بڑوں کی عید اور ہماری عیدی!

Spread the love


كرونا! ہم تجھ كو معاف نہيں كرسكتے۔
عمارہ رضوان– نئى دہلى
[email protected]

عيد كا تيوہار ہمارے لئے ہر سال آتا رہتا ہے ، اور ہزاروں خوشياں اپنے دامن ميں سميٹ كر لاتا ہے ، اس دن ہر كوئى خوش ہوتا ہے اور مختلف طريقوں سے اپنى خوشى كا اظہار كرتا ہے۔ اور آخر ايسا كيوں نہ ہو ، عيد كے معنى تو ہى ہيں خوشى كے دن كے ، اگر اس دن خوشى كا اظہار نہ كيا جائے تو آخر كون سا دن ہو گا جس پر ہم خوشى منائيں۔ روزہ داروں كے لئے تو يہ جشن كا دن ہے، اچھے سے رمضان گزارنے كے بعد ان كو الله كى جانب سے خوشى منانے كا حكم ديا گيا ہے ، اسى لئے ہمارے حضور پاک – صلى الله عليہ وسلم – نے عيد كے دن ، روزه رکھنے سے منع فرمايا ہے ، وه عبادت جو ایک دن پہلے بہت محبوب تھی ، عيد كے دن ممنوع ٹھہرى۔
اس بار عيد كا تيوہار بھی ايسے حالات ميں آرہا ہےكہ عيد كى سارى خوشياں كافور ہوتى نظر آرہى ہيں ، ايسى عيد شايد ہمارے باپ دادا نے بھی نہ ديکھی ہو ، ہمارے يہاں تو عيد كے دن ہى لوگ گلے ملنے كى رسم پورى كرتے تھے ، اب تو گلے ملنے بہت دور كى بات ہاتھ ملانے پر پابندى ہے ، ہمارے دور قريب كے رشتےدار عيد كا ہى انتظار كرتے تھے كہ چلو عيد كى سوئيوں كے ساتھ خوب مل بیٹھیں گے اور سال بھر كے گلے شكوے دور كرليں گے – اس دن گھر كے بڑے بوڑھے ایک كمرے ميں اپنى اپنى روداد سناتے تھے اور ہمارى ہم عمر كى سہيلياں اپنے اپنے كارنامے ، چھوٹے بھائی بہنوں كى نظر تو آنے والے رشتہ داروں كى جيب پر ہوتى تھی كہ كب ان كا ہاتھ جيب ميں داخل ہو اور كرارى كرارى نوٹ نكلے، ميرے چھوٹے بھائی بھی بہت حسد رکھنے والے ہيں ، ان كو اس سے بڑى تكليف ہوتى ہے كہ ہمارے فلاں عزيز نے اپّى كو مجھ سے زياده روپئے كيوں دے دئیے اوراگر اِن كى ضد كے آگے انہوں نے سب كا حساب برابر كر ديا تو وه اسے اپنے لئے فتح مبين سمجھتے ہيں ، انہيں نہيں معلوم ہوتا كہ انہيں رشتہ دار نے چپكے سے ميرى جيب ميں ايك اضافى نوٹ اڈال دىا ہے۔
مجھے اس بار اس بات كا ڈر ستائے جار ہا ہے كہ يہ سب باتيں ماضى كى داستان ميں بدلنے جارہى ہيں ، اور سب سے زياده نقصان ہمارے چھوٹے بھائيوں كا ہونے والا ہے ، پھر تو وه پورا كفّاره ابو كى جيب سے وصول كريں گے ابو نے بھی كمال ہوشيارى سے ہم سب كو يہ سمجھا ديا ہے كہ بینک ميں سب كا اكاؤنٹ ہے ، مودى جى نے بيس لاکھ كروڑ روپئے كے خصوصى پيكج كا اعلان كيا ہے ، اس بار عيدى ان كى طرف سے تم سب كے اكاؤنٹ ميں براه راست آئے گى۔ مودى جى جس پيكيج كا اعلان كرنے ميں پورے پينتيس منٹ لگائے تھے اس كى تشريح ميں ہمارى وزير ماليات كو پانچ دن تک محنت كرنى پڑى ، مگر پھر لوگ يہى كہتے ہيں كہ ہميں سمجھ ميں نہيں آيا۔سمجھ ميں بھی كيسے آئے ، غريبوں اور مزدوروں كے پيكيج كو وه انگريزى ميں سمجھاتى رہيں يہ معلوم ہوتے ہوئے كہ مزدوروں اور غريبوں كو انگريزى نہيں آتى ، اور راہل گاندھی كو ہندى ميں كوسا اور مزدوروں كے وقت كو برباد نہ كرنے كى صلاح دى ،حالاں كہ راہل گاندھی ان سے اچھی انگريزى بولتے اور سمجھتے ہيں ، نرملا آنٹى كم ہوشيار نہيں ہيں ، انہيں معلوم ہے كہ بات ايسى كہو كہ كسى كے سمجھ ميں نہ آئے ، باقى كام كرنےكے لئے ہندى ميڈيا كے پتركار كافى ہيں ، ميڈيا عوام تك وه كارنامے بھی منتقل كردے گا جس كے بارے ميں ابھی حكومت نے سوچا بھی نہ ہو۔
ہمارےدونوں بھائى بڑے خوش قسمت واقع ہوئے ہيں ، رمضان كى گہماگہمى كے چكّر سے بچنے كےلئے اس بار ان كا عيد كا جامہ ، كرتا شلوار ، تھالى بجانے سے پہلے ہى گھر پر پہونچ گيا ،گزشتہ عيد ميں ان كا كپڑا عيد سے دو ماه پہلے خريدا گيا اور اور جب ٹيلر كے پاس سلوانے كے لئے گئے تو اس نے انگلى كے اشارے سے كاغذ پر لكهے ہوئے "ہاؤس فل ” كى طرف اشاره كرديا۔ اور وه دونوں ناكام ونامراد ، منہ لٹكائے واپس آئے۔
ان كى اس ناكامى نے ان كو اب بہت عجلت پسند اور تيز گام بنا ديا ہے ، اب عيد كى خريدارى وه شعبان ميں كرنے كے قائل ہوگئے ہيں۔ اور اسى عجلت پسندى كى وجہ سے کبھی کبھی وه عصر كى نماز ، ظہر كے ساتھ پڑھنا چاہتے ہيں ، پھر بارى آتى ہے امّى كے ليكچر كى ، نمازاپنے وقت پر فرض كى گئى ہے ، صرف سفر ميں اجازت ہے ، وغيره وغيره۔
مختلف تنظيموں اور اداروں كى طرف سے بہت مفيد ہدايات اور گائڈلائنس سوشل ميڈيا پر گردش كر رہى ہيں اور ساتھ ہى گھوں ميں نماز عيد ادا كرنے كے طريقے بھی بتائے جارہے ہيں ، مگر ايك گائڈلائنس گھروں ميں قيد بچوں اور بچيوں كے لئے بھی ہونى چاہئے كہ وه اپنے عيد كو كيسے گزاريں۔
رمضان ميں لاک ڈاؤن نے رمضان سے اور زياده فائده اٹھانے كا موقع فراہم كيا ، افطار پارٹيوں سے فرصت رہى ، كہيں آنا جانا نہيں رہا ، دوست واحباب سے بھی دورى رہى ، گرچہ مكمل یک سوئى ميسر رہى ، مگر عيد كے ايام تو يكسوئى كو طاق پر رکھنے كے ہيں، ميل ملاپ كے ہيں ، سير وتفريح كے ہيں ، دوستوں كو اپنے گھر بلانے اور ان كے گھر جانے كے ہيں ، اگر عيد ميں يہ سب نہ ہوگا تو پھر عيد كيسى ؟
خير عيد اپنے وقت پر آئے گى ، ہم بھی اپنے پرانے كپڑوں كو نيا بنانے كى كوشش كريں گے ، اس عيد ميں وه لوگ اجنبى ہوں گے جنہوں نے نيا لبا س زيب تن كر رکھا ہوگا اور پرانے لباس ميں اكثريت سينہ چوڑا كركے چل رہى ہو گى ليكن ہم ہرحال ميں اپنے رب كے حضور سجدہ ِ شكر بجا لائيں گے ، اپنے ملك و ملت اور پورى انسانيت كے لئے دعا بھی كريں گے ، اور يہ دعا بھی كہ الله رب العزت اس وبا سے پورى انسانيت كو جلد نجات دے تاكہ سب لوگ سكون كى زندگى گزار سكيں اور آنے والى عيدوں كو بہت ہى جوش وجذبے سے مناسكيں ، اور ہمارا نقصان بھی نہ ہو جس كے لئے ہم سال بھر انتظار كرتے ہيں۔

(مضمون نگار جامعہ سينئر سيكينڈرى اسكول ميں بارہويں كى طالبہ ہيں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے