کووڈ ۱۹ اور مذہبی منافرت!

Spread the love


ڈاکٹر عبداللہ صابر
اسسٹنٹ پروفیسر, ڈپارٹمنٹ آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن،
بیراکپور راشٹرگرو سریندرناتھ کالج، کولکاتا۔

 

بھارت میں ذات پات،رنگ ونسل کی بنیاد پر تعصب اور مذہبی منافرت کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے، بلکہ صدیوں پرانی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگر ایماندارانہ اورغیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ اسلام کی آمد سے قبل بھارت میں مذکورہ سماجی بیماریاں عروج پر تھیں۔ طبقاتی اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کا ایسا وحشیانہ اور غیر انسانی نظام قائم تھا کہ جس کے تصور سے ہی انسانیت شرمسار ہوجائے۔ انسانی غلامی کی ایسی بدترین مثال دنیا میں شاید کہیں اور ملے۔
مسلم دور حکومت میں مکمل نہ سہی لیکن بہت حد تک ان بیماریوں کا مداوا ہواتھا۔ لوگوں کو ان کے حقوق انسان ہونے کی حیثیت سے حاصل تھے۔ اونچ نیچ ، چھوا چھوت اور برتر و ابتر کا گھٹیا اور غیر انسانی رویہ کمزور ہوچکا تھا۔ انگریز دور حکومت میں اگرچہ ملک غلام تھا لیکن اس دور میں ہوئے سماجی اصلاحات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صدیوں سے مظلوم پسماندہ طبقات کو تعلیم اور ملازمت کے ساتھ بہت سے سماجی حقوق دئیے گئے۔
آزادی کے بعد دستوری اعتبار سے اگرچہ ملک کا ہر شہری بلا تفریق مذہب وملت، رنگ ونسل اور ذات پات کے مساویانہ حقوق کے حامل ہے، لیکن عملا ً ایسا ہر گز نہیں ہے اس کے لاکھوں شواہد موجود ہیں جن سے ہر خاص وعام بخوبی واقف ہیں۔ درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ساتھ غیر مساویانہ اور متعصبانہ رویوں کے بے شمار واقعات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ایک مخصوص نظریہ کے حامل عناصر جن کے ذہن ودماغ میں’’ برتریت ‘‘کا خمار طاری ہے، وہ ملک کو مخصوص رنگ میں رنگ کر اپنے علاوہ دیگر تمام لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے اور غلامی کی گہری کھائی میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ چھ سالوں سے شب و روز اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ جب سے اس مخصوص نظریہ کے حاملین کے ہاتھ میں زمام اقتدار آیا ہے تب سے ہر روز کسی نئے تماشے کےساتھ صبح کی نئی کرن نمودار ہوتی ہے۔
گذشتہ چھ سالوں میں ملک نے ایسےایسے کارنامے دیکھا ہے کہ عقل حیران ہے کہ انہیں کیا نام دیا جائے۔ تفصیل میں جائے بغیر میں کووڈ ۱۹ اور مذہبی منافرت پر روشنی ڈالنا مناسب سمجھتاہوں۔ کرونا وائرس کی آمد سے ٹھیک پہلے پوراملک سی اے اے اور این آرسی کی مذہبی منافرت کی آگ میں جل رہا تھا۔ ملک کی تمام ریاستوں میں تمام مذہبوں اور فرقوں کی طرف سے اس انسان اور انسانیت مخالف بل اور قانون کی پرزور مذمت اور مخالفت ہو رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی کرونا کا قہر ٹوٹا اور لاک ڈاؤن کا اعلان ہواملک کی تحفظ کے خاطر تمام لوگوں نے احتجاجات بند کردیئے۔ سی اے اے اوراین آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران بہت سے پسندیدہ اور ناپسندیدہ واقعات رونما ہوئے، ان پر روشنی ڈالنا آج کا موضوع نہیں ہے۔ میڈیا میں موجود ایک فسادی اور دلالی ٹولہ نے خوب مسلم مخالف خبریں چلائیں اور اس پورے واقعے کوفرضی نیشنلزم سے جوڑ کر مسلمانوں کو نہ جانے کن کن القابات سے ملقب کئے۔ اس قومی مسئلہ کو صرف مسلمانوں کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوششیں بھی ہوئیں، لیکن مبارکباد کے مستحق ہیں وہ حقیقی سیکولر غیر مسلم بھائی، بہن جنہوں نے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ان فرقہ پرستوں کو ان کی اوقات بتا دی۔

آزادی کے بعد دستوری اعتبار سے اگرچہ ملک کا ہر شہری بلا تفریق مذہب وملت، رنگ ونسل اور ذات پات کے مساویانہ حقوق کے حامل ہے، لیکن عملا ً ایسا ہر گز نہیں ہے اس کے لاکھوں شواہد موجود ہیں جن سے ہر خاص وعام بخوبی واقف ہیں۔ درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ساتھ غیر مساویانہ اور متعصبانہ رویوں کے بے شمار واقعات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ایک مخصوص نظریہ کے حامل عناصر جن کے ذہن ودماغ میں’’ برتریت ‘‘کا خمار طاری ہے، وہ ملک کو مخصوص رنگ میں رنگ کر اپنے علاوہ دیگر تمام لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے اور غلامی کی گہری کھائی میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ چھ سالوں سے شب و روز اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ جب سے اس مخصوص نظریہ کے حاملین کے ہاتھ میں زمام اقتدار آیا ہے تب سے ہر روز کسی نئے تماشے کےساتھ صبح کی نئی کرن نمودار ہوتی ہے۔

ملک میں لاک ڈاؤن ہوتے ہی فسادی ونفرتی میڈیا ایک دم مفلوج ہوگئی تھی۔ ان کے پاس فرضی نیشنلزم اور مذہبی منافرت کا رائتہ پھیلانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کے آقائے نامراد جو غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف طرح کے سوالات اور مسائل سے گھر چکے تھے اور حزب مخالف کے نشانے پر تھے، بڑی چالاکی سے پورے معاملے کو ایک بار پھر مذہبی رنگ دینے میں کامیاب ہوگئے اور تبلیغی جماعت کے نام سے ایک نیا ولن کھوج نکالا۔ پھر کیاتھا سارے متعصب میڈیا تبلیغیوں کومزے لے لے کر نوچنا شروع کردئے۔ تبلیغیوں کے بارے میں ایسی ایسی بے سروپاخبریں چلائی گئیں کہ الامان والحفیظ۔۔ بے چاروں کے کھانے پینے سے لے کرتھوکنے اور پیشاب پاخانے تک پر اسپیشل رپورٹنگ اور ڈبیٹ کرائی گئی۔ کیسے کیسے لطیفے گڑھے گئے۔ تبلیغیوں کانام سامنے آتے ہی حکومت کو بڑی راحت ملی اس لئے کہ اب سارے بھونپومیڈیا تبلیغیوں پر بھونک رہے تھے اور حکومت چین کی بانسری بجارہی تھی۔
پوری دنیا میں بھارت ہی ایک واحد ملک ہے جس نے اس وبائی مرض کو مذہبی رنگ دیکر مذہبی منافرت کی آگ بھڑکائی اور اس میں سینکڑوں لوگوں کو جلا کر خاکستر کردیا۔ اس واقعے کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں تبلیغیوں کے ساتھ، عام مسلمانوں کو بھی داڑھی ٹوپی دیکھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں زدوکوب گیا، ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، گالی گلوج سے لیکر ماب لنچنگ تک کی گئی ۔ کئی لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ راجستھان میں دردزہ میں مبتلا خاتون کا اسپتال میں داخلہ صرف اس لئے نہیں لیا گیا کہ وہ مسلمان تھی۔ گجرات میں اسپتال میں بھی مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کے لئے الگ الگ وارڈ بنائے جانے کی خبریں بھی منظر عام پرآئیں۔ پولس والوں کی طرف سے بھی اس موقعے کا خوب فائدہ اٹھایا گیا اور چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس دوران مذہبی منافرت کے بے شمار دلدوز واقعات پیش آئے جنہیں یاد کرتے ہی طبیعت کبیدہ ہوجاتی ہے۔ دہلی میں ایک باریش نوجوان کوافطاری سے ٹھیک پہلےصرف مسلمان ہونے کی وجہ سے پولیس اور ان کے پالے ہوئے سنگھی غنڈوں نے بے رحمی سے زدوکوب کیا۔ اگر اس نے کوئی غلطی بھی کی تو اسے اس طرح مارنے کی اجازت ملک کےکس قانون میں ہے؟۔ احمدآباد ،گجرات کے بعض علاقوں میں پولیس والوں کی طرف سے سفاکانہ کاروائی ، مردوں کے ساتھ خواتین اور حاملہ عورتوں کے ساتھ بربریت مذہبی منافرت کی زندہ مثال ہے۔ اسی احمد آباد میں ایک ایمبولینس کو صرف اس لئے پولس والوں نے روک کر ہراساں کیا کہ اس کا ڈرائیور باشرع مسلمان تھا اور اس میں جو مریض تھا وہ بھی مسلمان تھا۔ گجرات پولس کی سفاکانہ کاروائیوں کے اظہار کے لئےمناسب الفاظ کا فقدان ہے۔
ملک جہاں ایک طرف کرونا کی جنگ میں بے حال ہے وہیں دوسری طرف فرقہ پرست پولس وردی کی آڑ میں مذہبی منافرت کے جذبے سے سر شار ہوکر اس موقع کو غنیمت سمجھ رہی ہے۔ دہلی میں سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج کے دوارن فرقہ پرستوں کی طرف سےگولیاں چلیں، فساد بھڑکائے گئے، پولس کی سرپرستی میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ہزاروں گھر تباہ ہوئے ، سینکڑوں لوگوں کی جانیں گئیں، کروڑں کا مالی خسارہ ہوا، پیار ومحبت کی خوبصورت فضا میں نفرت گھول دی گئی۔ یہ سب کچھ ہوا،کیسے ہوا سب جانتے ہیں۔ گولیاں چلانے والے کون ہیں؟ فساد بھڑکانے والے کون ہیں؟ آگ زنی کرنے والے کون ہیں؟ سب جگ ظاہر ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران دہلی پولس کی یکطرفہ مسلم نوجوانوں اور قائدین کے ٖخلاف کاروائی اور ہراسانی مذہبی منافرت کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ مجرمین آزاد گھوم رہے ہیں، پھر کسی نئی سازش کی تیاری میں ہوں گے ۔ لیکن بے چارے بے قصور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے مسلم نوجوان جیل کی کال کوٹھری میں ہیں۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔
ان تمام دلخراش واقعات کے ساتھ دو عجیب وغریب واقعات نے پورے ملک کو بالکل جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک کا تعلق ہریانہ کے سونی پت سے ہے جبکہ دوسرا مدھیہ پردیش کا ہے۔ ہریانہ اور مدھیہ پردیش کے دونوں واقعات نے اس ملک کی انتظامیہ اور پولس والوں کی مکمل قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
خبر ہے کہ ہریانہ کے سونی پت کے ایک گاؤں کے ساٹھ مسلمانوں کو جبرا مذہب تبدیل کرایا گیاہے۔ اس کے پیچھے کی پوری کہانی کا خلاصہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی مذہبی منافرت ہی ہے۔ب تایا جاتا ہے کہ اس گاؤں کا کوئی نوجوان جماعت میں گیا ہوا تھا، جب وہ گاؤں واپس آیا تو کرونا کے نام پر اسے وحشیانہ طریقے سے زدوکوب کیا گیا۔ اس کے بعد اس گاؤں کے تمام مسلم ذمہ داروں کو بلا کر چوراہے پر لے جاکربے تحاشا زدوکوب کیا گیا۔ انہیں دہشت زدہ کر کے تبدیلی مذہب کے لئے مجبور کیا گیا۔ بعد میں سب کو چھوٹے چھوٹے گروپ کی شکل میں مندر میں بلا کر اورگئو موتر پلاکر انہیں ہندو بنایا گیا ،ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر تمہیں اس گاؤں میں رہنا ہے تو ہندو بن کر ہی رہنا ہوگا ورنہ تم سب مارے جاؤگے۔
گاندھی جی کی اہنسا کے دیش میں یہ سب کچھ حکومت کی سرپرستی اور پولس واتنظامیہ کی سربراہی میں ہورہا ہے۔ یہ کونسی گنگا جمنی تہذیب ہے؟ کون سا سیکولرزم اور کہاں کا انصاف ہے؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسرا واقعہ مدھیہ پردیش کا ہے جہاں ایک بے چارے وکیل کی سفاکانہ پٹائی صرف اس لئے ہوگئی کہ اس کے چہرے پر مسلمانوں کی سی داڑھی تھی اور وہ شکلاً مسلمان دکھ رہا تھا۔ بعد میں جب پورا معاملہ سامنے آیا تو اس معاملے کی لیپا پوتی کے لئے اس بندے کے ساتھ پولس کے اعلیٰ عہدیداران کی جو گفتگو ہوئی وہ اور بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر اس درجہ غیر ذمہ دارانہ اور متعصبانہ بیان کس درجہ ذہنی خباثت کی بات ہےآپ آڈیو سن کر سمجھ سکتے ہیں۔کس طرح ایک اعلیٰ افسر مسلمانوں کے سلسلے میں منفی سوچ کا حامل ہے۔ اس کی تفصیل دی وائر میں آچکی ہے۔ ملک بھر میں جتنے بھی فسادات ہوئے ان کا اس بیان کی روشنی میں اگر تجزیہ کیا جائے تو مسلمانوں کی مظلومیت کی صحیح تصویر نکھر کرسامنے آجائے گی۔ مسلمانوں کی جانی ومالی نقصانات کے پیچھے کی عفریت کا پتہ چل جائے گا۔
ان واقعات کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے ہاتھ میں ہے۔ عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ اورمیڈیا کے تمام اداروں میں فرقہ پرستوں کا مکمل قبضہ ہے۔ لہذا فرقہ پرستوں سے اگر خیر کی امید کی جاتی ہے تو یہ ہماری حماقت ہے۔ خدارا اس حماقت سے باز آئے اور ہمارے وزیر اعظم کے دئے ہوئے فارمولے پر عمل شروع کیجئے۔ خود مختار بنئے ۔ ہر اعتبار سے خود کفیل بنئے۔ ہر جگہ اپنی نمائندگی درج کرائیے۔ صرف شکوہ ارباب حکومت سے کچھ نہیں ہوگا۔ تمام اداروں میں اپنے اہل ، ایماندار اور سماجی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے طویل مدتی، ہمہ جہت اورٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اس کے لئے چاہے جو بھی قربانی دینی پڑے اس کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آج ملک کے تمام ذمہ دار عہدوں پر ملک کی فرقہ پرست اقلیت کا قبضہ ہے۔ وہ اپنے طاقت وقوت کا ناجائز استعمال کرکے ملک کی اکثریت ( ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور مائناریٹی )کونہ صرف اپنا غلام بنانا چاہتی ہے بلکہ منوواد کے نظام کو قائم کر نا چاہتی ہے ۔
فرقہ پرستی کی عفریت سے نجات حاصل کرنے کے لئےمسلمانوں کو سب کچھ چھوڑ کر فقط تعلیمی (دینی وعصری) میدان میں نمایاں کارکردگی کے لئے جی توڑ کوشش کرنی ہوگی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر حقیقی انصاف کی مثال قائم کرنی ہوگی۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے بغیر آپ کچھ بھی کریں، خوب دل کھول کر خیرات کریں اورخوب رفاہی کام کریں ان کا کوئی شمار نہیں ہوگا۔ اسی لاک ڈاؤن کے دوران آپ نے کیا کچھ نہیں کیا ؟،سڑکوں پر کھڑے ہو کر سب سے زیادہ مسلمانوں نے مزدوروں اور غریبوں کی داد رسی کی ،اس کا نتیجہ اخروی اعتبار سے تو یقینی ہے ،لیکن امید قوی ہے کہ دنیاوی اعتبار سے بدنامی ہی ہاتھ لگے گی۔ فرقہ پرستوں کی طرف سے مسلمانوں کے ذریعے کئے گئے رفاہی کاموں کو بھی مذہبی رنگ دیکر ان کی اہمت اور افادیت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کا صحیح تجزیہ کرتے ہوئے ہمہ جہت، ٹھوس اورمنظم منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہی ہوگا ۔ دست نگر بن کر نہیں بلکہ خود کفیل بن کر قوم وملت کے لئے عظیم اور مثالی سرمایہ بننا ہوگا ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ! رہے نام اللہ کا!

ڈاکٹر عبداللہ صابر
Follow Him

ڈاکٹر عبداللہ صابر

Dr. Abdullah Sabir is an Assistant Professor in the department of Journalism and Mass Communication, Barrackpore Rastraguru Suredranath College, kolkata. You may contact him at [email protected]

One thought on “کووڈ ۱۹ اور مذہبی منافرت!

  • مئی 24, 2020 at 2:22 شام
    Permalink

    ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب نے بہت ہی خوبصورت انداز میں اور بہت ہی عمدہ اور ضروری باتیں پیش کیں پڑھتے چلے جاؤ گویا معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعات و حادثات کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پڑھتے ہوئے ہمیں غیر معمولی جانکاری حاصل ہوئی جس سے ہم نابلد تھے
    امید ہے کہ آپ مزید اس طرح کی حقیقی تصویر سامنے لائیں گے اور ہم تمام لوگوں کو ملک و ملت کی حیقیقت سے آگاہ کریں گے
    اللہ آپ کے قلم میں مزید طاقت و توانائی عطا کرے اور بے باکی سے حق بات کہیں لکھیں اور کرتے رہیں
    اور ہم شکر گزار ہیں اپنے عزیز "عزیر احمد ” کے کہ انہوں نے اس بہترین اقدام (ویٹ سائٹ) کے ذریعے ہمیں دنیا سے شناسا کر رہے ہیں اور حتی المقدور تمام لوگوں تک حوادث زمانہ سے آگاہ کرنے میں ممدو معاون ہیں اور آئے دن ایک دو بہترین موضوع قارئین اور علم دوست حضرات کے سامنے پیش کرتے ہیں
    اللہ آپ لوگوں کو تاحیات علم و عمل کے راستہ پر گامزن رکھے اور صحیح سوجھ بوجھ عطا کرے

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے