کورونا، شراب اور با جماعت نماز!

Spread the love


عامر ضیاء

ہندوستانی حکومت نے ریاستوں کی دباؤ کی وجہ سے شراب کی دوکانیں کھولنے کی اجازت دے دی۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ سرکار کی طرف سے شراب کی دوکانیں کھولنے کی اجازت اس لیے نہیں دی گئی ہے کہ کورونا کا خطرہ ٹل گیا ہے، سرکار اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ایسا کرنے سے یہ وبا مزید تیزی سے پھیل سکتی ہے لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ کار نہیں تھا۔ اس وقت پوری دنیا میں صناعت کاری مفلوج ہو چکی ہے سرکار کی آمدنی کے ذرائع بھی تنگ ہو گئے ہیں۔ پراپرٹی اور گاڑیوں کے رجسڑیشن بھی بھی نہیں ہو رہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے سارے ذرائع مواصلات مفلوج ہیں، ہوائی جہاز ہوائی اڈوں میں کھڑے ہیں، سڑکیں ویران پڑی ہیں اس لیے پیٹرولیم سے آنے والا ٹیکس بھی نہ کے برابر ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ریاستوں کے ذاتی ٹیکس آمدنی (SOTR)میں ٨٠-٩٠ فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ دوسری طرف ریاستوں پر فلاح و بہود کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے، غریبوں کی مالی امداد کرنے، کورونا کے مریضوں کی جانچ کر، انہیں علیحدہ یا قرنطین کرنے اور انکے علاج وغیرہ کے اخراجات کا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف ریاستوں کی ذاتی ٹیکس آمدنی کا ۱۰-١٥ فیصد حصہ شراب کی صنعت و فروخت پر عائد ٹیکس سے پورا ہوتا ہے۔ ظاہر ہیکہ اقتصادی سرگرمیوں کو پھر سے شروع کرنا ممکن نہیں یہ عمل مہلک بھی ہو سکتا ہے اور اگر اقتصادی سرگرمیوں کو مکمل بند کر دیا جاۓ تو نتائج اور بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ریاستوں کی جیبیں خالی ہو سکتی ہیں اور پھر کورونا سے لڑنا تو دور کی بات سرکاری کام کاج اور ذمہ داریوں کی تعمیل بھی ممکن نہیں ۔ لہذا تمام تر خطرات کے باوجود بھی شراب کی خریدوفروخت کی اجازت دے دی گئی اور سوشل ڈسٹینسنگ کی ہدایات صادر کیے گئے تاکہ ہجوم اکھٹا نا ہو لیکن بادہ خوار جو لاک ڈاؤن کے بعد بوند بوند کے لیے ترس رہے تھے کہاں سرکار کی سننے والے تھے۔
وہ سوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑاتے ہوۓ شراب کے ٹھیکوں پر ٹوٹ پڑے۔ ہر دوکان پر بیوڑوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا۔ پھر کیا تھا ہم نے کورونا کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا، شرح اموات بھی اسکے بعد سے کافی بڑھ گئی۔ کورونا کے کل کیسز میں ہندوستان نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

”اسلامی تعلیمات کی رو سے اگر بھوک سے تلف ہونے کا اندیشہ ہو اور مردار کے علاوہ کوئی چیزمہیا نہ ہو تو اسے کھا کر جان بچانا فرض ہو جاتا اگر ایسی صورت میں کوئی شخص مردار نا کھائے اور اسکی موت ہو جاتی ہے تو اس پر خودکشی کرنے کا گناہ ہوگا۔ کیا اس مسئلہ کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر کورونا سے بچنے کے لیے ہمارا ایک جگہ بھیڑ اکھٹا کرنے سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہو جاتا ہے؟”

لہذا اس کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ شراب کے خریدوفروخت کی اجازت حکومت نے دی تھی کورونا نے نہیں۔ بہانہ کچھ بھی ہو اگر احتیاط نہ برتی جاۓ تو یہ وبا کسی کو نہیں بخشنے والی۔ جو شخص بھی طبی ہدایات کی تعمیل نہیں کرتا ہے وہ مصیبت میں پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مسلمان دنیا کے سامنے نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام ہی ایک واحد مذہب ہے جس میں وبائی اور متعدی امراض سے لڑنے کے بنیادی ہدایات موجود ہیں۔ چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جگہ جانے سے جہاں وبائی قہر نازل ہوا ہو یا وہاں سے نکلنے سے منع کیا تھا، جس اونٹ کو خارش ہو جاۓ اسے بقیہ اونٹوں سے علیحدہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور برص میں مبتلا شخص کی تیمارداری میں احتیاط برتنے کی تلقین کی تھی۔ آج بھی کورونا کے خلاف جنگ میں کلیدی رول containment zones ، سوشل ڈسٹینسنگ، قرنطینہ، بارڈر سیل کرنا، اور متاثر شخص کی محتاط تیمارداری کرنا( جیسے طبی عملے کے حفاظتی آلات اور ماسک وغیرہ) کا ہی ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ اللہ رب العزت نے اسلام کی شکل میں ہمیں اتنا جامع اور مکمل ہدایت نامہ عطا کیا ہے جو زندگی کے ہر مسئلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ جامعیت کے ساتھ ساتھ اسلام کی بڑی خوبی اسکی لچک ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر صورتحال میں اپنے متبعین کی بہترین رہنمائی کرنے پر قادر ہے۔ اسی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ باوجود اس کے کہ باجماعت نماز کی اپنی اہمیت و فضیلت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش ہو جائے تو نماز گھر میں ہی پڑھنے کی ہدایت کی تھی اور اسی حدیث کی بنا پر علماء نے فتوی دیا تھا کہ کورونا کی وبا سے بچنے کے لیے عوام کو گھروں میں نماز پڑھنا چاہئے اور مسجد ویران نہ ہو اس لیے امام، مؤذن اور متولی وغیرہ مسجد میں جماعت کر لیں۔ عید کے سلسلے میں بھی معتبر ترین علماء کی جانب سے اسی نوع کا فتوی آچکا ہے۔ لیکن چند فیسبکیا اور واہٹساپیا مفتی عناد پر آمادہ ہیں۔ انکی غیر منطقی، غیر اسلامی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب شراب کی دوکانوں پر بھیڑ جمع ہو سکتی ہے، ہندوؤں کے مختلف تہواروں میں بھی کئی مقامات میں بھیڑ دیکھنے کو ملی تو ہم جماعت سے نماز کیوں نا ادا کریں۔ حالانکہ یہ ایک طفلانہ اعتراض ہے لیکن چونکہ قوم کے اندر جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوۓ ہیں اس لیے انکا مختصر جواب لازمی سمجھتا ہوں۔
اولا- فقہ پر گہری نظر رکھنے والے علماء کا فتوی آچکا ہے کہ جماعت کے لیے ہجوم اکھٹا نا ہو یہی اسلامی طریقہ ہے پھر اس میں اختلاف کرنا کہاں تک درست ہے؟۔
ثانیاً۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے اگر بھوک سے تلف ہونے کا اندیشہ ہو اور مردار کے علاوہ کوئی چیزمہیا نہ ہو تو اسے کھا کر جان بچانا فرض ہو جاتا اگر ایسی صورت میں کوئی شخص مردار نا کھائے اور اسکی موت ہو جاتی ہے تو اس پر خودکشی کرنے کا گناہ ہوگا۔ کیا اس مسئلہ کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر کورونا سے بچنے کے لیے ہمارا ایک جگہ بھیڑ اکھٹا کرنے سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہو جاتا ہے؟
ثالثاً۔ اگر کوئی سوشل ڈسٹینسنگ کی تعمیل نہ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو اسکی اتباع کرنا منطقی اعتبار سے کہاں تک درست ہے۔ یہ کیسی بیوقوفی ہے کہ کچھ باؤلے موت کی طرف بھاگ رہے اور آپ کو ان سے حسد ہو رہا ہے کہ آپ انکے ساتھ اس پاگل پنے میں کیوں شامل نہیں۔
رابعاً-سیاسی اعتبار سے بھی یہ عمل مہلک ہوگا کیونکہ کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں اگر مسلمانوں نے احتیاط نہیں برتی تو حکومت کی ناکامی اور پورے ملک میں کورونا پھیلانے کا ٹھیکرا پھر سے مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا جاۓ گا۔
لہذا آپ باشعور حضرات سے گزارش ہے کہ رمضانی نمازیوں کی بے جا ایمانی حمیت اور فیسبکیا اور واہٹساپیا مفتیوں کی بلاوجہ کی جاں نثاری سے پرہیز کریں اور علماء حق کی اتباع کریں۔

عامر ضیاء
Latest posts by عامر ضیاء (see all)

عامر ضیاء

Aamir Ziya is a Social Activist and Research Scholar in Jawaharlal Neharu University, New Delhi.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے