شہر شہر وہ چیخ رہا ہے!

Spread the love


شمیم منیر
شہر شہر وہ چیخ رہا ہے،
ڈھونڈ نکالو موسی کو۔
آج کے اس ناگفتہ بہ حالات میں جہاں ایک طرف ہندوستان میں کالا قانون کے خلاف عورتوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے۔
تو دوسری طرف دنیا کے مختلف ممالک میں بھی لوگ اس قانون کے خلاف کھل کر سامنے آئے ہیں اور پرزور مخالفت کی ہے۔۔
لیکن کیا یہ بے چینی یا اس طرح کے کرائسیس صرف ہندوستان میں ہی ہیں یا دوسرے ملکوں میں بھی ؟
اگر آپ ایک طائرانہ نظر دنیا کے مختلف ملکوں پر ڈالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اس وقت پوری دنیا شدید قسم کے سیاسی واقتصادی بحران سے گزر رہی۔ اب وہ چاہے لیبیا ہو ، عراق ہو، سوڈان ہو،ایران ہو یا امریکہ، ہر ملک میں احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ آج جرمنی میں 6 لوگوں پر کسی شخص نے گولی چلا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔
سب سے خاص بات یہ کہ ان تمام ملکوں یا اسکے علاوہ ملکوں میں جو آواز اٹھ رہی ہے وہ خود وہاں کے موجودہ حکومتوں کے خلاف اٹھ رہی ہے ، اور بعض جگہوں پر تو کئی جانیں بھی جاچکی ہیں۔ اس کے علاوہ چین بھی ایک الگ ہی قسم کے مشکل میں پھنسا ہوا نظر آرہا ہے جو مشکل بڑھتی ہی جارہی ہے اور وہ ہے coronavirus کی پھیلتی ہوئی بیماری جس میں اب تک 26 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ اور آج تو دو لوگ ممبئی کے اندر بھی اس وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔
تو اب اس نازک ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟
کیا عورتیں ہی اب گھر سے باہر تک سارا مورچہ سنبھالیں گی اب مرد حضرات کی چھٹی ہوچکی ہے؟
آپ ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ لوگوں کے اندر کس قدر ناراضگی، غصہ اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے بیداری آچکی ہے۔
اور بہت خوشی کی بات ہے کہ الحمد للہ ہماری پوری قوم جو اب تک سورہی تھی جاگ چکی ہے اور کسی قائد اور کسی لیڈر شپ کا انتظار کئے بغیر میدان میں کود گئی ہے اور خود ہی لیڈر، خود ہی رہبر اور خود عوام بھی ہے۔
کیونکہ اب ہماری قوم کو اس بات کا احساس بخوبی ہوچکا ہے کہ …..
بہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر
اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر۔
ہمیں اپنے ان بھائیوں کی قربانیوں کو بھلا نہیں دینا ہے جو اس ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوگئے اور ان لوگوں کی صعوبتوں کو بھی نہیں جن لوگوں نے جیل میں اپنے شب وروز گزار کر کاٹا اور کاٹ رہے ہیں۔
اب ہمیں اپنے اس محنت اور کاوش کو ایک اچھی سمت دینے کی ضرورت ہے، اب آپ فکر نہ کریں لوگ آپ کے ساتھ آئیں گے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
آپ کو یقین نا ہو تو شاہین باغ اور اس جیسے ملک کےمختلف شاہین باغ کا دورہ کرلیں۔
1۔ جب عورتوں نے مورچہ سنبھال لیا تو اب آپ زمینی سطح پر کام کریں، اور اپنے ساتھ ان تمام لوگوں کو ملالیں، جنہیں اس حکومت سے کوئی بھی گلہ یا شکوہ ہو، کیونکہ انسانیت چیخ رہی اور درد سےکراہ رہی ،اسکا ثبوت ہندوستان کا جمہوریت کے فہرست میں دس درجہ نیچے گر جانا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔
2۔ آپ لوگوں کو ظلم کے خلاف لڑنے کے لئے آمادہ کریں اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیں ،گذشتہ دنوں فیض آباد کے علاقے میں ایک نچلی ذاتی کے گھر پر کچھ شرپسندوں نے آکر اسکی بچی کو مارا اور گینگ ریپ کیا اور کئی دن تک ایسے کرتے رہے اور آخر اس کی بچی کو غائب ہی کردیا اور جب بڑھیا بیچاری پولیس تھانے پہونچی تو ان لوگوں نے رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا، ہمیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔
3۔ ہماری قوم کے لوگ جو احتجاج کررہے ہیں انہیں فوری نتائج کا انتظار ہے انہیں یہ بتانے کی کوشش کریں کہ فیصلہ جو کچھ بھی ہو آپ کے اس احتجاج کا اثر دور دور تک نظر آرہا ہے، اور آیندہ حکومت کو کچھ کرنے پہلے سوبار سوچنا پڑے گا، عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ بہت گر چکی ہے۔
انہیں صبر کی تلقین کریں اور اسکے فوائد بتایں کہ احتجاج سےکیا ہوتا ہے کہیں ایسا نا ہو کہ وہ مایوس ہوکر پہلے سے بھی گہری نیند سوجائیں ۔
اگر ہم پہلے سے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے تو ہمیں اتنی قربانی نہیں دینی پڑتی کیونکہ ظلم کے خلاف ہم جتنی دیر سے اٹھیں گے ہمیں اتنی ہی قربانی دینی پڑیگی۔
4۔ اس احتجاج کو ایک تاریخی حیثیت دیتے ہوئے ہمیں کسی تحریک اور تنظیم کی امید تھی جو اب تک نظر نہیں آئی کہ کوئی ایسی تحریک اور موومنٹ ابھر کر سامنے آۓ جو ہمیشہ کے لیے ظلم کے خلاف برسرپیکار رہے اور موجودہ قائدین اور ملت کے ٹھیکیداروں کو بھی سبق سکھائے ۔۔
5۔ سب سے اہم بات کہ کیا ہمیں اب اسی احتجاج پر اکتفاء کرلینا چاہیے یا کچھ آگے بھی اقدام کرنے چاہیے۔
یہ ایک بہترین موقع ہے جس میں ہم سیاسی طور پر لوگوں کو بیدار کریں اور انہیں بتائیں کہ اب ملک کے جس بھی حصہ میں انتخابات ہونے ہیں اس انتخاب میں بی. جے. پی. کو شکست دینے کے لئے ایک سیاسی لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
کیونکہ کہ سیاسی طاقت وپاور کا ہونا بہت ضروری ہے، آپ یوپی میں دیکھ لیں کہ کس قدر ہم پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ کر ہم کو ہی ظالم بنا دیا اور اسکی تلافی ہمارے جائیداد سے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اب ہمیں خود ہی موسی و ابراہیم بننا ہے اور اس فرعونیت اور نمرودیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو ملیا میٹ کرے، اور انہیں نشان عبرت بنائے
آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین
(مضمون نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طالب علم ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے