سی اے بی اور مسلمان

Spread the love


فیض الرحمن
جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
سی اے بی Citizenship Amendment Bill آج لوک سبھا میں بی جے پی کی طرف سے پاس کردیا گیا ہے اور کل راجیہ سبھا میں بھی اس کو ٹیبل کیا جائے گا، اور اللہ نہ چاہے اگر وہاں سے بھی اس کو پاس کر دیا گیا تو وزیر داخلہ کے بقول ہندوستان کے سرحد سے جڑے تین اسلامی ممالک -پاکستان، بنگلادیش اورافغانستان -کے غیر اسلامی مذاہب کے ماننے والوں کو ہندوستان کی شہریت دے کے انہیں ہندوستانی بنایا جائے گا، اور ہندوستان میں موجود مسلمانوں کولائنوں میں لگ کر اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی، اور نہ کرنے کی صورت میں ان کو خارجی اور گھسپیٹھیا قرار دے کر ان سے تمام شہری حقوق چھین لیئے جائیں گے، ان کا حق رائے دہی چھین لیا جائے گا، ان کی زمینیں غصب کر لی جائیں گی ،ان کا کاروبار ختم کر دیا جائے گا اور ان کو بے گھر کرکے یا تو جیل میں بند کر دیا جائے گا یا ڈیٹنشن سینٹر میں ڈال کر ان کی زندگیاں برباد کر دی جائیں گی جہاں لامحدود مدتوں کے لئے مردوں کو الگ ڈیٹنشن سنٹر میں، عورتوں کو الگ ڈیٹنشن سنٹر میں، اور ان کے بچوں کو اپنے ماں اور باپ دونوں سے الگ دوسرے ڈیٹنشن سنٹر میں رکھ کر انسانیت کشی کی جائے گی، جیسا کہ جے ان یو میں اسپیچ دیتے وقت ریٹائرڈ آئ ایس آفیسر ہرش مندر جی نے آسام کے ڈیٹنشن سنٹر کے اپنے آفیشئل وزٹ کا ذکر کرتے ہوئے اپنا آنکھوں دیکھا روداد بیان کرتے ہوئے بتلایا۔
ہم ہندوستانیوں کے پاس ایک سیکولر ہندوستانی ہونے کے ناطے آئین ہند سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں ہے اور آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ ہم ایوان میں اٹھنے والے غیر جمہوری بل کے خلاف آواز بلند کریں اس لئے ہم اپنے اپوزیشن پارٹیوں سے امید کرتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے مان اور سمان کا لاج رکھتے ہوئے کل اس بل کورد کرکے ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کو زندہ رکھیں گے ۔
اس نازک ترین حالات میں جب کہ سی اے بی کے ذریعہ جمہوریت کی مانگ اجاڑی جارہی ہے ،تمام زندہ دل سیکولر ہندوستانی بے چین اور پریشان نظر آرہے ہیں ،تعلیم یافتہ طبقہ اپنی اہم تعلیمی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے باہر نکل کر جمہوریت اور سیکولرزم کو بچانے کی لڑائی لڑ رہا ہے، ہندو مسلم سکھ عیسائی شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ہندوستانیوں اور بطور خاص مسلمانوں کے خلاف ہورہے اس تانہ شاہی کو واپس لینے کی آواز اٹھا رہے ہیں ،ایسے میں مسلمانوں کی طرف سے عدم بیداری اور غفلت نہایت ہی مایوس کن ہے ،مسلم قائدین کی بے حسی اور خاموشی شرمناک اور افسوسناک کے ساتھ سوالیہ بھی ہے، مذہبی جماعتوں اور ملی تنظیموں کے نمائندوں کی بیزاری عقل قبول کرنے سے انکاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہندوستانی مسلمان آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے اپنے نمائندوں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کہاں ہیں؟
#حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب
#حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب
#مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب
#مولاںا سید احمد بخاری صاحب
#مولانا محمود اسعد مدنی صاحب
#مولانا سجاد نعمانی صاحب
#مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب
#جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب
#مولانا اصغر علی سلفی صاحب
#مولانا توقیر رضا بریلوی صاحب
#مولانا بدرالدین اجمل صاحب
#اور ملت اسلامیہ کے ملکی, صوبائ اور شہری سطح کے دیگر تمام علماء, زعماء, مسلم تنظیموں کے ذمہ دار اور سیاسی لیڈران ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کی ایک آواز پہ برقعہ پوش خواتین سڑکوں پہ آجاتی ہیں، جن کے ایک رنگین اشتہار پہ پورا رام لیلا میدان عوام کے ایک سیلاب رواں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔آج وہی پردہ نشیں خواتین اور مردوں کا وہ سیلاب اپنے وجود کی بقا کی لڑائی کے لئے آپ کی قیادت کا منتظر ہیں اور آپ سے یہ امید رکھ رہیں ہیں کہ آپ تمام درج بالا قائدین ایک جٹ ہوکے ایک وقت میں تمام مدارس و جامعات کے طلبہ و طالبات، معلمین و معلمات، تمام مساجد کے ائمہ و خطباء کو لیکے سڑکوں پہ اتر آئیں اور اپنی قوت و تعداد کا پر سکون اور جمہوری طریقے سے مظاہرہ کریں اور حکومت کو یہ یاد دلائیں کہ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے جس کی آزادی سے لیکر تعمیر تک میں تمام مذاہب کے جیالوں نے اپنے جان و مال کی قربانی دی ہے اور اس کو سونے کی چڑیا اور سارے جہاں سے اچھا بنایا ہے ۔
اصولوں پر آنچ آئے تو ٹکرانا ضروری ہے
اگر زندہ ہو تو زندہ نظر آنا ضروری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے