غیرمسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارکبادی دینا!

Spread the love


يوروپى كونسل برائے فتوى وتحقيق، ڈبلن، آئرلينڈ
ترجمہ: عبدالرحمن خان فلاحى
استاد جامعہ اسلاميہ، شانتا پورم كيرلا
مغربى ممالك ميں رہنے والے مسلمانوں كے لئے يہ مسئلہ بہت اہم اور حسا س ہےـ اس سلسلے ميں كونسل كے پاس ان بهائيوں اور بہنوں كے طرف سے بہت سے سوالات آئے جو ان ملكوں ميں زندگى بسر كر رہے ہيں، غير مسلموں كے ساتھ ره رہے ہيں، ان ميں آپسى سماجى تعلقات قائم ہيں جن كے بغير زندگى گزانا دشوار ہے، مثال كے طور پر غير مسلم ہم سايہ، ہم سبق اور ہم دست وشريك كار ہے۔ بلكہ بسا اوقات ايك مسلم كو غير مسلم كے فضل وكرم كا اعتراف كرنا پڑتا ہے مثلا ايك غير مسلم سپروائزر مسلم طالب علم كا بهرپور تعاون كرتا ہے، ايك غير مسلم ڈاكٹرمسلم مريض كا بہترين علاج كرتا ہے۔ ايك مشہور كہاوت ہے:انسان احسان كےبوجھ تلے دبا رہتا ہے۔
ايك عربى شاعر كا بہت ہى عمده شعر ہے:
أَحْسِنْ إلى النَّاسِ تَسْتَعْبِدْ قُلُوْبَهُمْ                    فَطَالَمَا اسْتَعْبَدَ الإنْسَانَ إحْسَانُ!
لوگوں كے دلوں پر راج كرنا ہے تو حسن سلوك سے پيش آؤ۔ بارہا ايسا ہوا ہے كہ حسن سلوك نے انسانوں پر راج كيا ہے۔
ايك مسلم كى سوچ، اس كا رويہ اور نقطہ نظر ان غير مسلموں كے تئيں كيا ہونا چاہئے جو امن پسند ہيں، صلح پسند ہيں، مسلمانوں كے خيروخوا ه ہيں، ان سےدشمنى مول نہيں ليتے ہيں، ان سےدين كى خاطر جنگ نہيں كرتے ہيں، انہيں جلا وطن نہيں كرتے، يا جلا وطن كرنے ميں دوسروں كى معاونت نہيں كرتے ہيں؟
قرآن كريم نے سوره ممتحنہ كى دوآيتوں ميں مسلمانوں اور غير مسلموں كے درميان تعلقات كے اصول وضوابط مقرر كردئےہيں اور بلاشبہہ يہ آيتيں بت پرست مشركين كے سلسلے ميں اترى ہيں۔ اللہ تعالى كا فرمان ہے{لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ. إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [الممتحنة: 8-9].
"الله تمہيں ان لوگوں كے ساتھ حسن سلوك اور انصاف كرنے سے نہيں روكتا جنہوں نے دين كے معاملہ ميں نہ تم سے جنگ كى ہےاور نہ تم كو تمہارے گهروں سے نكالا۔ الله انصاف كرنے والوں كو محبوب ركھتا ہے۔
الله بس ان لوگوں سے تم كو موالات كرنے سے روكتا ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ دين كے معاملہ ميں جنگ كى ہے اور تم كو تمہارے گھروں سے نكالا ہے اور تمہارے نكالنے ميں مدد كى ہے۔اور جو اس طرح لوگوں سے دوستى كرينگے تو وه اپنے ہى اوپر ظلم ڈهانے والے بنيں گے”۔
اوپر كى دونوں آيتوں سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ مسلمانوں كو امن پسند اورشر پسند وجنگ پسند غير مسلموں كے ساتھ الگ الگ طريقہ سے پيش آنا ہے۔
پہلى آيت كريمہ امن پسندوں كے ساتھ حسن سلوك اور انصاف كرنے كا حكم ديتى ہے۔ "بِرّ” كے معنى احسان اور ادائے حقوق كے ہيں- "بِرّ” كا مفہوم”عدل وقسط” سے بڑھ كر ہے كيونكہ عدل كے معنى اپنا پورا حق لينے كے ہيں جبكہ "بِرّ” كے معنى اپنے بعض حقوق سے دست بردارى كے ہيں۔ "قسط” كا مطلب يہ ہے كہ جس كا جو جق واجب ہے وه پورا پورا ادا كرديا جائے ، اس ميں كوئى كمى بيشى نہ كى جائے۔ "بِرّ” كا مطلب يہ ہے كہ جس كا جو حق واجب ہے اس سے زياده ادا كيا جائے۔
دوسرى آيت كريمہ شرپسندوں اور جنگ پسندوں سے دوستى و وفادارى كرنے سے روكتى ہے كيونكہ وه مسلمانوں سے دشمنى مول ليتے ہيں، ان سے قتال كرتے ہيں، انهيں ناحق ديس بدر كرتے ہيں، ان كا گناه صرف يہى ہوتا ہے كہ وه الله كو اپنا رب مانتے ہيں، جس طرح قريش اور مشركين مكہ نے نبى اكرم صلى الله عليہ وسلم اور اصحاب كرام كو طرح طرح كى تكليفيں پہنچائيں۔
قرآن كريم نے امن پسندوں كے ساتھ معاملہ دارى كے لئے "برّ” كا لفظ استعمال كيا ہے، يہ لفظ والدين كے حق كى ادائيگى كے لئے بھى استعمال ہوا ہے جو كہ الله كے حق كے بعد سب سے اہم اور افضل حق ہے- ارشاد بارى تعالى ہے” وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ” (مريم: 14) يحيى عليہ السلام اپنے والدين سے حسن سلوك كرنے والے تھے۔
بخارى ومسلم كى روايت ہے كہ حضرت اسماء بنت ابى بكر رضى الله عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم كے زمانہ ميں ميرى والده جو مشركہ تهيں، ميرے يہاں آئيں۔ ميں نے آپ صلى الله عليہ وسلم سے پوچها :ميرى والده مجھ سے ملاقات كى بہت خواہش مند ہيں، كيا ميں اپنى والده كے ساتھ صلہ رحمى كرسكتى ہوں- آپ صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا: ہاں، اپنى والده كے ساتھ صلہ رحمى كروں۔ (بخارى: 2620، مسلم: 1003)
بلاشبہہ اسلام بت پرست مشركين كے مقابلہ ميں اہل كتاب كے ساتھ ذرا نرم رويہ اپناتا ہے كيونكہ قرآن ميں اہل كتاب كا ذبيحہ اور ان كى عورتوں سے شادى وبياه جائز ہے فرمان بارى تعالى ہے: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [المائدة: 5].
"اہل كتاب كا كھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا كھانا ان كے لئے حلال ہے اور شريف عورتيں مسلمان عورتوں ميں سے اور شريف عورتيں ان اہل كتاب ميں سے جنكو تم سے پہلے كتاب ملى تمہارے لئے حلال ہيں۔”
اس شادى كے نتيجہ ميں شوہر بيوى كے درميان الفت ومحبت پيدا ہوتى ہے، ايك دوسرے سے پيار ہوجاتا ہے، الله تعالى كا فرمان ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً} [الروم: 21]"اس كى نشانيوں ميں سے يہ ہے كہ اس نے تمہارے ہى جنس سے تمہارے لئے جوڑے پيدا كئے تاكہ تم ان سے سكون حاصل كرسكواور اس نے تمہارے درميان محبت وہمدردى پيدا كى”۔
شوہر اپنى بيوى وشريك حيات سے پيار كيوں نہ كرے جبكہ الله نے ازدواجى تعلقات كے متعلق فرمايا: {هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ} [البقرة: 187] "وه تمہارے لئے لباس ہيں اور تم ان كے لئے لباس ہو۔”
اس شادى كى وجہ سے نسبى اور سسرالى دونوں خاندانوں كے درميان باہمى تعلقات ورابطے استوار ہوتے ہيں۔ در اصل شادى سے لوگوں كے درميان فطرى تعلقات وقربت كا داروزه كهلتا ہے جيسا كہ ارشاد بارى تعالى ہے: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا} [الفرقان: 54]."وہى ہے جس نے انسانوں كو پانى سے پيدا كيا اور پهر ان كو نسبى اور سسرالى رشتوں سے جوڑا۔”
شادى كے نتيجہ ميں بچوں كو ماں كى ممتا ملتى ہے اور اسلام ميں بچوں پر ماں كے بہت سے حقوق وواجبات ہيں۔ اگر ماں كتابيہ ہے تو كيا يہ صلہ رحمى اور حسن سلوك ميں شمار ہوگا كہ سال كے بڑے بڑے تہوار گزر جائيں اور بچہ اپنى ماں كو مبارك باد نہ دے۔ بچہ ماں كى طرف سے رشتہ داروں كے ساتھ كيا سلوك كرےجيسے نانا، نانى، خالہ، خالو، ماموں اور ان سب كے اولاد در اولاد۔
يقينا خونى اور قريبى رشتہ داروں كے بہت سے حقوق ہيں- الله تعالى كا فرمان ہے: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} [الأنفال: 76] "الله كى كتاب ميں خون كے رشتہ دار ايك دوسرے كے زياده حقدار ہيں” دوسرى آيت ميں فرمايا: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى} [النحل: 90]"الله عدل احسان اور صلہ رحمى كا حكم ديتا ہے”۔
ممتا اور قرابت دارى كيوجہ سے لوگوں پر ماں اورررشتہ داروں كے ساتھ صلہ رحمى كرنا فرض ہوجاتا ہے كيونكہ اس سے حسن سلوك، وفادارى اور اطاعت كا پتہ چلتا ہے۔ اسى طرح دوسرے حقوق كى ادائيگى كے لئے بهى ايك مسلمان كے لئے ضرورى ہے كہ وه لوگوں كے ساتھ بہترين حسن سلوك كا مظاہره كرے۔ نبى كريم صلى الله عليہ وسلم نے ابوذر رضى الله عنہ كو وصيت فرمائى: جہاں بھى رہو الله سے ڈرو، گناه كے بعد نيكى كرليا كرو تاكہ گناه مٹ جائے، اور لوگوں كے ساتھ اچهے اخلاق كے ساتھ پيش آؤ۔ (مسند احمد : 22059، ترمذي: 1987)
اس حديث پاك ميں آپ صلى الله عليہ وسلم نے لوگوں كے ساتھ -چاہے وه مسلم ہوں يا غير مسلم – حسن سلوك كى وصيت فرمائى ہے، حسن سلوك كا معاملہ صرف مسلمانوں كے ساتھ خاص نہيں ہے۔
اسى طرح آپ صلى الله عليہ وسلم نے غير مسلموں كے ساتھ نرمى سے پيش آنے كى تعليم دى ہے ، تشدد وانتہاپسندى سے منع فرماياہے-چند يہودى نبى كريم صلى الله عليہ وسلم كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور كہا (السَّامُ عَلَيْكُمْ) يعنى تم پر موت آئے، آپ صلى الله عليہ وسلم نے جواب ميں فرمايا: وعليكم (تم پر بھى) ،عائشہ رضى الله عنہا كہتى ہيں كہ ميں نے كہا تم دشمنوں پر سام (موت) وہلاكت ہو۔ نبى اكرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا اے عائشہ الله تعالى ہر كام ميں نرمى كو پسند فرماتے ہيں- حضرت عائشہ نے عرض كيا : كيا آپ نے ان يہوديوں كى بات نہيں سنى۔ آپ نے فرمايا ميں نے بهى تو انہيں وعليكم كہہ كر جواب دے ديا تھا۔ (متفق عليہ)
غیر مسلموں كو ان كے تہواروں ميں مباركباد دينا اورضرورى ہوجاتا ہے جب وه مسلمانوں كو ان كے اسلامى تہواروں ميں مباركباد دينے ميں پہل كريں، كيونكہ ہميں حكم ديا گيا ہے كے اچھائى كا بدلہ اچھائى سے ديں، اور سلام كا جواب اس سے بہتر الفاظ ميں يا كم از كم انہيں الفاظ ميں ديں جيسا كہ الله كا فرمان ہے : {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} [النساء: 86]اور جب تمہيں سلامتى كى كوئى دعا دى جائے تو تم بھى سلامتى كى اس سے بہتر دعا دو يا اسى كو لوٹادو۔
كسى مسلم كے لئے روا نہيں كہ وه حسن خلق كے معاملہ ميں دوسروں سے كمتر ہو بلكہ اسے حسن خلق و ادب كا پيكر ہو نا چاہئے جيسا كہ حديث ميں ہے : ” كامل ترين مومن وه ہے جو سب سے زياده خوش اخلاق ہو” (مسند احمد 7402:)۔ اور نبى كريم صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا: "ميں اعلى اخلاقى اقدار كى تكميل كے لئے بھيجا گيا ہوں۔” (مسند احمد: 895)
حسن سلوك كى اہميت مزيد بڑھ جاتى ہے جب ہم غيرمسلموں كو اسلام كى طرف بلانا چاہيں، اسلام سے قريب كرنا چاہيں، ان كے دلوں ميں مسلمانوں كے تئيں محبت پيدا كرنا چاہيں۔ يہ ہمارى ذمہ درارى بھى ہےاور ايسا كرنا ہم پر فرض بھى ہے۔ يہ فريضہ سنگ دلى، بے رحمى اور سخت مزاجى سے پورا نہيں ہوگا بلكہ اس كے لئے حسن تعلق اور رحم دلى كى ضرورت ہے۔
نبى كريم صلى الله عليہ وسلم نےپورے مكى دور ميں مشركين قريش كے ساتھ حسن سلوك وحسن معاشرت كا مظاہره كيا جبكہ مشريكن مكہ مسلمانوں كو اپنے آزار اور ظلم وستم كا نشانہ بناتے رہےانہوں نے آپ صلى الله عليہ وسلم اور صحابہ كرام كو طرح طرح كى تكليفيں پہنچائيں۔ شديد دشمنى ونفرت كے باوجود مشركين آپ صلى الله عليہ وسلم پر مكمل اعتماد اور بھروسہ ركھتے تھے ، اپنى قيمتى دولت وثروت بطور امانت كسى اور كے پاس ركھنا پسند نہيں كرتے تهے۔ جب آپ صلى الله عليہ وسلم نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائى تو على رضى الله عنہ كو اپنے بستر پرلٹايا تاكہ لوگوں كى امانتيں ان كے حوالہ كرديں۔
لہذا كسى مسلم شخص يا اسلامى سنٹر كى طرف سے غير مسلموں كو ان كے تہواروں ميں مباركباددينے ميں كوئى حرج نہيں ہے، چاہے وه مباركباد زبانى ہو يا كارڈ كے ذريعہ ہو جس ميں اسلام كے منافى logo اور عبارتيں نہ ہوں مثلا صليب وغيره، كيونكہ صليب كا تصور اسلامى تعليمات كے منافى ہے الله تعالى كا فرمان ہے : {وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ} [النساء: 156]"انہوں نے نہ اس كو قتل كيا نہ صليب پر چڑهايا بلكہ معاملہ ان كے لئے مشتبہ كرديا گيا”۔
يہ بات ذہن نشيں رہے كہ غير مسلموں كے تہواروں پر تہنيتى پيغام بھيجنے سے ان كے كفريہ اعمال كا اقرار اور اظہار ِرضامندى شامل نہيں ہوتى ہے بلكہ يہ صرف اظہارِ تعارف و مصلحت خواہى كے چند جملے ہوتے ہيں۔
غير مسلموں سے تحائف قبول كرنا اور انہيں تحائف دينے ميں كوئى حرج نہيں ہے جيسا كہ نبى كريم صلى الله عليہ وسلم نے غير مسلموں مثلا قبطيوں كے عظيم مقوقس وغيره سے ہديہ قبول فرمايا، (المعجم الكبير للطبرانى : 3497)بشرطيكہ يہ تحائف مسلمانوں كے لئے حرام نہ ہوں مثلا شراب اور خنزير كا گوشت۔
يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ بعض فقہاء كرام مثلا شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم نے مشركين واہل كتاب كے تہواروں پر مباركباد دينے اور اس ميں شركت كرنے سے سختى سے منع كيا ہے۔ ہم بھى اس بات كے قائل ہيں كہ مسلمانوں كے لئے مشركين واہل كتاب كے تہواروں ميں جشن منانا اور اس كا انعقاد كرنا جائز نہيں ہے۔ جيسا كہ ہم ديكھتے ہيں كہ بعض تساہل پسند مسلمان عيد الفطر اور عيدالاضحى كى طرح كرسمس بڑے دھوم دھام سے مناتے ہيں، يہ جائز نہيں ہے۔ ليكن ان لوگوں كے لئے مباركباد دينے ميں كوئى حرج نہيں ہے جن كے درميان آپسى قرابت، رفاقت يا دوسرے سماجى تعلقات قائم ہيں جس ميں عرف كا لحاظ كرتے ہوئے حسن سلوك وحسن معاشرت كا اظہار كرنا پڑتا ہے۔
رہى بات قومى اور سماجى تہواروں كى مثلا يوم آزادى، يوم اتحاد، يوم اطفال اور يوم مادر وغيره تو ان مواقع پر مباكباد دينا، جشن منانا اور اس ميں شركت كرناجائز ہے كيونكہ وه اس ملك كاباسى، شہرى يا عارضى سكونت پذير ہے بشرطيكہ ان مواقع پر ہونے والے محرمات سے اجتناب كرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے