فرعونِ موسی علیہ السلام اور فرعونِ وقت

Spread the love


(ایک تقابلی مطالعہ)
عبداللہ صلاح الدین سلفیؔ✍
[email protected]
حضرت موسی وہارون علیہما السلام، بنواسرائیل، فرعون اور قوم فرعون کے واقعات، قرآن مجید کی 37 سورتوں کی 514 آیات میں مذکورہیں، سیدنا موسی علیہ السلام کااسم گرامی قرآن کی 25 سورتوں میں 107/مرتبہ، جبکہ ہارون علیہ السلام کانام قرآن عزیز کی 11/سورتوں میں 14 /مرتبہ آیاہے، حق وباطل کی کشمکش کی اس بے نظیر داستان کو قرآن مجید نے حسب ضرورت اور حسب موقع ومحل کبھی مجمل اور کبھی مفصل طور پر بیان کیاہے۔
موسی علیہ السلام اور فرعون کے یہ واقعات کوئی افسانہ یا کہانی نہیں بلکہ حق وباطل، عدل وظلم اور آزادی وغلامی کی کشمکش، مجبور وپست کی سربلندی اور جابر وسربلند کی پستی وہلاکت، حق کی کامیابی وکامرانی اور باطل کی ذلت و رسوائی، صبروثبات، ابتلا و آزمائش اور شکر واحسان کی وہ سچی داستان ہے جس میں بے شمار عبرتیں اور نصیحتیں ہیں، موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان کایہ معرکہ حق و باطل کے معرکوں میں سے ایک عظیم الشان معرکہ ہے، ایک جانب کبر وغرور، رعونت و نخوت، جبر وظلم، تمرد و سرکشی اور قہرمانیت وانانیت کی ناکامی ونامرادی اور ذلت و رسوائی تو دوسری طرف مجبوری و مظلومیت، توکل علی اللہ اور صبر واستقامت کی فتح و کامرانی کا محیر العقول واقعہ ہے۔
موسی علیہ السلام اور فرعون کے اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ فرعون سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا اور بنواسرائیل سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں، اس قصے میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسی کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کمزور ہونے کے باوجود فرعون کے مقابلے میں کامیاب وکامران اور سرخرو کیا، اسی طرح جومسلمان نزول قرآن کے وقت مکہ میں کمزور اور مظلوم ہیں یا دینا کے کسی بھی خطے میں کسی بھی وقت مظلوم ومجبور ہوں گے انہیں ہرگز مایوس نہیں ہوناچاہئے اللہ تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح مدد فرمائے گا، جس طرح اس نے بنی اسرائیل کی مددکی اور بنی اسرائیل کی طرح ہر دور اور ہر خطے میں کمزور اور بے بس مسلمانوں کو دشمنوں سے نجات دے گا اور ظالموں کونیست و نابود کردے گا۔ اس قصے میں تمام مسلمانوں کے لئے یہ سبق بھی ہے کہ جب موسی علیہ السلام نے ایسے شدید حالات میں اللہ پراعتماد اور بھروسہ رکھتے ہوئے تمام مصائب وآلام اور ایذارسانیوں کو برداشت کیا تو مسلمانوں کوحالت استضعاف میں صبر و تحمل، دھیرج و استقلال اور استقامت وثبات قدمی سے اللہ پرکامل توکل اور اعتماد رکھتے ہوئے اس کی رحمت کا انتظار کرنا چاہئے، اور اس واقعے میں یہ بشارت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بہر حال کامیاب کرتاہے جبکہ ان کے دشمنوں کاانجام تباہی و بربادی اور ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

٭تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ فرعون شاہان مصر کا لقب تھا کسی خاص بادشاہ کا نام نہیں، جیسے قدیم زمانے میں ترکوں کے بادشاہ خاقان، یمن کے بادشاہ تُبّع، حبشہ کے بادشاہ نجاشی، روم کے بادشاہ قیصر اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے۔ تین ہزار سال قبل مسیح سے لے کر عہد سکندریہ تک فراعنہ کے اکتیس افراد مصر پر حکمراں رہے، موسی علیہ السلام کو دو فرعونوں سے سابقہ پڑا، جس فرعون نے موسی علیہ السلام کی پرورش کی تھی اس کا نام رعمسیس دوم تھا اور نبوت کے بعد جس فرعون کے پاس آپ علیہ السلام کو نبی بناکر بھیجا گیا اس کانام منفتاح تھا، جو رعمسیس مذکور کا بیٹاتھا، ان دونوں کاعہد حکومت تقریبا چودہ سو سال قبل مسیح بتلایا جاتاہے۔
بنی اسرائیل یوسف علیہ السلام کے زمانے میں یعنی بعثت موسی علیہ السلام سے کم و بیش چار سوسال قبل مصر آئے تھے اور ایک طویل مدت تک نہایت شان وشوکت جاہ وجلال، عظمت و وقار اور عزت واحترام کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے پھر اللہ کی نافرمانی اور اپنے اعمال بد کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے مصر کے اصل باشندوں کوجو قبطی تھے، ان پر مسلط کردیا (اللہ کی سنت اور اس کادستور ہر زمانے، ہر مقام اور تمام ہی انسانوں کے لئے ہے جیساکہ رسول اللہﷺ نے اپنی ایک حدیث میں اس کاذکر ان الفاظ میں کیاہے:”…..ولم ینقضوا عہد اللہ وعہد رسولہ إلا سلط اللہ علیھم عدوا من غیرھم فأخذوا بعض مافی أیدیھم…“ (ابن ماجہ:4019) اور جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کوتوڑ دیتے ہیں تواللہ تعالیٰ ان پران کے غیروں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتاہے تو جوکچھ ان کے پاس ہوتاہے وہ اس کوچھین لیتا ہے۔) اور اس فرعون نے تو بنی اسرائیل کو کمزور اور بے بس کرنے کی انتہا کردی تھی، اس نے ایسا بندوبست کیا کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنواسرائیل غلام اور خدمتگار۔بالکل اسی طرح ایک زمانے میں مسلمان ہندوستان میں حکمران کی حیثیت سے آئے اور ایک طویل مدت تک بڑے ہی کروفر، شان وشوکت اورجاہ جلال کے ساتھ نہ صرف یہاں کے تاج وتخت پر براجمان رہے بلکہ لوگوں کے دلوں پر بھی حکومت کی، اپنے اخلاق وکردار سے لوگوں کے من کوموہ اور دلوں کوجیت لیا، یہاں کے قدیم باشندوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ذریعہ حلقہ بگوش اسلام ہوئی اور جب تک ان کے اندر خیر غالب رہا ان کا اقبال بلندرہا اور جیسے جیسے مسلمان ایمان وعمل صالح سے دور ہوتے گئے ان کاسورج ڈھلتا اورغروب ہوتا گیا اور نہ صرف تاج وتخت سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ مسلمانوں کی اکثریت کی بداعمالیوں کی وجہ سے آج اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمنوں کومسلط کردیاہے، اور فرعونِ وقت بھی فرعونِ موسی کی طرح ظلم وجبر کی تمام حدیں پار کرتا جارہاہے، اور مسلمانوں کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتاہے جوکسی زمانے میں ،فرعون موسی نے کیاتھا۔
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی وبے تابی سے
…تازہ ہر عہد میں ہے قصۂ فرعون وکلیم
(اقبال،ضرب کلیم)
قارئین ذی وقار! فرعون کے زمانے کی تہذیب اور ان کے عقائد بہت حد تک ہنود کی تہذیب وعقائد سے ملتے جلتے ہیں، ہنود بھی چارطبقوں میں تقسیم ہیں:(۱)برہمن(۲)کھتری(۳)ویش اور(۴)شودر۔

جن میں برہمنوں کو سب پر بالادست رکھا گیاہے اور شودروں کو انسانیت کی حدسے بھی نیچے گرادیاگیا ہے، فرعون نے بھی مصرکے باشندوں کومختلف گروہوں اور طبقات میں تقسیم اور ان سب کوباہم دست و گریباں کر رکھا تھا، ایک طبقے کو ہر قسم کی مراعات دیکر جبکہ دوسرے کوظلم وجبر کے ذریعہ اتنا بے وقعت اور بے بس بنارکھا تھا کہ وہ کسی بات میں بھی اس سے اختلاف کی جرأت نہیں کرسکتے تھے حتی کہ انہوں نے اس کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوی کوبھی بلاچوں و چرا تسلیم کرلیا تھا، قرآن نے اس کا نقشہ یوں کھینچاہے:فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ“ (الزخرف:۴۵)اس نے اپنی قوم کو بہلایاپھسلایااور انہوں نے اس کی بات مان لی، یقینایہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے۔فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی رائے کوبے وزن کرکے رکھ دیاتھا، اس کا پروپیگنڈہ اتنا پراثر اور زبردست ہوتاتھا کہ قوم کے لوگوں کو اپنی عقل سے سوچنے کاموقع نہیں دیتا تھا، صرف اپنے من کی بات کرتا تھا۔(المؤمن:۹۲) بلکہ انہیں مجبور کردیتا تھا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں، اس طرح وہ انہیں پھسلانے اور اُلّو بنانے میں نہایت کامیاب تھا اور ساری قوم اس کی اندھ بھکت بنی ہوئی تھی۔
آج کل بھی ملکوں اور قوموں کو محکوم رکھنے کے لئے بڑی طاقتیں اور فراعنۂ وقت یہی حربہ اختیار کئے ہوئے ہیں، کسی کوظلم وجبر کے ذریعہ دباتے ہیں توکسی کوبے جامراعات دے کر رام کرتے ہیں، افواہوں اور میڈیائی پروپیگنڈوں کے ذریعہ جھوٹ کوسچ اور کالے کوسفید ثابت کرتے ہیں، ان کے ہرکارے ہرجگہ موجود ہوتے ہیں جو اختلاف رائے کی جرأت کرنے والوں کو ہر طرح ڈراتے دھمکاتے اور لالچ وخوف کے ذریعہ اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حق کی آواز بلند کرنے والوں کوسوشل میڈیا پر ٹرول کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے ہربندے کاہمیشہ کے لئے ناطقہ بندکردیاجائے۔
معززقارئین! مصری تہذیب بھی بادشاہ کی خدائی کے ساتھ گائے کی پجاری تھی، مصری لوگ ہنود کی طرح گائے کی پرستش کرتے اور اس کی تقدیس کے قائل تھے، گائے کی تقدیس کا عقیدہ مصری سماج میں اس قدر گہرائی تک پیوست ہوچکا تھا کہ مصر میں غلامی کے زمانہ میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کی تقدیس وتعظیم کاعقیدہ سرایت کرگیاتھا، اس کا اظہار اس وقت بھی ہوا جب موسی علیہ السلام تورات لینے کے لئے طورپر گئے تو موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں سامری نے بنواسرائیل کے زیوروں سے گائے کا بچھڑا بنایا جوبے جان تھا، مگر ایسی کاریگری سے بنایاکہ اس میں رکھے گئے سوراخوں سے ہواگزرنے کی وجہ سے گائے کی سی آوازنکلتی تھی، جاہلوں نے فورا اسے اپنامعبود تسلیم کرلیا اور اس کی پرستش شروع کردی اور کہنے لگے تمہارا اور موسی کامعبود تویہی ہے۔ قرآن نے اس واقعے کاذکر ان الفاظ میں کیاہے:”فَاَخْرَجَ لَھُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰھُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ“ (طہ:88)۔موسی علیہ السلام نے واپسی پر اللہ کے حکم سے اس عقیدے کوجڑ سے ختم کرنے کے لئے ایک گائے ذبح کرنے کاحکم دیا۔ (البقرۃ:67) اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ارتکاب پر انہیں قتل کی سزا سنائی گئی اور اس پر عمل بھی ہوا۔ (البقرۃ:54) جس طرح ہماری شریعت میں ارتداد کی سزاقتل ہے۔مشرکین کاعلم الأصنام سراسر باطل ہونے کی وجہ سے نہایت پرپیچ اورناقل فہم ہے، ہنود کی طرح قبطیوں کے یہاں بھی کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون بھی ان کی خدائی کوتسلیم کرتاتھا جیساکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتاہے:”وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَ اٰلِھَتَکَ“ (الأعراف:127)اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیاآپ موسی (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ اس کے باوجود وہ ان معبودوں کا نمائندہ اور دُوت بن کر اپنے آپ کو رب اعلی کہتا اور کہلواتا تھا جیساکہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ذکرکیاہے:”فَحَشَرَفَنَادٰی فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی“ (النازعات:23-24)پھر سب کوجمع کرکے پکارا:تم سب کا رب اعلیٰ میں ہی ہوں۔ اور کبھی کہتا:”ٰٓیاَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ“ (القصص:38)اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔

جس طرح فرعون اپنے آپ کو تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دیکر اپنے آپ کو رب اعلی کہلواتا تھا، عموما مشرکانہ مذاہب میں اس طرح کی عجیب وغریب پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں، چنانچہ فرعون ِوقت کے دھرم میں بھی اصل خدا کسی انسان کے روپ میں اتر آتا ہے، آج کل کے اکثر حکمراں اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود فرعون اور اس کی قوم رب العالمین کو اچھی طرح جانتے تھے جیساکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:”وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا“ (النمل:14) انہوں نے انکار کردیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے،صرف ظلم وتکبر کی بناپر۔
قارئین! جب بنی اسرائیل کی کثرت تعداد کی صورت میں ان کے غلبے سے خائف ہوکر فرعون ظلم وبربریت پر اتر آیا اور اس کے ظلم وجبر کا سلسلہ دراز سے دراز تر اور سخت ترین ہوتاگیا، اس نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرانا اور ان کی عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا شروع کردیا کیونکہ اس کو خوف تھا کہ کہیں بنی اسرائیل کا یہ عظیم الشان قبیلہ جو لاکھوں نفوس پر مشتمل تھا اندرونی بغاوت پر آمادہ نہ ہو جائے، اللہ کی رحمت جوش میں آگئی، آخر فرعون کے اس ظلم کو اللہ کی رحمت کب تک برداشت کرسکتی تھی اور یہ مظلومین تومسلمان تھے، سچ فرمایا پیارے رسولﷺنے:”…اتق دعوۃ المظلوم فإنہ لیس بینھا وبین اللہ حجاب“ (بخاری:1496)مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔لہذا اللہ عزوجل نے ان کمزوروں اور مظلوموں کو سربلند کرنے کا ارادہ کرلیا۔ (القصص:5) اور جس کام کا ارادہ اللہ کرلے بھلا اسے کون روک سکتاہے۔ ان مظلوم مستضعفین سے ظلم کو ہی دور نہیں کیا بلکہ انہیں مزید انعامات سے نوازتے ہوئے آخرش فرعون اور آل فرعون کے غلبے و اقتدار اور ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیاجو وہ چھوڑ کرغرق ہونے والے تھے تاکہ کسی کوان پر ظلم وزیادتی کی جرأت نہ ہوسکے۔ (القصص:5-6)
حضرات گرامی! اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کاظہور یوں ہواکہ بنواسرائیل کے ایک خاندان میں عمران اور ان کی اہلیہ کے گھر موسی علیہ السلام کاجنم اس سال میں ہواجوفرعون کی طرف سے بچوں کے قتل کاسال تھا، معجزانہ طور پر موسی کی پرورش خود فرعون کے محل میں ہوئی اور دودھ اپنی ماں کا پیا، جب جوانی کی عمر کو پہونچے تو ایک غیرارادی قتل کی وجہ سے مصرکی سرزمین کو چھوڑنا پڑا اور دس سال مدین میں مہاجرت کی زندگی گزارنے کے بعد دوبارہ مصرکی جانب واپسی پر آپ کونبوت سے سرفراز کیاگیا اور موسی وہارون دونوں کوحکم ہواکہ”اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی“ (طہ:43-44)تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے، اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔اس آیت کریمہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ فرعون جسیے ظالم وجابر حکمرانوں کو بھی دعوت دیتے وقت نرم اور محبت آمیز اندازہی اختیار کرنا چاہئے، جس میں ترغیب ہو کیونکہ دعوت إلی اللہ کامقصد مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتا ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا اپنا غصہ اور دل کی بھڑاس نکالنا، مخاطب کتنا بھی سرکش ہو داعی کوہمیشہ امید کاچراغ روشن رکھناچاہئے۔موسی وہارون کے نرم اندازاور محبت آمیز گفتگو کے باوجود فرعون دھمکی اور دھونس پر اتر آیا:”قَالَ لَئنِ اتَّخَذْتَ اِلٰھًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْن“ (الشعراء:29)کہنے لگا: سن لے اگر تونے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ہر ظالم وجابر اور باطل کے علمبردارحکمراں کا یہی وطیرہ ہے کہ وہ دلیل کے میدان میں شکست کھاتا ہے توآخری حربہ کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتاہے، کہ یا تو ہمارے غلط کوبھی صحیح مانو ورنہ سزاکے لئے تیار ہوجاؤ، فرعون موسی نے بھی یہی کیا تھا اور فرعون وقت بھی یہی کررہا ہے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فرعون اور قوم فرعون نے بنی اسرائیل اور موسی کوفسادی اور دہشت گرد تک کہا حالانکہ یہ خود فسادی اور سب سے بڑے دہشت گردتھے۔”وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُمُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْافِی الْاَرْض“(الأعراف:127)اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا: آپ موسی اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں۔ایک طویل دعوتی جدوجہد، مناظرے، مباحثے اور معجزات کے ظہور کے باوجود جادوگروں کے علاوہ صرف چند نوجوانوں نے ہی اسلام قبول کیا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاہے:”فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی اِلَّا ذُرِّیَّۃ’‘ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَاءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ“ (یونس:83)پس موسی علیہ السلام پر ان کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، (وہ بھی) فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف کے باوجود کہ وہ انہیں آزمائش میں ڈال دے گا۔ اور بےشک فرعون یقینا زمین میں سرکش ہے اور بے شک وہ یقینا حد سے گزرنے والوں میں سے ہے۔ جس کے بعد ایک بار پھر بنی اسرائیل پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے، تو بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے شکوہ کیاکہ آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کی آمد کے بعد بھی ہمیں ایذاہی دی گئی۔ (الأعراف: 129) موسی علیہ السلام نے انہیں صبر وتوکل اور اللہ سے مدد طلب کرنے کی تلقین فرمائی۔ ارشاد الہٰی ہے:”قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰہِ وَاصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ“ (الأعراف:128) موسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:اللہ تعالیٰ سے مددطلب کرو اور صبر کرو، یقینا زمین اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے مالک بنادے، اور انجام کار متقیوں کے لئے ہے۔ نیز ارشاد الٰہی ہے:”وَقَالَ مُوْسٰی ٰیقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ“ (یونس:84)اور موسی نے کہا:اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو۔بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام کی نصیحت کو دل سے قبول کیا اور زبان سے اقرار بھی کیا کہ ہم صرف اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس کے ساتھ دودعائیں کیں (یونس:85-86) اور یہ دونوں دعائیں ظالم حکمرانوں کے ظلم سے بچنے کے لئے اکسیر ہیں پہلی دعا یہ ہے کہ:”رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن“اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنا۔ اس دعا میں فتنۃ کالفظ مصدر ہے جو بمعنی اسم فاعل بھی ہوسکتاہے اور بمعنی اسم مفعول بھی، اگر اس کواسم فاعل کے معنی میں لیں تواس دعا کا مطلب یہ ہوگا کہ”اے اللہ توہمیں ان ظالموں کو فتنے یعنی کفر میں ڈالنے کاباعث نہ بنا کہ اگر یہ ہم پر مسلط رہے اور ہم مسلسل ان کے ظلم کانشانہ بنے رہے تواپنے سچے اوربر حق ہونے کے فتنے میں پڑجائیں گے اور کفرمیں مزید پختہ ہوجائیں گے اور سمجھیں گے کہ اگر مسلمان سچے اور حق پر ہوتے تو ان کا رب ضرور ان کی مددکرتا۔ بقول آغاحشرکاشمیری:
حق پرستوں کی اگر کی تونے دل جوئی نہیں
طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کاخداکوئی نہیں
اور فتنہ کومصدربمعنی اسم مفعول ماننے کی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ہمیں ان ظالموں کی وجہ سے فتنے میں پڑجانے والے نہ بناکہ ان کے ظلم وتشدد کی وجہ سے ہمارا کوئی فرد ارتداد میں پڑکر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اور دوسری دعایہ ہے کہ”وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ“ اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافروں سے نجات دے۔موجودہ حالات میں ہم مسلمانوں کواس دعا کو حرز جان بنا لینا اوراپنی ہر نماز میں شامل کرلیناچاہئے۔
ایمان والوں کی اس دعاکو اللہ عزوجل نے شرف قبولیت سے نوازا اور موسی علیہ السلام کوحکم دیاکہ وہ بنی اسرائیل کولیکر راتوں رات مصر سے نکل جائیں (الدخان:23) فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب کے لئے ایک لشکر جرار تیار کیا، اس کے نزدیک تویہ کام نہایت عقلمندی کاتھا کہ اس نے پورے ملک سے اپنی ساری قوت اکٹھی کی تاکہ بنی اسرائیل کوزبردستی دوبارہ اپنی غلامی میں واپس لے آئے یا انہیں نیست ونابود کردے، مگر اللہ کی تدبیر غالب ہے اس نے فرعون کی چال اسی پر پلٹ دی اور اس کی سلطنت کے بڑے بڑے ستون اورتمام فوجیں ایک ہی وقت میں سمندربرد کردی گئیں۔ ارشاد الہی ہے: ”بالآخرہم نے انہیں باغات،چشموں،خزانوں اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا، اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان (تمام چیزوں) کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا، پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے، توجب دونوں (جماعتوں) نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسی کے ساتھیوں نے کہا، ہم یقینا پکڑ لئے گئے، (موسی نے)کہا: ہرگزنہیں، یقین مانو! میرارب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راہ دکھائے گا، سوہم نے موسی کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی لاٹھی مارو، پس وہ پھٹ گیا اور (پانی کا) ایک ایک حصہ بڑے پہاڑ کے مثل ہوگیا، اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک لاکر کھڑا کردیا، اور موسی (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے بچا لیا، پھر دوسروں کو ڈبودیا، یقینا اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کے اکثر لوگ ایمان والے نہیں۔(الشعراء:57-67)فرعون اور اس کے لشکروں کی غرقابی اور موسیٰ علیہ السلام و اہل ایمان کی نجات وکامرانی کا یہ واقعہ عاشوراء (دس محرم) کے دن پیش آیا، جیساکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:”قدم النبی ﷺ المدینۃ فرأی الیھود تصوم یوم عاشوراء، فقال: ماھذا؟ قالوا: ھذایوم صالح، ھذایوم نجی اللہ بنی اسرائیل من عدوھم، فصامہ موسی، قال: ”فأنا أحق بموسی منکم“ فصامہ وأمر بصیامہ۔(بخاری:2004)کہ نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو آپﷺ نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء (دس محرم) کے دن روزہ رکھتے ہیں، آپﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھادن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی، اس لئے موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھرموسی(علیہ السلام) کے (شریک مسرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں“ چنانچہ آپﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اس کاحکم دیا۔ اس طرح ظلم وبربریت اور جبر وتعدی کایہ پتلا اپنے انجام کو پہونچا اورتا قیامت آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کاسامان کرگیا کہ ظلم توظلم ہے بڑھتاہے تومٹ جاتاہے اور صبر وثبات، استقامت و استقلال اور توکل علی اللہ کرنے والے متقین بہر حال اچھے انجام اور فلاح وکامرانی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
حاصل مطالعہ:
‌‍⁦✒⁩اگر انسان پر کوئی مصیبت اور ابتلا وآزمائش آجائے تو ضروری ہے کہ صبر و رضا کے ساتھ اس کو انگیز کرے، ایسا کرنے سے اس کو خیرعظیم حاصل ہوگا اور یقینا ایک دن ایسا انسان ضرور فائزالمرام ہوگا۔⁦
⁦✒⁩جوشخص اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ اور اعتماد رکھتاہے اور اسی کوخلوص دل کے ساتھ اپنا پشتیبان سمجھتا ہے تواللہ ضرور اس کی مشکلات کو آسان کردیتا ہے، اور اس کے مصائب کو راحت وآرام اور خوش حالی سے بدل دیتاہے۔
‌⁦✒⁩اگر اللہ کاکوئی بندہ حق کی نصرت وحمایت کے لئے سرفروشانہ کھڑا ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ دشمنوں ہی سے اس کے معاون ومددگار پیداکردیتاہے۔(القصص:20)
⁦✒⁩صبر کاپھل ہمیشہ میٹھا ہوتاہے خواہ اس کے حاصل ہونے میں کتنی ہی تلخیاں اوراذیتیں برداشت کرنی پڑیں”وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ بِمَا صَبَرُوْا“ (الأعراف:137)اور آپ کے رب کا بہترین وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا۔
‌⁦✒⁩باطل کی طاقت کتنی ہی زبردست اور پرازشوکت وصولت کیوں نہ ہو انجام کار اس کو نامرادی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ بالآخر دونوں جہاں کی کامیابی صاحب ایمان اور متقیوں کی قدم بوسی کرتی ہے۔(الأعراف:128)
‌⁦✒⁩اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ جابر وظالم قومیں جن قوموں کو ذلیل وحقیر سمجھتی ہیں اور ان پر ظلم و زیادتی کرتی ہیں ایک دن آتاہے کہ وہ کمزور قومیں اللہ کی زمین کی وارث اور حکومت و اقتدار کی مالک بن جاتی ہیں۔(القصص:35)
⁦✒⁩کسی قوم پر ظالم وجابر حکمراں کامسلط ہونا اس حکمراں کے عند اللہ مقبول ہونے کی دلیل نہیں بلکہ وہ ایک عذاب الہی ہے جو محکوم قوم کی بداعمالیوں کی پاداش میں ظاہر ہوتاہے۔(الأعراف:167،ابن ماجہ: 4019)
⁦✒⁩فرعون اپنے تکبر ونخوت میں اس قدر اندھا ہوگیا تھا کہ اس نے موسی کا پیچھا کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ موسی سمندر سے گزرگئے تومیں بھی گزرجاؤں گا، معلوم ہوا کہ تکبر وغرور انسان کوپرلے درجے کابے وقوف بنادیتاہے،خواہ وہ فرعون موسی ہویافرعون ِوقت۔‌⁦✒⁩اگر اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان واعتقاد کے ساتھ اس پر توکل بھی ہوتوبڑی سے بڑی طاقت اور فرعونی لاؤلشکر بھی اہل ایمان کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا، بالآخر کامیابی اہل ایمان ہی کوملتی ہے۔
✒⁩اللہ تعالیٰ جس دن ظالموں، جابروں اور فرعونوں کی لگام کھینچ لے اور ان کومہلت دینا بند کردے توبڑی سے بڑی سپرپاور بھی پل بھر میں نیست ونابود ہوکر رہ جاتی ہے۔
⁦✒⁩اے وقت کے فرعون! تواہل ایمان کے رب کے لشکر کونہیں جانتا،”وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُو“
رہے ہیں اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک

مگر کیاغم کہ میری آستیں میں ہے یدبیضا!
(اقبال،بال جبریل)📖📚📓⁦✏⁩
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے