حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے

Spread the love


عزیر احمد
حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے۔
آغا شورش کاشمیری کا یہ شعر آج بار بار میرے ذہن میں گھوم کر آرہا ہے ، پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے یہ شعر آج کے ان ضمیر فروش مولویوں کے لئے ہی لکھا گیا ہے جو خود کو "قائدین” کہلاتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں، جن کے جبہ و دستار اس قدر صاف و شفاف ہوتے ہیں کہ اس پر خود ساختہ عظمت کی تہیں جم جاتی ہیں اور پھر بھکت ان کے سامنے جھکے چلے جاتے ہیں، مگر یہ اپنے بھکتوں کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اس طرح لیٹ جاتے ہیں کہ بس چلے تو سرکار کی جوتوں میں لگی ہوئی گندگی اپنی زبانوں سے صاف کردیں، عجب دور آیا ہے کل کے ظالم آج صلح کے سب سے بڑے خوگر بنے ہوئے ہیں، اور ہمارے قائدین قوم مسلم میں ان کی وکالت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں کہ ارے دیکھو دیکھو، ان کے بارے میں کہی گئی ساری باتیں جھوٹی تھیں، یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جو ملک میں گنگا جمنی تہذیب کے امین ہیں، یہی تو امن پسند ہیں۔ نہ ان سے بڑھ کر کوئی محب وطن ہے، نہ ان سے بڑھ کر کوئی مسلمانوں کا ہمدرد ہے۔
یہ قائدین نہیں بزدل لوگ ہیں، یہ پوری قوم کو ڈر کی نفسیات میں مبتلا کر رہے ہیں، میری عمر زیادہ نہیں ہے، مگر میں نے اس چھوٹی سی عمر میں کبھی اس سے پہلے ہر مسلک کے ٹھیکداروں کو اس طرح اسٹیبلشمنٹ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے نہیں دیکھا، مانا کہ اسٹیبلشمنٹ کی بہت زیادہ مخالفت نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کے پاس اس قدر طاقت نہیں، لیکن کیا زبان سے بھی اقرار نہیں کرسکتے کہ ہاں آپ کے ساتھ غلط ہورہا ہے؟ یہ کیسی دستور زباں بندی ہے کہ آپ زبان کھولنے کے بجائے حمایت میں بیانات پر بیانات دئیے جارہے ہو، ارے بھئی غلط نہیں کہہ سکتے ہو تو خاموش تو رہ سکتے ہو؟
یہ قائدین ہی کی بزدلی کا نتیجہ ہے کہ مسلم نوجوان قلم اٹھانے سے ڈرنے لگے ہیں، ان کو لگتا ہے کہ جب یہ بڑے بڑے جغادری حکومت کے سامنے بچھے چلے جارہے ہیں، تو ہم کس کھیت کے مولی ہیں، خود میں نے بابری مسجد کا فیصلہ آنے پر فورا مضمون لکھا ،اس میں اپنے درد اور اپنے اندرونی کرب کا اظہار کیا، اور ڈھکے چھپے لفظوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کیا، تو میرے گھر والے ڈر گئے، انہوں نے ویب سائٹ سے حالات کے پیش نظر اس مضمون کو ڈیلیٹ کرنے کے لئے کہا، ان کی بھی دلیل یہی تھی کہ جب بڑے بڑے (نام نہاد قائدین) کچھ بول ہی نہیں رہے ہیں تو تم کیوں اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہو، بات سمجھ میں آگئی، میں نے ڈیلیٹ کردیا، پھر میں نے اسد الدین اویسی صاحب کے پریس کانفرنس کو دیکھا، فیضان مصطفی صاحب کے تجزئیے کو پڑھا،اور جب دیکھا کہ مختلف لوگ دھیرے دھیرے لکھنے لگے ہیں، تب جاکر ڈھارس بندھی، اور مضمون کو دوبارہ موڈیفائی کرکے لگایا۔
بتانے کا مقصد یہی ہے کہ مسلم قائدین کو ذرا بھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے مسلمانوں کے اندر کس قسم کی نفسیات پیدا کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو اندر سے مار رہے ہیں، ان کی زبانوں پر تالے لگا رہے ہیں، کیونکہ وہ قائد ہیں تو وہی مثال ہیں، وہ جس راستے پر چلیں گے، عوام انہیں کو دیکھ کر اپنا راستہ طے کرے گی، کم سے کم میرے سمجھ سے پرے ہے کہ جو قائدین کل تک دن رات آر.ایس.ایس کے خلاف صفحات سیاہ کرتے تھے، جو منبروں پر کھڑے ہوکر انہیں للکارا کرتے تھے، انہیں کو اچانک سے کیا ہوگیا کہ اس طرح بچھے چلے جارہے ہیں۔
یہ شاید قوم مسلم کی "ان دیکھا، ان سنا” کردینے کی وجہ سے ہے، یا پھرشاید ان قائدین کے کرموں کا نتیجہ ہے، کہ جو انہوں نے گھپلے بازیاں کیں ہیں، جو امت کا حق ہڑپا ہے، امت کے خون پسینے کی کمائی سے اپنے لگزری لائف مینٹین کی ہے، وہ سب حکومت کی نظر میں ہے ،وہ بول نہیں رہے ہیں، حکومت ان سے بلوا رہی ہے، وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کئے جاچکے ہیں، ڈر ان پر اس قدر حاوی ہوچکا ہے کہ اول جلول کچھ بھی بکے جارہے ہیں، اگر یہ بات ہے تو ہمیں ان سے ہمدردی بھی ہے، اور نفرت بھی، ہمدردی اس وجہ سے کہ وہ قوم مسلم کے صف اول کے فرزند ہیں، اور نفرت اس وجہ سے کہ جو کچھ بھی انہوں نے کیا، اس کے بعد تو وہ اسی کے لائق ہیں۔
شاید لوگوں کو یاد ہو انہیں مولویوں میں سے کچھ ایسے تھے جو اس قدر جوشیلی تقریریں کیا کرتے تھے کہ ایوان باطل میں زلزلہ آجایا کرتا تھا، ناگپور ہیڈکوارٹر کی دیواروں میں دراڑیں پڑجایا کرتی تھیں، وہ جب بولتے تھے تو عرب و عجم کے دل ڈر سے دہل جایا کرتے تھے، مسلم حکمران اپنے کونوں میں دب جایا کرتے تھے، ان کی تقریروں کی بیچ بیچ میں نعرے تکبیر کی وہ صدائیں بلند ہوا کرتی تھی، کہ ارد گرد موجود مندر ایک طویل سکوت کی چادر اوڑھ لیا کرتے تھے، وہی آج ظالموں کے سامنے جس طرح بچھے چلے جارہے ہیں وہ عبرت کا مقام ہے، بدلتا ہے آسماں رنگ کیسے کیسے، اور جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، جن سے امید تھی کہ جب ہر کوئی میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا تب بھی وہ میدان میں ڈٹے رہیں گے، آج وہی سب سے پہلے دشمنوں سے جاکر ملنے اور قوم مسلم کو چند ایکڑ زمین کے عوض بیچنے والے ثابت ہوئے۔
ان سے بہتر تو ایک طوائف ہوتی ہے جو جسم تو بیچتی ہے، پر ضمیر نہیں، اس کا دل اندر سے کچوکے لگاتا رہتا ہے، مگر ان قائدین کے ہاؤ بھاؤ سے تو یہی لگتا ہے کہ ان کا ضمیر انہیں ملامت بھی نہیں کرتا ہوگا، اور کرے گا بھی کیسے، بھکت جو ایسے پال رکھے ہیں کہ ان کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہتے نظر آتے ہیں، کہ جن کا ایمان ہے کہ جو کچھ ہمارے اعلی حضرت نے فرمایا ہے، وہی تو دانشمندی کی بات ہے، خدا انہیں کسی طوفاں سے آشنا کردے، کہ ان کے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں، جب پوری امت مسلمہ بابری مسجد کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے تو جس طرح سے یہ خوشی کا اظہار کررہے ہیں، وہ واقعی بے غیرتی کی انتہا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ کل تاریخ کے پنوں میں ان کا ذکر خیر ہرگز نہیں کیا جائے گا، تاریخ ہمیشہ عزیمت کی راہ اختیار کرنے والوں کی ہمنوائی کرتی ہے، بزدلی کو حالیہ وقت میں مصلحت لکھا جاسکتا ہے، مگر تاریخ اسے بزدلی ہی مانے گی، کیا ہی بہتر ہوتا ہوتا کہ ہمارے قائدین اجیت ڈوبھال کی میٹینگ میں کہتے کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے، وہ ہمیں منظور، کیونکہ عدالت عظمی کا فیصلہ ہے، مگر اس فیصلے سے ہم خوش ہوں ضروری نہیں، ہمارے دل غمگین ہیں، ہمارے سینے میں رہ رہ کر درد اٹھ رہا ہے، مگر ہم غلط راستہ نہیں اختیار کریں گے، ہم امن و امان کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، ہمارے لوگ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے، مگر سچ یہی ہے کہ یہ فیصلہ حق و انصاف کا فیصلہ نہیں، یہ ثبوتوں پر آدھارت فیصلہ نہیں ہے۔
ہمارے قائدین دن رات حدیث سناتے ہوے نہیں تھکتے ہیں کہ سب سے افضل جہاد ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کو بیان کرنا ہے، مگر جب حق بات بیان کرنے کی باری آتی ہے تو جس طرح سے بھیگی بلی بن جاتے ہیں وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، اب بس بقول شخصے ایک ہی چیز باقی بچی ہے کہ یا تو مسلم قائدین اپنے قاعدے بدلیں، یا قوم مسلم قائدین بدل لے۔

One thought on “حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے

  • نومبر 12, 2019 at 12:52 شام
    Permalink

    قوم مسلم کو اپنے بے شرم، کوتاہ نظر، ضمیر فروش اور بددیانتی قائدین ہی بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے عادات و اطوار نہیں تبدیل کر سکتے ہیں…

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے