محرم الحرام کی بے حرمتی

Spread the love



محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی بدعات و خرافات کا سیلاب آجاتا ہے, “قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے” کے نعرے جگہ جگہ لکھے دکھائی دیتے ہیں, “اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد” کے سرخیوں سے اردو اخبارات بھرے رہتے ہیں. ڈھول تاشے, سینہ کوبی, نوحہ خوانی اور نہ جانے کتنی بدتمیزیوں سے اس مہینے کی تقدس کو پامال کیا جانے لگتا ہے, جگہ جگہ محفل عزہ داری کا انعقاد شروع ہوجاتا ہے, خلیفہ اسلام یزید کو گالیاں دی جاتیں ہیں, صحابہ کرام کی عظمت و تقدس کو پامال کیا جاتا ہے, جس دن روزے رکھنے کا حکم ہے اس دن سبیلیں پلائیں جاتیں ہیں, کربلا کی پیاس کو اس دن بجھایا جاتا ہے, ایسے ایسے مناظر نظر آتے ہیں کہ الامان والحفیظ.
اس بار محرم الحرام کے مہینے میں دشہرہ بھی ہے, لوگوں کو کافی مماثلت دیکھنے کو ملے گی, ہندو لوگ درگا کی مورتی بنا کر تصویر کو پوجیں گے, اسلام کے یہ گھس پیٹھئے تعزیہ بنا کر پوجیں گے, وہ لوگ جے ماتا دی کے نعرے لگائیں گے, یہ لوگ یا حسین کے نعرے لگائیں گے. وہ لوگ اس دن ڈھول تاشے اور ناچ گانے کی محفلیں جمائیں گے, یہ لوگ بھی دس دن ڈھول تاشوں کے ساتھ خرافات, بدعات, سینہ کوبی, نوحہ خوانی, عزہ داری کی محافل کا انعقاد کریں گے, پھر وہ لوگ آخری دن اپنے ماتا کو جلوس کی شکل میں ناچتے گاتے ہوئے لے جائیں گے, اور دریا برد کردیں گے, یہ لوگ بھی تعزیہ لے کر گاتے ہوئے جلوس لے کر نکلیں گے اور لے جا کر نام نہاد کربلاؤں میں دفن کردیں گے.

جب میں ان لوگوں کو یہ سب کرتے ہوئے دیکھتا ہوں, تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے, اسلام کا مذاق بنا کے رکھ دیا ان لوگوں نے, جس مہینے کو رب نے محرم قرار دیا, اس مہینے کو ان لوگوں نے بے حرمتی کا لباس پہنا دیا, جس دن کو رسول نے روزہ رکھنا سکھایا, اس دن ان لوگوں نے سبیلیں کی سبیلیں انڈیل دیں, ہر طرف آہ بکا کا سیلاب برپا کردیا, رب نے خونریزی سے روکا, ان لوگوں نے خود کا خون بہایا, اپنے آپ کو زنجیروں سے زخمی کیا, تیز دھار ہتھیاروں سے اپنے جسموں پہ وار کیا, رسول نے کہا تھا “ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية” بخاري. یعنی ہم میں سے وہ نہیں جو اپنا رخسار پیٹے, گریبان چاک کرے, اور دور جاہلیت کی پکار پکارے, مگر ان لوگوں نے اپنے لئے سب کچھ روا کرڈالا, اپنے گریبانوں کو چاک کیا, اپنے جسموں کو اذیت پہونچائی.

افسوس ہوتا ہے مجھے ان لوگوں پر, اور اس سے زیادہ افسوس ہوتا ہے مجھے اہل و سنت والجماعت میں سے ان لوگوں پر, جو ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیں, انہیں اسلام کا حامی اور جانثار تصور کرتے ہیں, ان کے نام نہاد اسلامی انقلاب سے متاثر ہوتے ہیں, ان کو اپنا آئیڈیل اور رہنما تصور کرتے ہیں, ان کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہیں, ان کو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں, ان کی قربت کے حصول کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں, اپنے مضامین اور رسائل کے ذریعہ ان کا دفاع تک کرتے ہیں, مگر وہیں دوسری جانب یہ لوگ قران و سنت کے حاملین سے دشمنی کرتے ہیں, انہیں اپنا مخالف اور معاند شمار کرتے ہیں, یہ لوگ حاملین قران و سنت کی دشمنی میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ ایران تک پہونچ جاتے ہیں, تہران اور قم کا دورہ کرکے آتے ہیں, پھر خوب شدت کے ساتھ شیعوں کی حمایت کا پرچم بلند کرتے ہیں, افسوس ہوتا ہے مجھے ایسے نام نہاد اسلامی مفکرین پر, اور حسرت و افسوس ہوتا ہے ان کی سوچوں پر..یہ وہ لوگ ہیں جو عزہ داری, نوحہ خوانی اور نا جانے کتنے غیر اسلامی رسم و رواج کو انجام دینے والوں سے محبت کرتے ہیں, ان سے قربت بڑھاتے ہیں, مگر جو لوگ اسلام کے خلاف ایک بھی عمل کرنا تو کجا, سوچنا بھی نہیں چاہتے, جو ہر کام دلائل کی بنیاد پہ انجام دیتے ہیں, غیر اسلامی رسم و رواج کا سختی سے انکار کرتے ہیں, قران و سنت کو اپنا مشعل راہ بنائے رہتے ہیں, انہیں سے یہ لوگ نفرت کرتے ہیں, ان کے خلاف ہر قسم کی ریشہ دوانیاں روا سمجھتے ہیں, اللہ انہیں نیک سمجھ عطا کرے.
اخیر میں چلتے چلتے میں بس اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مہینہ محرم الحرام کا مہینہ ہے, اس کی حرمت و تقدس اس وجہ سے ہے کہ اسے رب نے حرمت تقدس والا قرار دیا, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سے اس مہینے کا کوئی لینا دینا نہیں, نہ اس سے اس کی عظمت میں اضافہ ہوا, نہ ہی کمی, اگر کسی بڑے آدمی کی موت یا شہادت کسی مہینے کے ادب و احترام کی علامت ہوتی تو عمر فاروق جیسے صحابی رسول اپنے علمی, دینی, روحانی اور خلیفہ ثانی ہونے کی وجہ سے اس بات کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ حقدار ہوتے کہ ان کی شہادت پہ وہ کچھ کیا جاتا, جو حضرت حسین کی شہادت پہ کیا جاتا ہے, مزید برآں حضرت عثمان, حضرت حمزہ, حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین اور دیگر اکابر اور جلیل القدر صحابہ کرام کی شہادتیں بدرجہ اولی اس بات کی مستحق ہوتیں کہ ان کا ماتم کیا جائے, ان کے لئے سینہ کوبی اور نوحہ خوانی کی جائے, جس مہینے میں ان کی شہادت ہوئی اس کو غم کا مہینہ بنا دیا جائے, مگر چونکہ اسلام میں ان خرافات و اوہام کی کوئی جگہ نہیں, اس لئے جو ایسا کرتا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے