مدارس کے نصاب میں تبدیلی: ایک جائزہ

Spread the love

۱۱ ستمبر، ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
آج کل سوشل میڈیا پہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی کو لیکر گرما گرم بحث چھڑی ہوئی ہے، بحث میں حصہ لینے والے مدارس کے طلباء بھی ہیں، اور یونیورسٹیوں کے طلباء بھی، دلائل دونوں طرف سے دئیے جارہے ہیں، جدید تعلیم سے وابستہ طبقہ اس بات پہ مصر ہے کہ مدارس کا نصاب موجودہ زمانے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے، اس لئے اس میں تبدیلی ناگریز ہے، جب کہ علماء طبقہ کہہ رہا ہے کہ جو ہے صحیح ہے، جیسا چل رہا ہے چلنے دیا جائے، کیونکہ مدارس کا مقصد صرف علماء اور دعاة پیدا کرنا ہے، پروفیسر، سائنٹسٹ یا افسر نہیں.
میرے خیال سے انتہائیں دونوں طرف ہیں، جہاں ایک طرف اس کو مکمل کالج میں تبدیل کرنا بھی صحیح نہیں ہے، وہیں دوسری طرف اس کو فرسودہ حال پہ باقی رکھنا بھی صحیح نہیں ہے، اس میں ہزاروں طلباء پڑھتے ہیں، ضروری نہیں کہ سب طلباء ایک ہی قسم کا خواب دیکھیں.
اگر ہم غیر جانبدارنہ تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مدرسوں کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے، مگر اسی حد تک جس حد تک مدرسوں کے مقصد کو روا ہے، کتنی بھی تبدیلی کی جائے مگر مقصد فوت نہیں ہونا چاہیئے، اور وہ مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مدارس اسلامی ضروریات کے لئے خاص ہیں، یہاں سے علماء اور دعاة کو پیدا کرنا ہے تاکہ وہ ہندوستان میں اسلام کی آبیاری اور اس کی نشو و نما میں معاون اور مددگار ثابت ہوسکیں، اسلام کے پیغام کو لوگوں تک پہونچا سکیں، دعوت الی اللہ کے فریضے کو انجام دے سکیں، اور مسلمانوں کی ان کے ہر میدان میں رہنمائی کرسکیں، انہیں بتاسکیں کہ ان کی سیاسی فیلڈ کے لئے کون سی چیز اسلامی ہے کون سی چیز غیر اسلامی، ان کی معیشت کن بنیادوں پہ قائم ہونی چاہیئے، ایک تکثیری ملک میں ان کا کردار کیا ہو، بطور اقلیت ان کے حقوق کیا ہیں، ان کے افعال وکردار غرضیکہ ہر عمل کے لئے اسلام میں کیا رہنمائی ملتی ہے، اور ان ساری چیزوں کا بہتر اور مکمل طریقے سے حصول اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے نئے زمانے سے ہم آہنگ نہ بنایا جائے.
ممکن ہے بہت سارے لوگ کہیں کہ نہیں، نہیں، مدارس کے نصاب موجودہ زمانے کے بالکل موافق ہیں، میں ان کی بات تسلیم کروں گا کہ کیوں کہ بہت سارے مدارس کے نصاب اپ ٹو ڈیٹ ہوچکے ہیں، بھلے ہی محدود لیول پر، مگر ان میں سائنس اور میتھ وغیرہ پڑھائے جانے لگے ہیں، مگر اب بھی اکثر و بیشتر مدارس ایسے ہیں جہاں اس قسم کی تعلیم کا کوئی رواج ہی نہیں ہے، خاص کر وہ مدارس جو درس نظامی کے تحت چلتے ہیں، مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے مگر صرف نئے مضامین کی شمولیت کی حد تک نہیں، بلکہ پہلے سے موجود مضامین میں ریفارم بھی ضروری ہے، ہمارا قدیم فقہی تعلیم جو چلا آرہا ہے، اس کو Reconstruct کرنے کی ضرورت ہے، اس میں آج بھی زکوة کے نصاب کے لئے اونٹ، گائے، بکری کو پیمانہ بنایا جاتا ہے، رطل، ورق اور پتہ نہیں کس کس سے ناپا تولا جاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم پڑھ کے نکل جاتا ہے اسے زکوة کا سسٹم سمجھ ہی نہیں آتا، یا کتاب البیوع اور اسلامی اقتصاد کے بارے میں وہ پڑھ کے نکل جاتا ہے مگر جب اس کا پالا ان چیزوں سے عملی دنیا میں پڑتا ہے تو اس کے احکام اسے سمجھ ہی نہیں آتے، کیونکہ ہماری فقہی کتابوں میں نئے Terms اور اصطلاحات کو جگہ ہی نہیں دیا جاتا، پوری کتاب البیوع میں مضاربت، مشارکت اور نہ جانے کن کن بھاری بھرکم اصطلاحات کو بھردیا جاتا ہے، کہ جب تک طالب علم انہیں سمجھنے کی کوشش کرسکتا ہے کرتا ہے، پھر تھک ہار کے اسلامی اقتصاد کو سمجھنا ہی نہیں چھوڑ دیتا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ آج مدارس کے لاکھوں طلباء میں سے کتنے لوگ اسلامی اقتصاد یا اسلامی بینکنگ یا میچؤل فنڈ، یا اسلامک مارکیٹنگ یا فائنانسنگ اور اس کے احکام و فرائض سے واقف ہوں گے، میرے خیال سے مدرسوں سے نکلنے والے بہت کم ہی ایسے ہوں گے جو ان مضامین پہ دسترس رکھتے ہوں.

ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارا ہندوستانی فقہی سرمایہ زیادہ تر مسلک کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے، رفع یدین کرنا ہے، نہیں کرنا ہے، نماز سینے پہ باندھنا ہے یا نیچے، غرضیکہ ان سارے چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل پہ اتنی بحث ہوتی ہے کہ کبھی بڑے مسائل کی طرف توجہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی، میں نہیں کہتا کہ ان سب چیزوں پہ بحث و تحقیق نہیں ہونی چاہیئے، ضرور ہونی چاہیئے، مگر اس کے علاوہ روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل پہ بھی دھیان دیا جانا چاہیئے، آپ دیکھئیے کہ جس کو ایک صفحہ کا مضمون لکھتے وقت پسینہ چھوٹ جاتا ہے، وہ بھی مسئلہ فاتحہ خلف الامام یا رفع یدین پہ ایک آدھ کتاب لکھ مارتا ہے.

جہاں تک رہی بات نئے مضامین کے شمولیت کی تو اس سلسلے میں دو طریقے اپنا جاسکتے ہیں.
ایک یہ کہ دسویں کے لیول تک ریاستی نصاب ہی کو پڑھایا جائے، اور اس میں دینیات اور عربی کو بطور سبجیکٹ داخل کیا جائے، ایسے ہی جیسے کہ سرسوتی ودیا مندروں میں ہوتا ہے کہ اس میں ریاستی نصاب کے ساتھ ساتھ سنسکرتی اور دھرم وغیرہ کی تعلیم پہ بھی زور دیا جاتا ہے.
ریاست کا جو تعلیمی نظام ہے اس کے اعتبار سے ایک بچے کی پڑھائی اس کے ابتدائی درجات سے لیکے دس تک کامن (Common) ہوتی ہے، اس میں اسے سارے سبجیکٹس جیسے پولیٹیکل سائنس، سائنس، سوشل سائنس، میتھمیٹکس، اکانومی، اور تاریخ وغیرہ کو پڑھنا ہوتا ہے، پھر بارہویں میں اپنے انٹرسٹ کے اعتبار سے وہ سبجیکٹس Choose کرتا ہے، اگر اسے ڈاکٹر بننا ہوتا ہے تو Biology Discipline کا انتخاب کرتا ہے، انجینئر بننا ہوتا ہے تو Mathematics Discipline کا انتخاب کرتا ہے، یا پھر اسے سوشل سائنسز کی طرف جانا ہوتا ہے تو وہ Humanities کے سبجیکٹس کو اپناتا ہے، دس تک سارے سبجیکٹس کو پڑھائے جانے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ طالب علم تب تک اپنے انٹرسٹ کو Develope کرلے، کوں سا سبجیکٹ اسے پڑھنے میں مزہ آتا ہے، کس سبجیکٹ میں اسے بوریت ہوتی ہے وہ خود فیصلہ کرلے، پھر جو سبجیکٹ اسے پسند آتا ہے، اسی میں وہ آگے کی پڑھائی کرے، اور اس میں Specialization حاصل کرے.
مدارس کو بھی یہی طریقہ اپنانا چاہیئے، دسویں تک سارے مضامین کامن رکھیں، اور اس کے ساتھ ساتھ عربی اور دینیات کی بھی تعلیم دیں، اور اس کے لئے جامع سلیبس تیار کریں، پھر بارہوں میں مکمل طریقے سے اسلامک اسٹڈیز کے سبجیکٹس یعنی قران و حدیث، فقہ، عربی زبان و ادب، اور اسلامی تاریخ وغیرہ پڑھائی جائے، تاکہ بچہ دسویں کے بعد اپنے انٹرسٹ کے اعتبار سے فیصلہ کرسکے کہ اسے ڈاکٹر بننا ہے، انجینئر بننا ہے، یا عالم بننا ہے، تاکہ پھر جو بچے مدرسے میں پڑھیں گے وہ اپنی مرضی سے پڑھیں گے، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین بچے کو بچپن ہی سے مدرسے میں ڈال دیتے ہیں، اسے کچھ سمجھ نہیں ہوتی کہ کیا پڑھنا چاہیئے کیا نہیں، لیکن جب وہ بڑا ہوتا ہے، اور دوسرے سبجیکٹس سے اس کی واقفیت بڑھتی ہے، تو اسے لگتا ہے کا اس کا میدان اسلامیات کے بجائے کچھ اور ہے، لیکن چونکہ مدرسے میں ایک اچھا خاصہ وقت گزار چکا ہوتا ہے، اور اس کے پاس Come Back کرنے کے لئے وقت نہیں بچتا ہے، چارو ناچار وہ مدرسے ہی کی زندگی کو اپنا حرز جاں بنائے رکھتا ہے، پھر نہ وہ اسلامیات کا ماہر ہوپاتا ہے، اور نہ ہی کسی اور سبجیکٹ کا.
ایک طریقہ یہ ہوا جو میں نے ذکر کیا کہ دس تک کی تعلیم مساوی رکھی جائے، پھر بارہویں میں دیگر فیلڈز آف ایجوکیشن جیسے انجینئرنگ، ڈاکٹری، لاء اور ایجوکیشن کے ساتھ ایک فیلڈ اسلامیات کا بھی اضافہ کیا جائے، دسویں کے بعد مدارس کی تعلیم خالص اسلامیات کی تعلیم ہو، تو بارہویں کی دو سالہ تعلیم کا نصاب کچھ اس طرح سے بنایا جائے کہ طالب علم کو قران و حدیث اور فقہیات میں مہارت نہ صحیح پھر بھی بہت کچھ حاصل ہوجائے، اس کے بعد اسلامک اسٹڈیز میں تین سالہ فضیلت یعنی گریجویشن کا کورس ہو، جسے مکمل کرنے کے بعد اگر کوئی چاہے تو ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے اسلامک اسٹڈیز میں ایم.اے، ایم.فل، پی.ایچ.ڈی تک کی ڈگری حاصل کرسکتا ہے.
اس قسم کی تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں علماء کا مقام بہت اونچا ہوجائے گا، اور ان پہ جو یہ الزام لگتا ہے کہ وہ دنیا سے کچھ بھی واقف نہیں ہوتے اس Narrative کا خاتمہ بھی ہوسکے گا، اور دس دس بارہ بارہ پڑھ کے جو لوگ فتوی دینے لگتے ہیں، اور الٹے سیدھے فتؤوں کی وجہ سے معاشرے میں مذاق کا سبب بنتے ہیں ان کا خاتمہ ہوسکے گا، نیز جو اسلامیات کی راہ کو اپنائے گا وہ مجبوری کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ذاتی کی انٹرسٹ کی بنیاد پہ اپنائے گا، پھر زندگی میں آگے چل کے اسے کبھی افسوس نہیں ہوگا کہ کاش اس نے مدرسے میں پڑھنے کے بجائے کالج یا اسکول میں پڑھا ہوتا.
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مدارس کا اپنے حال پہ باقی رکھا جائے، اس میں جو دینیات کا موجودہ سلیبس ہے اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کی جائے، غیر ضروری سبجیکٹس کو نکالا جائے, Repetition کا خاتمہ کیا جائے، نیز کچھ نئے مضامین کو کلاس نو تک شامل کیا جائے، جیسا کہ ابھی یوگی گورنمنٹ نے فیصلہ لیا ہے کہ مدارس میں NCERT کی سائنس اور میتھ کو شامل کیا جائے گا، اس کے ساتھ سوشل سائنس کے بھی ایک دو سبجیکٹ کا اضافہ کیا جائے، مدرسوں کی ذمہ داری ہے کہ ان سبجیکٹس کو محض خانہ پری کے لئے نہ پڑھائے جائے بلکہ اس کا مقصد طالب علم کو ذہنی طور پہ Develope کرنا، اور اسے معاشرے کو سمجھ کر احکام بیان کرنے کا اہل بنانا ہو، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک طالب علم جلدی کسی مرعوب نہیں ہوگا، نہ ہی وہ Inferiority Complex کا شکار ہوسکے گا، پھر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو بآسانی اور مؤثر انداز میں لوگوں تک پہونچاسکے گا.
نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مدارس کو ایک کام یہ بھی کرنا ہوگا کہ کہ مدارس میں عقیدت کی جو لہریں چلتیں ہیں اور جی شیخ، اعلی حضرت کی جو صدائیں بلند ہوتیں ہیں، اسے تھوڑا ختم کرکے طلباء کو اوپن فضا مہیا کرانا ہوگا، ڈیبیٹ اور ڈسکشن کے کلچر کو جنم دینا ہوگا، کسی بھی مسئلے پہ مختلف ناحیوں سے گفتگو کرنا ہی ایک بہتر نتیجے پہ پہونچا سکتا ہے، مدرسوں میں جو فضا ہے کہ استاد جی نے جو کہہ دیا کہہ دیا، تقدس کی تہہ اتنی دبیز ہوتی ہے کہ طالب علم اس سے نکل کر اپنے ذہن کے اشکالات کو صحیح طریقے سے پوچھ ہی نہیں پاتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں حضرت جی ناراض نہ ہوجائیں، ان سب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، اساتذہ کا احترام اور ان سے عقیدت اپنی جگہ، مگر اس میں مبالغہ علم کے حصول کے لئے سم قاتل ہے.
یاد رہے کہ مدارس ہندوستان میں سب سے Best-Structured Schools ہیں، امت کا سب سے زیادہ پیسہ چندے کی شکل میں انہیں کو جاتا ہے، اگر اس کو صحیح طریقے سے Utilize کیا جائے تو اس سے کئی گنا بہتر نتائج مل سکتے ہیں جو ابھی مل رہے ہیں، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے