ہاسٹل کا باتھ روم

Spread the love


مصطفی علی
ریسرچ اسکالر، شعبئہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،
نئی دہلی110025-
8299535742
[email protected]

ایک دن مولانا نے فضائلِ جنت پر لب کشائی کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ:
پیشاب پاخانہ وغیرہ دنیا کی مادی غذا کا غیر مفید جزو ہے۔جنت کی غذاؤں میں کوئی ایسا جزو شامل نہیں ہوگااس لیے وہ مکمل ہضم ہوکر جزوِ بدن بن جائے گی اور قضائے حاجت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔جنتیوں کی ڈکار مشک کی خوشبو کی طرح ہوگی یہ قضائے حاجت کے قائم مقام ہوگی اور ان کا پسینہ مشک کی خوشبو کی طرح ہوگا اور یہ پیشاب کے قائم مقام ہوگا۔
اس بیان کو سن کر ہم نے دل ہی دل میں غالب ؔ کا یہ شعر گنگنایا تھا ؎
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب ؔیہ خیال اچھا ہے۔
کیونکہ ہمیں اس وقت جنت کی یہ فضیلت بالکل دو کوڑی کی معلوم ہوئی تھی مگر ایک دن ہم پر ایسا آن پڑا کہ ہمیں مرحوم چچا غالبؔ اور ان کے اس شعر دونوں پر ہی لاحول پڑھنا پڑ ااور جنت کی اس بظاہر ادنی فضیلت کواعلی ترین فضیلت تسلیم کرنا پڑا۔
ذکرِ واقعہ سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ اس کم ترِ شوریدہ موج کا حلقۂ یارا ں بہت وسیع ہے، اس لیے اکثر و بیشترخانئہ خاکسار پرخوش گپیوں اور ادبی وغیر ادبی نشستوں کا اہتمام ہوتا رہتا ہے۔اس دن بھی ایسی ہی ایک نشست منعقد تھی۔ دورانِ جلسہ ہی مجھے شدتِ بول نے دبوچا تو میں نے سوچا کہ آدابِ محفل کا لحاظ رکھا جائے اور نشست برخاست ہونے سے پہلے باتھ روم نہ جایا جائے، لہذا میں نے اسے دبائے رکھا پھرجیسے ہی احباب رخصت ہوئے میں فی الفور کمرے سے نکلا اور دروازہ تیزی سے بھیڑتے ہوئے بیت الخلاء کی جانب بھاگا۔ حیف! جس کا ڈر تھا وہی ہوا،اس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ایک لمحہ گنوائے بغیر میں نے دوسرے باتھ روم کا رخ کیا وہ بھی دور سے بند نظر آیاپھر بھی تسلیِ دل کی خاطر میں نے قریب جاکر اسے ضغطہ دے کر دیکھا، میراشک صحیح نکلا۔مجھے بڑی مایوسی ہوئی کیونکہ دار الاقامہ کے تیسرے منزلے پر جس طرف میری رہائش تھی اس طرف بس یہی دو عدد کھڈیاں تھیں۔
میں مضطرب کھڑا کچھ دیر تک سوچتا رہا کہ کیا کروں،تبھی دفعتاََ مجھے کچھ یاد آیا اور میرا چہرہ کھل اٹھا۔میں فوراََ نیچے کی طرف بھاگا۔وہاں سات باتھ روم بالترتیب ہیں۔میں نے پہلے باتھ روم کے دروازے پر زوردارلات مارا اور اس کے ساتھ ہی اندر گھس گیا۔”او۔۔۔وو۔۔و۔۔وق۔۔آک۔۔تھو“ اندر کا منظر دیکھ کر طبیعت متلانے لگی۔ مگ پاخانے کی پیالی میں اوندھے منہ گرا ہوا تھااور غایط کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔اس غایط کے ڈھیرپر لا تعداد مختلف النوع مسلح کیڑے اس طرح چکر لگا رہے تھے جیسے کسی قلعے کی نگرانی کر رہے ہوں۔اس سے کچھ فاصلے پر کاکروچوں کا ہجوم تھا۔وہ سب آپس میں ایک دوسرے سے برسرِپیکار پوری کھڈی میں ہاہاکار مچائے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ طہارت خانہ نہیں بلکہ ان کا میدان کارِزارہو۔یہ مشاہدہ میری طبیعت پر نہایت گراں گزرا۔میں جتنی تیزی سے اندر گیا تھا اتنی ہی تیزی سے باہر نکل آیا۔پھر دوسرے باتھ روم کی جانب متوجہ ہوا۔اس کا دروازہ پھوپھردیکھ کردل کوراحت ملی۔ میں نے بلاتاخیراس کوزورکاجھٹکادیا۔
”ارے تری ماں۔۔۔سالے۔۔اندھے۔۔۔رک بتاوَتھی۔“
ٹوائلٹ میں کوئی موجودتھاجس کی گا لی سن کر میں ہڑبڑا گیا۔اپنے کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا:
”اندر سے بند نہیں کر سکتے تھے؟“
”کئسے بند کرِت بے،کنڈی تہرے باپ کِہن سے ِلیائت۔“اس نے بہت غصے میں جواب دیا۔
شدتِ بول سے میرا دم نکلا جا رہا تھا اس لیے میں نے اس سے الجھنا بے کار سمجھا،لہذا اسے بڑبڑاتا ہوا چھوڑکر آگے بڑ ھ گیا۔چیک کیا توتیسرے،چوتھے،پانچوے اور چھٹے باتھ روم کادروازہ بندملاالبتہ ساتویں کا کھلا ہوا محسوس ہوا۔میں اس کی طرف بڑھااور اس مرتبہ بڑے احتیاط سے آہستہ آہستہ دروازے کا پٹ سرکایا۔آہا!یہ دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ اس کے اندر نہ کوئی شخص موجود تھااور نہ ہی کموڈ گندہ تھا۔مانوں میرے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ ویسے جب سے میں نے برطانوی اخبار”ڈیلی میل“میں آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے ماہر”ونسینٹ ہو“کی نئی تحقیق کی رپورٹ پڑھی ہے تب سے مغربی طرز کے ٹوائلٹ میں رفع حاجت کرناتقریباً ترک کر دیا ہے مگر مجبوری کا نام مہاتما گاندھی۔ میں نے جھٹ سے اندر داخل ہوکر سٹکنی لگائی۔سیٹ پر بیٹھتے ہوئے میری نظر ٹوٹی پر پڑی تومیں غصے سے بھوت ہوگیا۔ وہاں صرف ایک نٹ کسا ہوا تھااور ٹوٹی ندارد تھی، میں نے پائپ کو دباکر چیک کیاوہ بھی ناکارآمد تھا۔ میں غم زدہ حالت میں وہاں سے نکل آیا۔ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے ناپاک ہونے سے بال بال بچا لیا۔اس وقت ناگاہ مجھے پپو مہتر کی کہی ہوئی یہ بات یادآ گئی کہ”باتھ روم کو باتھ روم نہیں بلکہ عزت گھر کہا کرو صاحب۔“ اب انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اور کھڈیاں دور تھیں وہاں جانے کا مطلب تھا ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم“ کا مصداق بننااور کیا پتہ ادھر بھی یہی منظر ہو اس لیے ایک طرف کھڑے ہوکر میں ان کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔
نہ پوچھو اس وقت میرے اوپر کیا گذر رہی تھی۔انتظار کی ایک ایک گھڑی برسہا برس کے مترادف تھی۔ان لمحوں کو جھیلنے میں مجھے جو تکلیف محسوس ہو رہی تھی اس کی شدت مجنوں کو لیلیٰ کے، فرہاد کو شیریں کے اور مغیث کو بریرہ کے انتظار میں محسوس ہونے والی تکلیف کی شدت سے کسی طرح بھی کم نہیں رہی ہوگی۔بادشاہ ہارون رشید نے رفعِ حاجت کی قیمت کیوں اپنی آدھی سلطنت بتلائی تھی اورہندوستان کی موجودہ حکومت”شوچالیہ ابھِیان“ کے تحت جگہ جگہ ٹوائلٹ بنوانے پر اتنا زور کیوں دے رہی ہے یہ مجھے اس وقت اچھے سے سمجھ میں آ رہا تھا۔آپ یقین جانیے صاحب! یہ اتنا نازک لمحہ ہوتا ہے کہ اس گھڑی منتظر شخص حضرتِ کھڈی نشین کو اول جلول،الم غلم کچھ بھی بک سکتا ہے۔ یہ تو خاکسار تھا کہ چونکہ بزرگوں میں بیٹھا بہت ہے اس لیے اب تک سراپا آداب بنا ہوا تھا ورنہ انشاءؔ اور منتظرؔ جیسا کوئی شوخ ہوتا تو جھلاکر کہہ دیا ہوتا”اندر دہنت شاشۂ عالم۔“
پیشاب کی تیزی کے سبب اب میرا پیٹ بھی بڑبڑانے لگا تھا۔حالات پر قابو پانے کے لیے میں نے دانتوں کو دانتوں پر جماکر بھینچنا شروع کیا،جس کی وجہ سے رخسار پھولتے پچکتے اور منہ کی ساخت عجب طرح کی بن جاتی۔جب یہ نسخہ کارگر نہ ہوا تو میں آگے پیچھے کرنے لگا۔کچھ دیر بعد ایک جگہ کھڑے ہوکر میں نے پیروں کی اٹھا پٹک شروع کر دی پھر ایک ہاتھ کی انگلی دوسرے سے بجانے لگا۔ایک مرتبہ بجاتے ہوئے بے خیالی میں میری انگلی اتنی پرزور طریقے سے دب گئی کہ اس کی تکلیف سے میں بلبلااٹھا۔کچھ دیر میں ایسی ہی اٹ پٹانگ حرکتیں کرتا رہا پھر بھی بات بنتی نہ دکھی تو بالآخر میں نے بڑبڑانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
نہ جانے اندر کیا کرنے لگتے ہیں کم بخت۔باتھ روم میں داخلہ کیا مل گیا مانوں سکندر کی سلطنت مل گئی۔جا ضرور کی سیٹ پر ایسے جم کر بیٹھ جاتے ہیں جیسے شاہجہاں کے تختِ طاؤس پربراجمان ہو گئے ہوں۔دنیا وما فیہا سے بالکل بے خبر ہو جاتے ہیں خارپشت۔ناہنجاروں کو اس کی بو میں مشک کی خوشبو کا مزہ ملتا ہے تبھی تو اس میں پہنچتے ہی خوابوں کی وادیوں میں سیر کرنے لگتے ہیں۔معشوق کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔کچھ نالائق تو اسی میں اپنا سبق یاد کرنے لگتے ہیں اور شاعر مزاج حضرات کا تو پوچھئے مت، اس میں بیٹھتے ہی ان پر اشعار کا الہام ہونے لگتا ہے۔وکلا صاحبان کو تو اس میں تشریف لاتے ہی اپنے پیچیدہ مقدمات کی تدبیرسوجھنے لگتی ہے۔سائنس دانوں پر اس میں آتے ہی غوروفکر کے یلغار ہونے لگتے ہیں لہذا جب تک وہ اپنے اگلے منصوبے ترتیب نہ دے لے بھلا کیسے نکل سکتے ہیں۔موسیقار ٹٹی کی دھن میں کھوکراپنی نئی دھن تلاشنے لگتا ہے اور گلوکار صوتِ گوز کے مدو جزر میں محو ہوکر نیا سر نئی لے بنانے لگتا ہے۔مصور بول و براز کے رنگ و روپ میں ڈوب کر کوئی انوکھا پیکر ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ چور کو بیت الخلاء کی خلوت اتنی راس آتی ہے کہ وہ چوری کے نئے نئے ہتھکنڈے اپنے ذہن میں ایجاد کرنے لگتا ہے اور لیڈروں کا کیا کہنا!کھڈی کی ہاٹ سیٹ پر تشریف رکھتے ہی سیاسی داؤپیچ کا ایسا سیلاب ان کے دماغوں میں امڈتا ہے کہ وہ وہی بیٹھے بیٹھے ملک کی قسمت کا فیصلہ تک کر ڈالتے ہیں۔اب بھلا انھیں کون سمجھائے،سبھی تو اپنے مغلق مسائل لے کر اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور باہر نمبر پر کھڑے شخص کا کسی کو ذرا سا بھی خیال نہیں رہتا۔
جب انتظار حد سے تجاوزکرگیاتوصبر نے میراساتھ چھوڑدیالہذامیں نے دروازہ پیٹنا شروع کیا۔مگر اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔اب مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں دروازہ اندر سے بند نہ ہوکیونکہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ شرارتی بچے اندر سے باتھ روم کی کنڈی لگاتے ہیں پھر اس کے دیوار اور چھت کے درمیان پڑی خالی جگہ سے کودکربھاگ جاتے ہیں۔ادھر لوگ قطار پر قطار لگائے کھڑے رہتے ہیں۔گھنٹوں بعد انکشاف ہوتا ہے کہ دروازہ اندر سے بند ہے۔

میں نے دروازہ بھڑبھڑانے کے ساتھ اب آواز لگانی بھی شروع کر دی”ارے کون ہو بھائی،جلدی باہر نکلو، کتنی دیرلگاؤگے،اوروں کو بھی موقع دو۔“ اندر سے کوئی آواز نہیں آئی اورنہ ہی دروازہ کھلا۔اب تو میرا شبہ یقین میں بدلنے لگا۔دلاسئہ دل کی خاطر میں نے سوچا کیوں نہ اندر جھانک کر دیکھ لوں۔میں نے باتھ روم کی دیوار کے سہارے اوپر چڑھنا شروع کیالیکن تبھی کسی کے پیروں کی چاپ سنائی دی،کوئی باتھ روم کی طرف آ رہا تھا۔مجھے اپنا عمل شرافت کے خلاف لگااس لیے جہاں تک پہنچا تھا وہیں سے چھلانگ لگاکر نیچے آ گیا اور من ہی من سوچنے لگا کہ۔۔۔
”شہرسے اچھا تو گاؤں، دیہات ہے کہ تیل یا موبل کے کسی خالی ڈبے میں پانی بھر لو اور کسی کھیت یا میدان میں جھاڑا پھرنے چلے جاؤ۔اگر کسی وجہ سے پانی ساتھ لے کر نہیں جا سکے یا گھاس پھونس کی حرکت سے وہ خدا نخواستہ گر جائے پھر بھی کوئی دقت نہیں،نہر، ٹیوب ویل،پمپ سیٹ، پوکھرا یا تال تلیاکچھ نہ کچھ تو کھیت کے قریب مل ہی جاتاہے۔نپٹنے کے بعد آدھا پینٹ اٹھاکر وہاں پہنچ جاؤ اور پانی چھو لو۔“
ہائے رے قسمت! ابھی تک کوئی باہر نہیں نکلا تھا۔میں نے مزید انتظارکرناکارِفضول سمجھا۔میں پھر بدحواس سا اوپر کی طرف بھاگا۔وہاں پہنچ کر ذرا ٹھہرا پھر اپنے پھولے ہوئے سانس کو قابو میں کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے دونوں باتھ روموں پر نگاہ ڈالی،دونوں کے دروازے اب بھی بند تھے۔اب میرا پارا گرم ہو گیا تھا۔ میں کبھی سر کھجاتا،کبھی انگلیاں پھوڑتا،کبھی پیروں کی اٹھا پٹک کرتا،کبھی دانتوں کو پیستااور کبھی بے اختیار آگے پیچھے کرنے لگتا۔اس حالت میں کبھی منہ بدبداتا تو کبھی پیٹ گڑگڑاتااور کبھی دونوں ہم نوا ہو جاتے۔
”کیا کر رہے ہو بھائی،بہت ٹینسن میں لگ رہے ہو۔“ اچانک ادھر سلیم بھائی آ دھمکے تھے اورانھوں نے مجھے ایساکرتے ہوئے دیکھ کر پوچھاتھا۔
”کیا بتاؤں استاد،دنیا میں ہر روز کوئی نہ کوئی مر رہا ہے ٹینسن تو رہے گا ہی۔“
”ارے واہ!یہ تو وہی بات ہو گئی کہ۔۔سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔“
”ہاہاہا۔۔۔“دونوں ایک ساتھ ہنس دیے۔
”بھڑبھڑ۔۔۔پڑپڑپڑ۔۔بھڑاک۔“
”ہاہاہاہاہاہا۔۔۔“باتھ روم سے اچانک آئی اس غیبی آواز نے ہم دونوں کی تیزہنسی کو چندلمحے کا وقفہ دے کر تیزتر کر دیا۔
سلیم بھائی بھی بہت مرنجاں مرنج آدمی ہیں۔وہ جاتے جاتے موقعے کی مناسبت سے یہ شعر سناتے گئے۔ملاحظہ فرمائیں ؎
بیت الخلاء سے آ رہی ہے آوازِبا ترنم
شاید کوئی حسینہ پیچش میں مبتلا ہے.
میری آنکھوں کے سامنے اب تارے ٹمٹمانے لگے تھے اور تاریکی سی چھانے لگی تھی۔میرے دماغ کا ؤولٹج بھی بہت ہائی ہو گیا تھا۔اب تومجھے جاضرور خطا ہونے کا ڈر بھی ستانے لگا تھا۔ میں تیز قدموں سے چل کر داہنی طرف والے باتھ روم کے پاس پہنچااوراس کا دروازہ اتنی زور سے کھٹکھٹایا جیسے وہ باتھ روم کا دروازہ نہیں بلکہ مندر کا گھنٹا ہو۔ دفعتاًدروازہ کھل گیا۔میری روح کو تسکین ملی۔میں نے سوچا نکلنے والا مجھ پر غصہ ہوگا لیکن اس نے میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھ کر تبسم کیا اور چل دیا۔میں نے چین کا سانس لیااور اندر گھس گیالیکن تھوڑی ہی دیر میں میرے چہرے کا رنگ بدل گیا۔پیخانے کا ظرف آب وغلاظت کے گھول سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔یہ منظر دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا۔وہاں ایک سیکنڈ بھی رکنا میرے لیے دشوار تھا۔ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا بائیں باتھ روم کی جانب روانہ ہوا۔قریب پہنچ کر میں نے اس کے دروازے کو ایک زور دار جھٹکا دیا۔
”آآآآ۔۔۔“
اندر کوئی موجود تھا جوکنڈی کھول کر شایدنکلنے ہی والا تھا کہ میرے ناگہانی دھکے سے زمین پر دھراشائی ہو گیا۔میں بھی چونکہ حالات سے بے خبر تھا اس لیے اپنا توازن برقرارنہ رکھ سکا اور ایک طرف لڑھک گیا۔میں نے فوراً اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے اور چوٹ بھلاکر پہلے کھڈی کی طرف دیکھا۔اس پر گاڑھے کالے،پیلے داغ کائی کی طرح جمے ہوئے تھے۔ میں نے اس وقت اسی کو غنیمت جانا۔اندر گرا ہوا شخص اب اٹھ چکا تھا۔وہ مجھ پر بہت خفا تھا۔میں نے کسی طرح منت سماجت کرکے اسے باہر نکالااور سٹکنی لگاکر قدمچہ پر بیٹھ گیا۔موسم تو پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اس لیے کونتھنا نہیں پڑا۔پہلے ادرارہوا پھرفوراً ’پیٹ میں اینٹھن ہوئی اور دھڑ سے پیخانہ ہوا‘۔اسی بیچ میری نگاہ سامنے کی دیوار پر پڑی،جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا”دائیں دیکھو۔“میں نے دائیں دیکھا تو مرقوم تھا”بائیں دیکھو۔“بائیں جانب نگاہ ڈالی تو تحریر تھی”پیچھے دیکھو۔“اور جب پیچھے دیکھاتووہاں شاہکار اعضاء کی ایسی تصویری نمائش موجود تھی اور ایسے ایسے اقوال وعلوم منقش تھے کہ اللہ کی پناہ۔میں تو اسے دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔یہی نہیں بلکہ اس دیوارپر کسی مجنوں نے اپنے دل کے پھپھولے بھی پھوڑے ہوئے تھے اورکسی دل جلے کے دلی ارماں بھی اس پر خوبصورتی سے بہہ گئے تھے۔اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی چیزیں اس دیوار پر مزین تھیں جن کا بیان خلافِ آداب سمجھا جائے گا۔بس اتناجان لیجیے کہ اگربچے اس کا مشاہدہ کر لیں تو وقت سے پہلے جوان ہوجائیں۔ان تحاریروتصاویر کا مشاہدہ کرنے کے بعد میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر یہ قوم اپنی تخلیقی مہارت تہذیبی سانچے میں ڈھال کر دیواروں سے باہر لاتی تو کتنی ترقی کر جاتی لیکن افسوس کہ یہ قوم ابھی تک دیواروں کی تہذیب بھی نہیں سیکھ پائی۔
باتھ روم کی دیوار سے یاد آیا کہ ہندوستان کے ایک مشہور شاعرتھے”شہریار“۔جن دنوں فلم ”امراؤ جان“ کے لیے لکھے گئے ان کے نغمے زبان زدِخاص و عام تھے۔انھیں دنوں انھیں ضعفِ مثانہ کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے انھیں بار بار باتھ روم جانا پڑتا تھا۔انھیں نغموں سے درج ذیل شعر کسی شرارتی بچے نے منتخب کرکے ان کے باتھ روم کی دیوار پر لکھ دیا تھا ؎
اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار
دیوارودر کو غور سے پہچان لیجیے۔
ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے شعر کا ایسا برمحل استعمال خود ان کا مذاق بنانے کے لیے کبھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے بہت کوشش کی پر اس طالبِ علم کو نہیں جا ن پائے۔اس شرارت پر یک گونہ سا قلق انھیں مرتے دم تک رہا۔
حاجت رفع کرنے کے بعد میں نے ٹوٹی گھمائی۔وہ نہیں گھمی۔میں نے پھر ذرا سختی سے گھمائی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔تیسری مرتبہ میں نے پورے دم خم کے ساتھ کوشش کی تو ٹوٹی نکل کر میرے ہاتھ میں آ گئی۔اس کے نکلنے کے ساتھ ہی وہاں سے پانی کی ایسی تیز و تند دھارا رواں ہوئی کہ میں اپنے آپ کو بچا نہ سکا اور پوری طرح گیلا ہو گیا۔میں بوجھل قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا،سٹکنی سرکائی اور سر لٹکائے دل میں یہ ارمان سجائے اپنے کمرے کی طرف چل دیاکہ”کاش!میں چارلس ڈکنس کی ہیروئین ہوتاتو یہ دن نہ دیکھتا۔“
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے