اب تو این آر سی کے لیے فکرمند ہوجائیے

Spread the love


اسعد اعظمی, بنارس✍
ملک کے وزیر داخلہ نے گزشتہ دنوں کلکتہ کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے این آر سی (قومی آبادی رجسٹر) کے تعلق سے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے دوٹوک لفظوں میں حکومت کی منشا کو واضح کردیا ہے۔ روزنامہ انقلاب نے وزیر موصوف کے بیان کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ان الفاظ میں سرخی قائم کی ہے:

” تمام ہندو پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔“
خبر میں وزیر داخلہ کی تقریر کے اقتباسات درج ذیل الفاظ میں نقل کیے گئے ہیں:
”کسی بھی ہندو اور عیسائی پناہ گزیں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گاجو بھی پناہ گزیں ملک میں آئے ہیں انہیں ہندوستان کی شہریت دی جائے گی، انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ کسی ہندو پناہ گزیں کو ملک سے جانے نہیں دیں گے اور کسی دراندازکو ملک میں رہنے نہیں دیں گے۔“
”میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ بنگال کے اصلی باشندوں کو پریشان ہونے نہیں دیا جائے گا، اس کے علاوہ ہندو، سکھ، جین اور عیسائیوں رفیوجیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت پہلے شہری ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس کرائے گی اس سے قبل بھی وزیر داخلہ کہہ چکے ہیں کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے لیے حکومت پابند عہد ہے یہ این آرسی ہے صرف آسام رجسٹر آف سٹیزن نہیں ہے۔“
(روزنامہ انقلاب: 12کتوبر2019ءص:13)
ہمارے بہت سے مفکرین اور اہل قلم اب تک خوش فہمی میں مبتلا تھے اور مسلمانوں کو تھپکی دے رہے تھے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی یہ صرف مسلمانوں کا معاملہ تھوڑی ہے، اس کی زد میں ہم سے زیادہ ہندو آئیں گے۔ آسام میں شہریت کی حتمی فہرست جب آئی اور اس میں 20لاکھ لوگ اس فہرست سے باہر ہوئے، ان میں سے 7لاکھ مسلمان تھے اور 13لاکھ ہندو، تو ان مفکرین نے اپنے موقف کی تایید میں اسے پیش کیا اور کہا کہ ہم سے زیادہ تعداد تو ان کی ہے۔ اب کیا فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ صرف آسام میں اس فہرست کو تیار کرنے میں حکومت کا اتنے لاکھ کروڑ پیسہ خرچ ہوا۔ بھلا پورے ملک میں اسے نافذ کیا جائے گا تو کتنا پیسہ خرچ ہوگا۔ ان حضرات کی سادہ لوحی پر تعجب ہوتا ہے، ان اہل اقتدار کو اپنے گھر سے پیسہ لگانا ہے کہ وہ ہچکچائیں گے؟ دوسرے یہ کہ جو فرقہ وارانہ عزائم ہیں ان کی تکمیل کے لیے ملک بھلے کنگال ہوجائے مگر وہ اپنا الو سیدھا کرکے رہیں گے۔
وزیر داخلہ کے بیان نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کردیا ہے اور دوٹوک لفظوں میں واضح کردیا ہے کہ اس عمل کا نشانہ صرف اور صرف مسلمان ہیں اور انہیں کی شناخت کرکے انہیں دیش نکالا دینا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے دوسری قوموں کے لیے رفیوجی(پناہ گزیں) اور مسلمانوں کے لیے گھس پیٹھیے (درانداز) کی اصطلاح متعین کی ہے۔ اور یہ صاف کردیا ہے کہ کوئی بھی غیر مسلم-چاہے وہ ہندو ہو، سکھ ہو، جینی ہو، عیسائی ہو، یا جو بھی ہو -اگر زد میں آتا ہے اور اپنے آپ کو ہندوستانی شہری نہیں ثابت کرپاتا ہے تو حکومت اسے ہرحال میں ہندوستانی شہریت دے گی۔ اور اگر کوئی مسلمان اس کی زد میں آتا ہے تو اسے سیدھے ملک بدر ہی کیا جائے گا۔ اس کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

اگر اب بھی کوئی مفکر، صحافی، سیاست داں، قائد یا عام یا خاص شخص اس غلط فہمی میں ہے کہ: 1۔ اس عمل کو پورے ملک میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔ 2۔ اس کی زد میں صرف مسلمان نہیں آئیں گے، مسلمانوں سے زیادہ دوسرے زد میں آئیں گے۔ 3۔ اس پر زر کثیر صرف ہوگا اس لیے حکومت اسے پورے ملک میں نافذ نہیں کرسکتی۔ وغیرہ وغیرہ تو اب اسے اپنا موقف تبدیل کرلینا چاہیے۔ اور اپنی زبان وقلم سے عوام کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”نریندر مودی حکومت پہلے شہری ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس کرائے گی۔“ گویا مذکورہ ظالمانہ مذہبی تفریق کو روا رکھنے کے لیے حکومت اسے قانونی شکل دے دے گی تاکی کسی کو اس تفریق پر اعتراض کا حق حاصل نہ رہ جائے۔
25ستمبر 2019ءکے انقلاب میں آسام کے وزیر خزانہ ہیمنت بسو شرما کا بیان شائع ہوا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آنے دیجیے اور ہم کہیں گے کہ بی جے پی این آر سی کو مسترد کرتی ہے اور ہم اس میں یقین نہیں کرتے ہیں۔ اس کی جگہ نیا این آر سی آئے گا۔ جو لوگ آج ہم پر ہنس رہے ہیں وہ یقینی طور سے ایک دن روئیں گے۔ مذہبی مظالم کی وجہ سے جو لوگ ہندوستان آئے تھے انہیں شہریت دینے کے لیے ایک قانون بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں شہریت ترمیمی بل لایا جائے گا اور جو اقلیت پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آئے تھے انہیں ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ مسٹر شرما نے کہا کہ”اگلے تین چار مہینوں کا انتظار کیجیے اور جو لوگ بھارت ماتا، بودھ، جین، عیسائی،سکھ اور پارسی مذہب میں یقین رکھتے ہیں انہیں شہریت دی جائے گی۔“
(روزنامہ انقلاب: 25ستمبر 2019ءص: 13)
غور کریں کس جرأت اور ڈھٹائی کے ساتھ یہ وزراءایسی سنگین فرقہ وارانہ باتیں کررہے ہیں۔ اگر پڑوس کے ملک کا کوئی ادنیٰ ذمہ دار اس قسم کے بیان دیتا تو ہمارے ملک میں اس پر کتنا ہائے توبہ مچتا اور میڈیا کا اس پر کیا موقف ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ ملک کے تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے فکرمند ہوجانا چاہیے اور اس کے لیے جو مطلوبہ دستاویزات ہیں انہیں تیار کرکے حفاظت سے رکھ لینا چاہیے۔ پروردگار سب کے لیے ”اچھے دن“ لائے۔
٭٭٭
(مضمون نگار جامعہ سلفیہ، بنارس میں استاذ اور رابطہ عالم اسلامی کے ممبر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے