اردو پر پھر بجلی گری!

Spread the love


ابھے کمار

مقبول شاعر صدا انبالوی کا یہ شعر اردو کے خلاف چل رہی سیاست کے درد کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔
اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
اب سیاست نے اسےجوڑ دیا مذہب سے۔
ملک کے ایک بڑے حصہ میں بولی جانے والی اردو، جس کو شاعروں نے اپنے تصور میں’ہواؤں میں خوشبو گھولنے والی’ اور’محبت کی زبان’ کہا، آج پھر فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہے۔ اسے پھر ایک مخصوص فرقہ اور مذہب سےجوڑنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ علاقائی زبانوں کی ترقی میں اسے پتھر قرار دیا جا رہا ہے۔ اردو کی عظمت، اس کی بلندی اور وسعت پر چوٹ کی جا رہی ہے۔ ایک عوامی زبان کو ‘غیروں’ کی زبان کہہ کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ ان سب کے پیچھے اصل مقصد مسلمانوں کو اپنے ہی سماج میں مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔
شوشل میڈیا اور بعض اخبارات کی خبروں کے مطابق، کچھ روز پہلے بہار کے دربھنگہ شہر میں اردو پر بجلی گری ہے۔ مقامی ریڈیو سٹیشن سے قریب سی ایم لاء کالج کے مین گیٹ پر اردو میں لکھے گئے کالج کے نام کو اچانک سے مٹا دیا گیا ہے۔خدشہ یہ ہے کہ یہ کام خود کالج انتظامیہ نے فرقہ پرست تنظیموں کے دباؤ میں کیا ہے۔ ایک لمبے وقت سے فرقہ پرست دربھنگہ میں میتھلی زبان کو اردو کا دشمن قرار دینے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک میں چل رہی فرقہ وارانہ سیاست سے جدا نہیں ہے، جس کے تحت شہروں اور سڑکوں کے نام بدلے جا رہے ہیں۔ جنوری میں ریلوے نے تو اتراکھنڈ میں اردو میں لکھے اسٹیشنوں کے نام کو سنسکرت میں بدلنے کا فیصلہ کیا، جس زبان کو آج مٹھی بھر لوگ اپنی زندگی میں نہیں بولتے۔ کافی دنوں سے بہار کے متھلا علاقہ میں بھی یہ پروپگنڈا اکثریتی فرقے میں پھیلایا جا رہا ہے کہ میتھلی کا واجب حق حاصل کرنے میں اردو ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
سی ایم کالج کا پورا نام چندرادھاری کالج ہے، جو ایل این متھلا یونیورسیٹی سے منسوب ہے۔ وہاں قانون کی تعلیم آزادی ملنے کے دو سال پہلے سے ہی دی جا رہی ہے۔ ایسے اہم اداروں میں اچانک سے اردو میں لکھے گئے کالج کے نام کو مٹا دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس پر مین سٹریم میڈیا کی خاموشی بھی مایوس کن ہے۔ ذرا سوچئے اگر اردو کی جگہ ہندی کا نیم پلیٹ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہٹا دیا گیا ہوتا ؟تو پھر نیوز روم میں طوفان آ گیا ہوتا!نیوز اینکر ملک کے ہر ایک مسلمان کے گریبان کو پکڑ لیتے اور یہ سوال کرتے کہ کیا وہ اس واقعہ کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ دن رات ٹی وی شو پر اس مسئلے کو مسلمان، قومیت، حب الوطنی، تقسیم ملک، مسلم لیگ اور اکثریتی طبقہ کے ‘اپمان’ سے جوڑ کر ہنگامہ کھڑا کیا جاتا۔
مگر اردو کے ساتھ نا انصافی پر ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس تنازعہ پرکالج انتظامیہ نے ابھی تک رسمی طور سے وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ آخر اردو میں لکھے کالج کے نام کو اچانک سے کیوں ہٹایا گیا؟ اس طرح کے فیصلے لینے کا حکم کالج انتظامیہ کو کس نے دیا تھا؟ کیا یہ سب واقعی فرقہ پرستوں کے دباؤ میں کیا گیا؟ کورونا کی وبا میں جہاں لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں اس صورت میں اردو کے حروف کو کالج کے مین گیٹ سے مٹانے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟ ملک کے تمام محبان اردو اور سیکولر جماعتیں ان سوالوں کا جواب کالج اور یونیورسیٹی انتظامیہ اور حکومت بہار سے طلب کر رہی ہیں۔
دریں اثنا سوشل میڈیا پر سماجی کارکنان اردو کے خلاف رچی گئی اس سازش کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے آگے آئے ہیں۔منگل کے روز ٹویٹر پر ایک مہم چلائی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر اور دربھنگہ ضلع میں سر گرم سماجی کارکن نظر عالم نے ایک بیان جاری کر یہ الزام لگایا ہےکہ اس پورے معاملے کے پیچھے بھگوا سیاسی جماعت کا رول ہے۔اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ اردو کے خلاف اتنا بڑا حملہ ایسی ریاست میں ہوا ہے جس کی دوسری سرکاری زبان اردو ہے۔
اردو کو ‘بیرونی’ اور مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی کوشش لمبے وقت سے ہوتی رہی ہے۔اس کی شروعات ۱۹ ویں صدی میں ہوئی۔مثال کے طور پر بنارس میں اردو مخالف ایک بڑی تحریک کھڑی کی گئی، جس کا مطالبہ یہ تھا کہ ریاست اردو زبان اور فارسی رسم الخط کو ہٹا کر بھاشا اور دیوناگری رسم الخط کو اپنائے ۔ ۲۰ ویں صدی کی شروعات میں ہی انگریزی حکومت نے ایک فرمان جاری کر ہندی کو اردو کے برابرمقام دے دیا۔ دھیرے دھیرے ہندی اور اردو کی کھائی جان بوجھ کر بڑھائی گئی۔ہندی کے ادیبوں نے دانستہ طور پر اردو کے مقبول ترین الفاظ کو نظر انداز کرتے ہوئے سنسکرت کے شبد ہندی میں بھرنے لگے۔ اگر آپ اس زمانہ کے ہندی کے مشہور مصنف کی پرانی تحریروں کو پڑھیں گے تو ان کے ڈکشن میں اردو کے الفاظ کثرت سے ملیں گے، جیسے جیسے ہندی کی تحریک پروان چھڑنے لگی، ویسے ویسے ان کی تحریروں میں مشکل سنسکرت کے الفاظ دکھنے لگے۔
ایسا کرنے کے پیچھے ان کا اصل مقصد اکثریتی فرقے کے لیے ایک علیحدہ زبان تیار کرنا تھا۔ ایک سازش کے تحت ہندی، ہندو اور ہندوستان کو ایک کرنے کی مہم چلائی گئی۔ اس مہم کے اثر میں آزادی کے وقت اردو کو اس کے واجب مقام سے محروم کر دیا گیا۔ کل تک جو ہر طرف بولی جانے والی زبان تھی اسے ایک خاص فرقہ کی زبان کہہ کر محدود کر دیا گیا۔ وہیں، ہندی کو آگے کرنے کے لیے ہر طرح کی سرکاری مدد دی گئی۔ بعد میں کچھ ریاستوں نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر کچھ مثبت کام ضرور کیا۔ مگر اردو کی ترقی اور اسے روزی روٹی سے جوڑنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔فرقہ پرست اردو کے لیے بنائی گئی کسی بھی پالیسی کو ناکام کرنے کے لیے ہمیشہ آگے آئے۔ انہوں نے اس کی مخالف میں تشدد کا بھی راستہ اختیار کیا اور معصوموں کی جانیں بھی لی۔
حالانکہ اردو اور ہندی میں کوئی جھگڑا ہے ہی نہیں۔ دونوں ہندستان کی زبانیں ہیں۔دونوں آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ دونوں ایک ہی طرح سے بولی جاتی ہیں۔ جو انسان ہندی جانتا ہے وہ اردو بھی بخوبی سمجھتا ہے۔ ایک بار جب میں نے اپنا ایک اردو کا مضمون اپنے دوستوں کو پڑھ کر سنایا تو ان کا رد عمل یہ تھا: ‘اردو تو سب سمجھ میں آ جاتا ہے’۔اردو اور ہندی میں جو دوری ہے وہ صرف اسکرپٹ کا ہے۔اگر آپ ہندی جانتے ہیں اور آپ نے اردو اسکرپٹ پڑھنا سکھ لی تو آپ بھی اردو داں بن گئے۔ دونوں زبانوں کے قوائد، جملے اور الفاظ آپس میں اتنے مشرک کہ ہیں جیسا شاید دینا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہیں۔ نامور اردو فکشن رائٹر سعادت حسن منٹو بھی ہندی اردو تنازعہ کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے اپنی ایک تحریر ‘ہندی اور اردو’ میں کہا ہے کہ ‘ہندی کے حق میں ہندو کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔مسلمان اردو کے تحفظ کے لئے کیوں بے قرار ہیں؟۔۔زبان بنائی نہیں جاتی، خود بنتی ہے اور نہ انسانی کوششیں کسی زبان کو فنا کر سکتی ہیں’۔
ہندی اردو تنازعہ کے بعد فرقہ پرستوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ علاقائی زبانوں اور بولیوں کو بھی اردو کے خلاف کھڑا کر دیا جائے۔ متھلا کی سنسکرتی کو بھی ایک خاص مذہب اور فرقے کا ہم معنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو ہر اعتبار سے غلط ہے۔ متھلا کی پہچان کبھی بھی ایک مذہب پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک علاقائی پہچان ہے۔ اس لئے متھلا کا ہر باشندہ چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات برادری یا جنس سے تعلق رکھتا ہو وہ اس کی وراثت کا برابر کا حصہ دار ہے۔اردو اور میتھلی اور متھلا میں دوستانہ رشتہ ہے۔متھلا کی سر زمین پر پلے بڑھے سیکڑوں اردو کے مصنف کی تحریروں میں متھلا کے ہرے بھرے کھیت،پانی سے مالامال ندی، مچھلی سے بھرے تلاب، وہاں کے لوگوں کی خوشی اور غم، ان کی پرواز اور افتاد دکھ جائے گی۔ایک مصنف جس مٹی میں پیدا ہوتا ہے اس مٹی کی خوشبو اس کے قلم بند تمام خیالوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔اس لئے متھلا اور اردو کے درمیان تصادم پیدا کرنے والے در اصل متھلا تہذیب اور ثقافت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان کی ہر سازش کو ناکام کرنا ہم سب کا اولین فرض ہے۔

نوٹ: موصولہ اطلاقات کے مطابق، محبان اُردو کے احتجاج کے بعد سی ایم کالج کے میں گیٹ پر پھر سے کالج کا نام اردو میں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ مضمون اس پیش رفت سے پہلے ہمارے پاس پہنچا تھا۔
ابھے کمار
Follow
Latest posts by ابھے کمار (see all)

ابھے کمار

Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے