یہ عشق نہیں آساں!

Spread the love


کرونا مریض کی ڈائری سے!
ڈاکٹر سلام خان

پہلے دن صرف بدن درد، دوسرے دن اور سخت بدن درد، ساتھ میں معمولی بخار بھی، اور بس…
تیسرے دن سے آج تک نہ بدن درد، نہ بخار اور نہ ہی کوئی اور سمٹم (Symptom) یا بیماری-
اہل خانہ اور گھر سے دور، قرنطینہ کی زندگی کے بارے میں جانکاری کے باوجود، ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ میرا خود کا تھا، کیونکہ مجھے جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا، اب خود سے زیادہ اہل خانہ و ساتھیوں کو "اپنے شر سے” سے بچانے کی فکر تھی۔
قرنطینہ:
صاحبزادے پہلے سے ہی بیمار ہیں، ان کی دوا ابھی چل رہی ہے، کمزوری کی حالت میں عامر کا اس وائرس سے بچاؤ خاص طور سے ضروری تھا، لہذا ہیلتھ سینٹر سے گھر لوٹنے کے ساتھ ہی اپنے گھر کی مجلس یعنی بیٹھک میں خود کو قید کر لیا، دو دن بعد ٹیسٹ رزلٹ پازیٹیو آیا، البتہ اس احتیاط کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے گھر والے اللہ کے فضل سے اب تک کرونا کی بلا سے محفوط ہیں۔
اس کے بعد ہاسپٹل کی جانب سے مجھے اپنے گھر کے بجائے ان کے بنائے قرنطینہ سینٹر میں رہنے کا فرمان جاری ہوا، ہمیں ‘کسی غلطی کی وجہ سے’ پہلے ایک ایسی جگہ لے جایا گیا جو "لیبر کیمپ” جیسا تھا، رہنے کے لئے کمرہ ملنے سے پہلے سبھی کو چار میڈیکل چیک اپ کے ایک مشکل دور سے گزرنا تھا، بھیڑ کی وجہ سے وہاں کی کوئی چیز آپ کی صاف ستھری اور آرام دہ زندگی سے میل نہیں کھاتی ہے، لہذا یہ "چاروں ٹیسٹ” دینے میں کافی وقت لگا، یہ کام مشکل اور ڈراؤنا تھا کیونکہ میں اتنے لوگوں کے بیچ میں کبھی نہیں رہا، ایسے میں سوشل ڈسٹینسنگ بنائے رکھنے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اور دل میں بار بار یہی خیال ستا رہا تھا کہ ابھی تو میں ٹھیک ہوں، مگر اب ان عجیب و غریب طور طریقے والے لوگوں کے بیچ رہ کر شاید بیمار پڑ جاؤں گا۔ جیسے تیسے یہ مرحلہ پار ہوا، رات بھر میں آدھی جان نکال چکی تھی، صبح ہوئی تو امید جگی کہ اب آرام کرنے کا موقع ملے گا۔
رہنے کے لئے جہاں لے جایا گیا، وہاں پہونچ کر ‘ایلین’ والی فیلنگ آنے لگی، ایک پل کے لئے ایسا لگا جیسے میں PK ہوں، غلطی سے زمین پر آ گیا ہوں، وہاں کا انتظام کسی بڑے "تبلیغی جلسے” جیسا لگا، جہاں باتھ روم سمیت ہر چیز مل بانٹ کر استعمال کرنا ہوتا ہے، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اس دنیا کا نہیں ہوں تو وہاں کے ذمہ داران سمجھ گئے اور مجھے ایک "گیسٹ فیسیلیٹی” میں بھیج دیا گیا۔

اس "ولا کمپاؤنڈ” میں آ کر سکون کی سانس لی، کافی صاف ستھری جگہ، ایک کمرے میں ایک آدمی، ہر کمرے کے ساتھ اٹیچ واش روم، آرام دہ بیڈ پر سفید چادریں کسی آرام دہ ہوٹل کو بھی مات دے رہی تھیں، کھانے پینے اور آرام کی ہر چیز ہر وقت موجود ہے، اس پر پہلے اللہ کا اور پھر قطر حکومت کا شکریہ ادا نہ کرنا بڑی ناشکری ہوگی۔
اپنے شہریوں (یا غیر ملکیوں) کی سہولت اور ان کے علاج معالجے، کھانے پینے اور رہنے سہنے پر خرچ کرنے کے لئے صرف پیسے کا ہونا کافی نہیں ہے، اس کے لئے پیسے سے کہیں زیادہ وہاں کے نیتاؤں کے سینے میں ایک "بڑا اور خوبصورت دل” ہونا بہت ضروری ہے، ورنہ اپنا دیش آج بھی سونے کی چڑیا ہے، 1500 کروڑ روپئے PMNR fund میں پہلے سے پڑا ہوا ہے، اس کے بعد نئے فنڈ “PM Cares” میں بھی ہزاروں کروڑ کے ڈونیشن آئے ہیں، آئی.ایم.ایف اور دوسری تنظیموں نے بھی اس مہاماری سے لڑنے کے لئے "کوبیر کے خزانے” بھارت کو دئیے ہیں، مگر اس کے باوجود دل "تغلقی سنک” سے ایسا چور ہے کہ "بھارت ماتا” اور اس کے چھوٹے چھوتے بچے مہاراشٹر، گجرات اور دوسری جگہوں سے اپنے اپنے گھر جانے کے لئے بھوکے پیاسے دن رات پیدل چل رہے ہیں، ایسے کرسی والوں کے لئے کسی نے اچھا کہا ہے:
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے،
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔
خیر یہاں کوئی شور شرابہ نہیں ہے، یہاں کے دن رات بہت پرسکون ہیں، نہ ڈیوٹی ہے، نہ کوئی کام، اوپر سے اچھا انتطام، یہاں جتنے بھی لوگ میرے ساتھ قرنطینہ میں ہیں وہ سب کے سب صحت مند اور فٹ ہیں، گویا ان لوگوں میں کوئی بیماری ہی نہ ہو، ماشاء اللہ سے سب کے سب خوشحال ہیں، صبح شام کھاتے پیتے، واکنگ جاگنگ کرتے اور ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔
Covid-19 PCR:
مجھے بتایا گیا تھا کہ چودہ دن پورے ہونے پر ٹیسٹ ہوگا، اور رزلٹ نیگیٹیو آنے پر دوبارہ ٹیسٹ ہوگا، اگر دوسرا ٹیسٹ بھی نیگیٹیو رہا تو گھر جانے کی اجازت ہوگی، چودہ دن بعد ہونے والے ٹیسٹ میں فیل ہوگئے، ویسے چودہ دنوں میں بہت کم لوگ کرونا مکت ہوتے دیکھے گئے ہیں، لہذا اب تیسرا ہفتہ پورا کرنے کا حکم ہوا، اور اس طرح ایک ہفتے کی سزا اور بڑھ گئی، اللہ اللہ کرکے تیسرا ہفتہ بھی گزرا، اور بڑی امیدوں کے ساتھ ٹیسٹ دیا، ساتھ ہی سامان بھی پیک کرنا شروع کردیا، کیونکہ تین ہفتے بعد ہونے والے ٹیسٹ میں کچھ لوگ جاتے دیکھے گئے تھے، مگر کرونا تو کرونا ہے، بھلا اتنی آسانی سے پیچھا کہاں چھوڑنے والا ہے۔
قسمت کی خوبی دیکھئے، اس ٹیسٹ میں بھی پازیٹیو، پھر ایک اور ہفتہ رکنا لازمی ٹھہرا، آج قرنطینہ میں 28واں دن ہے، یعنی پورے چار ہفتے ہوچکے ہیں، اب کل پھر سے ٹیسٹ ہوگا۔
کرونا وائرس کے لئے ابھی تک کوئی دوا بنی نہیں ہے، لہذا کوئی دوا دیتے بھی نہیں، ہاں اگر کسی کو کوئی دوسری بیماری جیسے سردی، کھانسی یا بخار ہے، تو اسے اس بیماری کی دوا ضرور دیتے ہیں، مگر کرونا کے علاج کے لئے کوئی دوا نہیں دی جاتی ہے، Hydroxychloroquine بھی نہیں۔
اس وقت قطر میں لگ بھگ بیس ہزار لوگ پازیٹیو ہیں، جو اب تک کل ہوئے ٹیسٹ کا لگ بھگ 15% ہیں، جب کہ مرنے والوں کی کل تعداد چودہ ہے، یعنی لگ بھگ 1400 پازیٹیو لوگوں میں سے صرف ایک کی موت ہوئی ہے، جو کہ بہت ہی معمولی ہے۔
ابھی تک کوئی ایسا ایک بھی کیس نہیں دیکھا گیا کہ کوئی "تندرست نوجوان” کرونا پازیٹیو ہوا اور کرونا کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی ہو۔
پھر کن لوگوں کی موت ہورہی ہے؟
یہ وہ لوگ ہیں جو بہت بوڑھے تھے یا وہ لوگ جن کو پہلے سے کئی طرح کی بیماریاں تھیں، ان کی ہی موت ہوئی ہے-
مگر حالت یہ ہے کہ اس وقت جس کی بھی موت ہوتی ہے، اسے کرونا کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، جو کہ ایک بھرم سے زیادہ کچھ نہیں، پچھلے چار پانچ مہینوں سے سبھی دیش مرنے والوں کی تعداد بتا رہے ہیں، مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا ہے کہ پچھلے سال اتنے دنوں میں کتنے لوگوں کی موت ہوئی تھی، نمبر اور فیگرز ایسے دکھائے جارہے ہیں جیسے کرونا سے پہلے کوئی مرتا ہی نہیں تھا۔
صحیح بات یہ ہے کہ اس بیماری کو لے کر افواہیں زیادہ کام کر رہی ہیں، ایک بے وجہ کا Panic کا ماحول بنا دیا گیا ہے، اور لوگوں کو ایک انجان دشا میں ہانک دیا گیا ہے، اس میں کسی بڑی سازش سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، البتہ یہ تحقیق اور ریسرچ کا موضوع ہے۔
یہ وائرس ایک فلو سے زیادہ کچھ بھی نہیں، جو بھی ” بہت بوڑھے” نہیں ہیں یا جن کو کسی طرح کی کوئی "گمبھیر بیماری” نہیں ہے، ان کے اوپر کرونا وائرس کا کچھ خاص اثر نہیں ہوتا ہے، اس کے باوجود بھی اگر کسی صحت مند نوجوان کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ وائرس نہیں ہوسکتا بلکہ وہ خوف بھی ہوسکتا ہے جو اس کے دل میں بیٹھ گیا ہے۔
یا دوسری وجہ قرنطینہ سینٹر کی بدحالی بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ بھارت میں کہیں کہیں مریضوں کو بہت برے حالات میں رکھا جا رہا ہے، اگر لوگوں کو مردوں (Dead) کے بغل میں سونا پڑے تو تندرست آدمی کو مریض بننے یا مرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی، احتیاط پوری کیجئے، باہر بالکل نہ نکلئے، اپنا اور اپنے سے زیادہ بزرگوں اور بیماروں کو خاص رکھئے، اور قانون کا پورا پالن کیجئے۔

(اس مضمون کو اصلا ہندی زبان میں لکھا گیا تھا، افادہ عام کی خاطر اسے ویب سائٹ کی جانب سے اردو میں پیش کیا گیا ہے)

ڈاکٹر سلام خان
Follow Him
Latest posts by ڈاکٹر سلام خان (see all)

ڈاکٹر سلام خان

Dr. Salaam Khan is a blogger, writer and social media activist. He completed his M.Phil from Jawaharlal Nehru University and Ph.D from Delhi University. Currently he is residing in Qatar. His writings appear on various social media platforms.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے