روٹی کا تعلق ہے! بیٹی کا کیوں نہیں؟

Spread the love


شعبان بیدارؔ صفاوی
بر صغیر ہند و پاک کے بہت سارے علاقوں میں زمانے سے ملک کے ورن سسٹم کے اثرات بطور خاص موجود رہے ہیں، اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہنے والے آپس میں ایک دوسرے سے بیٹی داماد کا رشتہ نہیں بناتے، حالانکہ کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے اور دیگر دینی و سماجی امور میں گروہی عصبیت مانع نہیں ہوتی ۔ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ جب ہم کافر سے مسلمان ہوئے اور دوسری تمام بڑی بڑی جاہلیتیں ہم نے ترک کر دیں تو یہ جاہلیت کیونکر باقی رہ گئی ؟ اس ضمن میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جوموجودہ مسلم ذات سسٹم، خان، ملک ، چودھری ، شیخ ، سید ، صدیقی ، انصاری ،مومن ، نائی ، درزی وغیرہ موجود ہے اس میں کچھ ذاتیں خود کو اعلیٰ جات تصور کرتی ہیں اور دیگر دوسری جاتوں(ذات کو جات لکھنے پر معذرت ہے ) کونیچ خیال کرتی ہیں۔ اور اپنے زعم میں تو ہر ذات خود کو اعلیٰ تصور کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اعلیٰ و ادنیٰ کی ہندوانہ تفریق سماجی طور پر تسلیم کرلی جائے تو کیا اس معیار پر مسلم ذاتوں کا موجودہ سسٹم فی الحقیقت پورا بھی اترتا ہے ؟
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی ذات والی جاہلیت ہندوستانی مسلمانوں میں باقی کیسے رہ گئی اس کا جواب ہر پہلو سے تو معلوم نہیں ہے البتہ بعض اہم پہلو ایسے ہیں جو معلوم ہیں۔ معلوم پہلو یہ ہے کہ جاگیردارانہ ماحول کے پیداوار علماء و فقہاء اور تاریخ نویسوں نے اس امر کی مخالفت کرنے کے بجائے تائید ی رول انجام دیا ، انتہائی سخت بیانات اور کڑوے فتاوے دیئے ۔ان بیانات اور فتاووں کو اپنی کتابوں میں برتا بھی ۔ ظاہر ہے جب علمی دنیا کے افراد اورفہم دین کے نمائندے کسی جاہلیت کو شرافت بنانے پر تل جائیں بطور خاص اس وقت جب ذہن و دماغ میں جاہلیت اس طرح پیوست ہو کہ عادت اور مزاج کا حصہ بن چکی ہو تو پھرایسی سڑاند کا خاتمہ ممکن نہیں رہ جاتا۔
مثال کے طور پر ضیاء الدین برنی اپنی متعدد کتابوں فتاویٰ جہاں داری اور تاریخ فیروز شاہی میں مختلف مقامات پر ذات پات کا بیان انتہائی مکروہ انداز میں کرتا ہے اور اپنے زعم میں کچھ ذاتوں کو اعلیٰ اور کچھ کو ادنیٰ خیال کرتا ہے ۔ برنی کے خیال میں خوبیاں اور خامیاں تما م تر وہبی اور تقسیم شدہ ہیں ۔ عمدہ پیشہ اختیار کرنے والوں کے اندر فضیلتیں ودیعت کردی گئی ہیں، انہیں کو اعلیٰ مناصب حاصل ہونے چاہئیں، حد یہ ہے کہ ﴿ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ سے بھی ملحدانہ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ اس کے بقول ’’ تقدس اشراف کا حق ہے لہٰذا بالفرض اگر کوئی پرہیزگار ہے تو اس کے اجداد میں ضرور اشراف کے عناصر رہے ہوں گے لیکن اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ کم اصل ہے تو پھر اس کا تقدس محض تصنع ہے ۔ اگر اللہ کی نظر میں خانوں، ملکوں اور امیروں کے مقابلے میں قصائیوں ، جلاہوں ، اور دکانداروں کے بیٹوں کی زیادہ عزت ہے تو یہ ایک شرمناک بات ہے ۔‘‘
برنی کی جارحانہ سوچ اور خوبیوں کے وہبی ہونے کا بطلان مزید ملاحظہ ہوں ’’ حکومت کم تر درجے سے آنے والے مسلمان لڑکوں کو تعلیم سے باز رکھے اور جو شخص بھی انہیں تعلیم دینے کی جسارت کرے اسے سزا دینی چاہئے اور صرف یہی نہیں بلکہ اسے جلاوطن کردینا چاہئے ‘‘غور کیجئے تو برنی کی چھٹپٹاہٹ اور اس کے خیالات کا بطلان صاف واضح ہے، تبھی تو وہ غریب اور پسماندہ افراد کو جو اس کے بقول کم اصل ہیں تعلیم سے روکنے پر اصرار کرتا ہے کیونکہ تعلیم اور تہذیب آجانے کے بعد پس ماندہ افراد جاگیر داروں کے برابر ہوجائیں گے۔
سدھارتھ نگر کے ایک گاؤں میں ایک مدنی صاحب نے نسواں اسکول کھول دیا گاؤں میں مختلف برادریاں تھیں اور ان میں کچھ پرانے مالدار تھے، ظاہر ہے غریب اور پس ماندہ طبقات کے بہت سے افراد ان مالدار لوگوں کے کھیتوں اور گھروں میں کام بھی کرتے تھے ، نسواں اسکول کھلنے کے نتیجے میں لڑکیوں نے کاندھے پر کتابوں کا بستہ اٹھا لیا ،مالداروں کو لگا کہ ہم تو ٹھگے گئے اور کچھ ہی سالوں میں ہماری چودھرانہ حیثیت بھی داؤ پر لگ جائے گی، ادھر سردست ہمارے گھروں میں کوئی کام کرنے نہیں آرہا ہے ۔ پھر ہوا کیا کہ انہوں نے مدنی صاحب کی پر زور مخالفت کرنی شروع کر دی ۔
کہنے کا مقصدیہ ہے کہ اعلیٰ و ادنیٰ کی تفریق جاگیرداروں یا مالداروں نے کی ہے اور بلندی و برتری کا حصول تہذیب و تمدن ، علم و اخلاق اور دین و مذہب سے حاصل ہوتا ہے جو کبرو نخوت کے ان پرستاروں کو بھی معلوم ہے اسی لئے تو یہ غریبوں کی اٹھان سے تلملا تے اور دانت پیستے ہیں ۔
کسی مسئلے میں جب نفس پرست مولوی ٹانگ اڑا دیتا ہے تو مسئلہ مزید الجھ جاتا ہے مثل مشہور ہے دو ملّاؤں میں مرغی حرام ! اس مسئلے میں بھی یہی ہوا ہے کہ مولوی صاحبان نے قرآن و حدیث ، عقل و نقل ، قیاس و عرف کے سچے جھوٹے دلائل سے ذات برادری کو خوب خوب تقویت پہنچائی ہے اس ضمن میں کچھ بڑے نام بھی ہیں جن کے تقویٰ اور دینداری پر کلام کی گنجائش کا تصور ہی گمراہی ہے ۔
مثال کے طور پر فاضل بریلوی رضاخان صاحب یوں فرماتے ہیں :’’ جولاہے اور کھال پکانےوالے اور موچی اور نائی ان کے مثل ذلیل پیشہ ور جو اپنے ذلیل پیشوں کے ساتھ مصروف ہیں اگر عالم بھی ہو جائیں تب بھی شرفاء کے کفو نہیں ہو سکتے۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ حصہ سوم : ۱۱۷، مطبوع آستانہ پریس بریلی)
چونکئے نہیں یہ کوئی خان صاحب کا اکیلا معاملہ نہیں ہے حضرت مولانا تھانوی کے خیالات بھی یہی تھے ان کی کتاب شادی ، امداد الفتاویٰ جلد دوم کتاب النکاح اور بہشتی زیور حصہ چہارم ملاحظہ کیجئے تو کچھ نظر آئے گا کہ صورت حال کیا ہے ۔ خیر سے تھانوی صاحب کے مریدین میں بہتوں نے جرأت کرکے اس خیال کی تردید فرمائی لیکن خان صاحب کا حلقہ ارادت آج بھی اسی خیال پر ڈٹا ہوا ہے ۔
اگر آپ یہ خیال کرتے ہوں کہ علماء نے یونہی یہ مسائل بیان فرمادیئے ہیں تو آپ کا یہ خیال درست نہیں ہے اصل میں اس کے پیچھے فقہاء کرام کی تصریحات بھی ہیں ۔ علامہ شامی ، شمس الائمہ سرخسی ، ابن نجیم وغیرہ جہابذۂ وقت کے نام ان فقہا میں سر فہرست ہیں۔
علامہ شامی کی صرف نرمی ملاحظہ کیجئے، فرماتے ہیں اگر کسی آدمی کو اپنا سابقہ پیشہ چھوڑے ہوئے اتنا عرصہ گزرجائے کہ وہ ذہن سے مٹ جائے اور لوگوں کے ذہن میں اس کی تحقیر باقی نہ رہے تو اب اس کے ساتھ پیشہ کی ذلت کا لحاظ نہیں کیا جانا چاہئے ۔
غور فرمائیے علامہ شامی عرف باطل کے کس قدر اسیر ہیں ۔ ایسے مواقع پر جو اہل علم مروجہ اور مزعومہ اعلیٰ ذاتوں سے متعلق ہوتے ہیں مختلف اندازسے اس نقطۂ نظر کی تصحیح پر مائل نظر آتے ہیں ایسے حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ آنجناب عرب و عجم کی تفریق کے بارےمیں کیا خیال فرمائیں گےجہاں عرب لوگ اشراف اور عجم اجلاف قرا ر پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ شامی کو امام ابو حنیفہ وغیرہ اصحاب علم و معرفت کو یوں بچانا پڑتا ہے ۔’’ اگر علم و حسب کا شرف خاندان و نسب کے شرف سے بڑھ کر نہ ہوگا تو کیا امام ابو حنیفہ اور حسن بصری جیسے غیر عربی کسی جاہل قریشی یا اپنے پاؤں پر پیشاب کرنے والے عربی کے کفو نہیں ہو سکتے ۔(رد المختار:ج:۲،کتاب النکاح)
قارئین کرام ! بات اتنی ہی نہیں ہے آپ فقہی کتابوں میں بطور خاص موجود کچھ ذلیل پیشوں کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں۔
پارچہ بافی(جلاہا) حجامی ، دباغت ، درزی گری ، لوہاری، بڑھئی گیری ، بال بنانا، وغیرہ ذلیل پیشے ہیں، ضیاء الدین برنی کے قول میں ہم دکانداری بھی ملاحظہ کرچکے ہیں ۔
غور فرمائیے کپڑے کی صنعت ، سلائی کا پیشہ ، لوہے کی صنعت ، لکڑ ی کی صنعت تمام چیزیں ذلیل ٹھہرتی ہیں پھر اس بات پر دھیان دیجئے کہ پیشوں کا اختیار کرنا اور ترک کردینا ہی شرارت اور نجابت کا باعث ہے ۔پھر تو عہدرواں میں جن خاندانوں میں زمانے سے یہ پیشے رائج ہیں انہیں ذلیل ہونا چاہئے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ پرانے وقت میں کل دولت زمین تھی زمین پر جس کا قبضہ جتنا زیادہ تھا وہ اتنا ہی مالدار، اور اسی مالداری کے بقد ر با عزت ! رہ گئیں صنعتیں تو ان کی وقعت تو بہت دور کی بات ہے انہیں اختیار کرنا ذلت کے مترادف تھا یہ پیشے وہی اختیار کرتے ،جن کے پاس مطلق زمین نہیں ہوتی تھی یا اتنی کم کہ اس کی کوئی حقیقت نہ ہو ۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اونچ نیچ کا یہ تصور محض پیشے پر منحصر ہے اس میں خاندان کا سرے سے کوئی تصور نہیں ہے، زمانے کی سڑانڈ کے شکار ہمارے جو علماء کرام خاندان کے نام پر پیشے پر منحصر مسئلے کی تصریح کرتے ہیں انہیں اپنی ذہنیت کی پرکھ کرنی چاہئے ۔
بڑا عجیب معاملہ ہے ایک آدمی خود کو چودھری کہتا ہے اس کی ماں غیر سماجی اور غیر شرعی طور طریق سے اس کے باپ کے گھر آئی تھی اس کے دادا رکھیل رکھا کرتے تھے نانا جان جانے مانے شریف تھے ۔ ادھر نانی جب نکلتی تھیں تو شہر کے لڑکے حسرت سے مر ے جاتے تھے ۔ ان کی دادی کے تذکرے آج بھی زبانوں پر ہیں۔ صاحب کے بیٹے معروف زور آور ہیں ۔ پھر بھی جناب شریف اور اعلیٰ خاندان کے ہیں دوسری طرف ایک درزی خود شریف او ربا اخلاق ،باپ دادا پڑ دادا تک علم ، اخلاق اور تہذیب کا ایک سلسلہ ! گھر کی عورتوں کے کپڑے بھی غیروں نے نہیں دیکھے پھر بھی نیچا اور رذیل ۔
عقل حیران ہے اور ناطقہ سر بگریباں کہ آخر ذات کے مارے مولویوں کو ہو کیا گیا ہے ۔
اس موقع سے مجھے ایک لطیفہ یا د آرہا ہے ایک مولوی صاحب جو اپنے جبہ و دستار کی بنا پر بڑے نیک اور پارسا مانے جاتے ہیں انہوں نے کچھ بچوں کے بارے میں جب یہ سنا کہ وہ خان ہیں تو ایک استاد سے کہنے لگے ’’ان لڑکوں کے اطوار سے مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ خان ہیں‘‘ ۔ وہ تو خیریت ہوئی کہ وہ کچھ اور نہ تھے، ورنہ وہ صفت ان کی ذات سے منطبق کردی جاتی ۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ وہ بچے انتہائی بھوکے اور غریب گھر سے تعلق رکھتے تھے اور غربت نے ان سے ہر تہذیب چھین لی تھی ایسے میں ان سے آداب کی توقع کیسے کی جا سکتی تھی؟
اب آئیے دوسرے سوال پر غور کرتے ہیں دوسرا سوال یہ تھا کہ اونچ نیچ کا ہندوانہ تصور اگر بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا اس ہندوانہ معیار پر ہمارا موجودہ ورن سسٹم پورا اترتا ہے ۔ اس سوال کا جواب پانے کے لئے یہ دیکھنا ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمان کہاں سے آئے آیا کہ ہم یہیں کے ہیں یا کہیں باہر سے آئے ہیں ظاہر ہے تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ہم ہندوستانی مسلمان باہر سےنہیں آئے بلکہ یہیں کے ہیں باہر سے آنے والے مبلغین کے ہاتھوں ہم نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس حقیقت کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہونے والے یہاں کے ہندو افراد بیشتر نیچی ذاتوں کے تھے اور آج بھی اسلام لانے والے زیادہ ترلوگ نیچی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ اس وقت کا سماجی دھارا کچھ کا کچھ ہو چکا ہے ۔ تصور کیجئے اس زمانے کا جب اعلیٰ ذات کے افراد نیچی ذات کے افراد کی ہواسے بھی بیر رکھتے تھے، پچھلے زمانے کی سینکڑوں بری باقیات آج بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں اگر کسی گاؤں کی پرانی آبادی موجود ہو تو نظر آئے گا کہ نیچی ذات والوں کی بستیاں جنوب میں ہیں ۔ان بستیوں کے جنو ب میں ہونے کا سبب یہ ہے کہ جنوب کی ہوادیگر سمتوں کے مقابلے میں نادر چلتی ہے سو اونچی ذات والے مزعومہ گندی ہوا سے محفوظ ہوجاتے۔
تاریخ جنوبی ہند میں جناب محمود علی خان نے متعد د حوالوں سے لکھا ہے ’’۔۔۔۔جب کبھی پولو گھروں سے باہر کھیتوں میں نکلتے ہیں تو اس اتفاق سے بچنے کے لئے متواتر پولو پکارتے ہیں کہ نائر موجود ہوں تو ہٹ جائیں اور جب نائر اس کی آواز کو سن لیتا ہے تو چلا کر کوکو کہہ دیتا ہے ۔ اس سے پو لیا سمجھ لیتا ہے کہ نائر موجود ہے اور وہ راستہ چھوڑ کر ہٹ جاتا ہے ‘‘
قارئین اس وقت کا سماجی تانا بانا بیان کردہ تصویر سے زیادہ عبرت ناک تھا ایسی صورت میں جب اسلام کی تعلیمات بطور خاص تعلیم مساوات بارش کی طرح ہندوستان کی سرزمین میں برسنے لگی تو پتّہ پتّہ نہا اٹھا، یوں صدیوں سے ذات پات اور کفر و شرک کی غلاظتوں میں لتھڑے لوگ اسلام کی بارش حیات سے خوب خوب فیضیاب ہوئے ۔
بات نہیں بنے گی اگر ہم چند ناموں کا ذکر نہ کر دیں تبھی ہماری سماجی ناک کو کچھ اندازہ ہوگا کہ ہماری اصل حقیقت کیا ہے ھم اہر، یادو، گرڑیا ، پاسی ، کھٹک ، کرمی ، چمار ، نٹ، پتھر کٹ، آدی واسی دھوبی وغیرہ انتہائی پست یا درمیانی برادریوں سے تعلق رکھتے تھے، جب ہم اسلام لے آئے تو با عزت ہوگئے ،اور ہم میں سے کچھ نے اپنے اصل القاب بھی بدل لئے، شاید یہ القاب اصل حقیقت کو چھپانے کے لئے ہم نے بدلے ہوں ،یا کچھ اور وجہ رہی ہو البتہ کچھ ذاتوں نے اپنے القاب نہیں بدلے بھلے ہی آجکل انہوں نے بھی بدلنا شروع کردیا ہو ، مثلاً جولاھے ، دھوبی ، درزی وغیرہ برادریوں کے القاب بوجوہ جوں کے توں باقی رہے۔
یہاں جو بات بتانے کی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری اصل حیثیت جب ایسی ہے تو فخر بالانساب کس بات پر ہے ۔ پھر اسی بنیاد پر آپسی سماجی تفریق کیوں ہے ؟
یہاں ایک اور امر کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد اپنا سر نیم تبدیل کرنا قطعی غلط ہے حتیٰ کہ اگر نام میں کفر و شرک کا شائبہ نہ ہو تو اسے بھی تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں علامہ اقبال کھلے بندوں خود کو پنڈت اور برہمن کہتے رہے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کو کون نہیں جانتا ۔ ان کا سر نیم نائک غیر مسلموں کے یہاں بھی جاری و ساری ہے بلکہ مہاراشٹر کے مسلمانوں میں اصلی سر نیم موجود ہے انہوں نے عام طور پر اصل ذات کے اعتبار سے اپنا سر نیم رکھا البتہ بعض نے مسلم آبا و اجداد کے نام پر بھی اپنے القاب بنا لئے ہیں ۔جو ذات سے زیادہ فیملی پر دلالت کرتا ہے جیسے گاندھی فیملی !
مذکورہ تجربوں کے بعد آئیے ہم چند امور کفاءت پر بات کرنے کے لئے ایک حدیث پاک ملاحظہ کرتے ہیں۔ یاد رہے اسی حدیث کو لے کر کچھ غلیظ سماجی ذہن رکھنے والے نام و نہاد علماء بھی ذات برادری پر زور دار استدلال فرماتے ہیں ذیل کی تو ضیحات میں ان کے استدلال کی حقیقت بھی واضح ہوجائے گی ۔ حدیث پاک بہت مشہور و معروف ہے رسول گرامی فرماتے ہیں :’’ تُنْكَحُ المَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ۔(بخاری:ح: ۵۰۹۰ )
ترجمہ: عورت سے چار باتوں کی بنا پر شادی کی جاتی ہے مال کی بنا پر ، جمال کی بنا پر ، خاندان کی بنا پر ، دین کی بنا پر تم دین کو ترجیح دو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
اس حدیث پاک میں سماجی رجحانات کا بیان ہوا ہےکہ کوئی آدمی کسی عورت سے کبھی مال کی بنا پر شادی کر لیتا ہے ، کبھی اس کی ترجیح جمال پر ہوتی ہے کبھی وہ خاندان کا لحاظ کر لیتا ہے تو کبھی دین کا ۔ یہاں مختلف رویوں کا بیان ہے اور ایسا واقعی ہوتا تھا اپنے ذوق اور اپنے مزاج کے اعتبار سے عربی سماج کسی بھی امر کو اختیار کر تا تھا اگر مال کا لحاظ کر رہا ہے تو خاندان آڑے نہ آتا یا جمال کو ترجیح دے رہا ہے تو مال آڑےنہ آتا وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارے علماء نے اس حدیث کو مخصوص عینک پھر مخصوص نظر سے دیکھا اور نظر حسب پر پڑی پھر کیا تھا سوچا ہم نے خود کو مستند کر لیا فرمانے لگے رسول نے سماجی رویوں کا بیان نہیں شرعی بیان دیا ہے کہ یہ سارے امور معتبر ہیں شادی بیاہ کے حوالے سے ،البتہ ترجیح دین کو حاصل ہے ۔ ہمیں حدیث کے اس مفہوم پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ دوسری شرعی دلیلیں ایک خاص حد تک مال جمال وغیرہ کے لحاظ پر دال ہیں ۔ خواہ سماجی رویوں کا بیان کہیں یا قانونی بیان! تجزیہ کا نتیجہ دیکھئے تو کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا ۔ آئیے ہم حدیث میں ذکر کردہ امور پر سرسری نظر ڈالتے ہیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔
۱۔ مال: رسول نے کہا بہت سے لوگ مال کے سبب شادی کرتے ہیں۔ مال کا یہاں جو تصور ہے وہ مالدار اور غنی کا ہے ۔ البتہ مال کا ضروری تصور حدیثوں میں مشروط ہے ’’مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ‘‘کے اعتبار سے انسان کے پاس اتنا مال ہونا چاہئے کہ بیوی کا نان و نفقہ چلا سکے اس کے پاس گھر بار ہو اگر ایسا نہیں تو آدمی کو شادی کی اجازت ہی نہیں چہ جائیکہ کسی کو بیٹی دینے کی اجاز ت ہو ایک عورت نے رسول گرامی سے شادی کا مشورہ کیا تو آپ نے کہا معاویہ تو انتہائی قلاش ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارتے ہیں ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے شادی کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے مال کا لحاظ رکھا ہے ۔
مال کے سلسلے میں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی درست ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے طرز زندگی میں زمین و آسمان کا فرق نہ ہو ۔ اس کے باوجود کافی مالیاتی تفریق کے ہوتے ہوئے اگر نبھاؤ کےدیگر راستے استوا ر نظر آتے ہیں تو شادیاں ہوتی ہیں ۔
۲۔جمال: جمال میں بھی کفاءت اور برابری کا تعامل ہمارے اعلیٰ حضرات کبھی نہیں کر سکتے، انہیں یورپ کی مشینیں اور مقابلہ حسن کے اصول و ضوابط لانے پڑیں گے، تبھی کچھ ممکن ہوگا کہ جمال میں برابری کا اچھا برا تصور قائم ہو۔ بہر حال شرع میں جمال کا بھی اتنا لحاظ ہے کہ لڑکے اور لڑکی میں شکل و صورت کا بعد نہ ہو، خوبصورت اور بد صورت کا فرق نہ ہو، تاہم اگر وہ رضا مند ہیں تو یہ فرق بھی معنی نہیں رکھتا۔
۳۔حسب: یعنی خاندان ۔ یہ وہ پہلوہے جس پر ہمارے غلیظ ذہن اہل علم کی نظر عنایت زیادہ ہوتی ہے ۔
سواسے جان لینا ضروری ہے کہ خاندان الگ شئے ہے اور ہندوستان میں پیشہ ورانہ بنیاد پر ذاتوں کی تقسیم مختلف چیز ہے اعلیٰ خاندان کسی بھی ذات ، برادری یا قبیلے میں پایا جا سکتا ہے اسی طرح برا خاندان بھی ۔ اس لئے خاندان سے ذات پر استدلال صریح جرأت اور سینہ زوری ہے ۔ تھوڑی سی گہرائی میں جائیں تو خاندان اور دین کے تصور میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہ جاتا ۔
بہر حال خاندان کی صریح حیثیت کے باوجود رسول اور صحابہ نے اس کا لحاظ نہ کیا چنانچہ رسول کی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش کی شادی زید بن حارثہ سے ہوئی ۔ فاطمہ بنت قیس القرشیہ کی شادی اسامہ بن زید سے ہوئی رسول کی دو بیٹیوں کی شادی سیدنا عثما ن اموی سے ہوئی حضرت علی بن حسین معروف بہ زین العابدین کی شادی شہر بانو بنت یزدجر بن شہر یار سے ہوئی ۔ ایسی کتنی ہی مثالیں اسلامی تاریخ میں موجود ہیں ۔
۴۔دین: جس حدیث میں لفظ حسب یعنی خاندان موجود ہے اسی سے زبردستی ذات پر استدلال کرکے ہمارے اعلیٰ حضرات اپنے ذوق پر عامل ہیں ۔ لیکن اسی حدیث میں دین کا لفظ ہے پھر دین کو مستثنیٰ کرکے ترجیح دینے کا خصوصی ارشاد رسول بھی ہے لیکن یہ چیز محض نظری رہ جاتی ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا ۔ ’’ولے تاویل آں در حیرت انداخت ‘‘کے بموجب دین کو بھی ہمارے فقہائے ملت نے سالم نہ چھوڑا فرمایا جدید الاسلام یعنی نو مسلم، قدیم الاسلام یعنی نسلی مسلمان کا کفو نہیں ہو سکتا ۔ فیا للعجب
شادی کے اسی مذکورہ بالا تصور نے سماج کو آگ کے دھانے پر کھڑا کردیا ہے جہیزجیسے بھیانک عفریت اور فضول خرچی کے دانو کی موجودگی میںکسی تیسرے شیطان کی ضرورت نہ تھی لیکن بد قسمتی سے یہ تیسرا بڑا اور زور آور شیطان بھی موجود ہے اور سماج میں فتنہ برپا ہے رسول نے سچ فرمایا تھا : إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ۔(سنن ترمذی: ح: ۱۰۸۴)
کہ اگر کوئی ایسا گھرانہ تمہیں پیغام نکاح دے جس کے دین و اخلاق سے تم راضی ہو تو شادی کر لو ورنہ زمین میں فتنہ پیدا ہوگا اور ایک عظیم الشان فساد برپا ہوگا ۔ آج لڑکیوں کی بغاوت اور ناگفتہ بہ صورت حال ملاحظہ کیجئے تو نظر آتا ہے کہ یہ فساد واقعی برپا ہو چکا ہے ۔
ذات پات کی بھیڑ میں کچھ جعلی سید زادے کہتے ہیں ہم سید زادےہیں ہم ان سے کیا کہیں بس یہی کہیں گے تم اگر سید زادے ہو تو ہم بھی آدم زادے ، نوح زادے اور رسول ﷺ کے امتی ہیں ۔ آخر سید زادگی اگر فی الواقع ہے تو وہ ہماری طرف سے تعظیم و تکریم کا تقاضا کرتی ہے سماجی تفریق کے لئے دلیل کب ہے ؟
ابھی تک جو بات بیان کی گئی اس کا رخ الگ تھا ۔ بات کا یہ رخ بھی خاص توجہ کا ہے جو دراصل بیان کردہ رخ سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ شادی بیادہ میں ذات برادری کا مسئلہ اونچ نیچ کے تصور سے بیشتر نکل کر عصبیت کی کھائی میں گر چکا ہے ۔ عصبیت سے مراد یہ ہے کہ سماجی تصور میں جو برادریاں نسبتاً کمتر مانی جاتی ہیں وہ بھی کسی دوسری برادری میں اپنے بیٹے یا بیٹی کا رشتہ منظور نہیں کرتیں غور کیجئے تو اس امر میں عصبیت بڑے گندے طریقے سے جگہ بنا چکی ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے زمانہ طالب علمی میں کئی ایسے گھرانے جو اپنے معیار پر تو اعلیٰ تھے لیکن سماجی تصور میں کمتر تھے ان کے گھر وں کی لڑکیاں کہیں کمتر مقام پر بیاہی جاتیں تو اعلیٰ و ادنیٰ تمام قسم کے شریف طلباء یہ کہا کرتے تھے کاش میں تیلی ہوتا ، کاش میں جولاھا ہو تا یا کاش درزی اور نائی ہوتا وغیرہ۔
اس لطیف مزاح میں بڑی سچائی موجود ہوتی تھی کیونکہ ہر برادری والا تلاش گمشدہ کی طرح اپنی برادری ہی میں رشتہ ڈھونڈتا ہے اگر کبھی کوئی لڑکا یا لڑکی ان جانے میں بہت پسند آگئے تو بات کرنے سے قبل کسی نہ کسی طور ذات کی تشخیص کر ہی لی جاتی ہے ۔ تبھی گفتگو کا حوصلہ کوئی کرتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے