سنیوگ یا پریوگ!

Spread the love


مشرّف عالم ذوقی
ہوشیار آدمی بھی کبھی کبھی جذبات میں دل کی بات کہہ جاتا ہے۔ پردھان منتری کے لئے ایسا سوچنا غلط بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہوشیاری سے ، علامتوں سے کام لیتے ہوئے وہ سب کچھ کہ دیا ، جو انکے دل میں تھا۔ اور یہ علامتیں آسانی سے اس بڑے طبقہ کی سمجھ میں بھی آ گئیں ، جیسا کہ مودی چاہتے تھے۔ مودی کی پہلی تقریر کے بعد نہ صرف دلی انتخاب کے مزاج میں تبدیلی آئی بلکہ این آر سی ، سی اے اے کے پیچھے جو انکی فکر ہے ، وہ بھی کھل کر سامنے آ گئی۔ انہوں نے صاف طور پر جے این یو ، جامعہ ، شاہین باغ کے حوالہ سے کہا کہ یہ سنیوگ یا اتفاق نہیں بلکہ پریوگ ہے۔ سنیوگ اور پریوگ کوئی معمولی جملہ نہیں ہے۔ کیا تقسیم سنیوگ تھا یا پریوگ ؟ کیا آزادی محض اتفاق سے ملی یا وہ کیسا پریوگ تھا کہ مسلمانوں کی بڑی آبادی نے تحفظ کے خیال سے ہندوستان میں ہی رہنے کا انتخاب کیا ؟ کیا پاکستان کا بننا سنیوگ تھا ؟ جیسا کہ مودی بار بار تقسیم کے لئے کانگریس کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔ آزادی کی جنگ میں آر ایس ایس شامل نہیں تھی۔ آر ایس ایس کی نظر میں گاندھی کا پریوگ ڈرامہ تھا۔ اب یہ باتیں مودی کے وزیر مسلسل کہتے نظر آ رہے ہیں۔ اس لئے گاندھی کے پریوگ سے زیادہ ان کی پسند ساورکر اور گوڈسے ہیں۔ ساورکر انگریزوں سے بار بار معافی طلب کرتے تھے۔ کچھ ایسے ہی حالات اس وقت زیادہ تر آر ایس ایس لیڈران کے تھے۔ گوولکر انگریزوں سے زیاد ہ مسلمانوں کو خطرناک بتاتے تھے اور آزادی کے پریوگ کے خلاف تھے۔ لیکن آزادی ملی اور پورے ہندوستان کی محنت سے ملی اور یہ صرف سنیوگ نہیں تھا۔ یہ باضابطہ پریوگ تھا۔ اس میں گاندھی کے عدم تشدد کا نظریہ بھی شامل تھا۔ عدم تشدد کا نظریہ ایک ایسی لیبارٹری ثابت ہوا کہ انگریزوں کو یہ طریقہ کار سمجھ میں ہی نہیں آیا اور انگریز ملک تقسیم کر کے چلے گئے۔

چھ برس کی سیاست میں ہم وہیں آ گئے ، جہاں آزادی سے پہلے تھے۔ پہلی بار چھ برس بعد مودی کے خلاف ، فسطائی طاقتوں کے خلاف اسی طرح نعرے لگاہے گئے ، جیسے غلامی کے وقت انگریزوں کے خلاف لگائے گئے تھے۔
پانچ برس تک مودی اور امیت شاہ کے خلاف ملک کے باشندوں کو بولتے ہوئے خوف کا احساس ہوتا تھا۔ جبکہ پانچ برسوں میں یہ حکومت نفرت کی بازیاں کھیلنے میں مصروف رہی۔ جب حکومت سیاہ قانون لے کر آئی تو مودی اور امیت شاہ کا ہدف سامنے آیا۔ پہلے مسلمان اٹھے۔ خواتین اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کیونکہ اب پانی سر سے اوپر ہو گیا تھا اور اب شہریت کو بچانے ، آشیانے کو محفوظ رکھنے کی باری تھی۔ پھر ملک کے دانشور اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اس لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ شخص گوولکر کے راستے پر چلتا ہوا پریوگ کر رہا تھا۔ برہمن واد کا قیام۔ پہلے مسلمانوں کو ہٹاؤ پھر دلتوں کو یا تو ہٹاؤ یا پاؤں کے نیچے رکھو۔ چندر شیکھر جیسے دلتوں نے اس پریوگ کو سمجھا تو دلتوں اور مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلے۔ ہندو بھائیوں نے بھی دیکھا کہ فسطائی طاقتیں مسلمانوں کو بھی کھوکھلا کریں گی ، ان کو بھی۔ جمہوریت اور آئین کا خاتمہ ہوا تو زندگی مشکل ہو جائے گی۔ وہ بھی احتجاج میں کود پڑے۔ گاندھی نے مثال پیش کی تھی۔ ملک بدلو ڈرامہ کا پریوگ شر پسند طاقتوں نے کیا۔ اور یہ کویی سنجوگ نہیں۔ اس ڈرامہ کی ریہرسل یہ لوگ ٢٠٠٢ میں کر چکے تھے۔ ٢٠٠٢ میں میڈیا گجرات حکومت کے خلاف تھی۔ پریوگ تو کامیاب رہا لیکن ان دو سیاست دانوں کے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ یہ پریوگ ہندوستان میں کرنا ہے تو پہلے تخت پر بیٹھنا ہوگا۔ پھر میڈیا کو ہاتھ میں لینا ہوگا۔ تخت کیسے حاصل ہو ، یہ حساب صاف تھا۔ پچیس کروڑ مسلمانوں کو الگ کرو اور سو کروڑ کا ووٹ حاصل کرو۔ مودی نے ٹوپی نہیں پہنی۔ یہ علامت کام کر گئی۔ ہندو راشٹر کی تعمیر کے لئے مودی کا سکہ چل گیا۔ لیکن پانچ برسوں میں گجرات جیسا پریوگ آسان نہیں تھا۔ اس کے لئے سیاست کی دوسری اننگ کی ضرورت تھی۔ دوسری اننگ کی شروعات ہوتے ہی گجرات ماڈل پوری طرح سامنے آ گیا۔ میڈیا کو خرید لیا گیا۔ زہر کی کھیتی ہونے لگی۔ ہندوستان سلگنے لگا۔ فسادات بڑھنے لگے۔ جمہوریت اور آئین کو خطرہ پیدا ہونے لگا۔ پھر سیاہ قانون آیا تو لوگوں کی آنکھیں کھلیں۔نوجوان سڑکوں پر آ گئے۔ جے این یو ، جامعہ اور شاہین باغ کی تحریک نے مودی کو ہلا دیا۔ آزادی کیوں ؟ جواب تھا….غلامی سے آزادی۔ فسطائی طاقتوں سے آزادی۔ اور یہ مانگ جب پورے ملک میں شروع ہوئی اور اس کی گونج عالمی سیاست میں ہوئی تو مودی اور امت شاہ کا ہل جانا واجب تھا۔ انھیں احساس ہوا کہ یہ وہی عدم تشدد کا کھیل ہے جو گاندھی نے انگریزوں کے لئے شروع کیا تھا۔ اب یہ مٹھی بھر ہندوستانی انگریزوں کی جگہ انھیں بھگانا چاہتے ہیں۔ اب یہ سنجوگ نہیں ، وہی گاندھی والا پریوگ ہے . تشدد پیدا ہو ، اسکی بھی کوششیں کر کے دیکھ لیں۔پولیس کو لگایا۔ فائرنگ کرائی۔ مگر اس کے باوجود تحریک میں شامل افراد تشدد سے دور رہے۔ پھر یہ بیان بھی آیا کہ سیاہ قانون کے حمایتی بھی اپنی تحریک شروع کریں۔ ظاہر ہے ،یہ لوگ تشدد پر آمادہ ہوں گے۔ اور چاہیں گے کہ دوسری طرف سے بھی تشدد کی شروعات ہو۔
مودی نے سنیوگ اور پریوگ کے فرق کو سمجھا ہے۔ اور اس لئے اپنی تقریر میں صاف طور پر اشارہ دیا ہے کہ اگر انکا پریوگ ناکام رہا تو ہندو راشٹر نہیں بنے گا۔ شاہین باغ پریوگ کامیاب رہا تو پرانا ہندوستان واپس آ جائے گا۔
اس تقریر کے بعد کسی حد تک دلی والوں کے مزاج میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مگر ان کے ذہن میں جتنا زہر بھرا ہوا تھا ، پریوگ کو علامت بنا کر مودی نے سب کچھ کہہ دیا۔ اب ملک کے عوام کی آزمائش ہے کہ وہ گجرات جیسا پریوگ چاہتے ہیں یا گاندھی کے نظریے والا ہندوستان۔
(مشرف عالم ذوقی سینئر صحافی و ناول نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے