آزادی پر چھائے خطرات کے یہ بادل!

Spread the love


ابھے کمار

ملک بھر میں یوم آزادی تقریب کی تیاریاں چل رہی ہیں۔کورونا وبا کی وجہ سے اس سال جوش و خروش تھوڑا کم دکھ رہا ہے۔مگر کورونا سے متعلق پریشانیاں وقتی ہیں۔کچھ مدت کے بعد زندگی ضرور معمول پر لوٹ آئے گی۔مگر ملک کی آزادی کو کچھ ایسے بھی خطرات درپیش ہیں جو کورونا سے بھی زیادہ مہلک دکھ رہے ہیں۔وبا تو انسانوں کو بیمار کر سکتی ہے اور کمزوروں کی جان لے سکتی ہے۔مگر جو خطرات کے بادل ملک کی آزادی کے اوپر منڈلا رہے ہیں وہ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو رائیگاں کر سکتے ہیں۔
ملک کو سب سے بڑا چیلنج ان لوگوں سے ہے جو کبھی بھی آزادی کی لڑائی میں شامل نہ تھے۔آج ایسے لوگ ہم سب کے حاکم بن بیٹھے ہیں اور ‘دیش بھکتی’ کا درس دے رہےہیں۔مگر ان کا اصل مقصد حب الوطنی نہیں بلکہ بھارت کی روح کو ختم کرنا ہے۔وہ بھارت کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اور تشخص کو بھگوا رنگ سے رنگنا چاہ رہے ہیں۔ان کی پوری کوشش ہے کہ ہندوستان کے خوبصورت باغیچوں سے مختلف اقسام کے پھولوں کو اکھاڑ بھینک دیا جائے۔ان کی کوشش یہ ہے کہ باغیچوں میں صرف ایک ہی رنگ اور بو کا پھول رہے۔وہ کثرت میں وحدت کے نظریہ کے علاوہ محکوم طبقات کےحقوق پر بھی حملہ کر رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جد و جہد اور قربانیوں کے بعد ملک کو آزادی اور محروم طبقات کو حقوق ملے۔یہ صحیح ہے کہ آزادی کی لڑائی میں ‘انڈین نیشنل کانگریس’ کا بڑا رول رہا ہے۔مگر اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ گانگریس کی تشکیل سے پہلے ہی آدی واسیوں نے انگریزی حکومت کے خلاف علم بغاوت تھام لیا تھا۔جہاں کانگریس سے جڑے ہوئے رہنما قانونی طریقے سے آزادی کی بات کر رہے تھے، وہیں آدی واسی، دلت، مزدور، کسان اور دیگر محروم طبقات اپنے اپنے انداز اور طریقہ کار سے انگریزوں سے لڑ رہے تھے۔کانگریس کی قیادت ان علیٰ ذات کے ہاتھوں میں تھی جو بیرون ملک میں تعلیم یافتہ تھے۔ان میں وکلاء کی تعداد کافی تھی۔یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ بیشتر مواقع پر کانگریس سرمایہ دار، اعلیٰ ذات اور زمیندار کے توسط سے ہو رہے استحصال پر خاموش رہی۔ گانگریس کی لڑائی ہندوستانی بنام انگریزی حکومت کی ‘بائینری’ پر مرکوز رہی۔’نیشنل ازم’ یعنی قومیت پر بات کرنا کانگریسی لیڈران کے لیے آسان تھا۔کئی موقوں پر کسانوں اور مزدورں کی بات تو کانگریس نے اٹھائی، مگر جب فیصلہ کن مرحلہ آتا، تو وہ پیچھے ہٹ جاتی۔

آزادی کی لڑائی میں گانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں نے بھی حصہ لیا تھا اور ان کی قربانی کسی سے کم نہیں ہے۔۱۸۵۷کے بعد مسلمانوں کے اوپر انگریزوں کا غصہ بجلی کی طرح ٹوٹ کر گرا۔ انگریزوں کے اندر یہ تصور جڑ جما کر بیٹھ گیا کہ مسلمانوں نے ہی ان کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔تادیبی کاروائی میں دہلی کو اجاڑ دیا گیا۔مغلیہ سلطنت کا آخری چراغ اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر دیا گیا۔ بڑی تعداد میں دہلی کے مسلم شرفاء، ادباء اور علماء کو ہجرت کرنی پڑی۔کئی کئی دنوں تک دہلی جلتی رہی۔انگریزی پالیسی میں دانستہ طور پر مسلمانوں کو نوکری اور اقتدار سے دور رکھا گیا۔دھرے دیھرے مسلمان پسماندگی کے دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

یہ بات اس زمانہ کے بائیں بازوں کو سمجھ میں آگئی تھی اور انہوں نے اپنی الگ ‘کمیونیسٹ پارٹی آف انڈیا’ بنائی۔بعد کے دنوں میں کانگریس کے اندر سے ہی ایک ‘سوشلسٹ’ گروپ بھی بن کر ابھرا۔کئی مواقع پر کسانوں، مزدوروں اور معیشت کے سوال پر گاندھی جی،جواہر لال نہرو، ایم این رائے اور سبھاش چندر بوس کے مابین ٹکراو بھی دیھکنے کو ملا۔آزادی کے بعد نہرو نے اپنے ہی سابقہ اشتراکی اصولوں سے سمجھوتا کیا اور سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں کے بیچ شادی کرنے کی کوشش کی۔جو مخلوط اقتصادی نظام بھارت میں نافذ ہوا اس میں سرمایہ داروں کو اپنے کاروبار کرنے اور نجی ملکیت رکھنے کی آزادی دی گئی۔مگر ریاست نے تعلیم، صحت عامہ، روزگار، مواصلات اور دیگر اہم شعبے اپنے پاس رکھیں۔کہا یہ گیا کہ سماج میں برابری لانی ہے، مگر یہ امن اور جمہوریت کے راستے سے آئےگی اور سرکار غریب اور محکوم طبقات کے مفاد کو پورا کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔
آزادی کی لڑائی میں گانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں نے بھی حصہ لیا تھا اور ان کی قربانی کسی سے کم نہیں ہے۔۱۸۵۷کے بعد مسلمانوں کے اوپر انگریزوں کا غصہ بجلی کی طرح ٹوٹ کر گرا۔ انگریزوں کے اندر یہ تصور جڑ جما کر بیٹھ گیا کہ مسلمانوں نے ہی ان کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔تادیبی کاروائی میں دہلی کو اجاڑ دیا گیا۔مغلیہ سلطنت کا آخری چراغ اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر دیا گیا۔ بڑی تعداد میں دہلی کے مسلم شرفاء، ادباء اور علماء کو ہجرت کرنی پڑی۔کئی کئی دنوں تک دہلی جلتی رہی۔انگریزی پالیسی میں دانستہ طور پر مسلمانوں کو نوکری اور اقتدار سے دور رکھا گیا۔دھرے دیھرے مسلمان پسماندگی کے دلدل میں دھنستے چلے گئے۔
بعد کے دنوں میں علماء دیوبند نے مدرسہ کھول کر مسلمانوں کی قیادت کی ذمہ داری لی۔ ان کا زور دین سے انحراف کو ختم کرنا تھا۔دوسری طرف سر سید نے تنزلی دور کرنے کے لیے جدید تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ انگریزوں کے خلاف احتجاج کرنے سے مسلمانوں کو گریز کرنا چاہیے۔وہ ایک حد تک اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تشکیل کی۔ان کی وفات کے بعد مسلم لیڈران پر جمال الدین افغانی کا بڑا اثر پڑا۔برٹش حکومت کی استعماری پالیسی سے مسلم قائدین برہم تھے۔۱۹۲۰ کی دہائی میں گاندھی جی بھی ہندوستان کی سیاسی افق پر نمودار ہو چکے تھے۔پھر کانگریس اور جمیعت علماء ہند نے ایک تاریخی اتحاد کیا۔گاندھی جی، مولانا آزاد، علی بردران کی ایسی ٹیم بن کر تیار ہوئی جس نے ہندو مسلم ایکتا اور نوآبادیت کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی۔عدم تعاون تحریک نے انگریزی حکومت کی نیند حرام کر دی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام اسی تحریک سے نکلا، جو مشترکہ قومیت کا سفیر بنا۔
مگر بعد کے دنوں میں فرقہ پرست طاقتوں نے تخریب کاری شروع کر دی۔۱۹۲۰ کے اخیر کے بعد کانگریسی پالیسی نے مسلمانوں کو مایوس کیا۔جب کانگریس کی سرکار بنی تو اقلیتوں کے اندر یہ ڈر بیٹھنے لگا کہ یہ کہیں ‘ ہندو پرست’ پارٹی تو نہیں ہے؟ کل تک گانگریس کی معاون رہی مسلم لیگ کانگریس کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔پھر جو ہوا وہ بر صغیر کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب تھا۔ملک کی آزادی کی شہنائی تقسیم ملک کی چیخ و پکار میں گم ہو گئی۔
آزادی کے دواران دلت، آدی واسی، پسماندہ ذات کی اپنی تحریکیں بھی چل رہی تھیں۔کئی مواقع پر کانگریس کے ساتھ ان کا تصادم بھی ہوا۔بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے پیروکار تھے، مگر وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ آزاد بھارت میں دلتوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے مفادات کو پہلے یقینی بنائی جائے۔جنوبی بھارت میں متحرک پیریار کانگریس کے بڑے ناقد تھے۔ان کا ماننا تھا کہ یہ ایک اعلیٰ ذات کی پارٹی ہے۔مگر جب ملک آزاد ہوا تو امبیڈکر نہرو حکومت میں پہلے وزیر قانون بنے۔دستور سازی میں بھی بابا صاحب نے اہم رول ادا کیا اور محکوم طبقات کے مفادات اور نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔مگر قانوں ساز اسبلی نے مسلمانوں اور عیسائوں کے ساتھ نا انصافی کی اور انہیں ریزرویشن سے دور رکھا۔اچھی بات یہ ہوئی کہ دلت، آدی واسی کو ریزرویشن ملا اور اقلیتوں کو اپنے مذہب پر چلنے کے آئینی تحفوظات مہیا کرائے گئے۔
دریں اثنا، ہندوتو طاقتیں ہندستانیوں کو دھرم اور مذہب کے نام پر باٹنے میں مشغول رہیں۔آزادی ملنے کے کچھ ہی مہینوں بعد ایک شدت پسند نے باپو کا قتل کر دیا۔گاندھی جی کا خون بہا کر بھلے ہی شدت پسندوں کا کلیجا ٹھنڈا پڑ گیا ہو، مگر عوام نے بھگوا عناصر کو اپنی نظروں سے گرا دیا۔سیاست سے وہ لمبے وقت تک الگ تھلگ رہے۔مگر جب سیکولر پارٹیوں نے خود ہی غلطی کرنی شروع کر دی اور ووٹ کی خاطر اپنے اصولوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا شروع کر دیا، تب رفتہ رفتہ فرقہ پرست طاقتیں پھیلنے لگیں۔آج عالم یہ ہے کہ وہ بھارت کی سیاست میں سب سے بڑی طاقت بن کر ابھر چکی ہے۔
فرقہ پرست طاقتوں کی کامیابی دیکھئے کہ آج آئینی نظریہ سیکولرازم ایک برا لفظ بنا دیا گیا ہے۔سیکولر جماعتوں کو ہندو مخالف قرار دے دیا گیا ہے۔اقلیتی حقوق کو مسلمانوں کی ‘منہ بھرائی’ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ملک کا سب سے بڑا لیڈر آج مندر بنوانے کے لیےخود پوجا پر بیٹھ جا رہا ہے اور میڈیا اس پر سوال کرنے کے بجائے تعریف میں قصیدہ پڑھ رہا ہے۔دلتوں، محروم طبقات کے ریزیرویشن کو ختم کرنے کے لیے سرکاری نوکریوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ریلوے کو جہاں پرائیویٹ کمپنیوں کو فرخت کیا جا رہا ہے، وہیں نئی بحالی پر روک لگا دی گئی ہے۔الغرض، ملک کو ایک ہی رنگ میں رنگنے اور محکوموں کے حقوق کو غصب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔تبھی تو ملک کی آزادی پر کورونا سے کہیں زیادہ خطرہ نفرت انگیز نظریات بن کر ابھرے ہیں۔

ابھے کمار
Follow
Latest posts by ابھے کمار (see all)

ابھے کمار

Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے