کہو میں ایمان لایا اورپھر اس پر جم جاؤ!

Spread the love


ابو فہد، نئی دہلی

’’ انسانی ذہن ایک انتہائی سریع الحرکت آلہ ہے، اس کی حرکت شش جہت ہے اوراس کی منزل وہی ہے جہاں آپ اسے ٹھہرادیں۔‘‘

جناب سید تحسین گیلانی صاحب نے اپنی وال پرایک سوال کیا تھا کہ ’’ وہ اللہ جو رحیم اور کریم ہے وہ ذلت دینے والا بھی ہے ؟؟ ایسا کیوں؟ دوستوں سے ایک سوال ہے؟ ؟‘‘ کمینٹس میں انہوں نے ایک دو آیات بھی کوٹ کی تھیں۔ پھر جب کسی نے کہا کہ اللہ کسی کو ذلیل نہیں کرتا بلکہ انسان خود ذلت والے اعمال کرتا ہے۔ اس پر یہ آیت کوڈ کی گئی۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿آل عمران :٢٦﴾ اس پر بہت سارے لوگوں نے مختصر جواب لکھے۔ میں نے بھی فی البدیہہ ایک جواب لکھنے کی کوشش کی۔مجھے قدرے خوشی ہوئی کہ سید تحسین صاحب نے میرے جواب کی تحسین کی۔
’’ تحسین صاحب! آپ اگر چاہیں تو اس طرح کے لاکھوں سوال جمع کرسکتے ہیں، مثلا، جب اللہ رحمان ورحیم ہے تو پھر دوزخ کیوں، سزا کیوں، اس دنیا میں تکلیفیں کیوں، ذات پات اور اونچ نیچ کیوں، غربت اور امیری میں تقدیر کا جو حصہ ہے وہ کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے کائنات کو اوراس میں زندگی کو اس طرح کیوں ڈیزائن کیا کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاجاتی ہے، مچھلیوں کو اور جانوروں کو ایک دوسرے کے لئے خوراک کیوں بنایا گیا۔۔ یہ انسان کی زندگی ایسی کیوں ہے کہ اس کی خوشیاں کسی کی ہار پر ہی منحصر ہیں۔۔ دو ٹیمیں جب آمنے سامنے ہوتی ہیں تو ایک کا مقدر ہار کیوں ہے۔ ہار بھی تو تکلیف دہ ہے۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ آخر اس دنیا میں ایسا کیوں ہے( جس میں حضرت انسان کا بھی ہاتھ اور عمل ہے بلکہ سازش ہے) کہ جھاڑو ہمیشہ وہی لگائے گا جو کمزور ہوگا اور کرسی پر ہمیشہ وہی بیٹھے گا جو امیر ہوگا۔ اگر غریب کو کرسی چاہیے تو اسے امیر بننا پڑے گا۔ آخر ایسا کیوں نہیں ہے کہ امیر بھی جھاڑو لگائے، اور غلاظتیں ڈھوئے کم از کم اپنی ہی غلاظت ڈھوئے۔۔۔ آخراللہ نے ایسا کیوں کیا کہ درد بھی دیا اور پھر درد کا احساس بھی دیا۔ کاش درد دیا ہوتا تواحساس نہ دیا ہوتا۔۔۔۔۔۔ تالاب کنارے بیٹھا بگلہ مچھلی کی تلاش میں ہے۔ بگلے کی دعا ہے کہ اللہ مجھے روزی دے اور مچھلی کی دعا ہے اللہ میری حفاظت کر۔ ایسی سچویشن میں اللہ جس کی بھی دعا سنے گا دوسرے پر ظلم ہوجائے گا۔ اگر مچھلی بچ گئی تو بگلہ بھوکا مرجائے گا اور دوسری صورت میں مچھلی کو تو مرنا ہے ہی۔ اس طرح تو آپ لاکھوں سوال قائم کرسکتے ہیں۔
در اصل آپ نے سوال تو کرلیا مگر اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا۔۔۔۔۔۔۔ ایک مختصر جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے جس ذلت کا ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ دراصل انجام کار کے اعتبار سے ہے نہ کہ ابتدائے عمل کے اعتبار سے۔ جیسے موت اور حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر انسان خود کو مارلیتا ہے اور وہ مرجاتا ہے، بظاہر عمل انسان کا پایا گیا مگر پھر بھی اللہ نے کہا کہ موت میرے ہاتھ میں ہے۔ تو دراصل یہ اتنہائی معنیٰ کے اعتبار سے ہے۔ ہرلفظ کے اور حکم کے دو معنیٰ ہوتے ہیں ایک ابتدائی اور دوسرے انتہائی۔ ابتدائی صورت میں انسان کے عمل کو دخل ہوتا ہے اور انتہائی صورت میں انسان کے عمل کا دخل نہیں ہوتا۔۔۔۔ مثلا آپ کسی کو مارسکتے ہیں۔ آپ کسی کو مارتے ہیں اور وہ مر بھی جاتا ہے مگر آپ یقنیی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ فلاں انسان کو فلاں وقت پر ماردیں گے۔ کیونکہ آپ کو خود اپنی زندگی کا ہی بھروسہ نہیں ہے۔ جب طے شدہ وقت تک خود آپ کے زندہ رہنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے تو آپ کسی کو طے شدہ وقت پر موت دینے کی گارنٹی کیسے لے سکتے ہیں ۔ آپ کسی کی زندگی مختصر نہیں کرسکتے۔ ایسا نہیں کرسکتے کہ اللہ نے کسی کو چالیس سال دئے ہوں اور آپ اسے صرف دس سال جینے دیں۔
تو آیت میں انتہائی معنی کے اعتبار سے ذلت کا تصور ہے کہ عزت وذلت دینا تو خدا کے ہاتھ میں ہے، حالانکہ ہم اور آپ بھی کسی کو کسی نہ کسی سطح پر ذلیل کرتے ہیں اور عزت دیتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں لفظوں کے توارد کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح واقع ہوتے ہیں۔‘‘
مگر پھر اور بھی کئی کمینٹ آئے اور یہی سوال یوں ہوگیا: ( ’’ جب سب کچھ کرنے والا اللہ ہی ہے تو پھر بندے کو کسی عمل کی سزاکیوں؟‘‘ سوال کرنے والے کے مطابق بندے نےجو غلط عمل کیا محض مجبوری میں کی۔)
اس پر میں نے ایک لطیفہ سنایا۔
مسلم دورحکومت کی بات ہے اور شاید مڈل ایسٹ کی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محض لطیفہ ہو، اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو،مگر یہ لطیفے کے طور پر شیخ سعدی کی کتاب ’’لطائف فارسی‘‘ میں موجود ہے۔
’’ ایک فقیر اپنی راہ کہیں جارہا تھا کہ ایک عقلیت پسند عیسائی عالم نے اس کی راہ قطع کی اوربولا:’’ کیا آپ میرے تین سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں؟۔ ‘‘فقیر نے اس سے سوال بتانے کو کہا۔ اس نے تینوں سوال بیان کئے:
سوال نمبر:۱۔’’ تو(یعنی مسلمان) کہتا ہے کہ اللہ (موجود) ہے تو کیا تو مجھے دکھا سکتا ہے کہ اللہ کہاں ہے؟‘‘ کیونکہ جو چیز ہوتی ہے وہ دکھائی بھی دیتی ہے۔
سوال نمبر:۲۔ ’’تو کہتا ہے کہ شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ شیطان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ تو کیا تو یہ بتاسکتا ہے کہ آگ کو آگ کیسے جلاسکتی ہے؟۔‘‘
سوال نمبر:۳۔ ’’تو کہتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے تو پھر بندے کو اس کے اعمال کی سزا کیوں؟‘‘ جب کرنے والا اللہ ہے تو سزا بندے کو کیوں۔‘‘
فقیرنے کچھ جواب نہ دیا۔ زمین سے ایک ڈھیلا اٹھایا اورسائل کے سر پر دے مار۔، اور اپنی راہ چل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل روتا ہوا قاضی کے پاس پہنچا اور قاضی سے انصاف کی درخواست کی ۔ اس نے کہا کہ فلاں فقیر نے میرے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے مجھے ڈھیلا ماردیا۔ میرا سرابھی تک درد کررہا ہے۔مجھے انصاف دلایا جائے۔۔ قاضی کے حکم پر فقیر کو بلایا گیا اور اس سے پوچھا گیا کہ اس نے یہ گھٹیا حرکت کیوں کی۔ فقیر نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو بس اس کے سوالوں کا جواب دیا ہے۔ مارا تھوڑی نا ہے۔۔۔۔
سب لوگ حیرت میں ڈوب گئے اور اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیسا جواب ہے؟۔۔۔۔۔۔۔
فقیرنے سائل سے کہا کہ آپ قاضی کے سامنے اپنے سوال دہراؤ۔ سائل نے پہلا سوال دہرایا۔ جو اللہ کو دکھانے کے تعلق سے تھا۔ اس پر فقیر نے کہا کہ تو کہتا ہے کہ میں نے تجھے ڈھیلا مارا ہے اور تیرا سر درد کررہا ہے تو کیا تو مجھے دکھا سکتا ہے کہ درد کہاں ہے۔اگر تو نہیں دکھا سکتا کہ درد کہاں ہے تو میں بھی نہیں دکھا سکتا کہ اللہ کہاں ہے۔ (معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جومادی آنکھ سے دکھائی نہ دے کوئی ضروری نہیں کہ وہ موجود ہی نہ ہو ) یہ تیرے پہلے سوال کا جواب ہے۔
اب دوسرا سوال دہرا۔ اس نے دوسرا سوال دہرایا کہ شیطان جب آگ سے ہی پیدا ہوا ہے تو اس کو آگ میں کیسے جلایا جائے گا۔
فقیر نے اس کا یوں جواب دیا کہ تجھے یہ تسلیم ہے کہ تو مٹی سے پیدا ہوا ہے۔؟ اس نے کہا کہ ہاں تسلیم ہے، انسان مٹی سے ہی پیدا ہوا ہے۔ اس پر فقیرنے سوا ل کیا کہ جب تو مٹی سے ہی پیدا ہوا ہے تو تو پھر تجھے مٹی سے چوٹ کیسے لگی؟۔ مٹی کو مٹی نے کیسے چوٹ پہنچائی۔(اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح مٹی سے مٹی کو چوٹ لگ سکتی ہے اسی طرح آگ کو آگ بھی جلا سکتی ہے، جب مٹی سے انسان بنا اور آگ سے شیطان تو اب مٹی اور آگ کا فارم بدل گیا، اب اس پر مٹی اور آگ والے احکام صادر نہیں ہوں گے)۔ یہ تیرے دوسرے سوال کا جواب ہے۔
اب تیسرا سوال بتا۔ اس نے تیسرا سوال بتایا کہ جب سب کچھ اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے تو پھر بندے کو سزا کیوں۔ اس پر فقیر ہنسا اور بولا کہ جب میں نے تجھ ا اللہ کے حکم ہی سے ڈھیلا مارا ہے توپھر مجھے یہاں جواب دہی کے لیے کیوں بلایا گیا ہے۔ (جواب دہی کے لیے اللہ کو ہی بلاجائے) اور پھرتومجھے سزا کیوں دلوانا چاہتا ہے ۔۔۔ ( جب ڈھیلا مارنے میں میرے عمل کو دخل ہی نہیں ہے تو پھر مجھے سزا کس بات کی دی جائے گی۔)فقیر وہاں سے اٹھا اور اپنی راہ چلا گیا۔ سب لوگ حیرت سے اس کا منہ تکتے رہ گئے۔۔

انسانی ذہن تو قطب نما کی سوئی کی طرح سریع الحرکت ہے وہ ذراسی جنبش پر بھی ادھر ادھر جاتا رہتا ہے۔اب یہ بات کہ اللہ نے تقدیر تو پہلے ہی بنادی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے تقدیر اپنے علم کے مطابق بنائی جس کے لئے ماضی اور مستقبل سب یکساں ہیں، نہ کہ ہمارے علم اور ذہن کے مطابق ۔ہم کہتے ہیں کہ پہلے لکھا گیا بعد میں عمل ہوا ۔ مگر ایسا نہیں ہے، لکھا اس لئے گیا تھا کہ اللہ کے لیے مستقبل حال ہی تھا۔ویسے بھی اللہ کی ذات کو اور اس کے ’عملِ کُنہہ‘ کو علم کی بنیاد پر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ اللہ کی ذات لامحدود ہے اور انسانی ذہانت محدود ہے۔

اس پر ان کا (سید تحسین گیلانی صاحب کا جواب آیا کہ ’’ اس لطیفے نے تو مسئلہ مزید گنجھلا دیا بھائی ۔ 1۔کیا اللہ اور درد ایک ہیں ؟ 2۔ کیا واقعی آگ آگ میں جلے گی ؟ 3- کیا سب اس کے حکم سے نہیں ہوتا؟
اور پھر مجھے لکھنا پڑا:
’’اللہ کو اور درد کو ایک نہیں بتایا گیا اور نہ ہی اس سے ایسا کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ چیز صرف اس دلیل کے طورپر آئی ہے کہ جو چیز نظر نہیں آتی ضروری نہیں کہ وہ ہوتی بھی نہیں۔ میں نے کہا کہ جب آگ سے شیطان پیدا ہوا تو وہ ہر طرح سے آگ نہیں تھا بلکہ آگ سے مختلف تھا۔ اسی طرح آدمی مٹی سے پیدا ہوا مگر وہ مٹی سے الگ ہے۔ لکڑی جب آگ میں جل جاتی ہے تو وہ لکڑی نہیں رہتی، اس کا فارم اور ہیئت بدل جاتی ہے۔ کوئیلے سے وہ کام نہیں لیا جاسکتا جو لکڑی سے لیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ آب آخری سوال کو لیں۔ یقینا اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جیسا کہ میں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ یہ بات اپنے انتہائی معنیٰ میں ہے۔ اللہ نے انسان کو جو اختیاردیا ہے انسان کی گرفت اسی اختیار پر ہے۔ آدمی جب عمل کرتا ہے تو اس میں اس کا اختیار شامل ہوتا ہے۔ یہاں ذراسا سوچ کا بھی فرق آجاتا ہے۔ آپ کسی کو قتل کردیں اور کہیں کہ بھائی یہ تو اللہ کے حکم سے تھا، تمہاری موت اسی طرح اور میرے ہاتھ ہی سے مقدر تھی، کیونکہ آپ قاتل ہیں اس لیے آپ کا ذہن یہ منطق چل سکتا ہے( حالانکہ جب آپ قتل کرنے گھرسے چلے تھے تو اپنے اختیار اورارادے کے ساتھ چلے تھے نہ کہ اس لیے کہ اللہ نے کوئی حکم دیا تھا یا پہلے سے طے شدہ تھا۔) لیکن اگر کوئی آپ کے رشتہ دار کو قتل کردے تو آپ اس منطق کو طاق پر رکھ دوگے اور خون کا بدلہ خون مانگوں گے۔ تب آپ کے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی کہ تقدیر کا لکھا پورا ہوا۔ اب میں کورٹ کیوں جاؤں۔
انسانی ذہن تو قطب نما کی سوئی کی طرح سریع الحرکت ہے وہ ذراسی جنبش پر بھی ادھر ادھر جاتا رہتا ہے۔اب یہ بات کہ اللہ نے تقدیر تو پہلے ہی بنادی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے تقدیر اپنے علم کے مطابق بنائی جس کے لئے ماضی اور مستقبل سب یکساں ہیں، نہ کہ ہمارے علم اور ذہن کے مطابق ۔ہم کہتے ہیں کہ پہلے لکھا گیا بعد میں عمل ہوا ۔ مگر ایسا نہیں ہے، لکھا اس لئے گیا تھا کہ اللہ کے لیے مستقبل حال ہی تھا۔ویسے بھی اللہ کی ذات کو اور اس کے ’عملِ کُنہہ‘ کو علم کی بنیاد پر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ اللہ کی ذات لامحدود ہے اور انسانی ذہانت محدود ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ شیطان آپ سے کہے گا کہ فلاں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر وہ سوال کرے گا کہ تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔؟ اس پر ہوسکتا ہے کہ آپ کہیں کہ اللہ خود بخود ہے، تو وہ کہے گا کہ آج تک کوئی ایسی چیز ہوئی ہے کہ وہ خود بخود پیدا ہوگئی ہو۔۔۔۔ مگراسی دنیا کے انسان مانتے ہیں کہ کائنات خود بخود بگ بینگ کے نتیجے میں پیدا ہوگئی۔ توانسان کا یہ شیطانی ذہن دونوں طرح کی دلیلوں کو اپنے حق میں ہی استعمال کرے گا۔ اسی لیے ایک فقیر نے لوٹا پھینک کر مارا اور کہا عبداللہ کہہ دے کہ خدا بے دلیل ایک ہے اور بنا دلیل کے موجود ہے۔
اگرکوئی مومن ہے اور اسے ایسے سوال پریشاں کرتے ہیں تو پھر وہ جو چاہے بن جائے مگر جب تک وہ زندہ رہے گا ایسے سوالات اسے پریشان کرتے ہی رہیں گے۔ کیونکہ بہت سارے سوالات کے جواب سائنس کے پاس بھی نہیں۔ اسی لئے کہا گیا: قل آمنت باللہ ثم استقم۔۔۔ کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جاؤ۔ کیونکہ ذہن میں ایک بہاؤ کی کیفیت ہے اور اس کا کہیں پڑاؤ نہیں۔ اس کا پڑاؤ وہیں ہے جہاں آپ اسے ٹہرادیں۔‘‘

ابو فہد
Follow Him

ابو فہد

Abu Fahad is a Delhi Based writer. His articles are published in various newspapers and web portals. His work mainly focus on Islamic Studies and Urdu language and Literature. He is currently working as an Editor for the monthly published magazine "Zikra".

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے