ارطغرل ارطغرل ارطغرل

Spread the love


خضر شمیم اصلاحی
اگر آپ کو شمشیر زنی سیکھنے کے لئے کہیں سے حوصلہ افزائی لینا ہے یا جسے انگریزی میں inspiration کہتے ہیں وہ لینا ہے تو ارطغرل دیکھئے ، اگر آپ کو گھڑسواری سیکھنے کی خواہش ہو رہی ہے تو اس کا مطلب آپ ارطغرل دیکھ رہے ہیں ، اگر آپ کے دل میں بہادر بننے اور جوانمردی و پامردی دکھانے کا جذبہ جوش مار رہا ہے تو اس کا مطلب آپ ارطغرل دیکھ رہے ہیں ، اگر آپ "پدرم سلطان بود” جیسے تصورات میں کھوئے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آج کل ارطغرل دیکھ رہے ہیں ، اگر آپ کے اندر تلوار اور تیر کمان لے کر دنیا فتح کرنے کی مہم پر نکلنے کا جوش پیدا ہو رہا ہے تو اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ آپ آج کل ارطغرل دیکھ رہے ہیں ، ارطغرل صرف ایک سیریل نہیں ایک نرم ثقافتی بم ہے اور جو اپنا اثر بھی دکھا رہا ہے۔
ارطغرل کی دھوم سن کے میں نے بھی دیکھنا شروع کیا کہ ذرا دیکھوں تو کہ یہ کیا بلا ہے ، اور سچ کہوں تو اسے دیکھنے کے بعد میں بھی اس کی ستائش کیے بغیر نہیں رہ سکا ۔ ارطغرل کی کہانی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب مسلم دنیا مشرق میں منگولوں و تاتاریوں اور مغرب میں صلیبیوں (crusaders ) کے خطرے سے گھری ہوئی تھی ، اگرچہ اس وقت تک اپنے صلاح الدین ایوبی بھائی نے یروشلم کو آزاد کرا لیا تھا لیکن مشرق وسطی کے بہت سے علاقوں میں ابھی بھی صلیبی اپنے مضبوط قلعوں کے ساتھ قابض تھے اور آئے دن قتل و غارتگری اور فتنوں و سازشوں کا بازار گرم کئے رہتے تھے ، ابھی بھی بحر روم کے ساحلی علاقوں میں بہت سے شہر اور مضبوط قلعے ان کے ہاتھوں میں تھے جیسے انطاکیہ (Antioch )، صیدا ( Tyre ) اور عکا (Acre ) وغیرہ ۔
اور دوسری طرف ادھر صحرائے گوبی سے چنگیز خان کی قیادت میں جو قیامت پوری دنیا پے ٹوٹی تھی اس میں اسلامی دنیا بری طرح پس رہی تھی ، اگرچہ ان منگولوں اور تاتاریوں کو دیر سے ہی سہی لیکن سقوط بغداد کے دو سال بعد یعنی 1260 عیسوی میں عین جالوت کے معرکہ میں مصر کے مملوک بادشاہ سیف الدین قطز کی قیادت میں مسلمانوں نے شاندار شکست فاش سے دوچار کیا جس کے بعد شام و فلسطین کے علاقے ان کی مکمل تباہی سے بچ گئے، اف لیکن یہ میں بات بات میں کہاں نکل گیا ، ہمارے سیریل کی کہانی اس سے شاید تھوڑے پہلے کے وقت کی ہے شاید اس وقت کی جب ابھی بغداد کا سقوط نہیں ہوا تھا ۔

"ارطغرل کے بارے میں تاریخی طور پر یہ تو پتہ ہے کہ وہ اپنے قبیلے کا سردار تھا اور اس نے منگولوں کے خلاف سلجوقیوں (Seljuks ) کی مدد کی تھی جس کے بعد سلجوقیوں نے اس کے قبیلے کو اناطولیہ میں آباد ہونے کی اجازت دے دی اور پھر اس کے عظیم بیٹے عثمان نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جسے تاریخ عثمانی سلطنت ( Ottoman Empire ) کے نام سے جانتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں معلوم لہذا جو سیریل ہم اس کے نام سے دیکھ رہے ہیں اس میں زیادہ تر افسانہ ہے تاریخ نہیں، ویسے بھی کسی بھی تاریخی ہستی کے بارے میں اتنا مواد کہاں ملے گا کہ اس کی زندگی پر سیکڑوں ایپیسوڈ میں کوئی سیریل بنایا جا سکے۔”

ارطغرل کے بارے میں تاریخی طور پر یہ تو پتہ ہے کہ وہ اپنے قبیلے کا سردار تھا اور اس نے منگولوں کے خلاف سلجوقیوں (Seljuks ) کی مدد کی تھی جس کے بعد سلجوقیوں نے اس کے قبیلے کو اناطولیہ میں آباد ہونے کی اجازت دے دی اور پھر اس کے عظیم بیٹے عثمان نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جسے تاریخ عثمانی سلطنت ( Ottoman Empire ) کے نام سے جانتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں معلوم لہذا جو سیریل ہم اس کے نام سے دیکھ رہے ہیں اس میں زیادہ تر افسانہ ہے تاریخ نہیں، ویسے بھی کسی بھی تاریخی ہستی کے بارے میں اتنا مواد کہاں ملے گا کہ اس کی زندگی پر سیکڑوں ایپیسوڈ میں کوئی سیریل بنایا جا سکے۔
تاریخ کی بات ہٹا کر دیکھئے تو ارطغرل اپنا جادو لوگوں پر چلانے میں پوری طرح کامیاب رہا ہے ، اب تو کسی سے ملاقات بھی کیجئے تو سلام کلام کے بعد ایسا لگتا ہے کہ میرا اگلا سوال ملنے والے سے یہ ہوگا کہ آپ کس قبیلے سے ہیں ، بچپن سے قبیلہ قبیلہ صرف کتابوں میں پڑھتے آئے تھے ہم سو اب اس سیریل میں قبیلہ کے نظام اور قبائلی زندگی کا بھرپور نقشہ ملتا ہے ، کیسے لوگ قبیلے میں اپنا شب وروز گزارتے تھے اور ان کی تجارت کیسے چلتی تھی ، ان کے ذریعہ معاش کیا کیا تھے اور ان کا نظام حکومت کیسے چلتا تھا ، ان سب چیزوں کی بھرپور عکاسی آپ کو اس سیریل میں ملے گی ، اور ہاں سب سے اہم چیز – قبیلوں میں لوگ رومانس کیسے کرتے تھے ‘شرعی’ حدود میں رہ کر یہ بھی وہاں آپ کو ملے گا ۔
ہمارے دل کس جوش سے بھر جاتے ہیں اس کا تو پوچھنا ہی نہیں جب ہم ارطغرل بھائی اینڈ کمپنی کو منگولوں اور صلیبیوں کی فوج کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، چار پانچ لوگوں کی جماعت پچیس تیس بلکہ پچاس ساٹھ لوگوں تک کی صلیبیوں اور منگولوں کی جماعت پر جب دلدیمیر کی مشہور آیت "حسبنا اللہ” بولتے ہوئے کود پڑتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین تھرا گئی ہو اور ایک زلزلہ بپا ہو گیا ہو ، اس کو تلوار سے کانٹا ، ادھر ترگت الپ بھائی نے اپنی کلہاڑی گھمائی جس کے وہ ماہر ہیں اور ایک بار میں تین تین چار چار لوگوں کو ڈھیر کر دیا ، شمشیر زنی کا وہ منظر اس سیریل میں آپ کو ملے گا جو اب تک آپ نے کہیں نہیں دیکھا ہوگا ، اگر پھر بھی ان کی شمشیر زنی سے بچ کر اگر کوئی دشمن بھاگا جا رہا ہو تو دور سے ہی خنجر ایسا پھینکا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو جائے ، اور سچ پوچھئے تو خنجر پھینک کر کسی کو اس طرح مارنے کے فن سے اس سے پہلے میں واقف نہیں تھا۔
ایک طرف خدا کے یہ چند چنیدہ بندے ہیں جو ہمیشہ ان منگولوں، تاتاریوں اور صلیبیوں کا صفایا کرتے رہتے ہیں تو دوسری طرف یہ منگول اور تاتاری ہیں جن کی تعداد کبھی ختم ہی نہیں ہوتی ، ہر روز نکل آتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ یاجوج و ماجوج کی فوج ہوں جو زمین کے ہر سوراخ اور ہر بل سے نکل آئے ہوں ، اب تو حقیقی زندگی میں بھی کبھی رات کے وقت باہر نکلو تو ایسا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں منگول ہم پر حملہ آور نہ ہو جائیں ، ویسے منگولوں کا یہ ڈر اب ہمیں کچھ غلو معلوم ہوتا ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ تیرہویں صدی میں ان کی ہیبت پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی اور ان کے بارے میں یہ کہاوت مشہور ہو گئی تھی کہ اگر تم سنو کہ منگول شکست کھا گئے تو یقین مت کرنا ۔
اور پھر ہم حسن کی دیوی کوہ قاف کی پری سلجوقی شہزادی سلطانہ حلیمہ کو کیسے بھول سکتے ہیں جو سیریل میں رس گھولنے کا کام کرتی ہیں اور اس کی جان ہیں بالکل اردو کے اس شعر کی طرح کہ "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” ، جب سلطانہ حلیمہ بولتی ہیں تو پوری کائنات خاموش ہوکر ان کی باتیں سننے میں لگ جاتی ہے اور جب وہ غمزدہ ہوتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پوری کائنات ان کے غم میں شریک ہو، لب لباب یہ کہ اگر سلطانہ حلیمہ ہیں تو ارطغرل ہے ورنہ نہیں اور جس طرح شیریں (بعد میں اسی نام سے متاثر ہوکر فرنگیوں نے بھی اپنی محبوباؤں کو اپنی زبان میں sweety بلانا شروع کیا ) کے بغیر فرہاد کا تصور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح حلیمہ کے بغیر ارطغرل بھائی کا بھی کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اور ابن عربی کو بھی کیسے بھول سکتے ہیں ہم جن کی ہر کچھ دنوں پر ارطغرل سے راستے میں ملاقات ہو جاتی ہے ، پتہ نہیں حقیقی زندگی میں ان کی ارطغرل سے ملاقات ہوئی تھی یا نہیں ، گو کہ دونوں ایک ہی عہد سے تعلق رکھتے ہیں ، لیکن یہاں اس سیریل میں ہمیشہ راستہ چلتے ہوئے ارطغرل اینڈ کمپنی سے ان کی ملاقات ہو ہی جاتی ہے ، ایسا لگتا ہے جیسے ان کی دعاؤں کا ارطغرل پر خاصا اثر تھا ، وہ اپنے ایک مرید کے ساتھ جھولا اٹھائے روایتی انداز میں اللہ کی اس سرزمین پر جگہ جگہ لوگوں کو وعظ و نصیحت دیتے ہوئے گھوم رہے ہیں ، اور دین و ایمان والی باتوں سے اس سیریل میں شیرینی گھولے رہتے ہیں ، اور آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ کسی اللہ والے بندے کے پاس بیٹھے ان کی باتیں سن رہے ہوں ۔ ابن عربی اپنے وجود سے اس سیریل کو ایک طرح کا اسلامی رنگ دئیے ہوئے ہیں ۔
مختصر یہ کہ اس سیریل میں آپ کو عہد وسطی کی زندگی کا پورا پورا نقشہ مل جائے گا اور اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عہد وسطی کی زندگی کیسی تھی تو یہ سیریل ضرور دیکھئے ، کل ملا کر اگر دیکھا جائے تو ارطغرل یقیناً ایک نرم ثقافتی بم ہے اور جو اپنا اثر دکھا رہا ہے۔

خضر شمیم

خضر شمیم

Muhammad Khizr Shamim hails from Muzaffar pur, Bihar. After learning the Quran by heart in his childhood, he turned to the famous seminary Madrasa al-Islah and there studied up to Fazilat. For higher education, he got admitted at Jawaharlal Nehru University in Delhi, where he did BA and MA in Arabic Language and Literature, then worked for a few months at Amazon and now works as a freelancer. From time to time his articles keep on appearing on various newspapers and social media platforms. You may contact him: [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے