شہریت ترمیمی قانون ہندو – قومی ریاست کی توثیق ہے!

Spread the love


پروفیسر عرفان احمد، میکس پلینک انسٹیٹیوٹ، گوٹنگن، جرمنی
ڈاکٹر سعد احمد، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔

بھارتی جمہوریت کے مستقبل کے لئے شہریت ترمیمی قانون کا کیا مطلب ہوگا، اس سوال کے جواب میں میں کہوں گا کہ یہ بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے کے پروجیکٹ کو قانونی طور سے مظبوط کرنے کے لئے ہے۔ آئیے اسے سمجھیں۔
شہریت ترمیمی قانون دراصل ایک مخصوص،نسلی راشٹریہ سویم سیوک (آر ایس ایس) کی ہندو قومیت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہے۔آر ایس ایس ایک نیم فوجی ہندوتو کے نظریہ کو آگے بڑھانے والی تنظیم ہے جس کے مطابق اقلیتوں خصوصا مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہندووں کی برتری قائم کرتے ہوئے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔وزیر اعظم نریندرا مودی آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جو کہ آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے، دونوں کے رکن ہیں۔
سی اے اے کا تعلق شہریت سےہے۔ آئیے ہم دیکھیں کیسے ہندوتو کے اہم دانشوران وی ڈی ساورکر (۱۹۶۶)، اور ایم ایس گاولکر (۱۹۷۳) کے تصور میں شہریت کا نظریہ کام کرتا ہے۔ ساورکر نے اپنی کتاب ہندوتو (۱۹۲۳) میں ہندوستانی اور ہندو کو ہم علاقہ بنایا تاکہ ہندوستانیت کے تصور کو اپنے وضع کئے ہوئے مذہبی اصطلاحات میں پیش کریں۔ ساورکر کے نزدیک صرف وہی ہندوستانی ہے جو ہندوستان کو مقدس زمین (پونیہ بھومی) سمجھتا ہے۔ ساورکر کی تصویر پارلیمنٹ ہال کی زینت ہے ۔ انہیں پچھلے وزیر اعظم اے بی واجپئی اور مودی خراج عقیدت پیش کر چکے ہیں۔ عیسائی اور مسلمان اس طرح غیر ہیں، ہندوستان مخالف ہیں لہذا ان کے لئے بھارت مقدس نہیں۔ مزعومہ بابائے پاکستان محمد علی جناح سے بہت پہلے ہی ساورکر نے لاجپت رائے کی ۱۸۹۹ کی ریزولیوشن کی اتباع کی تھی؛ کہ ہندو اور مسلمان الگ الگ قوم ہیں۔مسلمانوں کو بطور شہری ماننا ساورکر کے لئے نا ممکن تھا۔ ۱۹۴۲ میں ساورکر نے لکھا کہ بطور ریاست اور بطور قوم کے بھارت کو چاہیے کہ”مسلمانوں کو اولین دشمن ہی سمجھیں“۔ ”انہیں کوئی حق نہیں ، نہ ہی قانونا اور نہ ہی اخلاقا کہ وہ، مزید دعوی کرتے ہوئے، کہ وہ ”مساوی حق“ مانگیں۔ ساورکر نے ”دشمن“ کی عورتوں کا ریپ کرنے کے لئے بھی جواز پیش کرتے ہوئے اسے ” فر ض عظیم“ سے تعبیر کیا۔ ساورکر کی طرح گولوالکر نے بھی یہ مانا کہ ” غیر ہندو عوام ملک میں رہ تو سکتے ہیں۔۔۔مگرمکمل طور سے ہندوقوم کے ماتحت بھی کیا ، ان کے لئے کچھ نہیں چاہا حتی کہ شہری حق بھی نہیں۔ سی اے اے کے اکثر ناقدین کے نزدیک ، ایک جامع شہریت وہی ہے جسےبھارت نے ایک جمہوریت کی حیثیت سے کانگریس پارٹی نے کے پیش کیا تھا۔ یہ نکتہ، بہرحال، غلط ہے۔ شہریت کا نظریہ اور کانگریس کی کارکردگی؛ جسے برطانیہ نے اپنا تسلط سونپا تھا اور جس نے آزادی ہند کی نمائندگی کی، بھی نسلی۔مذہبی لہروں سے مبّرا نہیں۔ اُس وقت شہریت حق مواطنت اورحق مواطنت وراثی(jus sanguinis) دونوں کے عناصر پہ مشتمل تھی۔ جبکہ ماقبل الذکر حق مواطنت ((jus solis پیدائش اور اقامت کی بنیاد پر تھی، شہری (سِوک) اور جامع ہے، اور موخر الذکر کی بنیاد نسل اور قرابت پر ہے، نسلی۔استثنائی ہے۔
اگست ۱۹۴۷کے وسط میں،ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ اور پاکستان کے وجود پذیر ہونے پر نظریہ شہریت نےخاصہ زور پکڑا۔ بہرحال، بھارت کا آئین ۱۹۵۰ میں عمل میں آیا اور شہریت ترمیمی قانون اس کے بہت بعد ۱۹۵۵ میں ۔ شہری کی اصطلاح کو غیر واضح چھوڑتے ہوئے آئین کا دوسرا حصہ شہریوں کو غیر شہری، مہاجرین، اور اجنبیوں سے امتیاز پر منحصر رہا۔ انوپما رائے، نظریہ شہریت کی ماہر ہیں، وہ ۱۹۵۵ تک کے عرصہ کو ایک ”قانونی خلاء“ کہتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ہندوستانی شہریت ” آئین میں تدوین کی شروعات میں ہی تہذیبی تعلقات پر زور دیا“۔ شہریت قانون میں مزید دوترامیم ۱۹۸۶ اور ۲۰۰۳ میں ہوئیں جس نے حق مواطنت وراثی (jus sanguinis) پر حق مواطنت ((jus solis کو اختیار دیا۔ مذہب کو ایک زمرے میں شامل کرنے کی وجہ سے جو کہ ان کے تجزئیے کا اہم پہلو ہے، رائے کہتی ہیں کہ عوام کی شہریت پر مشتمل بہت سے اہم تجرباتی مسائل نے مذہبی طور سے شئی کی توضیح بھی کی۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ نہرو جو کہ سیکولرزم کے بانی قرار دیئے جاتے ہیں، ان کے دور حکومت میں لفظ سیکولر کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ان کی وفات کے بعد ۱۹۷۰ کی دہائی میں اس لفظ کو آئین میں داخل کیا گیا، نہرو کی لفظیت والے سیکولرزم کا اثر حکومتی پالیسیوں میں بہت کم رہ گیا۔ آئین میں داخل کئے جانے کے بعد جلد ہی اسے بدنام کی گیا۔ آج سیاسی پارٹیوں کی بحثیں بھارت کے سیکولر ریاست ہونے پر نہیں بلکہ اس پر ہے کہ کون ہندو مخالف ہے اور کون نہیں۔
شہریت ترمیمی قانون میری بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ دراصل نسلی۔مذہبی شناخت پر مبنی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا کہ
کوئی بھی ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی یا عیسائی افغانستان، بنگلادیش یا پاکستان سے ہو تو ”اس سے غیرقانونی مہاجر کے طور سے سلوک نہیں کیا جائے گا“ یہ مسلمانوں کو اس تعریف سے نکال باہر کرتا ہے۔ میرے اختلاف پر کوئی یہ اعترض کر سکتا ہے کہ یہ ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو ہندو نہیں۔ بہرحال ہندوستان کا آئین سکھ مت، جین مت، اور بدھ مت کو ہندو مت سے الگ شمار نہیں کرتا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے ہے عیسائی بی جے پی کی بحثوں میں تھے ہی نہیں۔ مثال کے طور سے، بی جے پی کے ۲۰۱۴ کے الیکشن کا منشور بھارت کو محض ہندووں کا ”فطری گھر“ گردانتا ہے۔ ایدورڈ لیوس لکھتے ہیں ۔عیسائیوں کو شامل کرنے کا خیال بعد کا اضافہ ہے تاکہ مغرب کے قائدین خصوصا ڈونالڈ ٹرمپ اور بورس جانسن کو بطور مظلوم عیسائیوں کے مسیحا کے خوش کیا جاسکے۔ وہیں دوسری طرف، عالمی اہمیت کا حامل بننے کے لئے پارس جماعت بہت چھوٹی ہے۔ ان کا ذکر کرنا پان۔ہندوازم کو سب کو لے کر چلنے والآ باور کرا سکتا ہے۔
یہ بھی قابل غور ہےکہ حکومت گزٹ کے سی اےاے کےاعلان میں ”ستائے گئے ہندووں“کا کوئی ذکر نہیں۔ سی اے اے کے حامیان نے ”ستائے گئے“ کا استعمال صرف قانون کو جواز دینے کے لئے کیا ہے۔ سی اےاے سے بہت پہلے، ۲۰۰۳ کے ترمیم شدہ قانون نےاس پان۔ہندوازم کو عمل میں لایا تھا۔ تب ہی
نئے بیرون ملک بھارتی شہر ی کے زمرے کا قانون بنانے کے لئے بھارتی عوام کی تشریح سےبنگلادیشیوں اور پاکستانیوں کو خارجکرکر ناموزوں قرار دیا گیا۔ پاکستان اور بنگلادیش کا تعیین کر استثنائی حلقه میں رکھنا ساورکر کے نظریہ ہندوستان بطور ایک مقدس سرزمین کو مزید جواز فراہم کرتا ہے۔ تقابلی طور سے دیکھیں تو یہ پان۔ہندوازم ہٹلر سے پہلے اور اس کے دور والی پان۔جرمنیت سے مشابہت رکھتا ہے۔
سی اے اے،جس کے بارے میں یو این کے سیکریٹری جنرل خائف ہیں کہ یہ ہزاروں انسانوں کو بلا وطن کر سکتا ہے،اور قومی شہری رجسٹر جسکے نفاذ نے آسام میں انسانوں جانوروں کی طرح حراستی کیمپوں میں پھینک دیا اس گتھی کو سلجھانے کے لئے ایک الگ بحث کی ضرورت ہے۔ میں اپنی بات، عورتون کی رہنمائی میں چل رہے شاہین باغ کے مظاہرے سے متعلق ملاحظات پر ختم کرتا ہوں۔ شاہین باغ نئی دہلی کا ایک مسلمان محلہ ہے جو کہ ملکی پیمانے پر ہورہے مظاہرہ کی علامت بن چکا ہے۔ شاہین باغ مشہور مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے متصل ہے جہاں میں نے ۱۹۹۴ میں اپنی بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس وقت یہ علاقہ نامعلوم تھا ، خصوصا ہندوستان کے شرفاء کے لئے۔
ہندوستانی جمہوریت میں شاہین باغ کا وجود شرفاء اور روشن خیالوں کو بھی حیران کررہا ہے۔ کیا یہاں بیٹھنے والی عورتیں، بوڑھی، جوان، پردہ والی اور بنا پردہ والی، پڑھی لکھی اور ان پڑھ باہر اپنی خوشی سے آئیں ہیں؟ کیا ان کے باپ اور شوہروں نے انہیں سڑکیں جام کرنے کی اجازت دی تھی؟ وہ عورتیں جنمیں ایک بڑی تعداد انگریزی بولنے اور سمجھنے والوں کی ہے ہیں میڈیا سے بات کرنے سے بھی نہیں کتراتیں، کیسے وہ اسلام کے تئیں اپنے عزم اور آئینی حقوق کا مظاہرہ ایک ساتھ کر رہیں ہیں؟ کیسے ان عورتوں نے دوسرے مذہب والوں کے ساتھ اتحاد بنایا جو فعال ہوکر مدد اور معاونت بھی کررہے ہیں؟کیسے انہوں نے امن کے ساتھ مزاحمت کو جاری رکھا جبکہ مودی اور ہندوتو کا حامی کپل گُجّر شاہین باغ کے احتجاجی خیمہ میں گھس گیا،اپنی بندوق لہرائی اور گولیاں چلا دیں؟ گُجّر کے اعلان ”ہندو ہی غالب رہیں گے“ کے باوجود شاہین باغ مسلسل انسانیت کا سبق سکھانے والی تحریک کیسے بنی۔؟یہ حیرت کی بات نہیں کہ شاہین باغ کی عورتوں نے
اتر پردیش کے وزیر اعلی اور ہندو پنڈت یوگی ادیتیہ ناتھ کے ذریعے مظاہرین کے خلاف ”بدلے“ کی پرتشدد بحث کوامن اور جمہوری بین المذاہب یکجہتی میں بدل کر تشدد کی سیاست پر پھبتیاں بھی کسی ہیں۔
شاہین باغ کے ذریعے کھڑے کئے گئے سوالات نے مروجہ روایت کو بھی توڑا ہے جسمیں ایک معاشرے کو حقیر تر، اور کم تر دکھایا جاتا ہے۔ یہ سوالات اخلاقی یکجہتی، لاحزبیت ،خود مختاری، میل جول اور بہت سی چیزیں جسے دستیاب اصطلاحات ایک سانچہ مہیا کرنے سے قاصر ہے پر مبنی ہیں اور جمہوریت کے عمل کے لئے جزء لاینفک بھی۔
۔ عمرانیات کے ماہر طلال اسد کے نکتوں کو ملحوظ رکھیں تو شاہین باغ جمہوریت کے باب میں حساسیت اور اخلاق کے موضوع کو ازسر پیش کرتا ہے۔ اصطلاحات مثلا، سیکولر/مذہبی، قوم پسند/قوم مخالف، انفرادی/جتماعی، ذاتی/سیاسی کے دورخے پن کردار سے ہٹ کر دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہین باغ میں شاہین کے استعارے کے ذریعے سے جمہوریت کی تجدید ہونے کو ہے۔ اردو زبان میں شاہین کے معنی عقاب پرندہ ہے۔ سی اے اے کے نسلی، قومی، امتیازی سلوک کے خلاف شاہین باغ کا ملک بھر میں مظاہرے کی علامت بننا جمہوریت کے مستقبل کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔۔۔ چاہے اس مستقبل کو مسلط طاقت ابھرنے دے یا نہ دے۔

یہ مضمون پروفیسر عرفان احمد، میکس پلینک انسٹیٹیوٹ، جرمنی کے انگریزی مضمون.
، کا ترجمہ ہے ۔Citizen Amendment Act is Confirmation of India as a Hindu Nation-State

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے