سٹیزن شپ بل، مسلمان اور مشاعرہ

Spread the love


عزیر احمد
ہمارے ایک عزیز دوست نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر لکھا کہ سوچ رہا ہوں کہ CAB (سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل) اور NRC کو روکنے کے لئے آل انڈیا مشاعرہ کرادوں، بظاہر ہم اسے پڑھ کر مسکرا کر آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ اس قوم پر شاندار طنز ہے جسے اپنے ہی حق کے لئے اٹھنے والی آوازیں سنائی نہ دیں، کل یونائیٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے بینر تلے CAB کے خلاف احتجاج کا آیوجن کیا گیا، مسلمانوں نے شرکت کیا، مگر وہی گنتی کے چند لوگ، کہ جن کے دل قوم کے لئے دھڑکتے ہیں، اور وہ بھی اکثریت جے.این.یو کے طالبعلموں کی، شاید اگر جے.این.یو کے اسٹوڈنٹس نہ جاتے تو احتجاج اور پھیکا نظر آتا، یہ حالت اس قوم کی ہے جس کی بے بضاعتی اور بے سروسامانی کا رونا ہم لوگ روتے نہیں تھکتے، مگر اس کی خواب غفلت اس حد تک ہے کہ معاملہ جب اس کے وجود پر آ کھڑا ہوا ہے، تب بھی احساس نہیں۔

دہلی میں اتنی بڑی مسلم آبادی ہے، جامعہ اور ڈی یو میں مسلم طلباء کی اچھی خاصی تعداد ہے، مگر وہ لوگ اپنے ہی حقوق کی لڑائی کے لئے آگے نہیں بڑھتے ہیں، اور تعجب خیز امر ہے کہ وہ غیر مسلموں سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان کی لڑائی لڑیں، بھئی غیر مسلم یہ لڑائی کیوں لڑیں گے؟ وہ تو پہلے ہی سے محفوظ ہیں, جتنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس بل کو مسلم بنام ہندو نہ بنائیں، ان سے گزارش ہے کہ ایک بار جا کر ڈیٹیل پڑھیں، اسے تو لایا ہی جارہا ہے کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جاسکے۔
یہ بل غیر مسلموں کے لئے ایک قسم کے راحت کے طور پر ہے کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بفرض محال اگر آپ کا نام لسٹ میں آنے سے رہ بھی جاتا ہے، تو پڑوسی ممالک کے اقلیت کے طور پر مان کر آپ کو شہریت عطا کردی جائے گی، رہے مسلمان، تو ثابت کرنا انہیں کی ذمہ داری ہے، جس ملک میں منسٹر اپنی ڈگری نہیں دکھا پاتے ہیں، اپنے پڑھے اور نہ پڑھے ہونے کو عوام کے سامنے ثابت ہی نہیں کر پاتے، اس ملک میں اب مسلمان لائن میں لگ کر اپنی شہریت ثابت کریں گے کہ ہاں اس کے آباء و اجداد اسی ملک کے تھے، اور جب لسٹ بنے گی، تو لسٹ میں ہینڈریڈ پرسنٹ گڑبڑی ہوگی، کہیں باپ کا نام آئے گا تو بیٹے کا نہیں، بیٹے کا آئے گا تو ماں کا، بالکل ایسے ہی جیسے آسام میں ہوا ہے، ایک ہی گھر پریوار میں کچھ لوگ ہندوستانی ثابت ہوئے، اور اسی گھر کے کچھ لوگوں کا نام لسٹ میں نہ آنے پر غیر ملکی قرار دے کر انہیں ڈیٹینشن کیمپ میں ڈال دیا گیا، جس کے تعلق سے میں نے ایک ویڈیو بھی شئیر کی ہے، جو میرے ٹائم لائن پر موجود ہے، احباب اسے دیکھ سکتے ہیں۔
اس پورے پروسیس میں غیر مسلموں کا کچھ نہیں بگڑنے والا، یہ مکمل ٹو نیشن تھیوری ہے جسے ایک زمانے میں ریجیکٹ کردیا گیا تھا، اس کے خلاف لڑائی مسلمانوں کو ہی لڑنی ہوگی، کوئی لائحہ عمل بنا کر، یا تو این.آر.سی کا بائیکاٹ کریں، یا مسلمانوں کا ایلیٹ طبقہ وفد کی شکل میں ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات کریں اور اس کے خلاف پورے ملک میں ماحول بنائے۔
کیب پر عام مسلمانوں کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ خاموش کیوں ہے؟ ریختہ کا پروگرام ہوتا ہے, ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہونچ جاتے ہیں، امانت اللہ خان جامعہ میں مشاعرہ کرواتا ہے، تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی ہے، لیکن وہیں نجیب غائب ہوجاتا ہے، کشمیر پر قید و بند کے پچاسیوں دن گزر جاتے ہیں، مگر دلی کے باسیوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی، جو بھیڑ بریانی کے دکانوں پر دکھتی ہے، وہ بھیڑ کبھی جنتر منتر پر نظر کیوں نہیں آتی، سمجھ سے پرے ہے؟ کیا اس مسلم قوم کے لئے سب کچھ بریانی اور مشاعرہ ہی ہے؟ کیا اس کے نوجوانوں کے نزدیک عشق, محبت, گلاب, غازہ, گلال سے بڑھ کر دنیا میں اور کچھ بھی نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس قوم کے لئے مودی اور امت شاہ سے بہتر کوئی نہیں، کیونکہ جب تک موجِ حوادث کے دو چار تھپیڑے ان کو لگیں گے نہیں، ان کو سمجھ میں کہاں آئے گا کہ کس طوفانِ ناگہانی میں یہ پھنسنے والے ہیں۔
عادل عفان، ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اپنے فیسبوک ٹائم لائن پر کل کےپروٹسٹ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "یہ جنتر منتر نئی دہلی کا منظر ہے جہاں شہریت ترمیمی بل کے مخالف میں ہزار کے آس پاس لوگ جمع ہوے جن میں نوے فیصد جے این یو کے طلباء تھے، ان میں بھی غیر مسلم طلباء کی ایک بڑی تعداد تھی۔ لیکن افسوس اس بات کی تھی جن کے لئے یہ لوگ لڑ رہے ہیں وہ گھر بیٹھے اپنے حقوق لینا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے اس ہفتے اس خطرناک بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور خدانخواستہ اگر یہ بل پاس ہو جائے تو ملی قائدین کی طرف سے مذمتی بیان آئے گا اور ملت کے ہاتھوں زود و پشیمان اور پھر یہ امت کے مسیحا بن جائیں گے؟ مگر سوال یہ ہیکہ کیا علماء کرام اور نام نہاد ملی قائدین کا کام صرف مذمتی بیان جاری کرنا رہ گیا ہے۔ جو علماء کرام تین طلاق کے مسئلہ پر نقاب پوش عورتوں کو بھی سڑک پر لا سکتے ہیں وہ آج اتنے سنجیدہ مسئلہ پر خاموش کیوں ہے؟ یاد رکھیں شہریت ترمیمی بل ملک میں مسلمانوں کے وجود کیلئے ایک چیلنج ہے اگر ہم اب بھی ہوش میں نہ آئے تو اس قوم کا مستقبل خدا ہی بہتر جانے۔ آج تو دلی کی سڑکیں بھر جانی چاہیے تھی لیکن افسوس نہ جانے ہم کب خواب غفلت سے بیدار ہونگے۔”ہم شاید کبھی بیدار نہیں ہوں گے، ہماری ساری حسیات اس وقت بیدار ہوتی ہیں جب دیوبندیوں کا بریلویوں سے مناظرہ ہو، بریلویوں کا اہلیحدیثوں سے ہو، مدرسوں میں سر پھٹول ہو، کرسیوں کے لئے لڑائی ہو، پھر دیکھئے ہماری حسیات۔
مودی اور امت شاہ اس وقت ہر وہ کام کررہے ہیں جس سے مسلمانوں کو مصیبت میں مبتلا کیا جا سکے، مودی اور امت شاہ نے الیکشن میں وعدہ کیا تھا کہ تین سو ستر ہٹائیں گے، ہٹا دیا، وعدہ کیا تھا رام مندر بنوائیں گے، رام مندر کے حق میں فیصلہ آگیا، گھس پیٹھیوں (مسلمانوں پڑھئیے) کو ملک سے باہر کردیں گے، سو پروسیس شروع ہوچکا ہے، یہ آپ کو ملک سے تو نہیں نکال پائیں گے، ہاں مگر ڈیٹنشن سینٹر میں ضرور ڈال سکتے ہیں، اور جن کو یہ سب باتیں محض باتیں لگتی ہیں وہ ذرا چائنا پر نظر ڈال لیں، ری ایجوکیشن کے نام پر کس طرح ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، اور اگر کسی کو یہ بھی لگتا ہے کہ چائنا کا فارمولہ ہندوستان میں کام کرنے والا نہیں تو ذرا کشمیر پر نظر ڈال لیں، شاید آنکھوں کے سامنے کچھ دھندلاہٹ کم ہو، پورے اسٹیٹ کو ڈیٹینشن سینٹر میں تبدیل کردیا گیا، دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے، نہ انہیں دنیا کی خبر ہے، نہ دنیا کو ان کی خبر ہے، تو کیا یہ آپ کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا؟
کیب کے بارے میں یوگیندر یادو کہتے ہیں کہ یہ محمد علی جناح اور ساورکر کے دو قومی نظریہ کی نمائندگی کرتا ہے, اگر یہ پاس ہوتا ہے تو یہ ملک کے کردار کو بدل کر رکھ دے گا”. انہوں نے مزید کہا کہ بی.جے.پی آئین اور اور ہندوستان کی روح کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے، آسام کے این.آر.سی میں مسلمانوں کے ساتھ بہت سارے غیر مسلم بھی لسٹ سے خارج کر دئیے گئے تھے، اس لئے بی.جے.پی CAB لاکر ہندوؤں کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ اگر آپ این.آر.سی کے جال میں پھنس بھی جاتے ہیں تو جب تک آپ ہندو ہیں, آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ این.آر.سی کا نفاذ سماج کے تمام نچلے طبقوں کے خلاف ہے، مگر این.آر.سی پلس CAB سے یہ بات صاف ہے کہ نشانہ صرف مسلمان ہیں۔
سو مسلمانوں سے میری گزارش یہی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں, اس وقت ملک میں تھوڑی بہت جو سیکولر طاقتیں بچی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ملک میں بڑھتے ہوئے فاشزم کے سائے کو روکنے کی کوشش کریں، کل بھی آر.ایس.ایس کے نظریات حامی افراد ملک کو ٹکڑوں میں بانٹ دینا چاہتے تھے، اور ہم ملک کی حفاظت کے لئے کھڑے تھے، اور ایک متحدہ ملک چاہتے تھے، آج بھی وہ اس طرح کے بل لاکر ملک کو بانٹنا چاہتے ہیں، اور آج بھی ہم ہی اس پیارے ملک کی حفاظت کرنے والے بنیں گے، لیکن اس کے لئے Awareness بہت ضروری ہے، غیر مسلموں سے بہترین تال میل ضروری ہے، انہیں بتایا جانا ضروری ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے یہ اقدامات ملک مخالف ہیں، یہ معیشت کے لئے جھٹکا ثابت ہوسکتی ہیں، یہ فرقہ وارانہ کھائی کو بڑھانے والی ہوسکتی ہیں، ملک کی حفاظت کے لئے اس کی مخالفت ضروری ہے۔

2 thoughts on “سٹیزن شپ بل، مسلمان اور مشاعرہ

  • دسمبر 8, 2019 at 9:40 صبح
    Permalink

    This bill is against constitution and every individual has to oppose this bill.

    Reply
  • دسمبر 8, 2019 at 12:37 شام
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا آپ نے مسلم قائدین اور تنظیموں کی بے حسی پر جس قدر اشک بہائیں وہ کم ہے ، ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس مسئلے کی حساسیت کا علم ہی نہیں ہے شاید یہی وجہ ہے کہ وہ خود تو آگے نہیں آتے اور اگر کوئی غیر اس مسئلے کو لیکر آگے بڑھتا بھی ہے تو ہم اس کا ساتھ نہیں دیتے، یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اس جیسے حساس معاملے میں بطور احتجاج چند ہی لوگ نظر آتے ہیں اور اس میں بھی زیادہ تعداد غیر مسلموں کی ہے ، اگر یہی حالت برقرار رہی تو پھر اس قوم کو تباہی اور ذلت سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا ۔
    بہترین تحریر پر آپ کو پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں 🌹🌹

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے