کشمیر میں ہو رہی تبدیلیاں مثبت یا منفی؟

Spread the love
A security personnel stands guard to block a road near closed shops while strict restrictions are imposed during a lockdown in Srinagar on September 28, 2019. (Photo by Tauseef MUSTAFA / AFP)

کاشف شکیل
ریاست جموں و کشمیر پر ایک نظر :
جموں و کشمیر بھارت کی سب سے شمالی ریاست ہےاس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش اور پنجاب، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ جموں و کشمیر تین حصوں جموں، وادی کشمیر اور لداخ میں منقسم ہے۔ سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دار الحکومت ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ مندروں کا شہر جموں ہزاروں ہندو زائرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ لداخ جسے "تبت صغیر” بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔کشمیر دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں جموں و کشمیر کو اکثر مقبوضہ کشمیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازع قرار دیا گیا ہے۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بودھ 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔
ریاست جموں وکشمیرتاریخ کے جھرونکے سے:
سن 1546 تک کشمیر ایک آزاد ملک تھا ۔ یہاں کشمیری بادشاہوں کی حکومت تھی۔ کشمیر کا پہلا مسلمان بادشاہ رنچن، جو کہ ایک لداخی تھا، سن 1320 میں بادشاہ بنا۔ وہ اصل میں بدھسٹ تھا۔ وہ ایک پنڈت کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں ہندو مذہب اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ اس پنڈت نے رنچن سے کہا کہ ہندو پیدا ہوتا ہے کسی کو ہندو نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے بعد وہ حضرت بلبل شاہ صاحب کے پاس گیا جنہوں نے اسے کلمہ پڑھایا۔سن 1546 میں کشمیریوں کی غلامی اس وقت شروع ہوئی جب اکبر بادشاہ نے کشمیری حکمران یوسف شاہ چک کو دھوکے سے بسواک بہار بلاکر خود کشمیر پر حملہ کروایا۔ اس سال تک کشمیر میں جتنے بھی حکمران آئے تھے، چاہے وہ ہندو تھے یا مسلمان، وہ مقامی کشمیری تھے۔اکبر بادشاہ نے سن 1546 میں سری نگر پر چڑھائی کی۔ اس نے کشمیری بادشاہ یوسف شاہ چک کو دھوکے سے بسواک بہار بلایا اور خود کشمیر پر حملہ کروایا۔ یہیں سے کشمیریوں کی غلامی کا آغاز ہوا۔ کیونکہ سن 1546 تک کشمیر میں جتنے بھی بادشاہوں نے حکومت کی تھی، چاہے وہ ہندو تھے یا مسلمان، وہ مقامی تھے۔ اکبر بادشاہ کے حملے کے بعد پھر مغلوں نے یہاں سن 1755 تک حکومت کی۔‘مغلوں کے بعد کشمیر میں افغانیوں کی حکومت قائم ہوئی جو سن 1819 تک جاری رہی۔ افغانیوں کے بعد رنجیت سنگھ نے کشمیر کو فتح کیا اور یوں یہاں سکھوں کی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ سکھوں کی حکومت سن 1846 تک جاری رہی۔ رنجیت سنگھ نے پھر کشمیر کا سودا کرکے اسے مہاراجہ گلاب سنگھ کو بیع نامہ امرتسر کے تحت بیچا اور اس طرح یہاں ڈوگرہ راج شروع ہوا۔ ڈوگرہ راج یہاں ایک سو ایک سال تک جاری رہا، یعنی سن 1846 سے شروع ہوکر سن 1947 میں ہندوستان کے ساتھ مشروط الحاق تک جاری رہا’۔آخری ڈوگرہ مہاراجہ، مہاراجہ ہری سنگھ نے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون نافذ کیا جس کے تحت یہاں کوئی بھی غیر ریاستی شہری زمین نہیں خرید سکتا تھا۔اسٹیٹ سبجیکٹ قانون مہاراجہ نے سن 1927 میں بنایا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نہیں چاہتا تھا کہ بیرون ریاست سے لوگ آکر یہاں زمین خریدیں۔ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں کسی ایک سے الحاق کر لیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں۔چنانچہ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کو بھی یہ اختیار ملا۔ ہری سنگھ ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی کے ساتھ نہیں جانا چاہتے تھے بلکہ ‘آزاد’ ہی رہنا چاہتے تھے لیکن اکتوبر 1947 میں قبائلیوں کے، جنہیں پاکستان کی پشت پناہی حاصل تھی، کے کشمیر پر حملے کی وجہ سے انہیں بہ حالت مجبوری ہندوستان کے ساتھ مشروط الحاق کرنا پڑا تھا۔ہندوستان کے آخری گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ ہری سنگھ کو خط بھیجا کہ آپ ہندوستان اور پاکستان میں سے کس سے الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واپس لکھا کہ میں کسی کے ساتھ بھی نہیں جانا چاہتا ہوں۔ دراصل مہا راجہ آزاد رہنا چاہتے تھے۔ اگر پاکستان حملہ نہیں کرتا تو یہاں حالات کچھ اور ہوتے۔ مہاراجہ ہری سنگھ خود مختار تھے تو خود مختار ہی رہتے۔دراصل مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان اور پاکستان کو سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کو لکھا تھا کہ میں الگ رہنا چاہتا ہوں۔ پاکستان نے معاہدے کو قبول کیا تھا۔ اس کے بعد جب پاکستان کی طرف سے حملہ ہوا تو انہیں اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ مشروط الحاق ہوا تھا۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں درج ہے۔ مسئلہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔آگرہ میں مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ واجپائی لاہور گئے جہاں لاہور اعلامیہ جاری ہوا۔ اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ اگریمنٹ کیا۔ شیخ محمد عبداللہ اور ایوب خان سن 1964ء میں اسلام آباد میں ملے۔ یہ مسئلہ کشمیر کی مختصر تاریخ ہے۔
سردار پٹیل اور آرٹیکل 370
پٹیل آزاد ہندوستان کی پہلی حکومت میں وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے ہی دفعہ 370 کے مسودے کو پارلیامنٹ میں پیش کیا۔ شیاما پرساد مکھرجی نے اس کی حمایت کی تھی۔پھر 5اگست 2019ء کو حکومت ہند نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں منقسم کرنے کا اعلان کیا – ۔ اس کے بعد کل تک کرفیو نافذرہا۔ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل اور موبائل کنیکشن بند اور مقامی سیاسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کہتے ہیں؛سردار پٹیل نے ہی دفعہ 370 کے مسودے کو پارلیامنٹ میں پیش کیا۔ شاما پرساد مکھرجی نے اس کی حمایت کی تھی۔ یہ سردار پٹیل ہی تھے جنہوں نے کہا کہ اگر قبائلی کشمیر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اسے چھوڑ دو۔ تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ان حالات میں جو فیصلے لئے گئے تھے وہ درست تھے’۔
جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹریز میں منقسم:
جموں و کشمیر میں جمعرات 31 اکتوبر سے پولیس اور لا اینڈ آرڈر راست طور پر مرکزی حکومت کے تحت ہوگیا، اب جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہو گا جبکہ لینڈ (اراضی) منتخبہ حکومت کے تحت ہوگی ۔ جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون 2019 ء کے مطابق اراضی ، اس کے حقوق جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام کی منتخبہ حکومت کے پاس ہوں گے ۔ اس کے برخلاف دہلی میں جہاں لیفٹننٹ گورنر ہیں ، وہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعہ اس پر عمل ہوتا ہے جو مرکزی حکومت کی ایجنسی ہے ۔ تنظیم جدید قانون کے مطابق جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کی قانون ساز اسمبلی مکمل یا یونین ٹریٹری کے کچھ حصہ کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، سوائے ان معاملات کے جن کا سرکاری احکام اور پولیس کے ضمن میں دستور کی فہرست میں تذ کرہ کیا گیا ہے یا جن کا دستور کے ساتویں شیڈول کی فہرست میں تذکرہ ہے ۔ دہلی اور پوڈوچیری دونوں میں پولیس اور امن و قانون پر لیفٹننٹ گورنر کے ذریعہ مرکزی حکومت کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ دونوں میں ان کی قانون ساز اسمبلیاں ہیں ۔ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سرویس (آئی اے ایس) اور انڈین پولیس سرویس (آئی پی ایس) کے علاوہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) جیسی آل انڈیا سرویسز لیفٹننٹ گورنر کے کنٹرول میں ہوں گی اور یہ جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کی منتخبہ حکومت کے تحت نہیں ہوں گے ۔ سرویسز اور اے سی بی، اروند کجریوال کی زیر قیادت دہلی حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے درمیان تنازعہ کی اہم وجوہات رہی ہیں۔ جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون کے مطابق اراصی سے متعلق امور یونین ٹریٹری کی منتخبہ حکومت کے تحت ہوں گے جن میں اراضی کی مدت کا تعین ، زرعی ارا صی ، اراصی کا فروغ اور زراعی قرضہ جات وغیرہ شامل ہیں ۔لینڈ ریکارڈز کی نگرانی ، لینڈ ریونیو اور آمدنی کے مقاصد سے اراصی کا سروے اور اس سے متعلق دیگر امور منتخبہ حکومت کے تحت ہوں گے ۔ دوسری طرف یونین ٹریٹری لداخ میں پولیس اور لا اینڈ آرڈر راست طور پر لیفنٹننٹ گورنر کے تحت ہوں گے جس کے ذریعہ مرکزی حکومت اس کے انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ تنظیم جدید قانون کے تحت لداخ میں قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی ۔ہائی کورٹ، جموں و کشمیر ، مرکز کے زیر انتظام دونوں علاقوں کے لئے مشترکہ ہوگا ۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ججس جمعرات سے ہائی کورٹ کے مشترکہ ججس ہوں گے ۔ تنظیم جدید قانون کے مطابق آئی اے ایس اور آئی پی ایس کیڈر موجودہ قانون کے تحت ہی خدمات انجام دے گا جبکہ مستقبل میں آل انڈیا سرویسز آفیسرس کی پوسٹنگ یو ٹی کیڈر کے تحت ہوگی۔ جموں کشمیر یونین ٹریٹری اسمبلی میں منتخبہ ارکان کی تعداد 107 ہوگی جس میں از سر نو حدبندی کے بعد 114 تک اضافہ کیا جائے گا ۔ اسمبلی کی 24 نشستیں ہنوز مخلوعہ ہوں گی کیونکہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے تحت ہیں ۔
مُرمو کی کشمیر اور ماتھر کی لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنرکے طور پر حلف برداری:
گجرات کیڈر کے 1985 بیچ کے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے افسر (ریٹائرڈ) گریش چندر مُرمو نےجمعرات کو نو تشکیل مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) کے عہدے کا حلف لیا جموں و کشمیر ہائی کورٹ کےچیف جسٹس گیتا متل نے یہاں واقع راج بھون میں مسٹر مُرمو کو رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر مُرمو کو وزیراعظم نریندر مودی کے معتمد علیہ افراد میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اسی باعث انھیں مرکزی وزارت خزانہ میں محکمہ اخراجات کے سکریٹری کا عہدہ بھی سونپا گیا تھا۔دراصل جب مسٹر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تب مسٹر مُرمو ان کے چیف سکریٹری تھے۔تفصیلات کے مطابق جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور لداخ کے لیہہ میں منعقد ہونے والی دو الگ الگ تقاریب میں گریش چندر مرمو اور رادھا کرشنا ماتھر نے بالترتیب ‘جموں وکشمیر اور ‘لداخ نامی یونین ٹریٹریز کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہیں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل نے حلف دلایا۔راج بھون سری نگر کے خوبصورت لانز میں منعقد ہونے والی تقریب حلف برداری میں چیف جسٹس جسٹس گیتا متل نے مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو کو عہدے کا حلف دلایا۔ قبل ازیں لداخ کے لیہہ میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں جسٹس گیتا متل نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر راھا کرشنا ماتھر کو عہدے کا حلف دلایا۔حلف برداری کی دونوں تقاریب میں سول، پولیس اور فوج کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ تاہم مرکزی حکومت کے کسی بھی وزیر نے تقاریب میں شرکت نہیں کی۔ اس کے علاوہ چنندہ میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کو ہی تقاریب کو کور کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ حلف بردارری کے مقامات کے اندر و باہر اور اس کی طرف جانے والی سڑکوں پر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے۔عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر رادھا کرشنا ماتھر نے نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت کے دوران کہا کہ ہر ایک سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا: ‘میں ابھی اپنی ترجیحات پر بات نہیں کرسکتا۔ ترقیاتی پروگرام پہلے سے موجود ہیں جن سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔ آپ کو ہر ایک سے بات کرنی چاہیے۔ آپ کے یہاں دو کونسل ہیں، یہاں دانشور طبقہ ہے، ہمارے یہاں عام لوگ ہیں، ان کو بتانا چاہیے وہ کیا چاہتے ہیں۔ ہماری ترجیحات ان کے مطالبات کے عین مطابق ہوں گی۔لیفٹیننٹ گورنرس کی حلف برداری کی تقاریب کے موقعے پر جہاں وادی کشمیر میں جاری غیر اعلانیہ ہڑتال 88 ویں دن میں داخل ہوگئی وہیں لداخ کے مسلم اکثریتی ضلع کرگل میں جمعرات کو تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ کرگل میں 31 اکتوبر کو ‘یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ کرگل میں مختلف جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم ‘جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دیے جانے کے ساتھ ہی کرگل کے ساتھ نا انصافی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، وہ نا انصافیوں کو فوراً سے پیشتر ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اگرچہ سالانہ دربار مو کے تحت جموں وکشمیر میں سبھی ‘مو دفاتر سری نگر میں بند ہوچکے ہیں، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق حلف برداری کی تقریب کو سری نگر میں اس لئے منعقد کیا گیا کیونکہ مرکزی حکومت بتانا چاہتی تھی کہ کشمیر اب مکمل طور پر ہندوستان کے ساتھ ضم ہوچکا ہے۔جموں وکشمیر ہندوستان کے ساتھ الحاق کے 72 سال بعد دو حصوں میں تقسیم ہوکر دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل ہوگیا ہے۔جموں وکشمیر ریاست کے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل ہوجانے کے ساتھ ہی یہاں 106 مرکزی قوانین اور آئین ہند کی 9 آئینی ترامیم نافذ العمل ہوگئے ہیں۔ ان میں تعلیم کا حق، بزرگ شہریوں کے فلاح و بہبود سے متعلق ایکٹ 2001، اقلیتوں کے لئے قومی کمیشن ایکٹ، خواتین، بچوں و معذور افراد کی فلاح سے متعلق ایکٹ، پنچایتی راج سے متعلق آئین ہند کی 73 ویں اور 74 ویں ترامیم قابل ذکر ہیں۔جموں وکشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے مطابق مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں 107 رکنی قانون سازیہ ہوگی یعنی یہاں اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔ تاہم مرکز کے زیر انتظام لداخ میں قانون سازیہ نہیں ہوگی۔ قانون کے مطابق 31 اکتوبر سے جموں وکشمیر میں پولیس اور امن و قانون کی بھاگ ڈور مرکز کے ہاتھ میں ہوگی تاہم زمین سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے کا حق منتخب حکومت کو ہوگا۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا مشترکہ ہائی کورٹ ہوگا۔ 20 اضلاع پر مشتمل ‘یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیرکی آبادی ایک کروڑ 22 لاکھ 58 ہزار 433 ہے جبکہ ‘یونین ٹریٹری آف لداخ جو کہ دو اضلاع پر مشتمل ہے، کی آبادی 2 لاکھ 90 ہزار 492 ہے۔
جموں وکشمیر ڈاون گریڈ ہوا:
رکن پارلیامان و ماہر قانون جسٹس (آر) حسنین مسعودی کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت نے آئین کو پامال اور درکنار کرتے ہوئے ہماری ریاست کا درجہ کم کیا ہے جس پر جشن نہیں منایا جاسکتا۔حسنین مسعودی کہتے ہیں؛‘ہماری تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ جب جموں وکشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق ہوا تو اس کو ایک خصوصی درجہ دیا گیا۔ اب ہماری ریاست کا رتبہ کم کرکے اسے ایک میونسپلٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ آئین ہند میں جو طریقہ کار ہے اس کو عمل میں لایا نہیں گیا۔ متعلقین کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ آئین کو پامال اور درکنار کرتے ہوئے ہماری ریاست کا درجہ کم کیا گیا۔ جشن منانے کی کوئی وجہ نہیں’۔وہ مزید کہتے ہیں؛‘آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے کہ ایک ریاست کے ٹکڑے کرکے اس کو یونین ٹریٹریز میں بدل دیا جائے۔ آئین کی دفعہ تین میں پارلیامنٹ کو یہ اختیار ہے کہ وہ دو یونین ٹریٹریز کو ملاکر ایک ریاست بنا سکتا ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ریاست کی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا یا اس کی سفارش حاصل کی جانی چاہیے تھی۔جسٹس حسنین مسعودی کا کہنا ہے کہ یونین ٹریٹری کے منفی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اداروں کو ختم یا ضم کیا جارہا ہے۔ پانچ اگست کے فیصلوں سے جموں وکشمیر میں ہر ایک شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا کہنا ہے؛‘یونین ٹریٹری کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اداروں کو ختم یا ضم کیا جارہا ہے۔ پانچ اگست کے فیصلوں سے جموں وکشمیر میں ہر ایک شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ریاست کی اپنی تاریخ، شناخت اور پہچان ہوتی ہے، وہ ختم ہوگئی۔ تصور کریں کہ اگر کسی اور ریاست کے ساتھ ایسا کیا گیا ہوتا تو ردعمل کیسا ہوتا؟’۔
حکومت کی نظر میں آرٹیکل 370 اور 35 اےد ہشت گردی کے گیٹ وے:
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نےکہا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے دہشت گردی کا گیٹ وے تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ختم کرکے اس گیٹ وے کو بند کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح مسٹر مودی نے جموں و کشمیر کو ہندوستان میں باقاعدہ طور سے شامل کرکے بڑے مسئلہ کوحل کیا ہے مسٹر شاہ نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک 550 ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا اور سردار پٹیل نے ان تمام ریاستوں کو ہندوستان میں ضم کرکے ایک ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب دیکھا تھا۔اس وقت جموں کشمیر کا ہندوستان میں انضمام تو ہو گیا تھا لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے ملک کے لئے بڑا مسئلہ بن گئے تھے۔
کشمیری مزدوروں کا درد:
کشمیر کے کولگام میں مغربی بنگال واقع مرشد آباد کے 5 مزدوروں کا قتل جب شورش پسندوں نے کیا تو مقتول کے اہل خانہ کو تو جیسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ پھر بعد میں ایک زخمی مزدور کے انتقال کی خبر بھی سامنے آ گئی۔ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی مہلوک سبھی مسلم مزدوروں کے گھر والے یہ سوچ کر حیران ہیں کہ آخر یہ سب کیسے ہو گیا۔ ایک مہلوک قمرالدین کے بڑے بھائی 34 سالہ ساحر کئی بار کشمیر جا کر مزدوری کا کام کر چکے ہیں، وہ پھر کشمیر جانا چاہتے تھے، لیکن یہ ارادہ انھوں نے ترک کر دیا ہے۔ وہ ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے نمناک آنکھوں سے کہتے ہیں کہ ’’ہم نے کئی دہشت گردانہ حملے دیکھے ہیں، لیکن انھوں نے مزدوروں کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ اس بار کیا ہو گیا؟ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کشمیر اب بدل چکا ہے۔ اچھی ملازمت ملنے پر بھی اب ہم وہاں نہیں جائیں گے۔
جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ ہے اس پر چین، پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو بولنے کا حق نہیں: ہندوستان
وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے جموں وکشمیر اور لداخ کے بارے میں چینی وزارت خارجہ کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اس مسئلے پر ہندوستان کے موقف سے اچھی طرح واقف ہے۔ جموں وکشمیر ریاست کو جموں وکشمیر اور لداخ کے دو مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں تقسیم کرنا مکمل ہندستان کا داخلی امر ہے۔رویش کمار نے کہا، ’’ہم چین سمیت دیگر ممالک سے امید کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے داخلی امور پر اس طرح سے تبصرہ کرنے سے اجتناب کریں جیسے ہندوستان بھی دیگر ملکوں کے داخلی امور پر تبصرہ کرنے سے بچتا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر ممالک ہندوستان کی اقتدار اعلیٰ اورعلاقائی سالمیت کا احترام کریں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے بڑے علاقوں پر چین قابض ہے۔ اس نے 1963 کے چین۔پاکستان معاہدے کے تحت پاک مقبوضہ کشمیر(پی اے کے) کے کچھ علاقے کو غیرقانونی طورپر حاصل کیا ہے۔ ہندوستان 1947 میں غیر قانونی طریقے سےقبضہ کیے گئے علاقوں پر مبینہ چین۔ پاکستان مالی گلیارے کے منصوبوں کے سلسلے میں چین اور پاکستان دونوں کو اپنی تشویش سے آگاہ کرتا رہا ہے۔
(یو این آئی، قومی آواز، دی وائر اور وکیپیڈیا کے ان پٹ کے ساتھ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے