وطن الگ، راہ الگ

Spread the love


 

خضر شمیم
گھنٹی کے بھی کچھ خاص نغمے ہوتے ہیں جیسے وہ کوئی مقید رقص ہو جو آزاد ہو رہا ہو ، اور کلاس کے اختتام کا مطلب ہوتا ہے گرم گرم کلاس کے قیدیوں کی رہائی اور آزادی، اور جب گرمی کے دنوں میں جماعت سے باہر نکلو ایسی رطوبت اور چپکن ہوتی ہے کہ کپڑے بدن سے چپک جاتے ہیں۔

جیسے ہی چھٹی کی گھنٹی بجی منٹوں میں طالبات کلاسوں سے ایسے نکلیں جیسے گھوڑے گھوڑدوڑ کے شروع ہونے کے منتظر ہوں۔ زمین پر ان کے دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز جوش و خروش والے نغمے پیدا کر رہی تھی اور ان نغموں کی آواز باہر کھڑی گاڑیوں سے نکلنے والے نغموں سے جا ملتی اور اس آواز سے ہم آہنگ ہو جاتی جو بس کے ریڈیو سے نکل رہی تھی۔

طالبات بس کے اندر اچھلتی کودتی ہوئی داخل ہوئیں، کچھ ہنستی مسکراتی ہوئیں زلفیں ان کی نم پیشانیوں پر بکھری ہوئی .. اور کچھ کی آنکھوں میں آنسوؤں کے اثرات صاف ظاہر تھے .. جس کا مطلب یہ تھا کہ اس دن کی کلاس کا نتیجہ اچھا نہیں تھا۔

جھنڈ کا جھنڈ بس میں گھستا گیا یہاں تک کہ اس کے حلق تک بھر گیا اور یہ آزاد گھوڑے جیسے چپکی ہوئی سردین مچھلیاں بن گئے ہو، اور ہر طرف سے پسینے، موزوں اور بوسیدہ اسپورٹس کے جوتوں کی بو نکلنے لگی۔

– اف
ڈرائیور نے اپنا رومال نکالا اور اپنی ناک کو ڈھک لیا گنتی پوری ہونے کا انتظار کرتے ہوئے۔ جبکہ طالبات کا شور و غل اور ان کی باتیں ان نغموں کے ساتھ مل کر گم ہو جا رہی تھیں جو بس کی کھڑکیوں سے نکل رہے تھے۔

ڈرائیور نے باہر کھڑی ان طالبات کو آواز لگائی جو آئسکریم والے کے ارد گرد جمع تھیں، پس جلدی جلدی یہ طالبات بس کی طرف دوڑیں اور جیسے ہی یہ بس کے اندر داخل ہوئیں اس کا دروازہ بند ہو گیا اور ڈرائیور نے چابی گھمائی۔ اور قبل اس کے کہ بس آگے بڑھے ایک عمدہ کار اس کے آگے آکر کھڑی ہو گئی اور اس نے اس کا راستہ بلاک کر دیا۔

ڈرائیور نے ہارن دبایا.. ایک بار.. دوسری بار.. عمدہ کار کے ڈرائیور نے کوئی جواب نہیں دیا.. اس نے پھر سے ہارن بجایا.. گویا کہ وہ اپنے غصے سے آگاہ کر رہا ہو لیکن دوسرا ڈرائیور ٹس سے مس نہ ہوا۔

*******
گرمی شدید.. بس کھچا کھچ بھری ہوئی.. رطوبت.. اور طالبات کی سانسیں۔ ان میں سے کچھ تیز تیز آواز میں جغرافیہ کے مضمون کو ریوائز کر رہی تھیں جسے ایک طالب علم ہمیشہ سے ہی ناپسند کرتا آیا تھا۔ اس نے ان کی طرف مڑ کر دیکھا اور اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے بولا :
خاموش رہو لڑکیوں ذرا.. مجھ پے تھوڑا رحم کرو۔

طالبات ہنسیں ، ایک دوسرے کو آنکھوں سے اس کی طرف اشارہ کیا.. اور پھر اپنے گپ شپ کی طرف لوٹ گئیں لیکن اس بار ذرا دھیمی آواز میں۔

اس کا ہاتھ دوبارہ ہارن پے.. تین بار دبایا.. طوط طوط طوط.. لیکن دوسرا ڈرائیور جیسے زمین میں گڑا ہوا بے حرکت بورڈ ہو۔ کار کی پچھلی کھڑکی سے ایک ہندوستانی عورت جھانکی جس کی مانگ پے بڑھاپے نے گھر بسانا شروع کر دیا تھا۔ عورت کی آنکھوں سے اکتاہٹ اور خفگی صاف ظاہر تھے۔

اگر وہ ہندوستانی عورت باہر سر نکال کر جھانک رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ اس کے ڈرائیور کو بس کا احساس ہے۔ ڈرائیور نے ہارن بجانا جاری رکھا ۔ امید خاک ہوتی.. سانسیں لیتا .. پھر ہارن بجاتا.. پسینہ پونچھتا.. ہارن بجاتا۔
ہندوستانی عورت نے اپنا پتلا سا ہاتھ باہر نکالا اور اسے ہلاتے ہوئے کچھ اشارہ کیا جس کا مطلب تھا : ذرا رکو۔

لیکن ڈرائیور نہیں رکا۔ پورے اعتماد کے ساتھ پھر سے اس نے اپنا ہاتھ ہارن پر رکھا۔ لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی کانیں بند کر لی.. جب کہ باہر کھڑی کچھ لڑکیاں بس سے چپک گئیں اندر والی لڑکیوں سے بات کرتی ہوئیں۔ اور کچھ باتوں پر متفق ہوئیں جو انہیں کل کرنا ہے۔

*******                                                                                            
آخرکار کار کا ڈرائیور باہر نکلا ۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ غصے میں اسے اپنے اعصاب پر کنٹرول نہیں رہا ہو۔ بس کے قریب آیا.. کھلی ہوئی کھڑکی سے اس نے بس کے ڈرائیور کو مخاطب کیا :
– ابے گدھے ! کیوں رینک رہے ہو؟؟
لڑکیاں ہنس پڑیں.. گویا وہ اس ڈرائیور کا مذاق اڑا رہیں ہو جو انہیں ہمیشہ ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے خاموش رہنے کے لئے..
اور تاکہ وہ اپنی بے عزتی کو طالبات کے سامنے بچا سکے اس نے سکینت کے ساتھ کہا :
خدا معاف کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے راستہ دے دیں۔ آپ نے میرا راستہ پوری طرح بلاک کر رکھا ہے۔
لیکن کار کے ڈرائیور نے اپنے ہاتھ کو ہوا میں ہلایا اور غراتے ہوئے کہا :
بلاک کر دیا۔ کیا ہو جائے گا اگر تھوڑی دیر رکے رہو گے تو؟ کیا کسی وزیر کے بیٹے یا رئیس زادے کو لے کر جا رہے ہو؟؟
بس کے ڈرائیور نے اسے شانت کرایا :
– بھائی صاحب.. میں آپ سے درخواست کرتا ہوں.. گرمی سخت ہے اور ان لڑکیوں کے گھر والے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔
– لیکن کار کے ڈرائیور نے دھمکاتے ہوئے کہا :
– میں نہیں ہٹوں گا۔ اور بخدا اگر پھر سے تم نے ہارن بجایا تو اپنے مالک کو کل لے کر آؤں گا تاکہ وہ تیرا سر پھاڑ دے۔ بس کے ڈرائیور نے سر خم تسلیم کر لیا۔ انجن بند کر دیا۔ اپنے گندے رومال سے اپنے چہرے کے پسینے کو پونچھا اور طالبات کی طرف مڑ کر کہا :
اچھا خاموش رہو تم لوگ.. اسی بھٹی میں تم کو رہنا ہے جب تک کہ یہ مغرور ڈرائیور یہاں سے چلا نہیں جاتا۔

طالبات کے چہروں پر مایوسی ظاہر ہوئی۔ وہ آپس میں پھسپھسانے لگیں۔ :
– ہہ تو غنیمہ کا ڈرائیور ہے۔
ڈرائیور کے کانوں تک ان کی یہ بات پہنچی۔ وہ ان کی طرف مڑا :
– یہ غنیمہ کون ہے؟ کس کی بیٹی ہے؟
کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔ سکڑ کر خاموش ہو گئیں۔ ان کے کپڑے پسینے سے تر بہ تر ہو چکے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے پانی سے دھلے ہوئے ہوں۔

آدھا گھنٹہ گزر گیا تب جا کر اسکول کے اندر سے ایک گندمی رنگ کی طالبہ باہر نکلی۔.. اپنے عمر کی چودہویں بہار میں.. صاف ستھری.. سلیقے سے۔ اس کے جوتے دن بھر کی تھکن کے باوجود صاف دکھ رہے تھے۔ اپنی چوٹیوں کو سفید ربن سے باندھے ہوئی۔

– آہ .. لگتا ہے کسی بڑے آدمی کی بیٹی ہے۔
ڈرائیور نے طالبات کی طرف آدھا مڑ کر کہا۔
ایک طالبہ نے جواب دیا :
– اس کا باپ ایک بہت مشہور بزنیس مین ہے۔
– اور مغرور بھی.. اور اس کا ڈرائیور بھی مغرور ہے ۔ اور پھر اس کی بیٹی بھی مغرور ہوگی ۔
کچھ طالبات نے احتجاجا کہا :
– نہیں نہیں.. غنیمہ اچھی لڑکی ہے۔ متواضع.. خوش اخلاق.. اور.. اور.. ڈرائیور نے انہیں شانت کرانے کے لئے اپنا ہاتھ ہلایا :
– ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ اللہ ہمیں بھی ان کی طرح عطا فرمائے۔
اس نے اپنے دل کی بات رکھ دی.. اور اسے نہیں اندازہ تھا کہ یہی چیز طالبات کے دلوں میں بھی جاگزیں تھی۔ وہ انکے ایک ساتھ دہرانے کی آواز پے چونکا :
آمین….

*******
گندمی طالبہ کار کے قریب ہوئی۔ پتلے ہاتھ والی ہندوستانی عورت کار سے نیچے اتری لڑکی کا بیگ تھامنے کے لئے اور اس کے لئے دروازہ کھولا۔
لڑکی کار میں داخل ہوئی.. سیٹ پر ڈھیلی ہوئی .. گاڑی کی کھڑکیاں بند ہوئیں .. اندر میں ایر کنڈیشنر چالو تھا۔
گاڑی نے حرکت کی.. اور پھر بس نے بھی حرکت کی.. ڈرائیور نے اپنا ہاتھ بڑھاکر ریڈیو چالو کیا تو اندر سےخبر نویس کی کھڑی کھڑی آواز آئی جو خبریں پڑھ رہا تھا۔
– اف
ڈرائیور نے گہری سانسیں لی اور ریڈیو کی آواز کو مدھم کر دیا :
– بری خبریں
ایک طالبہ نے اس سے پوچھا :
– کیا ہوا ؟ کیا آپ وطن کی خبریں سننا نہیں چاہتے؟؟
– اوہ.. رہنے دو، رہنے دو۔

گویا کہ طالبات نے ڈرائیور کے اس گہری لمبی سانس کھینچنے کا راز جان لیا ہو اور وہ تالی بجانے اور گانا گانے لگیں :
” یہ آواز گندمی زمین سے آ رہی ہے .. میرے کھیت سے.. میرے سورج سے.. میرے لوگوں کی تکلیف اور درد سے” ڈرائیور کو وطن کی یاد نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا.. اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں.. ایک طالبہ کی نظر اس کے رخسار پر گر رہے غمگین آنسوؤں پر پڑی :
– آپ رو کیوں رہے ہیں؟؟
– مجھے وطن کی یاد آ گئی۔
– کیا آپ کو اچھی طرح وطن یاد ہے؟
– یقینا .. میں جب وہاں سے آیا تو اس وقت میری عمر دس سال تھی۔
– آہ
ایک طالبہ نے گہری سانس لی اور کہا :
– ہم نہیں جانتے.. ہمارے گھر والے صرف اس کے بارے میں بات کرتے ہیں.. تو ہم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔
ڈرائیور نے اپنا سر ہلایا :
– وطن بہت قیمتی ہوتا ہے بیٹی.. بہت قیمتی۔
– طالبات کی آواز بلند ہوتی ہے ایک غمگین گانے کے ساتھ :
آزادی کے نام کی سوگند … ہم لوٹیں گے اے فلسطین…
اے عربی فلسطین… ہم ضرور لوٹیں گے

آواز بلند تر ہونے لگی .. اور گرمی بھی شدید تر ہوتی جا رہی تھی.. جلانے والا سورج ۔ ٹریفک لائٹ نے گاڑیوں کے رکنے کا اشارہ کیا۔ بس ڈرائیور نے طالبات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
– ہس .. خاموش ہو جاؤ لڑکیوں۔ کوئی گانا نہیں۔

اور اسی لمحے وہ عمدہ کار جو غنیمہ کو لے جا رہی تھی بس کے بغل میں آکر رکی.. طالبات نے سروں کو باہر نکال کر کار کو دیکھنا شروع کر دیا اور غنیمہ کا چہرہ شیشے کے پیچھے سے جھانکتا ہوا نظر آیا..
وہ مسکرائی، اپنے ہاتھوں سے ان کی طرف اشارہ کیا.. کھڑکی کھولا .. طالبات آواز لگانے لگیں.. ہر لڑکی کچھ نہ کچھ بولنا چاہتی تھی.. اور قبل اس کے کہ غنیمہ ان کی باتوں کا جواب دے پاتی ہری بتی جل پڑی ۔

*******
اب دونوں گاڑیوں کا ایک ہی راستہ تھا.. بس ڈرائیور کار کے ڈرائیور سے جیسے مقابلہ کر رہا ہو اور طالبات گانا گانے لگیں.. خوش و خرم .. اور جب کار ان کے بس سے آگے نکل جاتی تو ان کی آوازیں احتجاجا بلند ہو جاتیں :
– اوف ! کاڈیلاک آگے نکل گئی؟ اور یہ بس تو ایک دم کھٹارا ہے۔ اور ان کی امید مل جل جاتی :
– اور اگر یہ اس سے آگے نکل جائے..
– بس بس.. ہمارے سامنے دوسرا ٹریفک سگنل ہے..
بس رکتی ہے۔ کار بھی اس کے بغل میں آ کھڑی ہوتی ہے.. طالبات پھر جھانکنا شروع کر دیتی ہیں اور گانا گانے لگتی ہیں :
” اور میں فائرنگ بن کر آئی.. اور میں آندھی بن کر آئی…
ہر بجھے ہوئے ضمیر کے لئے….
میں نے ستاروں کو چھوڑا… عیش و عشرت کو چھوڑا..”
غنیمہ نے کھڑکی کھولا۔ اس کے چہرے پر افسردگی اور آرزو کے بادل منڈلانے لگے۔ اس کے ڈرائیور نے اس کی طرف مڑکر اشارہ کیا کہ وہ کھڑکی بند کر دے جس سے قومی گانے کی آواز اندر آ رہی تھی۔
طالبات کی آواز بلند ہونے لگی اور کار کی کھڑکی کے بند ہونے کو چیلنج کرنے لگی۔ غنیمہ مسکرائی.. انہیں اشارہ کیا.. ایک پرسکون ہم آہنگی اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی.. اور الفت بھی۔

*******
دوسرے ٹریفک سگنل پر بس کا راستہ کار سے الگ ہو گیا ۔ اور کار ایک رہائشی علاقے میں داخل ہو گئی۔.. اور بس حولی ( فلسطینی آبادی کی اکثریت والا محلہ) کے علاقے کی طرف مڑ گئی جہاں گھوڑوں کو ان کے اصطبل کی طرف لے جانے کے سفر کی شروعات ہوتی ہے۔
زندگی معمور ہے .. تجارتی دکانیں.. کرانا کی دکانیں یہاں وہاں بکھری ہوئیں.. راہگیروں سے سڑکوں کے کنارے اٹے پڑے.. مرد… طالبات… طلبہ…. سب گرمی سے بھاگتے ہوئے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں، ہوٹل اور چکن بھوننے کی دکانوں سے چکن کی لذیذ تیز خوشبو پھوٹ رہی تھی جو طالبات کے دلوں میں بھوک کے احساس کو مزید بڑھا رہی تھی۔ ان سب کے منھ میں پانی آنے لگا۔ ان میں سے ایک نے آرزو ظاہر کی :
– کاش کہ میری ماں آج مرغی پکاتی..
دوسری نے کہا :
– آج میری ماں مجدرہ ( ایک فلسطینی کھانا ) پکائے گی۔
ایک اور طالبہ نے کہا :
– آہ.. مجھے یہ بہت پسند ہے..
جبکہ ایک دوسری طالبہ نے اپنی ناپسندیدگی دکھاتے ہوئے کہا :
– اف، مجھے تو یہ بالکل پسند نہیں۔
لیکن اس سے دوسری طالبات متفق نہیں ہوئیں.. یہاں تک کہ بس کے ڈرائیور نے بھی کہا :
– یہ بہت اچھا کھانا ہے.. یہ "سواری کی کیل ” ہے۔ طالبہ ہنسی اور بولی :
– مجھے سواری کی کیل نہیں چاہیئے۔ میں ویسے ہی مضبوط ہوں۔ میں ورزش کرتی ہوں اور تیل مسالہ.. چکن.. گوشت.. مٹر… آلو پسند کرتی ہوں۔
– اوہ.. صحت کا خیال رکھو
ڈرائیور نے کہا اور پہلی موڑ کے پاس رک گیا اور بس کا دروازہ کھولا :
– آؤ آؤ ، جن کا نمبر آ گیا وہ اتریں..

پانچ طالبات دھکا کھاتی ہوئی اتریں.. اور جیسے ہی دروازہ بند ہوا بس کے اندر کی طالبات اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرکے جانے والی اپنی سہیلیوں کو الوداع کہنے لگیں۔

بس کا بوجھ کم ہوا۔ رطوبت دار قید ہوا نےجیسے اپنی آزادی لی .. موسم ذرا لطیف ہوا.. طالبات کی آواز کم ہوئی۔ اب وہ مختلف باتیں کرنے لگیں اور ان میں سے بعض اپنی معلمات کی نقل اتارنے لگیں.. اور خوشی و فرحت کے اس ماحول میں اس تاخیر کو بھول گئیں جو غنیمہ کی کار کی وجہ سے ہوئی تھی۔

*******
غنیمہ کی کار اب رہائشی علاقے میں دوڑ رہی تھی.. سڑکوں پر سکون طاری تھا .. نہ تجارتی دکانیں اور نہ کرانے کی دکانیں ! اور نہ چکن کی بو اور نہ ہی زعتر کی … چاروں طرف صفائی ہی صفائی اور سلیقے سے تراشی ہوئی گھاسیں اس گرمی کے موسم میں اپنی سبز سبز سانسیں چھوڑ رہی تھیں.. درخت کی شاخیں ہرے ہرے پتوں سے ڈھکی تھیں.. نہ کوئی ہوا ان کو جنبش دے رہی تھی اور نہ کوئی انسانی حرکت.. اور نہ بسوں کی کھڑکیوں سے گانوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

اس کو اکتاہٹ اور بیزاری کا احساس ہونے لگا.. ابھی تک اس کے کانوں میں ان گانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس نے اپنے دل میں کہا :
– "کل میں ان سے گانوں کے الفاظ لکھوا لوں گی”.
اس فیصلے سے وہ خوش ہوئی اور ان طالبات کے چہروں کو یاد کرنے لگی، اور اس فرحت کو یاد کرنے لگی جو ان طالبات کے چہروں پر تھی ایک بغیر اے سی کی بس میں کھچا کھچ بھرے ہونے کے باوجود..

*******
گھر میں لذیذ کھانے کی خوشبو پھوٹ رہی تھی… اور اس کے باوجود اس نے اپنی ماں سے کہا :
– مجھے کھانے کا جی نہیں کر رہا۔

ماں اپنے لاڈ پیار کا دریا انڈیلنے لگی.. وہ اسے رنگ برنگ کے کھانے گنانے لگی جو اس نے تیار کیا تھا .. لیکن لڑکی خاموش رہی.. اس کی آنکھیں گھر کے کونوں کا چکر لگانے لگیں.. ہر چیز صاف شفاف تھی.. خوبصورت اور شاندار.. عزت اور بڑکپن کی بو کھانے کی بو کی طرح پھوٹ رہی تھی۔ اور اس کی ماں کی آواز آ رہی تھی گویا کہ بہت دور سے آ رہی ہو.. اس کی کانوں میں ابھی تک ان گانوں کی موسیقی کھیل رہی تھی جن کے الفاظ وہ یاد نہیں کر سکی تھی اور اس موسیقی کے ساتھ طالبات کی ہنسی کی آوازیں بھی خلط ملط ہو گئی تھیں۔

اس نے اپنی ماں کے چہروں کو غور سے دیکھا جس پر خوف کے بادل منڈلا رہے تھے :
– غنیمہ .. تمہیں کیا ہوا ؟ بیمار ہو کیا ؟؟
– نہیں امی، ایسی کوئی بات نہیں
– تب.. خاموش خاموش سی کیوں ہو؟ اور کھانا کیوں نہیں کھا رہی؟؟
– میں خواب دیکھ رہی ہوں امی.. گہرا خواب..
اور وہ آرام دہ صوفے پر لیٹ گئی اور اس کی ماں کا سوال خوشی میں تبدیل ہو گیا :
– خواب؟ کیا خواب دیکھ رہی؟؟؟ بتاؤ تمہارے ہر خواب فورا پورے ہونگے۔
لڑکی کے چہرے میں غم کی جھلک آئی.. اس نے اپنی ماں سے کہا :
– سوائے اس خواب کے
اس کی ماں نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا :
– میں تمہارے ہر خواب کو پورا کروں گی۔
لڑکی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی :
– تب .. میں چاہتی ہوں کہ میں بھی "حولی” کی لڑکیوں کی طرح بس پر چڑھوں۔
اور…
ماں کا چہرہ سکڑ گیا۔

مترجم : خضر جواہری
( لیلی عثمان کے ایک قصے "ینفصل الوطن، تنفصل الطریق” کا ترجمہ)

خضر شمیم

خضر شمیم

Muhammad Khizr Shamim hails from Muzaffar pur, Bihar. After learning the Quran by heart in his childhood, he turned to the famous seminary Madrasa al-Islah and there studied up to Fazilat. For higher education, he got admitted at Jawaharlal Nehru University in Delhi, where he did BA and MA in Arabic Language and Literature, then worked for a few months at Amazon and now works as a freelancer. From time to time his articles keep on appearing on various newspapers and social media platforms. You may contact him: [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے