یہ ہو کہ "خواتین آزادی کی مستحق نہیں ہیں”۔
وہ بی جے پی کے اس فخریہ دعویٰ کو بھی مجروح کررہے ہیں کہ گزشتہ سال کے تین طلاق ایکٹ کے ذریعہ پارٹی نے مسلم خواتین کو مضبوط کیا ہے، 2019 کے انتخاب میں بہت سے بی جے پی لیڈران کا یہ ماننا بھی تھا کہ اسی وجہ سے بہت سی مسلم خواتین نے ان کو ووٹ کیا ہے، لیکن ایک بے عقل بیان سے آدتیہ ناتھ نے اس پورے گمان کو ہی ختم کردیا،سچ تو یہ ہے کہ اگر کچھ مسلم خواتین نے تین طلاق ایکٹ کو سراہا بھی ہوگا تو اب بہت ممکن ہے کہ وہ آدتیہ ناتھ کی مردانہ بہادری سے بہت مجروح ہوئی ہوں گی۔
اخیر میں آدتیہ ناتھ نے یہ بھی ظاہر کردیا کہ وہ مسلم مردوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، وہ یہ نہیں مانتے کہ مسلم مرد بے خوف اور سکون سے ہیں بلکہ اس کے بجائے وہ یہ مانتے ہیں کہ مسلم مرد اپنی بیویوں کی شلوار کا سہارا لئے ہوئے ہیں، وہ یہ بیان اس وقت دے رہے ہیں جبکہ حکومت وزیروں کو کشمیریوں سے ملنے کے لیے وادی بھیج رہی ہے، لیکن آدتیہ ناتھ اکیلے اترپردیش میں مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور انہیں طعنہ دے رہے ہیں، اور امت شاہ اور مودی اس پر خاموش ہیں، میرا ماننا ہے کہ انہیں آدتیہ ناتھ کے غیر معتدل بیانات سے دوری اختیار کرنا چاہئے تھا، لیکن ان کے اس خاموش عمل سے کئی سوالات ابھرتے ہیں: کہ کیا آدتیہ ناتھ نے مسلمانوں کے بارے میں بی جے پی کی حقیقی سوچ کا انکشاف کیا ہے؟
(مترجم:احمد الحریری، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے