آئین ساز اسمبلی اور مسلمان

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]
16 مئی 1946 کے کیبنٹ مشن پلان کے تحت آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کرائے گئے۔ برطانوی حکومت نے یہ طے کیا تھا کہ ہندوستانیوں کو اقتدار اُن ضابطوں کی بنیاد پر دے دیا جائےگا ،جو وہ آئین میں خود سے بنائیں گے۔ مگر شرط یہ بھی تھی کہ آئین سازی کے وقت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ رکھا جائے گا۔ اقلیتی طبقے سےمراد صرف مذہبی اقلیت (جیسے مسلمان، عیسائی، پارسی) نہیں تھا۔ اچھوت (دلت)، آدی وادی اور پسماندہ برادری بھی اقلیت کے دائرے میں آتی تھی۔
انتخابات کے دوران مسلم، سکھ فرقوں اور جنرل (ہندو اور دیگر) نے اپنے اپنے نمائندے اُتارے۔ یہ انتخابات متناسب نمائندگی ( سنگل ٹرانسفر یبل ووٹ) کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ کانگریس اور مسلم لیگ نے جنرل اور مسلم نشستوں پر زبرست کامیابی حاصل کی۔ تقسیم ملک کے بعد آئین ساز اسمبلی میں کانگریس کی بالادستی اور بھی مضبوط ہو گئی۔ اس کے پاس کل سیٹوں کا 82 فی صدسیٹ حاصل ہو گئی ۔ جب آئین ساز اسمبلی کی کارروائی 9 دسمبر 1946 کو شروع ہوئی تو مسلم لیگ نے اس کا بائیکاٹ کیا۔اسکالر روچنا باجپئی کی تحریریں اس موضوع کو سمجھنے کے لیے کافی اہم ہیں۔
27 اگست 1947 کے روز سردار پٹیل کی قیادت میں ایک مشاورتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ آیین سازاسمبلی میں پیش کی۔ یہ رپورٹ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سےمتعلق تھی۔ دو دنوں تک اس موضوع پر خوب بحث ہوئی اور ممبران نے اپنا موقف رکھا۔ جب ایوان میں چرچہ ہو رہا تھا تو پنجاب سمیت بر صغیر کے بعض حصے فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جل رہے تھے۔ تقسیم کے لیے مسلم لیگ کو مورد الزام ٹھہرایا جا چکا تھا اور ان کے ممبران کروڑوں مسلمانوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے۔ لہذاآئین ساز اسمبلی میں موجود مسلم ممبران بڑے دباؤ میں تھے۔
بحث کی شروعات میں ہی سردار پٹیل نے کہہ ڈالا کہ ایک اتفاق رائے قائم ہو چکی ہے کہ آزاد ہندوستان میں "سیپر یٹ ایلکٹروٹ” (علاحدہ رائے دہندگان کی حماعت) کی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کو انہوں نے ایک "بڑی حصولیابی” سے تعبیر کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ انتخابات کے دوران اقلیتوں کے امیدواروں کو” ویٹیج” نہیں دی جانی چاہیے۔ مگر اُنہیں نے یہ صاف طور سے کیا کہ "جوائنٹ ایلکٹریٹ” کے تحت (اقلیتی) فرقوں کو متناسب نمائندگی دی جانی چاہیے. مگر جب بھارت کا دستور حتمی شکل اختیار کی تو اسے بھی خارج کر دیا گیا، ریزرویشن کی پالیسی صرف دلتوں اور آدی واسیوں کے لیے بنائی گئی۔
کمیونٹی کی بنیاد پر نمائندگی فراہم کرانے کی روایت انگریزی حکومت نے شروع کی۔ انگریزوں نے ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کو ان کی کمیونٹی اور برادری کے ساتھ دیکھا۔انہوں نے کچھ کو تو مذہبی اقلیت کہا۔مگر اقلیت کے ضمرے میں اچھوت اور آدی واسی بھی تھے۔تبھی تو انگریزوں نے الگ الگ فرقوں کے لیے الگ الگ پالیسی بنائی۔ بہت سارے راجے رجواڑوں نے بھی محکوم طبقوں کو ریزویشن دیا۔ مثال کے طور پر سال 1918میں میسور رجواڑے نے غیر برہمن پسماندہ ذاتوں کے لیے نوکریوں میں ریزرویشن لایا، اس سے قبل 1909کے آئینی اصلاح کے تحت انگریزوں نے پہلی بار مسلمانوں کے لیے "سیپر یٹ ایلکٹروٹ” کی شروعات کی ۔ 1919 اور 1935 میں لائے گئے آئینی اصلاح کے تحت مسلمانوں کے ساتھ سکھ، ہندوستانی عیسائی اور دیگر فرقوں کو بھی”سیپر یٹ ایلکٹروٹ” فراہم کیا گیا، مسلمانوں کے لیے نوکریوں میں سب سے پہلے ریزرویشن 1925 میں انگریزوں نے قبول کیا، جسے1935 میں باضابطہ طور سے نافذ کیا گیا ۔ یس میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر فرقوں کو بھی شامل کیا گیا۔
سینٹرل پروونس سے آئے ڈاکٹر پی سی دیش مُکھ کچھ اسی طرح کے اقلیت مخالف جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ آئین ساز اسمبلی میں اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے کہ”میری رائے میں اقلیت جیسا خوفناک لفظ ہندوستانی سیاست کی تاریخ میں نہیں رہاہے۔ جب سے ہندوستان سیاسی طور سے بیدار ہوا ہے تب سے اقلیتوں کے مفاد کا شیطان ہمارے سامنے کھڑا ہے اور یہ ملک کی ترقی کو روکے ہوئے ہے۔ اگر تاریخی طور سے دیکھیں تو ہم پائیں گے کہ انگریزوں نے اسے وجود میں لایا ۔ اور یہ اچھی طرح سے کامیاب ہوئی۔ میرے نزدیک اقلیتوں کے شیطان نے اپنا کام کر دیا ہے اور سو سالوں سے متحد رہی ، ہمارے محبوب ملک کو ایک سے زیادہ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔”
ان باتوں کو سن کر آئین ساز اسمبلی میں بیٹھے مسلم ممبران کے دل پر کیا گزرتی ہوگی اس درد کو بیان کرنا مشکل کام ہے۔ مالا بار سے آئے ہوئے بی پوکر صاحب بہادر اٹھ کر کھڑے ہوئے۔ اُن کو یہ بخوبی معلوم تھا کہ ملک کی صورت حال بدل چکی ہے اور ان کے لیے اقلیتوں کے حقوق کی تائید کرنا بڑا مشکل کام ہوگا۔اقلیتوں کے وجود کو ختم کرنے کی بات کو خارج کرتے ہوئے پوکر صاحب نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی اکثریت اور اقلیت کے درمیان” فرق” کو کم کیا جائے۔ "یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر سماج میں اقلیتی اور اکثریتی فرقے ہوں گے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں ایسا ہونا تو لازمی ہے۔ یہ بھی کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اقلیتوں کے وجود کو پوری طرح سے مٹا دے۔ اس لیے ہمیں اُن کے درمیان فرق کو کم کرنا چاہیے تاکہ اقلیتیں خود کو مطمئن محسوس کریں”۔
ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے پوکر صاحب کے پاس اپنی دلیل پیش کرنے کے لیے وہ الفاظ دستیاب نہیں تھی جو وہ بولنا چاہتے تھے۔ گرچہ انہوں نے اکثریتی سماج سے اپیل کی کہ وہ "سخاوت” کے جذبے کے ساتھ اقلیتوں کے مسائل کو دیکھے۔آگے انھونے "سیپر یٹ ایلکٹروٹ” کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اقلیتی سماج سے واجب امیدوار منتخب ہوں کر قانون ساز اسمبلی میں جائےگا اور ان کے مفاد کی سچی ترجمانی کرے گا۔ اُنہوں نے "جوائنٹ ایلکٹروٹ” کی خامیوں کو بھی سامنے لایا ،جس کو آج ہم اور بھی بری طرح سے دیکھ رہے ہیں”۔
مگر اُتر پردیس کے ہی دوسرے ممبر پنڈت گوبند بلبھ پنت نے خلیق الزماں کی بات کاٹی اور کہ کہ سیپر یٹ ایلکٹروٹ اقلیتوں کے لیے "خودکشی” کرنے کے مترادف ہوگا۔ اپنی دلیل میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اس بات میں ہیں کہ وہ ریاست کے وجود میں ضم ہو جائے۔
اس بات کا بھی ذکر کم ہی ہوتا ہے کہ آخر میں قانون ساز اسمبلی اور نوکریوں میں ریزرویشن صرف دلتوں اور آدی واسیوں کو دیا گیا اورمسلمانوں کو آخری لمحات میں اس پالیسی سے باہر کر دیا گیا۔ اس کے حق میں بھی جو دلیل دی گئی؎ وہ یہ بھی تھی کہ اس پالیسی سے دلتوں کو میں سٹریم (ہندو سماج) کے ساتھ ضم ہو جانے میں آسانی ہوگی!
آئین ساز اسمبلی کی تقروں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کی کہ مسلمان کی مخصوص مذہبی اور ثقافتی تشخص کی وجہ سے اُن کو ریزرویشن کی پالیسی سے دور رکھا گیا، باوجود اس کے کہ سردار پٹیل کی قیادت والی مشاورتی کمیٹی نے مسلمانوں کے لیےپہلے متناسب نمائندگی پر مبنی ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ یہ سب دیکھ کرکسی بھی انساف پسند اور غیر جانب دار محقق کو یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے کہ آزادی کے وقت مسلمانوں کے درد کو ان سنا کر دیا گیا۔ اگر "سیپر یٹ ایلکٹروٹ” کو ختم کرنا ایک نئے ملک کے لیے اتنا ہی ضروری تھا تو کیا اس کی جگہ کوئی دوسرامیکنزم نہیں لایا جانا چاہیے تھا؟آج جب کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے مستند ریکارڈ خود حکومت شائع کر چکی ہے، تو کیا یہ انصاف کا مطالبہ نہیں ہے دیر سے ہی صحیح اقلیتوں کے درد کو اب تو سنا جائے؟
(مضمون نگار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی جمع کی ہے۔)

(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

مضمون نگار کے دوسرے مضامین پڑھنے کے لنک پر کلک کریں۔
شہریت قانون کے لئے اب امبیڈکر کا استعمال!
سگریٹ، شراب اور ملک مخالف نعرے!

جامعہ تیرے جذبے کو سلام!
مسلمان اپنی ترقی کیسے کریں؟رام دیو: تمہیں بابا کہوں یا سنگھی؟
میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے