ہندوستانی مسلمان: ایک تجزیہ

Spread the love

۱۳ اگست ۲۰۱۸ (عزیر احمد،بلاگ)
(نوٹ: واضح رہے کہ یہ مضمون سرحد پار کی ایک ویب سائٹ کے لئے لکھا گیا ہے)
ہمارے سرحد پار کے بھائیوں کی محبت ہے کہ وہ اکثر اپنے آپ سے زیادہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں، اور ہونا بھی چاہئے آخر وہ بھی تو کبھی ایک ہی تھے، کبھی ہم میں اور ان میں بھی قرار تھا،یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر سوشل میڈیا پہ اس قسم کے سوالات کرتے نظر آتے ہیں کہ ”اس پار کے حالات کیسے ہیں؟ 1947 کا فیصلہ درست تھا، مذہبی آزادی ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ”، بہت سارے سوالات ہیں جو ان کے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر جس دیش کو وہ چھوڑ آئے تھے وہ اب کیسا ہے، اس میں رہنے والے باسی کیسے ہیں۔
کئی ناحیوں سے ان سارے سوالات کا جائزہ لیا جا چکا ہے، اور لیا بھی جا رہا ہے، دونوں طرف کے لوگ لکھ رہے ہیں، کہیں افراط ہے، کہیں تفریط ہے، اسی وجہ سے میں اس موضوع پہ قلم اٹھانے سے احتراز کیا کرتا ہوں، لیکن جب سے ایک بھائی نے فیسبوک پر مجھ سے ان سب چیزوں کے تعلق سے سوال کیا ہے،ذہن میں بہت ساری باتیں آرہی ہے جسے بیان کردینا ہی مناسب ہو، شاید اسی بہانے سرحد پار کے لوگ ہندوستانی مسلمانوں سے واقف ہوسکیں۔
سب سے پہلا سوال جو پاکستانی ذہنوں میں گردش کرتا رہتا ہے وہ یہ کہ ہندوستان میں حالات کیسے ہیں، اگر برے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 1947 کا فیصلہ درست تھا، حالانکہ یہ ”غلط واقعات کے ذریعہ غلط نتیجہ” پر پہونچنا ہے، حالات برے ہونے کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ ”اسے کسی غلط فیصلے کے صحیح ہونے” کی دلیل سمجھ لی جائے، میری اس بات سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان کے وجود میں آنے کو ایک ”غلط فیصلہ” کہہ رہا ہوں، یہ تاریخ کا فیصلہ تھا، لہذا اسے تاریخ ہی پہ چھوڑ دیں تو زیادہ بہتر ہے، وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ صحیح کیا تھا اور غلط کیا، ہاں مگر ہم مثبت اور منفی دونوں پہلؤوں سے جائزہ ضرور لے سکتے ہیں۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے سے عالم اسلام میں ایک ملک کا اضافہ ہوا ہے، جس کی نیوکلئیر ٹیکنالوجی اور طاقتور فوج عالم اسلام کے لئے ایک مورل سپورٹ کی حیثیت رکھتی ہے، منفی پہلو یہ ہے کہ اس تقسیم سے برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں کی طاقت بٹ گئی، ان کی ہوا اکھڑ گئی، ان کا شیرازہ منتشر ہوگیا، وہ مختلف جہتوں میں تقسیم ہوکر رہ گئے، ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، تین ملکوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے مضبوطی کسی بھی ملک میں حاصل نہیں ہوئی، پاکستان میں جاکر بھی لوگ مہاجر ہی رہے، قبائلی عصبیتیں جڑ پکڑ گئیں، لسانی تفریق نے لوگوں کو مزید منتشر کردیا، اور ادھر جو ہندوستان میں بچے کھچے رہ گئے، وہ ہندؤوں کی نظر میں اعتماد کھو بیٹھے، انہیں لگنے لگا کہ ان مسلمانوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا ہے، اور وہ اس سلسلے میں حق بجانب بھی ہیں، کوئی صاحب اس پہ ناک بھوں نہ چڑھائیں، ہم ذرا منظر نامہ بدل کر سمجھاتے ہیں، سوچئے ذراکہ اگر غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی اور ہندو اقلیت میں ہوتے، انگریزحکمرانی کر رہے ہوتے، پھر ہندو مسلم سب لوگ مل کر آزادی کی لڑائی لڑتے، بعد میں ہندو یہ مانگ شروع کردیتے کہ مسلمان چونکہ اسلامی شریعت نافذ کردیں گے اس لئے ہم مسلمانوں کے تحت زندگی نہیں گزار سکتے، ہم انہیں وزیر اعظم کے عہدے پہ نہیں دیکھ سکتے، حکومتی شعبوں میں ان کی اکثریت نہیں برداشت کرسکتے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ساتھ امتیاز برتا جائے گا، لہذا ایسا کیجئے کہ ہمیں الگ کردیجئے، پھر ان کی یہ مانگ زور پکڑ جاتی، نتیجہ کے طور پر لارڈماؤنٹ بیٹن ان کے لئے الگ ملک کی لکیر کھینچ دیتا، پھر وہ اس ملک کی طرف ہجرت کرکے چلے جاتے، اور وہ ہندو لوگ جوصرف اس وجہ سے باقی بچ جاتے کہ اگر سب چھوڑ کے چلے جائیں گے تو اس ملک میں موجود مندروں کی نگرانی کون کرے گا، یا انہیں اپنے پرکھوں کی زمین سے اس قدر محبت ہوتی کہ وہ چھوڑ کر جانا گوارا نہیں کرتے ،تو ایک بار دل تھام کر کہئے کہ کیا وہ مسلمانوں کی نفرت کا شکار نہیں ہوتے؟ کیا اس وقت وہی مسلمان انہیں تقسیم کا ذمہ دار نہیں مانتے کہ انہیں کے لوگوں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے لئے الگ ملک بنا لیا؟ یقیناًوہ شکار ہوتے، انہیں مذہبی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا، اور اگر آپ اس کے منکر ہیں تو آئینے میں ذرا شکل دیکھ لیجئے، آپ کی نظریں آپ سے کہیں گی کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔

ہندوستان میں اگر آج مسلمانوں کو مذہبی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ اسی تاریخی پروسیس کا شاخسانہ ہے، اور وہ بھی اسٹیٹ مشنیری اتنا سب ہونے کے باوجود بھی سیکولر ہے،اگر مذہب کے نام پر وجود میں آئے پاکستان کے ری ایکشن کے طور پرہندؤں نے اسی وقت ہندوستان کو ہندو راشٹر گھوشت کردیا ہوتا کہ اگر پاکستان میں اسلام کی حکمرانی ہوگی تو ہندوستان میں ہندو مت کی، تو کیا وہ اپنے اس Reasoning (استدلال )میں غلط ہوتے،میں اگر کہوں تو شاید ’’نہیں، بالکل نہیں، وہ اپنے استدلال میں بالکل غلط نہیں ہوتے، ہاں پھر اس وقت زمین کے رقبہ پر بات ضرور کی جاسکتی تھی،لیکن انہوں نے سیکولرزم کو اپنانا پسند کیا، تاکہ اس ملک میں ہر کوئی امن و سکون کے ساتھ رہ سکے۔

یہاں میں بتاتا چلوں کہ سیکولرزم ہندوستانی مسلمانوں کی مجبوری نہیں چوائس ہے، کیونکہ ہندوستانی قانون کی ڈیفینیشن میں سیکولرزم کا مطلب مذہب سے بیزاری ہے ہی نہیں، بلکہ ”Equal Treatment of All Religion” ہے، یعنی اسٹیٹ کی نظر میں سارے مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہے، اسٹیٹ کا کوئی مذہب نہیں، مگر اسٹیٹ کے افراد مذہبی بھی ہوسکتے ہیں، ہاں مگر ان کی پالیسیاں کسی بھی مذہب کے تئیں امتیاز یا تفریق برتنے والی نہیں ہونی چاہئے، اسٹیٹ کوئی بھی ایسی پالیسی نہیں بنائے گی جو کسی مذہب میں دخل اندازی کے ضمن میں آسکتا ہو، البتہ یہ کہ اسٹیٹ انسانی بنیادوں پر کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی درخواست پر اس مذہب کے کسی خاص مسئلے پر غور و فکر کر سکتی ہے، اور اگر وہ انسانیت کے خلاف ہے یا کانسٹیٹیوشن میں دئیے گئے کسی آرٹیکل سے معارض ہے تو اس پر غور و خوض کرسکتی ہے، اور اس کے خلاف قانون بھی بنا سکتی ہے، مثال کے طور ہندو مذہب سے ستی کا خاتمہ، اور مسلمانوں کے حالیہ عائلی معاملات جیسے نکاح اور طلاق کا مسئلہ، باوجود یکے کہ یہ قانونی ڈیبیٹ کا مسئلہ ہے کہ کیا اسٹیٹ طلاق اور نکاح کے معاملے میں دخل اندازی کرسکتاہے جب کہ قران میں نکاح اور طلاق کا طریقہ بیان کیا گیا ہے؟ حکومت یکبارگی تین طلاق کے خلاف ہے، وہ طلاق کا ایک پورا پروسیجر بنانا چاہتی ہے، معاملہ ابھی سپریم کورٹ ہے، آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
مسلمانوں کو ہندوستان میں نفرت کا سامنا 2014 کے الیکشن کے بعد سے کرنا پڑ رہا ہے، اور اس نفرت کی بنیاد بھی سیاسی مفاد ہے، مذہب کا استعمال صرف پاور کے حصول کے لئے کیا جارہا ہے، اس نفرت کا مقابلہ مسلمانوں کی جانب سے بے شمار ہندو حضرات کر رہے ہیں، میں نے کئی بار اپنی تحریروں میں کہا ہے کہ ہندوستان میں اگر رویش کمار، برکھا دت، فلم انڈسٹری کے بے شمارافراد، اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز اور ایک مضبوط سول سوسائٹی نہ ہوتی جو مذہب کے نام پر نفرت کی کھیتی کرنے کو غلط سمجھتی ہے، اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہے، ہندوستانی مسلمانوں کو ہرقسم کا سپورٹ دیتی ہے، تو ہندوستان میں مسلمانوں کا رہنا بہت ہی دشوار ہوگیا ہوتا، کیونکہ ہندوستانی مسلمان ماشاء اللہ اتنے غافل ہیں کہ تقریبا ان میں سے ستر پرسنٹ سے زائد آبادی کو اس بات سے کوئی مطلب ہی نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں، ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ، انہیں کیا کرناچاہئے، ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ جانتے نہیں یا تعلیم یافتہ نہیں ہیں، بلکہ اگر آپ دہلی، ممبئی، حیدراباد، لکھنؤ جیسے شہروں میں جہاں مسلمانوں کا کریم طبقہ رہتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، بزنس مین، پروفیسر، غرضیکہ مختلف جہات زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے محلے میں گھس جائیں گے تو آپ کو یہی لگے گا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے سب ورچؤل ہے، حقیقی دنیا میں ہندوستانی مسلمانوں کو کوئی پریشانی نہیں، کہیں کوئی احساس نہیں، کہیں کوئی پلاننگ نہیں، ہر کوئی اپنی اپنی دنیامیں مست۔
یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ گزشتہ کچھ عرصوں سے ہندوستان میں سیاست ”ہندو مسلم” بنیادوں پرکی جانے لگی ہے، ووٹوں کے Polarization (بکھراؤ) کے لئے مذہب کا استعمال کیا جانے لگا ہے، مذہب ایک نشے کی طرح ہے، اس کا افیون لوگوں کو مد مست کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے، جہاں ایک طرف ہندؤوں کو بھڑکایا جاتا ہے کہ ”گائے تمہاری ماتا ہے اور یہ نیچ مسلمان اسے ذبح کرکے کھاتے ہیں”، وہیں طرف مسلم لیڈران کے بھی بھڑکاؤ بیانات آتے ہیں کہ ”مسلمانو! متحد ہوجاؤ، ہندؤوں سے مقابلہ کرنا ہے”، عوام عوام ہے، ایک طرف ”جے شری رام” کے نعرے لگتے ہیں، دوسری طرف ”اللہ اکبر” کے، نفرت کی کھائی دونوں طرف سے بڑھائی جاتی ہے، پھر جب الیکشن ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی باوجود یکے کہ صرف 31% ووٹ پائی ہے، وہ Single Largest Party بن کے ابھری ہے، اور 69% ووٹ پاکر بھی سیکولر پارٹیاں بغلیں جھانک رہی ہے، تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ مختلف سیکولر پارٹیوں کے ٹکراؤ کے درمیان کوئی اور سیٹ لے اڑا ہے، یہاں تک کہ مسلم اکثریتی علاقوں سے بھی ہندو جیتتا ہے، کانگریس بھی مسلم امیدوار کھڑا کرتی ہے، علاقائی پارٹیاں(جیسے بہوجن، سماج وادی وغیرہ) بھی مسلم ہی کو اپنا امیدوار بناتی ہیں، سب اسی دوڑ میں لگے رہتے ہیں کہ مسلم علاقہ ہے، کسی مسلم کو ہی کھڑا کرنا ہے، ساری پارٹیاں مسلم امیدوار کھڑا کرتی ہیں، رحیم، کریم، شفیق، وغیرہ وغیرہ، انہیں کے درمیان آجاتا ہے وجیندر پرساد (بی.جے.پی)، اب اگر مسلمانوں کا تناسب 65% بھی ہو نا توبھی کوئی مسلم امیدوار نہیں جیتنے والا، کیونکہ سارے مسلم ووٹ تو بٹ چکے ہیں، اب جو غیر مسلم ووٹ ہے وہ فکسڈ ہے کہ اس میں کتنا پرسنٹ کس کو ملنے والا ہے، لہذا وجیندر ان سب پارٹیوں کے کل ووٹوں کا تناسب ملا کر کم پانے کے باوجود بھی جیت جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ ہندوستانی الیکشن میں کسی بھی پارٹی کی جیت کے لئے ووٹوں کا بکھراؤ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے لئے سب سے آسان طریقہ ہے، ہندو مسلم تنازعہ کھڑا کرنا، مختلف مسائل جیسے بابری مسجد، تاج محل، دھرم پریورتن، Love Jihad، طلاق، حلالہ، ڈاکٹر ذاکر نائیک، دہشت گردی وغیرہ جیسے معاملات کو اچھالنا، اور اسے عوام الناس میں بحث کا سبب بنا کر ہندو مسلم کھائی کو گہرا کرنا ہے۔
ورنہ اگر بات کی جائے مذہبی آزادی کی، تو آج بھی ہندوستانی مسلمان عوامی مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنوں پر مصلی بچھا کر بڑے فخر سے نماز ادا کرتے ہیں، ہندوستانی قانون نے انہیں وہ سارے حقوق عطا کئے ہیں جو ہندو مذہب کے ماننے والوں کو حاصل ہے، ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں تمام تر منفیات کے باوجود ابھی بھی بہت امن و سکون کے ساتھ ہیں، ابھی بھی غیر مسلموں سے جو عزت و احترام ملتی ہے وہ یہیں کا خاصہ ہے، یونیورسٹیوں میں بغیر قوم و مذہب کی تفریق کے جس پیار اور محبت کے ساتھ بچے رہتے ہیں، وہ شاید کہیں اور دیکھنے کو نہ ملے، ہندوستان ایک گلستان ہے جس میں مختلف قسم کے پھول کھلے ہیں، اور اس کی خوبصورتی ان پھولوں کو یکجا رکھنے میں ہی ہے، جس دن ان پھولوں کو الگ الگ کرنے کی کوشش کی جائے گی، اس کی خوبصورتی کو گہن لگ جائے گا، اورکچھ دنوں کے بعد جہاں کبھی خوبصورت ہوائیں چلا کرتی تھیں، وہاں ایک پتہ بھی کھڑکتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حالات خراب ہوئے ہیں،اس کا اعتراف ہر کسی کو ہے، موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، مسلمانوں کے تئیں اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھول دیا گیا ہے، نفرت کی باتیں کھلے عام ہونے لگیں ہیں، سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو گالی دینے کا چلن بڑھ گیاہے، لیکن ان تمام کے باوجود ابھی بھی قدرے غنیمت ہے، اس کا اندازہ اسی سے لگائیے کہ ابھی حال ہی میں ایک فلم ’’ملک‘‘ بنائی گئی ہے جس میں ایک بھی مسلم ایکٹر نہیں ہے، لیکن اس فلم میں مسلمانوں کے تئیں بڑھ رہے ظلم و ستم کے خلاف اتنے مؤثر انداز میں آواز اٹھائی گئی ہے کہ اس کی گونج میڈیا چینلوں سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے، ابھی بھی ہندوستانی اکثریت مسلمانوں کے تئیں ہمدرد ہے، ورنہ اہل سیاست نے کھیل تو ایسا کھیلا ہے کہ مسلمان بالکل سیاسی اور سماجی اچھوت بن کر رہ جائیں، ان کے دلوں میں ڈر پیدا ہوجائے اور وہ اپنے حقوق کو مانگنے سے باز آجائیں ، لیکن یہ سارے واقعات اس تاریک اندھیری رات کے مانندضرور ہیں جو لمبی تو ہوسکتی ہیں،مگر ان کو دوام نہیں، ایک نہ ایک دن صبح کی سپیدی انہیں نگل جائے گی، اگر مسلمان ’’مابعد تقسیم‘‘ کے واقعات کو جھیل سکتاہے، ہندوستان پاکستان کی لڑائیوں کی وجہ سے اپنی طرف اٹھتی ہوئی اہل وطن کی مشکوک نگاہوں کو برداشت کرسکتا ہے، صبر ،استقلال اور عزم و ہمت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے تو پھر یہ سب چھوٹے موٹے واقعات کی کیا مجال ہے کہ ان کے پائے استقلال میں لغزش لے کر آئے، جس دن برادران وطن مگرمچھوں کی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو ‘‘ کی پالیسی کو سمجھ جائیں گے ،ا نہیں لات مار کر حکومت سے بے دخل کردیں گے ان شاء اللہ۔
رہی بات کشمیر کی ، تو کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے Bone of Contention (وجہ تنازع) ہے، دونوں طرف سے سیاست ہورہی ہے، اور اس چکر میں پس رہے ہیں کشمیر کے بیچارے معصوم عوام، خون ان کا بہہ رہا ہے، گھر کا ان جل رہا ہے، ساز و سامان کی تباہی ان کی ہورہی ہے، معیشت ان کی بگڑ رہی ہے، ٹورزم سیکٹر ان کا فلاپ ہورہا ہے، اور روٹیاں سینک رہے ہیں دونوں طرف کے سیاست دان، کچھ جماعتوں کے سربراہان، غزوہ ہند کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے والے لیڈران، اور چینلوں پر بیٹھے ہوئے اینکران کہ اگر کشمیر کا مسئلہ نہ ہو تو ان کا گھر کیسے چلے، جذبات کی کھیتی کیسے وہ کریں، ان کی ٹی.آر.پی کیسے بڑھے، ایک وہی تو مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر لوگوں کی غم و غصے سے مٹھیاں بندھ جاتی ہے، آنکھ سے انگارے نکلنے لگتے ہیں، حالانکہ لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی جہاد ہے، نہ تو پاکستان اسلام ہے اور نہ ہی ہندوستان کفر ہے، بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، خود کشمیریوں میں کشمیر کے تعلق سے تین قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں، علیحدگی پسند اور پاکستان سے التحاق، علیحدگی پسند مگر خود مختار اور آزاد ریاست،اور آخری نظریہ خود ہندوستان کے ساتھ ہی التحاق کا ہے، اس مسئلے کا حل صرف اور صرف سارے Stakeholders (ذمہ داروں) کے ساتھ ڈیبیٹ اور ڈسکشن ہے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں، نہ تو مسلح جد و جہد، اور نہ ہی جنگ، جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے، وہ کیا کسی مسئلے کا حل نکالے گی۔
آخری بات میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ میں سیاست کی دنیا میں عمومی طور پر ”واقعیت پسند” واقع ہوا ہوں، میں چیزوں کو اسی ناحیے سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں جیسے وہ ہیں، ”اگر” ”مگر” یا ”ایسا ہونا چاہئے” یا ”ایسا ہونا چاہئے تھا” وغیرہ جیسے ٹرم کی بنیاد پر عموما بات کرنے سے احتراز کرتا ہوں، میرے نزدیک پاکستان ایک ”سچائی” ہے، اور ”ہندوستان” بھی، سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس ”سچائی” کا اعتراف کرنا چاہئے، اور اس ”اعتراف” کے بعد یہ ”کوشش” بالکل نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلائیں، یا ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کوشش کریں، کیونکہ صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں آج کے Modern World Order (جدید عالمی نظام) میں صرف ایک Illusion (وہم) ہوسکتا ہے، حقیقت نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ Conflict (تنازع) سے زیادہ Cooperation (تعاون) کے راستوں کو تلاش کیا جائے، اور دونوں ملک کے عوام کو ایک بہتر زندگی جینے کا موقع دیا جائے۔
اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان Non-State Actors(غیر حکومتی کرداروں) پر پابندی لگائے، جتنی بھی مسلح تنظیمیں ہیں خواہ وہ کسی بھی مسلک، تنظیم یا جماعت کی ہوں سب کو غیر مسلح کرے، اور بیرون ممالک میں انارکی، بد امنی، دہشت گردی پھیلانے والے تمام لوگوں کو گرفتار کرے، کیونکہ یہی لوگ دونوں ملکوں کی فضا کو کبھی پر امن نہیں ہونے دیتے ہیں، انہیں لوگوں کی وجہ سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں دیش دروہی اور غدار کے لقب سے نوازا جاتا ہے، انہیں لوگوں کے نام پر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں لوگوں کی وجہ سے پاکستانی علمی اشخاص سے بھی تعلقات رکھنے میں خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں لوگوں کی وجہ سے چینلوں پر اسلام کو رسوا کیا جاتا ہے، داڑھی، ٹوپی اور کرتا کا مذاق اڑایا جاتا ہے، پاکستانیوں کو یہ بات سمجھنا ہوگا کہ ان کے ہر ایکشن کا ری ایکشن ہندوستانی مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے، اس لئے اگر وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان چین و سکون کے ساتھ رہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی انفرادی جد و جہد بند کردیں، اور جو کچھ بھی ہو، پیار محبت، یا نفرت عداوت، سب کچھ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے ذریعہ ہو، عوام الناس کا کردار صرف اپنی اپنی حکومتوں کا ساتھ دینے میں ہو بس۔
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہونچے۔
(بشکریہ: اھل قلم ویب سائٹ، پاکستان)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے