تیس ہزاری کورٹ: وکیل پولس تنازعہ کیس

Spread the love


کاشف شکیل
وکلاء کے حملے کے خلاف دہلی پولیس سڑک پر کیوں اتری؟
2 نومبر کو تیس ہزاری کورٹ کمپلیکس میں پارکنگ کے تنازعہ کے بعد وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے مابین پائے جانے والے تشدد کے خلاف دہلی پولیس کےکانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک تمام اہلکار آئی ٹی او پولیس ہیڈ کوارٹر میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ہاتھوں پر کالی پٹی کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔ بڑی تعداد میں دہلی پولس کے جوان سیاہ پٹی باندھ کر ہیڈ کوارٹر کے باہر اکٹھا ہوئے اور اپنے لئے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی وردی کے پیچھے ایک انسان ہیں، ان کا بھی خاندان ہے۔ ان کے مصائب کوئی کیوں نہیں سمجھتا؟پولیس اہلکار ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر نعرے لگارہے ہیں۔ ان تختیوں پر’’ ‘سیو پولیس‘‘(پولیس بچاؤ) اور ‘’’ہم بھی انسان ہیں‘‘ جیسے نعرے لکھے گئے ہیں۔پولیس اہلکار جو پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کر رہے ہیںان کا مطالبہ ہے کہ وکلاء کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم وکلا ءکی زیادتیوں کے خلاف پرامن مظاہرہ کریں گے اور کمشنر سے بات کریں گے۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں نے’’ ‘ہم انصاف چاہتے ہیں‘‘ کے نعرے بھی لگائے ۔مظاہرہ کر رہے پولس جوانوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن طریقے سے احتجاج و مظاہرہ کرکے پولس کمشنر کے سامنے اپنی بات رکھیں گے۔ مظاہرہ کر رہے پولس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں وردی پہننے میں ڈر لگ رہا ہے کیونکہ وردی دیکھتے ہی وکیل پولس جوانوں کو پیٹ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں پر وکلا کے حملوں کی بہت ساری ویڈیوز سامنے آچکی ہیں ، جس کی وجہ سے پورے محکمہ میں ناراضگی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ان کی غلطی نہیں تھی ، وکلاء کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اندراج کیا جائے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔بتایا جارہا ہے کہ اس طرح کا مظاہرہ دہلی پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے۔ اس پر کانگریس نے مودی سرکار کو کھینچ لیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سورجے والا نے ٹویٹ کیا ، ’72 سالوں میں پہلی بار پولیس کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے! کیا یہی بی جے پی کا نیا ہندوستان ہے؟ ملک کو بی جے پی کہاں لے جائے گی؟ وزیر داخلہ مسٹر امت شاہ کہاں غائب ہیں؟ مودی ہے تویہ سب ممکن ہے ! ‘۔
پولیس اہلکار آئی ٹی او واقع پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر اپنے اعلیٰ افسران سے اپیل کر رہے ہیں کہ وردی کی عزت بچانے کی خاطر وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔ مظاہرین یہ بھی نعرہ لگا رہے تھے، ‘ہماری سی پی (پولیس کمشنر) کیسی ہو،کرن بیدی جیسی ہو۔ ‘ پولیس اہلکار کرن بیدی کی تصویرلےکر مظاہرہ کر رہے ہیں۔پولیس ڈپٹی کمشنر (نئی دہلی) ایش سنگھل نے مظاہرین پولیس اہلکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسئلہ پر دھیان دیا جائے‌گا۔ سنگھل نے کہا، ‘ آپ کی فکر اور ناراضگی کے بارے میں سینئر افسروں کوبتایا گیا ہے۔ میں آپ کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں آپ کا مظاہرہ بےکار نہیں جائے‌گا۔ ‘معلوم ہو کہ ساکیت عدالت کے باہر سوموار کو وکیلوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار کی پٹائی کر دی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ تیس ہزاری کورٹ کے وکیل اور دہلی پولیس کے درمیان تنازعہ کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کے روز ہی اس پورے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ نیز ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ جج ایس پی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ ہائیکورٹ نے سی بی آئی ،ویجیلنس اور آئی بی کے ڈائریکٹرز سے تحقیقاتی کمیٹی کی مدد کرنے کو کہا ہے۔ہائی کورٹ کی اس کمیٹی نے بیک وقت کئی احکامات جاری کیے ، جن میں اسپیشل کمشنر آف پولیس سنجے سنگھ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس ہریندر کمار سنگھ کی برطرفی شامل ہے۔ ہائی کورٹ کو دہلی پولیس کے ذریعہ بتایا گیا تھا کہ ان دونوں افسروں کے کہنے پرہی تیس ہزاری عدالت میں ہنگامہ کے دوران وکلا کو گولی مار ی گئی تھی۔اس معاملے میں فائرنگ کاملزم اسسٹنٹ سب انسپکٹر پون کمار کا تبادلہ کردیا گیا ہے ، جبکہ فائرنگ جیسے سنگین الزامات سے بری اسسٹنٹ پولیس سب انسپکٹر کامتا پرساد کو حواس باختہ دہلی پولیس نے معطل کردیا ہے۔غور طلب ہے کہ سنیچر کو تیس ہزاری عدالت احاطہ میں وکیلوں اور پولیس کےدرمیان جھڑپ میں کم سے کم 20 پولیس اہلکار اور کئی وکیل زخمی ہو گئے تھے۔ کئی گاڑیوں میں توڑپھوڑ کی گئی یا ان میں آگ لگا دی گئی۔وکلاء کی جانب سے ایک روزہ عدالت کے بائیکاٹ کے درمیان پیر کو سپریم کورٹ کے وکلاء نے بھی تیس ہزاری کورٹ میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر مظاہرہ کیا اور وکلاء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جس میں 10-10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ سمیت مختلف مسائل کو لے کراپنی مانگیں رکھیں۔دہلی ہائی کورٹ نے بیتے اتوار کو اس معاملے میں ہائی کورٹ کے سابق جج (سبکدوش)ایس پی گرگ کی صدارت میں عدالتی تفتیش کرانے کا حکم دیا۔ کورٹ نے زخمی وکیلوں کومعاوضہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
افسران کا پولیس اہلکاروں کے مطالبات قبول کرلینے پر مظاہرہ ختم کرنے کا‌اعلان:
دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہرمنگل کی صبح سے جاری پولیس اہلکاروں کا احتجاج تقریبا 11 گھنٹےجاری رہنے کے بعد شام آٹھ بجے اس وقت ختم ہوا جب افسران نے پولیس اہلکاروں کے مطالبات قبول کرلئے۔اس سے قبل دہلی پولیس کے جوائنٹ سی پی راجیش کھرانا نے پولیس اہلکاروں سے اس احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو پولیس اہلکاروں نے جوائنٹ سی پی کے سامنے’’ ‘ہم انصاف چاہتے ہیں ‘‘کے نعرے لگائے ۔اس سے قبل دہلی پولس کمشنر امولیہ پٹنائک نے پولس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کر نے والے پولس اہلکاروں کو انصاف کا بھروسہ دلاتے ہوئے کام پر واپس آنے کی اپیل کی تھی ۔ پٹنائک نے پولس اہلکاروں سے کہا تھاکہ یہ وقت دہلی پولس کے لئے امتحان کی گھڑی ہے اور پولس والوں کی ساری شکایتیں دور کی جائے گی۔ دہلی پولس کے لئے یہ امتحان، توقع اور انتظار کا وقت ہے۔ حکومت اور دہلی کو عوام کو پولس والوں سے کافی توقع رہتی ہے کیونکہ ہم قانون کے رکھوالے ہیں۔ انتظار کی گھڑی ہے کیونکہ تیس ہزاری عدالت کے احاطے میں جو واقعہ ہوا ہے اس میں ہائی کورٹ کی جانب سے عدالتی تحقیقات کا حکم دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تحقیقات میں انصاف ملے گا اور انتظار کرنے کی ضرورت ہے پولس کمشنر نے پولس اہلکاروں کوسمجھاتے ہوئے کہا کہ آپ کے دماغ میں جو خدشہ ہے اسے ہم سمجھ رہے ہیں۔ ہم قانون کے رکھوالے ہیں اور عوام کو ہم سے امید ہے اور ہمارا برتاؤ بھی اسی طرح کا ہونا چاہئے۔ انہوں نے پولس اہلکاروں کی تمام شکایات دور کرنے کا بھی یقین دلایا۔پٹنائک نے پولس اہلکاروں کو بھروسہ دلایا کہ وکلاء کے ساتھ پولس کی جھڑپ کے معاملے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ کی پہل پر ایک عدالتی تحقیقات شروع کی جا رہی ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ عدالتی جانچ صحیح طریقے سے ہوگی۔لیکن مظاہرین پولیس اہلکار پٹنائک کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے اور وہاں کھڑے فوجیوں نے ’’دہلی پولیس کمشنر کیسا ہو، کرن بیدی جیسا ہو‘‘ کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔
پولیس اور وکلا کے مابین تصادم کیسے شروع ہوا؟:
ہفتہ (2 نومبر) کو پارکنگ کے معاملے پر وکیلوں اور پولیس کے مابین تنازعے کے بعد تیس ہزاری کورٹ میں تصادم کے بارے میں دہلی (شمالی) کے ایڈیشنل ڈی سی پی ہریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ تیسری بٹالین کے جوان اور کچھ وکلا کے مابین پارکنگ کے لیے جھگڑا ہوا تھا۔ اسی دوران کچھ اور وکیل بھی وہاں آ گئے۔ وہ انتقام کے لیے لاک اپ کے اندر آنا چاہتے تھے۔ ہم نے وکیلوں کو اندر آنے سے روکا۔‘ان کے مطابق پولیس نے لاک اپ کو اندر سے بند رکھا، جس سے ان جوانوں کے ساتھ ساتھ عدالت میں پیش ہونے والے قیدیوں کو بھی بچا لیا گیا۔وکیل اس لاک اپ کو توڑنا چاہتے تھے لیکن جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو انھوں نے آگ لگا کر اسے توڑنے کی کوشش کی۔ انھوں نے گیٹ کے پاس کھڑی دو تین موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔‘جب کہ وکیلوں کو پولیس کے بیان سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جھڑپ میں ان کا ایک ساتھی زخمی ہوا ہے جسے قریبی سینٹ سٹیفن ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔دوسری جانب خبر رساں ایجنسی اے این آئی کا کہنا ہے کہ ان کے ایک صحافی کو بھی تیس ہزاری کورٹ کے وکیلوں نے مارا پیٹا۔اے این آئی کے مطابق سنیچر کے روز وکیلوں کا ایک گروپ صحافیوں کو ان واقعے کی کوریج سے روک رہا تھا اور ان کے موبائل فون بھی چھینے جا رہے تھے۔
وکلاء کے تشدد کو بیان کرتی وائرل ویڈیوز:
وکلاء کی طرف سے پولس اہلکاروں کی پٹائی کے بہت سے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں۔ مختلف عدالتوں کےباہرمظاہرے کرنے والے وکلاء نے کل بھی کچھ پولس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ اور دھکا مکی کی تھی۔ پولس اہلکاروں کی اس پٹائی کی مخالفت میں ہی دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے باہر پولس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وکیل بھی پیر سے ہڑتال پر ہیں۔واقعہ کے ایک ویڈیو میںوکیل بائیک پر سوار ایک پولیس اہلکار کو پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وکیلوں میں سے ایک کو پولیس اہلکارکو تھپڑ مارتے بھی دیکھا گیا۔جب پولیس اہلکار موقع واردات سے جا رہے تھے، تب وکیل نے اس کے ہیلمیٹ کواس کی بائیک پر دے مارا۔دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنایک نے کہا، ‘ پولیس اہلکار پر حملے کے سے متعلق ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ بات چل رہی ہے،سینئر افسر تمام خدشات کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تیس ہزاری کورٹ واقعہ پر مشتمل پولس پر ہوئے وکیلوں کے مظالم اور اپنوں کی بے رخی کی داستان بیان کرتاایک سنسنی خیز آڈیو ٹیپ:
اس آڈیو ٹیپ کو لے کر دہلی پولس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ آڈیو ٹیپ میں حادثے کی آپ بیتی بیان کرتے کرتے بلک بلک کر رونے والا شمالی دہلی ضلع کی ڈی سی پی مونیکا بھاردواج کا نجی سیکورٹی گارڈ (آپریٹر) ہے۔وائرل آڈیو ٹیپ سننے سے لگ رہا ہے کہ اس میں اپنا درد بیان کرنے والا پولس اہلکار وکیلوں سے جسم پر ملے زخموں سے کہیں زیادہ دہلی پولس کے ہی اعلیٰ افسروں سے مایوس ہے۔ اس آڈیو ٹیپ کے کچھ مکالمے اس طرح ہیں؛
’’زیادہ چوٹ لگ گئی کیا تیرے کو بھی؟
ہاں، کندھا ٹوٹا ہوا ہے اورامت سے بات ہوئی اس نے بتایا ہاتھ پر چوٹ آ گئی کندھا ہے… رِسٹ ہے… اور انگوٹھا ہے۔ سر میں تین ٹانکے آئے ہیں۔‘‘
’’میڈم کو بھی چوٹ لگی ہے؟
چوٹ نہیں لگی ہے لیکن دھکا مکی تو ہوئی ہے ان کے ساتھ بھی۔ میڈم کے ساتھبدتمیزی کی ہے یار انھوں نے، کندھا وندھا پکڑا ہے، کھینچا ہے، کالر پکڑا ہے۔بھائی وہ تین چار سو تھے اور ہم پانچ تھے… میڈم تھیں، میں تھا…
میڈم کے جو کندھے وندھے کھینچے وہ جنٹس وکیل تھے یا لیڈیز؟
جینٹس تھے بھائی، ایک بھی لیڈی نہیں تھی، وہ لوگ گالی گلوچ بھی کر رہے تھے۔خوب گندی گندی گالیاں۔ میرے پاس اس بات کی تو ویڈیو بھی پڑی ہے۔
واضح رہے کہ اس آڈیو میں میڈم سے مطلب شمالی دہلی ضلع کی ڈی سی پی مونیکا بھاردواج ہیں۔ آڈیو میں بات کرنے والے دونوں دہلی پولس کے اہلکار معلوم ہوتے ہیں۔ ان دونوں کی باتوں سے یہ راز فاش ہوتا ہے کہ آخر اتوار کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد ہوئے فیصلے کو سنتے ہی شمالی دہلی ضلع کی ڈی سی پی مونیکا بھاردواج آخر میں بچے کی مانند پھپھک پھپھک کر کیوں رو پڑی تھیں۔
آڈیو میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ… ’’میڈم روئی ہیں کورٹ سے باہر آ کر… اسی بات سے اندازہ لگا لو کہ جب وہ روئی ہیں تو کیوں روئی ہیں، کچھ تو بات ہوئی ہے…‘‘
وہ نئی نئی ڈی سی پی ہے ابھی ڈی سی پی… ڈسٹرکٹ کے اندر… اسے پتہ نہیں ہے…
میڈم کو پتہ سب ہے… ہریندر بھی گیا اسپیشل سی پی سنجے بھی گیا اور میڈم بھی گئیں… تینوں جائیں گے یہ…۔‘‘
آڈیو کے ایک حصے میں حملے میں بری طرح زخمی اس پولس اہلکار کی جسمانی سے زیادہ ذہنی تکلیف کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں زخمی فرد کہتا ہوا سنائی پڑتا ہے کہ…
’’بھائی پستول بھی چھین لیا امت کا تو…
ہاں ہاں، پستول بھی گیا… جس کے ہاتھ آئی ہوگی وہ دے گا تھوڑے ہی اب۔
کیوں دے گا وہ، دیتے ہی چور نہیں بن جائے گا وہ، مقدمہ نہیں درج ہوگا اس پہ، اور دوسرا میری پستول… میری بھی پستول چھیننے کی کوشش کی تھی۔ کچھ تو میں میڈم کو بچانے کے چکر میں پٹا ہوں تو کچھ پستول بچانے کے چکر میں… جو پستول کی وہ نہیں ہوتی ہے ٹریگر کی جو وہ گول ہوتا ہے، اس میں انگلی پھنسا کر پیٹ سے چپکا لی… میں نے کہا پستول نہیں چھوٹے گی ہاتھ سے… بندہ گر گیا میری کمر پہ… جوتوں کے نشان ہیں کمر پہ… بیلٹ کے نشان ہیں، لوہے کی چین مار رکھی ہے کمر میں میرے… جو لاک اَپ میں نہیں ڈالتے ہیں لوہے کی چین، وہ میرے کمر میں مار رکھی ہے… میرے سر میں لوہے کا ڈنڈا مارا تھا، چابی ماری تھی… اور پتہ ہے بھائی جو بندہ اسکول میں میرا کالج میٹ رہا ہے نہ سب سے پہلے ڈنڈا اس(گندی گالی) نے مارا ہے‘‘
وائرل آڈیو ٹیپ میں ایک جگہ پر سنائی پڑتا ہے کہ ظلم کا شکار پولس اہلکار اپنی چوٹوں سے زیادہ کس قدر اپنوں کی بے رخی سے خفا ہے۔ وہ کہتا ہے:’’سچ بتاؤں تو میرا نہ نوکری سے بالکل من اٹھ گیا ہے… (روتے ہوئے)… کیونکہ اتنی بری طرح سے یار ایک انسان کے 10 منٹ بیہوش رہنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بے ہوش کے اوپر بھی لات ماری… میرے منھ پہ… پڑے رہنے کے بعد بھی… اور ڈپارٹمنٹ نے… آپ لوگ تو بھائی ہو تو پوچھ رہے ہو، ڈپارٹمنٹ نے اب تک میرے آفس سے فون نہیں آیا کہ بھائی تو زندہ ہے، ٹھیک ہے، نہیں ہے… اور جس میڈم کے لیے اتنا پٹا ہوں میں، اسے تو بھنک بھی نہیں ہے ؟
س کی نوکری (گالی) ایسی ہی ہے… کیا کریں؟ امت سے بھی میں نے پوچھا کہ بھائی…
امت کے کان کا پردہ پھٹ گیا… نوں وَر- 2 کو گرا گرا کے ماری بھائی بیلٹ… بھائی گرا گرا کے…
میں نے امت سے پوچھا کہ کوئی اسپتال میں ملنے کو آیا… وہ بھی یہی کہہ رہا بھائی ابھی تو کوئی بھی نہیں ملنے کو آیا… انھیں بھی بہت چوٹ آ رہی ہے…‘‘
بھائی بہت چوٹ لگی ہے امت کا کان کٹا ہے، کان کا پردہ پھٹا ہے… اس کو بہت چوٹ لگی ہے۔ وہ بتا نہیں رہا ہے۔ انٹرنل پیٹ میں میری باڈی میں اتنی گم چوٹ ہے کہ میں بستر پر پڑا رو رہا ہوں… کہیں بھی درد ہو جاتا ہے… کبھی بھی…اور وہ کیا کہتے ہیں، پھر ان کے اوپر کوئی بھی ایکشن نہیں ہوا۔ وکیلوں پہ… مارا پیٹا کسی نے نہیں ان کو؟‘‘
نہیں بھائی۔‘‘
یہ تھی حادثے کے شکار شخص کی زبانی پولس پر ہوئے وکیلوں کے مظالم اور اپنوں کی بے رخی کی داستان ۔
اسپیشل پولس کمشنر سنجے سنگھ کے خلاف کارروائی: وکلاء اور پولس کے درمیان ہوئےپر تشدد واقعےکے بعد دہلی پولس نے شمالی دہلی کے اسپیشل پولس کمشنر (قانون) سنجے سنگھ کو ہٹا دیا ہے اور جنوبی دہلی کے اسپیشل پولس کمشنر آر ایس كرشن کو شمالی دہلی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ تیس ہزاری کورٹ میں ہوئے واقعہ کے بعد 1990 بیچ کے آئی پی ایس افسر سنجے سنگھ کو فی الحال عارضی مدت کے لئے کوئی تعیناتی نہیں دی گئی ہے۔اس معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اتوار کو از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت کی تھی، انہوں نے مرکزی حکومت، بار کونسل آف انڈیا، بار کونسل آف دہلی، دہلی کے تمام اضلاع کی عدالتوں کے بار ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کیا۔ہفتہ کو دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل، ہائی کورٹ کے دوسرے سینئر ججوں کے ساتھ دہلی پولس کے ڈپٹی کمشنر اور دہلی کے ایڈیشنل چیف سیكرٹری کے ساتھ کئی گھنٹوں تک میٹنگ کی تھی۔ واضح رہے کہ مشتعل وکلاء نے جب کچھ پولس افسران کی پٹائی بھی کر دی تھی، اس کے بعد پولس فائرنگ میں دو وکیل زخمی ہو گئے تھے، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھااور فی الحال ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
جن وکلا نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی: بار کونسل آف انڈیا
دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے باہر پولس اہلکاروں کے ذریعہ مظاہرہ کے درمیان بار کونسل آف انڈیا کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ بار کونسل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان وکیلوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جنھوں نے تیس ہزار کورٹ میں تشدد کیا تھا۔ واضح رہے کہ پولس ہیڈکوارٹر کے باہر پولس اہلکار لگاتار مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جن وکیلوں نے ان پر حملہ کیا، ان کے خلاف کیس درج ہو۔
(جنتا کا رپورٹر، قومی آواز اور بی بی سی ہندی وغیرہ کے ان پٹ کے ساتھ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے