پھول اور کانٹے

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]
ملک کا بھونپو میڈیا اکثر پھولوں کی بات کرتا ہے۔پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں،اس حقیقت کو بیان کرنے سے وہ بھاگتا رہتا ہے۔میڈیا کو لگتا ہے کہ دن رات گلابی خبریں چلا کرسیاہ حقائق پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔مگر کبھی کبھی تلخ حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔
ایسا ہی کچھ حال کے دنوں میں دیکھا گیا ہے۔۴ مئی کے روز بہت سارے اخباروں نے اپنےصفحہ اول پر ‘پھولوں کی بارش’ سے متعلق ایک خبر شائع کی۔اس خبر کے ساتھ متعدد تصویریں بھی تھیں۔مثلاً ایک فوٹو میں اڑتا ہوا ہیلی کاپٹر نظر آیا۔نیچے کچھ لوگ ماسک لگائے کھڑے تھے۔ان کے پورے بدن پر ایک خاص لباس بھی تھا۔اس طرح کے لباس کورونا کی بیماری سے لڑ رہے ڈاکٹر اور اسپتال کے عملہ پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جراثیم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اس لباس کو پہنا جاتا ہے۔ایک پل کے لیے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔
جب پوری خبر پڑھی تو معلوم ہوا کہ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے والے ‘مجاہدین’، جن میں ڈاکٹر، نرس، پولیس، صفائی ملازمین شامل ہیں، کو ملک کی فوج نے گلاب کی پنکھڑیاں برسا کر سلامی دی۔ یہ تصویر ممبئی کے آئی این ایچ ایس اشونی اسپتال کی تھی، جہان اسٹاف پر پھول برسایا گیا۔اس طرح فوج نے پھولوں سے ان مجاہدین کا استقبال کیا اور کورونا کے خلاف ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا۔
ایک دیگر تصویر میں یہ دیکھا گیا کہ فوج کی بینڈ ٹیم دہلی میں واقع ایمس اسپتال کے سامنے حب الوطنی کا دُھن بجا رہی تھی۔ دوسری تصویر راجدھانی کے انڈیا گیٹ کی تھی، جس کے اوپر جنگی طیارہ سکھوئی پراز لے رہا تھا۔ادھر دہلی سے دور چنئی کے مرینا ساحل کا بھی ایک فوٹو دکھا، جس کے پاس میں ٹھہرے بحریہ کا ایک جہاز روشنی سے سجایا گیا تھا۔ وہ دور سے ستاروں کی طرح چمکتا نظر آ رہا تھا۔ اس طرح تینوں افواجوں نے مجاہدین کے تئیں اظہار تشکر پیش کیا۔

”میرا دل ان سوالوں سے بے چین تھا کہ آخر کیوں لاکھوں کروڑوں مزدوروں کو مدد دینے کے بجائے پولیس ان پر ڈنڈا برسا رہی ہے؟ امیروں کے قرض معاف ہو جا رہے ہیں، وہیں غریبوں کو ریل سے چھوڑنے کے لیے پہلے کرایہ دینے کو کہا جا رہا ہے۔اگر اسپتالوں کے اسٹاف پر ایک دن پھول برسائے جا رہے ہیں تو دوسرے دن جب وہ میڈکل ساز و سامان اور دیگر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسے کیوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟”

جس دن پھولوں کی خبر سے اخبارات مہک رہے تھے اسی دن ایک چھوٹی سی خبر اور بھی تھی جس کو نوٹس نہیں کیا گیا۔ یہ خبر بھی ایک تصویر کی شکل میں تھی۔ صحیح ہی کہتے ہیں کہ جو بات ہزاروں الفاظ بیان کرنے میں قاصر ہوتے ہیں اس کو ایک تصویر کہہ دیتی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر میرے دل میں کانٹے چھبنے جیسا احساس ہو رہا تھا۔ ایسے خیالات آ رہے تھے کہ ہمارا سسٹم کا دل پتھر کی طرح سخت اور بے حس ہوتا جا رہا ہے۔ اس سنگ دل نظام میں غریبوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ جو مزدور اپنا خون پسینا بہا کر گھر بناتے ہیں،شہر سجاتے ہیں، فیکٹری کھڑی کرتے ہیں، ریل کی پٹری بچھاتے ہیں اور پول کو پانی میں تیار کرتے ہیں، پارلیمنٹ، مندر اور مسجد جیسے مذہبی مقامات بناتے ہیں، جو سب کی تھالی میں چاول اور روٹی پہنچاتے ہیں،ان کو آج بے یار و مدد گار اور بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو اپنی محنت سے ہمیں سالوں سال کھلاتے ہیں ان کو ہمارا سسٹم کچھ ہفتے یا مہینے نہیں کھلا سکتا۔ سسٹم نے پہلے سے کہیں زیادہ ان کی خدمات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ تضاد دیکھئے کہ سماج کے اثر و رسوخ رکھنے والوں پر پھول برسایا جا رہا ہے، وہیں ان مزدورں پر کانٹوں کی راہ تیار کی جا رہی ہے۔
ایک ایسے ہی مزدور کی تصویر اس دن کے ایک مشہور ہندی روزنامہ میں چھپی ہوئی تھی۔ یہ تصویر ممبئی میں کام کرنے والی مُنی بائی کی تھی۔ تصویر میں وہ اپنے چہرے کو ڈھکی ہوئی ہیں۔ ایک چھوٹا سا تھیلا ان کے کندھوں پر لٹکا ہوا ہے۔ دوسرے ہاتھ سے وہ ایک پھول سی نازک ننھی بچی کو پکڑی ہوئی ہیں۔ بچی کی عمر پانچ سال کی ہے جو ان کی بیٹی ہے۔ ماں ممبئی میں کام کرتی تھی۔ لاک داؤن کی وجہ سے ان کو کھانے اور رہنے کی مصیبت آن پڑی۔ کوئی چارہ نہ پا کر اس نے پیدل ہی اپنے وطن ریوا (مدھیہ پردیش) لوٹنے کا ارادہ کیا۔ کوئی مدد نہ ملنے کی وجہ سے وہ ممبئی سے اپنی بچی کو پکڑے ریوا کے ۱۲ سو کیلیو میڑ کے سفر پر نکل پڑی۔ چلچلاتی دھوپ میں وہ کئی دنوں تک چلتی رہی۔
اس انسانی المیہ کو دیکھ کر میں کچھ دیر تک سوچتا رہا۔ یہ بات صرف منی بائی کی نہیں ہے۔ تارکین وطن مزدور ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اس طرح کی پریشانی سے دو چار ہیں۔ ان کی لڑائی نہ صرف کورونا سے ہے بلکہ فاقہ کشی سے بھی ہے۔ شاید فاقہ کشی ان کے لیے سب سے زیادہ بڑی مصیبت بن کر آئی ہے۔
منی بائی کی تصویر کو دیکھ کر دل میں کئی سارے خیالات آ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کتنا اچھا ہوتا جس ہیلی کاپٹر سے پھول برسائے جا رہے تھے وہ اس لاچار ماں اور اس کی بچی کے پاس پہلے پہنچتا۔ پھول برسانے کا عمل تو بعد میں بھی ہو سکتا تھا۔ اگر ہیلی کاپٹر ان کو اپنے اندر بیٹھا لیتا اور گھر پہنچا دیتا تو کتنا اچھا ہوتا! اگر ایسا ہوجاتا تو ان بے سہاروں کو آگ سی دھوپ میں جھلسنا نہ پڑتا۔ بھوک اور پیاس سے تڑپنا نہ پڑتا۔ راہ میں روڑے، پتھر اور کانٹے ان کے پیروں کو زخمی نہ کرپاتے۔ اگر ہیلی کاپٹر بے سہارا ماں کو اس کے گھر تک پہنچا دیتا تو ہفتوں بھر ان کے کھر والوں کو پریشان نہ ہونا پڑتا۔ ماں اور بیٹی کو راستے میں طرح طرح کی آفت سے دو چار نہ ہونا پڑتا۔
مگر میرے چاہ لینے سے کیا ہوتا ہے؟میں ہوں ہی کون؟ سرکار تو لیڈروں اور ماہرین سے چلتی ہے۔ وہ میری طرح جذباتی تھوڑے ہوتے ہیں؟جن کو سسٹم چلانے کا تجربہ ہوتا ہے وہ حساس باتیں سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مصلحت سے کام لیتے ہیں۔ ایسے لوگ عوام کی فلاح سے زیادہ ریاست کے خزانہ کو بھرنے میں زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی آزادی، حقوق اور بہبود سے زیادہ اہم سٹیٹ کی سکیوریٹی ہے۔ ایسے ماہرین میری طرح دل کی بات نہیں سنتے۔
میری نادانی دیکھیے کہ میں ایک انسان کی جان کی قیمت کسی سٹیٹ کی بقا سے زیادہ مانتا ہوں۔ اس کے بر عکس ملک کے موجودہ ‘سٹیٹس من’ سٹیٹ کی حفاظت کے لیے خون بہانے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سٹیٹ اور سرمایہ داروں کے مفادات سب سے اوپر ہیں۔ تبھی تو بھوک اور پیاس سے مر رہے غریب اور مزدوروں سے یہ کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ ٹرین کا کرایہ نہیں دیں گے تب تک وہ ریل کا سفر نہیں کر سکتے ہیں اور اپنے گھر نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔مفت میں ان کو ٹکٹ دے کر ٹرین کا نقصان کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اس کے خلاف میرے دل میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ جو مزدور مہینوں سے بے روزگار ہے اس کے پاس تو کھانے پینے کا پیسہ نہیں ہو گا، بھلا وہ ریل کا ٹکٹ کیسے خرید سکتا ہے؟ مگر میری رائے کے بر عکس ایک درباری نیوز اینکر نے ٹویٹ کر کے مزدوروں پر طنز کیا کہ انہیں ‘شراب پینے کے لیے پیسے ہیں لیکن ریل کے بھاڑے کے لیے نہیں’ ہے۔ان کا یہ ٹویٹ اس وقت آیا ہے جب ریل بھاڑا لینے کے لیے حزب اختلاف نے سرکار کو گھیرنا شروع کیا۔ مذکورہ نیوز اینکر توکٹر’راشٹروادی’ صحافی بھی ہیں۔وہ سرکار کے خلاف کسی بھی تنقید کو ملک کی توہین سمجھتے ہیں۔ان کے لیے مزدوروں کی بات کر اپوزیشن ملک کو کمزور کر رہی ہے۔
کچھ اسی طرح کی سوچ دیگر میڈیا گھرانے بھی رکھتے ہیں۔حال کے دنوں میں انہوں نے اس خبر کو پوری طرح سے دبانے کی کوشش کی کہ سرکار نے بڑے بڑے صنعت کاروں اور تاجروں کے ۶۸ ہزار کروڑ روپنے قرض کو معاف کر دیا ہے۔ ان کی مانیں تو اپوزیشن بلا وجہ ہنگامہ کر رہا ہے۔ اگر سرمایہ داروں کا پیسہ معاف ہوا ہے تو یہ پیسہ دیش کے باہر تھوڑے گیا ہے؟
مگر میرا دل یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ۶۸ ہزار کروڑ روپئے کا استعمال کہیں اور ہوتا تو کتنے اچھے ننتائج آتے۔ مثال کے طور پر اس سےہزاروں گاؤں میں بجلی، پانی، اسکول، اسپتال کھولا جا سکتا تھا۔ ان پیسوں سے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران بھوک سے مر رہے غریب اور مزدور کو روٹی دی جا سکتی تھی۔ مگر ملک کے بڑے صحافی حضرات، ماہرین اقتصادیات اور سرکار چلانے والے لیڈران کو لگتا ہے کہ عوام پر پیسہ خرچ کرنا اسے پانی میں بہا دینے کے مترادف ہے۔
میرا دل ان سوالوں سے بے چین تھا کہ آخر کیوں لاکھوں کروڑوں مزدوروں کو مدد دینے کے بجائے پولیس ان پر ڈنڈا برسا رہی ہے؟ امیروں کے قرض معاف ہو جا رہے ہیں، وہیں غریبوں کو ریل سے چھوڑنے کے لیے پہلے کرایہ دینے کو کہا جا رہا ہے۔اگر اسپتالوں کے اسٹاف پر ایک دن پھول برسائے جا رہے ہیں تو دوسرے دن جب وہ میڈکل ساز و سامان اور دیگر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسے کیوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ آخر کیوں منی بائی کو سلامی دینے کے لیے کوئی طیارہ نہیں پہنچا؟ ۱۲ سو کیلو میٹر کے لمبے سفر میں جتنے کاٹے منی بائی اور ان کی ننہی بچی کے پیر میں چبھے ہیں اس کا حساب کون دےگا؟ پھولوں پر بات تو سب کرتے ہیں، مگر کانٹوں کا درد کون سنےگا؟ یہ سوالات مجھے اب بھی پریشان کر رہے ہیں۔

(یہ مضمون روزنامہ انقلاب میں May 7, 2020 کو شائع ہوچکا ہے)

ابھے کمار
Follow
Latest posts by ابھے کمار (see all)

ابھے کمار

Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے