کچھ فتوی فروش

Spread the love


حسنین اشرف
جواہر لال نہرو یونیورسٹی
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام کی تاریخ کی ابتداء سے ہی ایسے عناصر موجود رہے ہیں جنہوں نے اس مذہب کا استعمال خالص مفاد پر مبنی سیاسی مقاصد کیلئے کیا۔ ایسا کرنے میں وہ یا تو مطلق العنان حاکم وقت کے دباؤ میں تھے یا پھر مسلمانوں کے سیاسی شیرازہ بکھرنے کے بعد اپنی ذاتی نفوذ اور اثر کے باقی رکھنے کے لئے کر رہے تھے۔ کتبخانوں میں بوسیدہ ہو رہی، خارج از سیلیبس کتابوں میں ایسی سیینکڑوں مثالیں مدفون پڑی ہیں، جب ان صاحب علم و وقار نے اس قسم کے فتوے صادر کئے اور انکی رائے سے مختلف رائے رکھنے والوں کو ملحد و دہریہ کہا۔ نہ جانے کتنے عالی دماغ اور علم و فلسفہ میں در یتیم ان نام نہاد اصحاب علم اور اصحاب منصب و جاہ کی اس تنگ نظری کے شکار ہو گئے، انہیں بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔
ان مذہبی سیاسی مقتولین کی فہرست بڑی طویل ہے، اگر مذہب کی آڑ میں حضرت علی کے خلاف خوارج کی تحریکوں سے آنکھیں موند لیں تو اس فہرست میں ابو نواس، الطغرائی، ذو الوزارتین لسان الدین بن الخطیب کے نام بہت نمایاں ہیں۔ یہ خونی فتوے اندلس میں ابن رشد کا بھی پیچھا کرتے ہیں اور سلطنت عثمانیہ میں مکہ اور مدینہ کے مابین ٹرینوں کے خلاف بھی سرگرم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ عہد میں صدر مرسی کے خلاف جامعہ ازہر کا فتوی تو ابھی ہر ایک کے ذہنوں میں موجود ہوگا۔ سر سید کے خلاف انہیں زندیق اور دہریائی فتووں کا بازار گرم کیا گیاتھا، آج انکے سپوت کس جانفشانی کے ساتھ آپ کے حق کیلئے سڑکوں پر کود پڑے ہیں، پولس لاٹھیاں اور ڈنڈوں کی برسات میں جس اٹل ارادے کے ساتھ کھڑے ہیں یہ آپکے اندرون کو جھنجھوڑ دینے کیلئے کافی ہونا چاہئے تھا، چہ جائیکہ آپ جائز اور ناجائز کی تعلیم شروع کردیں۔ گذشتہ دن کے اس اسلامک وِپ سے یہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ میراث میں صرف ملموس جاہ و منصب ہی نصیب ہو سکتا ہے علمی و ایمانی بصیرت اور سیاسی دور رسی نہیں۔
اور ہاں جو لوگ NRC اور CAB پر صرف سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی لڑنے کو اپنا مذہبی طریقہ سمجھ بیٹھے ہیں انہیں دو دن پہلے کے عدالت عظمی کے موقف سے سبق لینا چاہئے جس میں بابری مسجد کے 17 ریویو پیٹیشن کو یک مشت خارج کر دیا گیا۔ بابری مسجد کا یہ قضیہ واحد مثال نہیں ہے بلکہ ٹرپل طلاق اورسابری مالا ٹیمپل میں سات رکنی بینچ کی تشکیل اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو ببانگ دہل یہ اعلان کر رہی ہے ہمارے اندر سے وہی فیصلے صادر ہونگے تم جس کے حق میں باہر کی فضا استوار کردو، مذکورہ بالا تینوں کیسیز میں ہمارے مخالف فریق نے اپنے میڈیا تنتر اور عددی اغلبیت کا استعمال کر کے اپنے حق میں پبلک narrative بنا چکا تھا اور آپ ہر روز اپنے ناکارہ میڈیا پرسن کو بھیج کر پوری قوم کو رسوا کر رہے تھے۔ اگر آپ آج ایک ایسے آرزو پرجو صرف اور صرف اس ملک میں مسلمانوں کے وجود اور بقا اور مساوی حقوق اور باعزت زندگی سے متعلق ہے، احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت تو دور ساتھ بھی نہیں دے سکتے، عدالت سے باہر کے ماحول کو اپنے حق میں سازگار نہیں کر سکتے، جب کہ غیر مسلموں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ کے لئے کھڑے ہونے کو تیار ہے، وہ آپ کی جانب سے کسی ایک جنبش کی منتظر ہے، اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو خدارا اپنے اس غیر اسلامی بیانوں سے اس موومنٹ جو کمزور نہ کریں۔ انہیں اسلام کے جائز اور ناجائز سے ڈرانے کی کوشش نہ کریں، اسٹودڈنٹس کو اپنی لڑائی لڑنے دیں۔ جنت اور جہنم کسی کے باپ کی خریدی ہوئی جاگیر نہیں ہے۔ مصلحتوں کی زد میں اسلام کا من مانی انٹرپٹیشن نہ کریں۔ اور عوام کو بیوقوف سمجھنا بند کریں۔

One thought on “کچھ فتوی فروش

  • دسمبر 15, 2019 at 6:14 صبح
    Permalink

    بہت خوب ایسے نازک موقعے پے بھی فتوای آف یہ سستی شہرت ، میں سمجھا کے وہ زمانے لد گئے اب نئے دور میں لوگوں کے قلوب واذہان کمپوٹرائز ہیں مگر نہیں وہ دقیانوسیت ابھی باقی ہے ان ماؤں میں ۔امت کو نقصان پہنچانے میں کبھی کوئ دقیقہ فروگذاششت نہیں کرتے۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے