جے.این.یو کے مسلم طلباء کی اپیل

Spread the love

شہریت ترمیم بل: ہندوستانی آئین اور مسلمانوں پر حملہ
”این آر سی“ کا مطلب ہے کہ ہر انسان سے دستاویز مانگے جا ئیں گے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ بھارت کا شہری ہے۔ این آر سی پہلے بھی لایا گیا اور اسکے ذریعے جو غیر ملکی یہاں رہ رہے ہیں انکی نشاندہی کرکے انکو نکالا یا قید کیا جاتا ہے۔ بھاجپا سرکار نے یہ کام آسام میں دوبارہ شروع کروایا ہے، اور اسے باقی صوبوں میں بھی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آسام، جہاں کہ این آر سی میں نام نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ “ڈٹینشن سینٹر” میں قید ہو چکے ہیں، وہاں کے تجربے سے پتہ چلا کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں ہندو بھی اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے، اور غیر ملکی قرار دیے گئے۔ اسکے نتیجہ میں بھاجپا کے سامنے ایک مشکل کھڑی ہو گئی، کیونکہ انکا وعدہ یہی رہا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نکالا جائے گا۔
اس پریشانی کو حل کرنے کے لیے بھاجپا سرکار 9 دسمبر کو سٹزینشپ امینڈمینٹ بل (سی اے بی) لوک سبھا میں پیش کرنے والی ہے۔ اس قانون سے افغانستان، پاکستان اور بانگلادیش کے غیر مسلم بڑی آسانی سے بھارت کے شہری ین سکیں گے، کیونکہ وہ وہاں اقلیت اور مظلوم گنے جا ئیں گے، جبکہ وہاں کے مسلمانوں کو ایسی کوئی سہولت نہیں ملے گی، کیونکہ وہ اس ملک کی اکثریت سے آتے ہیں ۔ کئی اپوزشن کی پارٹیاں بھی اس بل کا سپورٹ کر رہی ہیں۔
ان کا منصوبہ صاف ہے، پہلے ”این آر سی“ کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو غیر ملکی، یعنی بنگہ دیشی یا پاکستانی ثابت کریں، اسکے بعد ”این آر سی“ میں جن غیر مسلموں کا نام نہیں آیا ہے، وہ ”سی اے بی“ کے تحت پاکستان اور بنگہ دیش کی مظلوم اقلیت ہونے کے ناطے بھارت کے شہری بننے کا حق رکھیں گے۔ اسکے برعکس جن مسلمانوں کا نام ”این آر سی“ میں نہیں آیا، انکو پاکستانی یا بنگلہ دیشی مانا جائیگا اور قید کر لیا جائیگا اور بھارت سے نکال دیا جائے گا۔ قیدخانوں کی مثال آپ آسام کے “ڈٹینشن سینٹر” میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں بےقصور انسانوں کا ایک بڑا ہجوم پنجڑوں میں جانوروں کی طرح زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔ یہ یاد رکھیں کے ہم میں سے کروڑوں ایسے ہیں جو اپنی شہریت ثابت نہیں کر پائیں گے۔ بہتوں کے پاس کوئی دستاویز نہیں ہوتے، اور اگر ہوں بھی تو ہر جگہ ایک ہی نام، ایک ہی ہجے، اور نا جانے کیا کیا۔ اگر انکا ارادہ آپ کو نکالنے کا ہی ہے، تو بہانے ہزار نکل آئیں گے۔ اسلئے جن کے پاس دستاویز ہیں بھی وہ بھی اس گمان میں نہ رہیں کے یہ سب انکے لیے بڑا مسلہ نہیں۔ ”این آر سی“ اور ”سی اے بی“ دونوں ملا کے مسلمانوں اور صرف مسلمانوں پہ حملہ ہے۔ تین ایسے ملک چنے گئے، (پاکستان، بانگلادیش، افغانستان) جو کہ مسلم اکثریت ہیں، اور بھارت میں جو مسلمان اپنے دستاویز نہ دکھا پائے اسے پاکستانی، بنگلادیشی یا افغانی قرار دے کر حراست میں لے لیا جائے۔
یہ قانون ہمارے دستور کے خلاف بھی ہے، اور کچھ مسلم تنظیمیں اسکے خلاف عدالت کا رخ بھی کر چکی ہیں۔ لیکن، آج 6 دسمبر کا دن ہے، آج ہی کے دن بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ بابری مسجد کی شہادت اور مسلہ کشمیر پہ سپریم کورٹ کے رویے سے یہ سمجھ میں آیا کے کورٹ کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اب اگر وہاں سے انصاف نہ ملے، یا انصاف ملنے میں سالوں لگ جایں، جب تک ادھر سرکار اپنا کام کر چکے، تو پھر ایسے انصاف کا کوئی فائدہ نہیں۔اب ایسے میں عام مسلمانوں کو کیا راستہ اختیار کرنا چاہیئے؟

اول تو یہ کے ہمیں پوری طرح ”این آر سی“ کا بایکاٹ کرنا ہوگا۔ اگر ہم سارے مسلمان اپنے دستاویز دینے سے منع کر دیں، تو یہ ہماری 25 کروڑ کی آبادی کو نہ تو قید کرنے کی اوقات رکھتے ہیں، نہ ہی نکالنے کی۔ اور اس بات کو سمجھ کے اپنے آس پاس کے لوگوں کو سمجھانا ہے، کہ ہماری طاقت ہماری وحدت میں ہے، اگر ہم منتشر ہو کے خود کی شہریت ثابت کرنے میں آگے آگے رہیں گے، تو اس سے بھاجپا سرکار کا کام آسان ہو جائےگا۔
دوسری چیز جو ہمیں کرنی ہے وہ ہے ”سی اے بی“ (سٹزینشپ امینڈمینٹ بل) کی ہر حال میں مخالفت۔ کیونکہ آسام، بنگال اور بہار جیسے کئی صوبے ہیں جہاں زبردستی لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی ثابت کرکے قید کرنے کا پلان ہے۔ ایسے میں ہمیں ایک آواز میں اس قانون کو رد کرنا ہے، اور یہ اعلان کرنا ہے کہ یہ ایک کمیونل اور فرقہ وارانہ قانون ہے، جو خاص مسلمانوں کے حقوق چھیننے کو بنایا گیا ہے۔ دلی کے مسلمان اپنے احتجاج سے دنیا کے کونے کونے میں خبر پہنچا سکتے ہیں کے بھارت کی سرکار ایسا قانون نافذ کر رہی ہے۔

اسی سلسلے میں یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ نے 7 دسمبر، بروز سنیچر، جنتر منتر پہ ایک احتجاجی ریلی کا کال دیا ہے۔ ہم، JNU کے مسلم اسٹوڈینٹس آپ سب سے گزارش کرتے ہیں کے آپ 7 دسمبر کو اس ریلی میں حصہ لیں۔


9 دسمبر، سوموار کو یہ بل پیش ہونا ہے۔ JNU, جامعہ اور دگر یونیورسٹی کے مسلمان طلبا ارادہ کر رہے ہیں کہ عنقریب ہی پارلمینٹ کی طرف مارچ کیا جائے، اور فی الحال اسی سلسلے میں دلی کی کئی مساجد میں آج جمعہ کے دن یہ پرچہ بانٹا گیا ہے۔آپ سب مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اس قانون کے خلاف ہر احتجاج اور مارچ میں حصہ لیں کیوںکہ یہ کروڑوں مسلمانوں کےگھربار اور مستقبل کا سوال ہے۔
MUSLIM STUDENTS OF JNU

4 thoughts on “جے.این.یو کے مسلم طلباء کی اپیل

  • دسمبر 6, 2019 at 11:50 صبح
    Permalink

    حالات کا مکمل تقاضہ ہے کہ سارے لوگ اس غیر آئینی اور غیر جمہوری بل اور این آر سی کی اس سازش کے خلاف مکمل طور سے پوری مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائیں۔اور پورے ہندوستان میں اس کے خلاف پرزور احتجاج ہو۔۔۔

    Reply
  • دسمبر 6, 2019 at 11:59 صبح
    Permalink

    یا اللہ رحم فرما ہم سب مسلمانوں پر آمین

    Reply
  • دسمبر 6, 2019 at 1:14 شام
    Permalink

    ہم اس طرح کے تمام بلس کی مخالفت کرتے ہیں اور ہم آپ کے ساتھ ہیں

    Reply
  • دسمبر 6, 2019 at 3:17 شام
    Permalink

    بالکل درست، ہم اس کی تائید کرتے ہیں

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے