ہمارے بارے میں

Spread the love

 

"دی ٹرتھ” ایک خواب تھا, اب ایک پودا ہے, بہت پہلے سوچا تھا کہ ہم بھی کچھ شروع کریں, دنیا کب کا کاغذ سے سمٹ کر موبائل پر آچکی ہے, اور ہم ابھی تک ہیں کہ دوسروں کے بھروسے بیٹھے ہوئے, لیکن کیا کرتے؟ چارہ تو کچھ اور تھا نہیں, ویب سائٹ پر پیسے لگانا بھی ہم جیسے لوگوں کے لئے کافی سوچ بچار کا سبب ہوا کرتا ہے, لیکن ایک خواب تھا کہ جس کی تکمیل ضروری تھی, لکھنا ایک Passion ہے, کتنا بھی لکھنے سے کیوں نہ بھاگیں, کبھی نہ کبھی جذبات میں تلاطم آ ہی جاتا ہے, اور انگلیاں اسکرین پر کس طرح دوڑنے لگتی ہیں, خود ہی احساس نہیں ہوتا, سو اس Passion کو ایک مقصد عطا کرنا ضروری تھا, لکھنے کے بعد تحریریں کہیں نہ کہیں شائع ہوجاتی ہیں, لیکن گزرتے وقت کے ساتھ وہ نظروں سے اوجھل بھی جاتی ہیں, پھر جب کبھی موقع پڑنے پر اس تحریر کی تلاش ہوتی ہے تو اس کا ملنا مشکل ہوتا ہے, سو اس ویب سائٹ کی تشکیل کا میرا اولین مقصد میرے خود کی تحریروں کی حفاظت تھی, لیکن پھر دوستوں کے صلاح و مشورے کے بعد طے پایا گیا کہ اسے ایک ویب پورٹل کے طور پر بھی استعمال کیا جائے, جس میں خبریں بھی ہوں, بہترین مضامین و مقالات بھی ہوں, اور ایک سیکشن بلاگ کا ہو جس میں میری خود کی تحریرں ہوں, یوں "سچائی” کو ایک مشن بنایا جائے.

آوازیں خاموش ہوتی چلی جارہی ہیں, فاشزم کا اندھیرا بڑھتا چلا جارہا ہے, میڈیا اپوزیشن کا کردار نہ ادا کرکے حکومت کا ترجمان بنا ہوا ہے, لوگ زبانیں کھولتے ہوئے ڈر رہے ہیں, بلکہ ڈر کی حکمرانی تو نفسیات پر اس طرح قائم ہوچکی ہے کہ لوگ مزاحمت کے بجائے جھک جانے کو ہی حکمت و دانائی سمجھنے لگے ہیں, کوئی زیادہ ہوشیار ہو تو چاٹوکار بھی بن جارہا ہے, ایسی صورتحال میں قوم میں امیدوں کا زندہ رکھنا ضروری ہے, اور میں اس "سچائی” کو امید کا "مشعل” بنا دینا چاہتا ہوں کہ لوگ جب تھک ہار جائیں, جب ان کے حوصلے شکست خوردگی کا شکار ہوجائیں, جب ان کی امنگیں ٹوٹ پھوٹ جائیں, تو وہ اس "سچائی” کی طرف رجوع کریں, اور اس کی تحریروں سے نہ صرف اپنے حوصلوں کو جلا بخشیں, بلکہ قوم و ملت کے لئے کچھ کر گزرنے کی بھی ٹھان لیں.

ہم لوگ ہمیشہ اندھیروں کو کوستے رہتے ہیں, تنگ دامانی و بے سروسامانی کی شکایتیں کرتے نظر آتے ہیں, لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ہم اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا شروع کردیں, ہر کوئی اپنے اپنے گھر میں روشنی کرلے تو پورا گاؤں روشن نظر آئے. دی ٹرتھ” ایک تجربہ ہے, اگر ہم اس تجربے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان شاء اللہ ڈیجیٹل میڈیا کی طرف بھی قدم بڑھانے کی کوشش کی جائے گی, میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے, اور اس میں ہماری مشارکت جمہوریت کی بقاء کے لئے ضروری ہے. اردو میڈیا میں محنت زیادہ ہے, کامیابی کم ہے, اس کے باوجود اردو میڈیا سے شروعات ضروری اس لئے ہے کہ ہمارے قوم کی زبان ہے, قوم کو سمجھنا اور قوم کو سمجھانا بھی ضروری ہے, قطرہ قطرہ سے دریا بنتا ہے, آج قوم سمجھے گی, کل برادران وطن بھی سمجھیں گے, یہاں سے جو فکر اٹھے گی, وہ مجھے یقین ہے کہ سارے ہندوستان پر ضرور برسے گی. ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں کہ جہاں خبریں بس انگلیوں کی جنبش پر ہیں, اپنی الگ پہچان بنا پانا, اور لوگوں کے ذہنوں پر ایک چھاپ چھوڑ پانا بڑا مشکل امر ہے, لیکن وہ کیا ہے نا کہ ہر کام شروع میں مشکل ہی لگتا ہے, اور اگر ہر چیز مشکل سمجھ کر چھوڑ دیا جائے تو زندگی میں ہم کبھی کامیاب نہ ہوپائیں, سو یہ بھی ایک شروعات ہے, ابھی فی الحال ہماری نہ کوئی ٹیم ہے, اور نہ ہی اس لائق ہیں کہ صحافیوں کو ہائر کرسکیں, یا خبروں کے لئے پیسے ادا کرسکیں, اس لئے جو بھی خبریں اس پر شائع ہوں گی وہ یا تو کچھ لوگوں کی بھیجی ہوئی ہوں گی, یا پھر ایجنسیوں کے ذریعہ حاصل کی ہوئی ہوں گی، اور جہاں تک رہی بات مضامین و مقالات کی, تو ان شاء اللہ مضامین کی اشاعت میں ایک اسٹینڈرڈ ضرور مینٹین کیا جائے گا, اور کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ اکیڈمک سے منسلک لوگوں کے مضامین ہی شائع کئے جائیں, اور جو ہر موضوع پر ہوں, بہت اچھا لکھنے والوں کو ان شاء اللہ کچھ پے بھی کرنے کی کوشش کی جائے گی. اردو صحافت میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ قلمکار کو فار گرانٹیڈ لیا جاتا ہے, اور اس کی وجہ بھی ہے, لکھنے والے لوگ تو ہیں, لیکن پڑھنے والے لوگ نہیں, اور کوئی بھی اخبار یا میگزین, چاہے وہ پرنٹ ہو یا ڈیجیٹل, اس کی کامیابی کا راز اس کے قارئین ہی ہیں, لوگوں نے پڑھنا کم کردیا ہے, غیروں سے کیا گلہ کرنا, خود پڑھنے والے لوگ ہی نہیں پڑھتے ہیں, بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میرا کوئی آرٹیکل لمبا ہوجاتا ہے تو لوگوں کی شکایتیں جا بجا نظر آنے لگتی ہیں کہ آپ بہت طویل لکھتے ہیں, تھوڑا مختصر لکھا کریں, حالانکہ جو قلم کار ہوتا ہے, وہ دل سے لکھتا ہے, دماغ سے نہیں, اس کے جذبات الفاظ بن کر اسکرین پر ٹائپ ہورہے ہوتے ہیں, اور جذبات کی انتہا کہاں ہوتی ہے, وہ تو دل کی ایک کیفیت ہوتی ہے, اور اس کا دورانیہ کب تک رہے کون بتا سکتا ہے, بہرحال اللہ رب العالمین سے دعا یہی ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کرے, ایک سفر ہے جو تنہا شروع کی ہے, امید ہے کہ لوگ راستے میں آ آ کر ملتے جائیں گے, اور یوں ایک دن ہم کارواں کی شکل اختیار کرلیں گے ان شاء اللہ.