تنقید مفید ہے، مگر تنقیص قاتل

Spread the love

۲۲ جولائی ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
تنقید جب تنقیص، تذلیل اور اہانت میں تبدیل ہوجائے تو پھر معاشرہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت زور پکڑ لیتی ہے، سوشل میڈیا پہ یہی حال کچھ ہمارے دوستوں کا ہے، آج کل جس طرح سے اسلامی حمیت کے نام پہ ایک دوسرے کی پگڑی اچھال رہے ہیں، وہ واقعی لائق افسوس ہے، اور اس میں مدارس کے فضلاء کی اچھی خاصی تعداد ملوث نظر آتی ہے، سلفی، دیوبندی، قاسمی، بریلوی، ندوی، سب ایسا کھیل کھیل رہے ہیں جس سے سوشل میڈیا کافی گندہ ہوتا جارہا ہے، اس کی شکایت صرف مجھے نہیں، بلکہ مجھ سے پہلے بہت سارے دانشوران ملت کرچکے ہیں.
سوچنے کی بات ہے کہ بحیثیت قوم ہم کہاں جارہے ہیں، کیا اسلام ہمیں اسی چیز کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی ہماری بات نہ مانے تو ہم اسے گالی دینے لگیں، اگر کوئی ہمارے افکار و نظریات سے متفق نہ ہو، تو اسے ہم زبردستی منوائیں، اگر کوئی دنیا کو اس پوائنٹ آف ویو سے نہیں دیکھتا جس پوائنٹ آف ویو سے وہ دیکھتے ہیں تو کیا اسلام َاس بات کا حکم دیتا ہے کہ اس کا مذاق اڑایا جائے یا اسے گالی دی جائے.
مسلمانوں کا اردو داں طبقہ سوشل میڈیا پہ جو کھیل کھیل رہا ہے وہ تو شکر ہے کہ غیر مسلموں کی پہونچ سے دور ہے، ورنہ ان کو بخوبی سمجھ میں آجاتا کہ ہمیں ان کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے اندر مسلک پرستی کا جو زہر ہے، وہ انہیں خود ڈبونے کے لئے کافی ہے.
گوری لنکیش کا جب قتل ہوا تو سماج کے سارے طبقوں نے جہاں اپنے افسوس کا اظہار کیا، وہیں دوسری طرف کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو سوشل میڈیا پہ انہیں کتیا یا دیگر القاب سے نواز رہے تھے، ان میں سے اکثریت غیر مسلموں کی تھی، مگر یقین مانئیے مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے ہی جیسے دوسرے مسلمانوں سے اتنی نفرت اور بغض و عناد رکھتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف کچھ واقع ہوجائے یا انہیں کوئی تکلیف پہونچ جائے تو یہ اپنی خوشی کا اظہار کرنے سے اور ان پر اللہ کی لعنت برسانے سے باز نہیں آئیں گے.
سوشل میڈیا نہایت ہی بہترین ذریعہ تھا کہ ہم اس کے ذریعہ مختلف مسالک کے درمیان کھودی گئی گہری کھائیوں کو پاٹنے کی کوشش کرتے، نفرت، عناد، اور دشمنی جو کسی نہ کسی حد تک ہمارے درمیان پیدا ہوچکی تھی اسے ہم دور کرنے کی کوشش کرتے، آئیڈیاز ایکسچینج ہوتے مگر صحتمند ڈسکشن کے ساتھ، اختلاف نظریات ہوتے مگر احترام انسانیت کے ساتھ، شخصیت اور پرسنالٹی پہ کیچڑ اچھالنے کے بجائے آدمی جو کچھ بھی پیش کرتا اس کا غیر جانبدارنہ طریقے سے جائزہ لیا جاتا، مگر افسوس کی بات ہے کہ ایسا کچھ ہوا نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا کھائی کو مزید گہرا کرنے میں، اور اس میں ہم سب شریک رہے، کم یا زیادہ.
میں کافی دنوں تک سوشل میڈیا سے دور رہا، مجھے بہت اچھا لگا، سوشل میڈیا سے باہر میرے سرکل میں ندوی، دیوبندی، سلفی ہر کوئی ہے، لیکن ہم لوگوں کے درمیان اتنی نفرت کیا بلکہ بالکل بھی نہیں ہے، جتنی کہ ہمیں سوشل میڈیا پہ دیکھنے کو ملتی ہے، میں سوشل میڈیا سے دور ہوا، کافی سکون ملا، احساس ہوا کہ اچھا ہی ہے دور رہیں، کم سے کم ایسے لوگوں سے پالا تو نہیں پڑے گا جو جوڑنے کے بجائے توڑنے کے فراق میں رہتے ہیں.
اسلام لوگوں کو جوڑنے کے لئے آیا ہے، یاد رہے کہ اگر آپ کا مسلک آپ کو دوسرے مسلک سے نفرت کرنا سکھا رہا ہے تو یقین مانئے کہ آپ کا مسلک اسلام کا آئینہ دار نہیں ہے، کیونکہ اسلام تو محبت کا مذہب ہے، صلح و آشتی کا مذہب ہے، احترام انسانیت کی دین ہے، اختلاف نظریات میں شائستگی و سلیقہ مندی کا حامی ہے، گالی گلوچ اور تنقیص و اہانت کا دور دور تک یہاں گزر بسر نہیں، لیکن اگر یہ ساری چیزیں کسی کے اندر پائیں جاتیں ہیں تو ضرورت ہے کہ وہ پھر سے اسلام کا مطالعہ کرے، غور وفکر کرے، ایسے آئیڈیاز کو تلاش کرے جو اسے احترام شخصیت پہ ابھاریں، اسلام کے علاوہ دیگر قوانین اور افکار و نظریات کا مطالعہ بھی اس سلسلے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے.
آج کا دور Multi-Culture اور Multi-Religion کا ہے، زیادہ تر ممالک باوجود یکے کہ نیشن-اسٹیٹ کی تھیوری پہ وجود میں آئے ہیں، پھر بھی ان کے اندر مختلف ادیان اور مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں، پہلے زمانے میں Suppression کا جو کلچر تھا، وہ آج کے دور میں تقریبا عنقا ہے، ہم کسی کو مار کے اپنی بات نہیں منوا سکتے، ہمارا کام ہے کہ جسے ہم صحیح سمجھتے ہیں اسے صحیح طریقے سے لوگوں تک پہونچا دیں، اگر وہ اس بات کو قبول کرتے ہیں تو فبھا ونعمت، اور اگر نہیں قبول کرتے ہیں تو ہم ان کے اوپر نگراں اور ذمہ دار بنا کے نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہم ہر حال میں ان سے اپنی بات منوائیں، اگر ہم سوشل میڈیا پہ یہ چیز مختلف مسالک کے ساتھ نہیں کرسکتے ہیں تو ہم یہ امید نہ رکھیں کہ ہم مجتمع متعدد الثقافات میں دوسروں کے ساتھ کرپائیں گے، پھر نتیجہ کے طور پہ معاشرے میں انارکی، بے چینی اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنی پھیلے گی، جس کی وجہ سے معاشرے میں امن و سکون کے ساتھ رہنا ایک فرد واحد کے لئے دشوار ہوجائے گا.
یاد رکھئیے لٹریچر پیش قدمی کرتا ہے، رائے عامہ اس کے پیچھے آتی ہے، جس قسم کا لٹریچر ہم Produce کریں گے، لوگوں کا ذہن اسی طرح ہوتا چلا جائے گا، اگر ہم امن و امان پہ مبنی تحریریں عوام کے حوالے کریں گے تو عوام Peaceful اور شانت رہے گے، اس کے برخلاف اگر ہماری تحریروں میں لڑائی جھگڑا، حقیقت سے کوسوں دور جذباتیت، نفرت، غصہ اور عناد بھرا رہے گا تو عوام کے ذہنوں میں بھی Violence اور ایک دوسرے کے تئیں دشمنی بھر جائے گی.
سوشل میڈیا پہ اتنے دنوں سے میں ہوں، ایک چیز میں نے Observe کیا ہے، ہماری قوم جذباتی بہت ہے، یہ انہیں لوگوں کو پسند کرتی ہے جو جذبات سے کھیلنا اور جذبات میں بہنا جانتے ہوں، اگر کوئی "لا الہ الا اللہ” اور "اللہ اکبر” کا نعرہ لگا کے ان کے سامنے آجائے تو فورا اسے لیڈر مان لیتے ہیں، اتنا بھی غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ کہیں وہ ان نعروں کا استعمال اپنے مفاد کے لئے تو نہیں کررہا، کہاں ایسا تو نہیں وہ مذہب کا افیون پاور اور طاقت کے حصول کے لئے کررہا، کہیں ایسا تو نہیں وہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر ان کا لیڈر بننے کے لئے کررہا ہے، یہ کوئی عجیب بات نہیں، مذہب کا غلط استعمال ہمیشہ لوگوں نے کیا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اس کی واضح مثال موجودہ ہندوستان میں ہم نریندر مودی اور بی.جے.پی کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں جس نے Religious Sentiment کا استعمال صرف اور صرف اپنے مقصد کے حصول کے لئے کیا ہے، ورنہ انہیں مذہب سے کیا لینا دینا جن کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس مذہب یا کس سنسکرتی سے تعلق رکھتے ہیں یا کس بھگوان کے پجاری ہیں، ہندوتوا اور ہندو ازم دونوں دو الگ الگ چیزیں ہیں، ہندتوا مذہبی بالکل بھی نہیں، بلکہ مذہب کا استعمال وہ غلط مقصد کے لئے کررہا ہے.
اسی طرح مسلمانوں میں بھی بہت ساری جماعتیں، جمعیتیں، تنظیمیں اور آرگنائزیشنز ہیں جو مذہب کا استعمال صرف اور صرف ایکسپلائٹ کرنے کے لئے کررہی ہیں، وہ مذہبی صرف اسی حد تک ہیں جس حد تک ان کے مقصد کو گوارا ہے، جہاں ان کے مقصد پہ ذرا سی آنچ آئی، وہ مذہب کو لات مارنے سے ذرہ برابر بھی گریز نہیں کرتے.
حد سے زیادہ جذباتیت ہمیشہ نقصان پہونچاتی ہے، ایک مسلمان کو تو ہمیشہ "کن علی حذر” کے مصداق ہونا چاہیئے، نہ کہ جذبات کا شکار ہوکے خود اور دیگر لوگوں کے نقصان کا سبب بننا چاہیئے، یہ نقصان مسلم معاشرہ میں ایک دوسرے سے بدگمانی کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے، اور ایک دوسرے فرقہ وارانہ منافرت کی بھی شکل میں.
صالح تنقید ہمیشہ فائدہ مند رہا ہے، مگر تنقید کے نام پہ تنقیص یا اسلام سے اخراج ہمیشہ نقصاندہ.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے