سی اے اے(CAA) – ہندوستان کے دستور اور سیکولرزم پر خطرناک حملہ

Spread the love


ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی
اسسٹنٹ پروفیسر جامعۃ الامام محمد بن سعود، ریاض
شہریت ترمیمی قانون پر ہنگاموں او رمظاہروں کا سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی جارہاہے، ان مظاہروں میں بچے، خواتین، بوڑھے اور نوجوان سب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، یہ مظاہرے کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کی طرف نہیں ہیں بلکہ ہر طبقے اور ہر مذہب کےلوگ اس میں شریک ہیں، سیاسی ماہرین، سماجی کارکنان، وکیل ، ڈاکٹر ، طلباء ، اساتذہ سب اس مہم میں اپنی ساجھے داری پر فخر محسوس کررہے ہیں،سب مل کر اس کالے قانون کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کررہے ہیں، اسے سیکولرزم پر خطرناک حملہ بتا رہے ،اسے دستور ہند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اوراسے بدلنے کی ناپاک سازش قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ابھی تو مظاہروں کے شروعات ہے ، اگر یہ ایکٹ باقی رہ گیا تو اس کے نہایت خطرناک اثرات ہندوستان کی سلامتی اور سیکوریٹی پر پڑیں گے، ظلم وناانصافی پروان چڑھے گا اور ہر طرف انارکی اور لاقانونیت کا بول بالا ہوجائے گا۔
حکومت نے اس قانون کو پاس کرانے کےلیے دو اہم وجوہات بتائی تھی، ایک ملک کا بٹوارہ اور دوسرا پڑوسی تین ممالک : پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں غیر مسلم مذہبی اقلیتوں کا استحصال اور ان پر کیےجانے والے ظلم وستم۔ حکومت نے ایک اور جذباتی بلیک میل کرنے والی دلیل تھی کہ ان پڑوسی ممالک کی اقلیتوں بطور خاص ہندوؤں اور سکھوں کے پاس ہندوستان کے علاوہ اور کوئی دوسرا ملک نہیں ہے، اور اگر ہندوستان نے انہیں ایسےنازک وقت میں شرن نہیں دی تو ان پر بڑی زیادتی ہوگی، جس پر ہمیشہ یہ ملک افسوس کرےگا، حالانکہ یہ ساری دلیلیں ایسی ہیں جو نہایت ہی بے بنیاد اور ہندو ووٹ بینک کو اپنی طرف راغب کرانے والی ہیں ، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ دلیلیں نہ صرف یہ کہ غیر اصولی ہیں بلکہ ہندوستان کے سیکولر کیرکٹر پر حملہ بھی ہے۔
اب آئیے حکومت کے ذریعہ دی گئی دلیلوں کا جائزہ لیں، پہلی بات تو یہ ہےکہ حکومت نے اس قانون کے ذریعہ صرف تین ممالک کو منتخب کیا ہے ، جبکہ ناانصافی اور ظلم کی شکار اقلیتیں ان کے علاوہ ممالک میں بھی ہیں، جیسے بطور خاص چین ، سری لنکا، میانمار اور بھوٹان میں اقلیتوں پر عرصہ حیات کا تنگ کیا جانا کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں۔گویا اس قانون کے ذریعہ حکومت اس بات کا اعلان کررہی ہےکہ مسلمانوں کے تحفظ سے حکومت کو کوئی مطلب نہیں ، جبکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمان بھی آج دنیا کے بہت سارے ممالک میں ظلم وبربریت کے شکار ہورہے ہیں او ران پر عرصہ حیات تنگ ہورہا جس کی واضح مثال میانمار ہے، اور جہاں کے کچھ ریفیوجی ہندوستان میں پناہ گزیں بھی ہیں۔خود پڑوسی ممالک میں کچھ ایسے فرقےاور کچھ ایسی شخصیات ہیں جن کا انتساب اسلام کی طرف ہونے کے باوجود بھی ان پر ظلم وجور کی ہر حد روا رکھی جاتی ہے، لیکن وہ بھی اس قانون سے فائدہ اٹھانے کے مجاز نہیں ہو ں گے۔
اس قانون کا ہندوستان کے دستور وقانون پر بھی بہت منفی اثر پڑے گا، یہ قانون ہندوستان کے سیکولر کیرکٹر پر بھی حملہ ہوگا،ہندوستا ن کے سابقہ قانو ن کے مطابق غیر قانون مہاجر وطن کوشہریت نہیں دی جاتی تھی ، گرچہ وہ پراسس آف نیچرولائزیشن سےگذر جائیں، ایسا دستور کے سیکشن 6 میں دیے گئے شہریت کے تیسرے شیڈول کے تحت کیا جاتا تھا، سیکشن 2 بی کے تحت غیر قانون مہاجر وطن اسے قرار دیا جاتا تھا جس کے پاس پاسپورٹ یا ضروری سفر کے کاغذات نہیں ہوتے تھے، ایک شخص غیر قانونی مہاجر وطن ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اس بات پر ہوتاتھا کہ اس کے پاس پاسپورٹ سمیت ضروری کاغذات ہیں یا نہیں،لیکن ہائے افسوس ! اس نئے قانون نے تو غیر قانونی مہاجر وطن کے معیار کو ہی بدل ڈالا ، اب ضروری کاغذات کی شرط کے بجائےمذہب کی شرط نے اس کی جگہ لے لی، اب اگر ڈوکومینٹ کے بغیر بھی کو ئی غیر قانونی مہاجر وطن ہے اور وہ غیر مسلم ہے، تو ا ب وہ غیر قانون نہیں کہلائے گا بلکہ اس قانون کی رو سے اسے شہریت دے دی جائے گی اور وہ ہندوستانی ہوجائے گا، لیکن اگر غیر قانون مہاجر وطن مسلمان ہے تو اسے یہ مراعات نہیں مل پائیں گی خواہ وہ جس قدر بھی ظلم وزیادتی کا شکار ہوکر یہاں پناہ لینے پر مجبور کیوں نہ ہوا ہو!!
اس قانون کی رو سے غیر قانونی مہاجرین وطن کی لسٹ سے غیر مسلم کو نکال دیا گیا ہے۔ہندو ، سکھ ، جین ، بودھ اور عیسائی اب غیر قانونی مہاجر وطن نہیں قرار دیے جائیں گے، اگر وہ پڑوسی مذکورہ تینوں ممالک سے آئے ہیں،ان کےلیے یہ شرط بھی نہیں ہوگی کہ آیا وہ ہندوستانی الاصل ہیں یا نہیں، یہ خود اس قانون کی ایک شق کا مذاق ہے جس میں ہے کہ ہندوستانی الاصل شہری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائےگا،اب صرف ایک شرط رہے گی کہ وہ افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئےہوں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہوتا ہےکہ "ان ممالک سے آنے” کا کیا مطلب ہے ، کیا وہاں کا شہری آیا ہو، یا وہاں کا مقیم آیا ہو، یا وہاں کا مسافر آیا ہو جو کہیں اورجانا چاہتا ہو؟اسے یہ بتانےکی ضرورت بھی نہیں ہےکہ کیا وہ ہندوستانی الاصل ہے یا نہیں، گویا اب کوئی بھی غیر مسلم CAAکی بنیاد پر شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے، صرف وہ دسمبر2014 سے پہلے ملک میں داخل ہونے کو ثابت کردے،جبکہ دوسری طرف ایک مسلمان جو اگرچہ ہندوستانی الاصل ہی کیوں نہ ہو، اسے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا ہے،اس قانون کے پاس ہونے سے بہت سارے ایسے غیر قانونی لوگ ہندوستا ن کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جوملک کی سلامتی اور سیکوریٹی کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں. اس لیے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ کیا وہ غیر مسلم تشدد سے تنگ آکر یہاں آیا ہے یا یہاں کے امن وامان کو تہ وبالا کرنے آیا ہے!!!
اگر سی اے اے کے ذریعہ حکومت کا مقصد مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرناہی ہے تو اس کےلیےکوئی مؤثر پالیسی اور جامع قانو ن لاسکتی تھی، جو تمام مذاہب کےلوگوں کو فائدہ بھی پہنچائے اور ملک کی سلامتی کےلیے خطرہ بھی نہ ہو،اس طرح مظلوموں کی مدد کا حقیقی مقصد پورا ہوپاتا اور ہندوستان بھی دوسرے ان ممالک کی طرح غیر قانون مہاجرین وطن کی مدد کرنے میں اپنی موجودگی درج کرا پاتا۔
شہریت کے ضابطے دستور کے پارٹ 2 میں آرٹیکل 5 سے 11 تک موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ یہ سارے اصول وضوابط اور قوانین لکھےگئے، بحث کیے گئے اور مسلسل دوسالوں تک دوبارہ ان پر خوب غور وخوض ہوا، اور پھر 12 اگست 1949 میں آخری شکل میں اسے تیار کیا گیا۔تو اب کیوں اس میں غیر ضروری تبدیلی کرکے موجودہ حکومت 70 سال قبل ہمارے دستورسازوں کے ذریعہ تیار کیے گئے قوانین شہریت کو سبوتاز کرنےکی کوشش کی جارہی ہے،اس وقت بھی مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا شوشہ چھوڑا گیا تھا ، لیکن اکثریت کے ذریعہ اس کو بالکل نکار دیا گیا تھا،ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہےکہ ہندوستان سے پاکستان یا بنگلہ دیش ہجرت کرنے والا مسلمان وہاں خود کو محفوظ نہ پاکر اپنے ملک واپس آنا چاہے، چنانچہ ایسے مسلمان کو بھی شہریت دینے کی اس وقت کے ہمارے دستور سازوں نےحمایت کی۔پنڈت ٹھاکر داس بھرگاوا نے نہایت مضبوطی کے ساتھ مذہب کو شہریت سے نہ جوڑنے کا مطالبہ کرتےہوئے اس بات کی حمایت کی تھی کہ اگر کوئی محب وطن مسلمان مشرقی یا مغربی پاکستان سے ہندوستان آتا ہے، اور وہ وہاں رہنے میں خائف ہے، تو یقینی طور پر اس کا استقبال ہونا چاہیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے تحفظ کو یقینی بنائیں،ہم اسے اپنا بھائی سمجھیں اور اسے قانونی شہری مانا جائے۔
یہ ہے ہندوستان کی روح، یہ ہے یہاں کی شہریت کا راز، یہ ہمارے دستور سازوں کا سپنا ، یہ ہے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب، یہ ہے اس ملک کے خوبصورتی کا راز ، آج جبکہ فسطائی طاقتیں ہمارے دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں لگی ہیں ، ہمیں اپنے پیارے ملک کے دستور کو بچانے کے لیے تیار و پابہ رکاب ہوجانا چاہیے، اگر قربانیاں بھی دینی پڑیں تو اس بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے. ہماری محنت ضرور رنگ لائے گی، بس ہمیں یہ ٹھان لینا ہے کہ اس کالے قانون کا جنازہ پڑھ کر ہی ہم راحت کی سانس لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے