کیا نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدے کے منافی ہے؟

Spread the love

۱۶ مئی ۲۰۱۹ (عزیر احمد، بلاگ)
فکر غامدی سے وابستہ ایک صاحب نے ایک دوسرا سوشہ چھوڑا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کا عقیدہ رکھنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ اس سے ختم نبوت کے عقیدے پر ضرب پڑتی ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا”، تو اگر ہم عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں تو گویا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں ہیں، بلکہ ان کے بعد بھی کوئی نبی آنے والا ہے، کیونکہ ظاہر بات ہے، ایک نبی ہمیشہ نبی ہی رہتا ہے، نبی کی حیثیت سے معزولی ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ مفتی شفیع عثمانی صاحب نے صاف طور پر لکھا ہے کہ وہ جب آئیں گے تب بھی نبوت و رسالت کی صفت سے متصف ہونگے، نبوت کے منصب سے وہ الگ یا معزول نہ ہونگے، اور جس طرح پہلے ان کی نبوت کا انکار کفر تھا تب بھی ان کی نبوت کا انکار کفر ہوگا. ( دیکھئے معارف القران جلد دوم زیر تفسیر آیت انی متوفیک ورافعک).
اب اگر حضرت عیسی علیہ اپنے نزول ثانی کے وقت بھی نبوت کی صفت سے متصف ہونگے تو ختم نبوت کا عقیدہ کہاں سلامت رہا بھائی؟”
میں نے ان کو جواب دیا کہ بھئی حضرت عیسی علیہ السلام کس حیثیت سے آئیں گے یہ بعد کا مرحلہ ہے، پہلے تو آپ تسلیم کیجئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، کیونکہ صحیح اور صریح احادیث سے ثابت ہے، رہی بات یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کس حیثیت سے آئیں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آرہے ہیں تو وہ امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور شریعت محمدی کی پیروی کریں گے اور اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے، اور یہ اس بات کے لئے بالکل بھی لازم نہیں ہے کہ ان کی نبوت زائل کردی جائے، وہ نبوت کے منصب سے الگ یا معزول نہیں ہوں گے، ایک نبی دوسرے نبی کی موجودگی میں بھی نبوت کے منصب پر فائز رہ سکتا ہے جیسے کہ حضرت ہارون علیہ السلام، جیسے کہ آپ نے خود اپنے پوسٹ میں کہا.
اب رہا سوال یہ کہ کیا یہ عقیدہ ختم نبوت کے عقیدے کے منافی نہیں ہے، تو میرے بھائی منافی کیسے ہے؟ ہم اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبوت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقدم ہیں، اور ان کا نزول قرب قیامت کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ایک ہے، تو اگر ہم مان بھی لیں کہ ایک امتی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک نبی کی حیثیت سے آئیں گے تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ ایک نئی تشریع تو لے کر آئیں گے نہیں، اور نہ ہی اپنی شریعت کی تبلیغ کریں گے، بلکہ آپ ہی نے اپنے پوسٹ میں اس حدیث کا حوالہ دیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر حضرت موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری ہی اتباع کرتے، اسی طرح عیسی علیہ السلام بھی اللہ کے رسول کی اتباع کریں گے، تو ختمِ نبوت کے عقیدے پر ضرب کیسے پڑا؟ معاملہ تو اس وقت ہوتا نا جب حضرت عیسی علیہ دوبارہ نئی شریعت لے کر آتے، نئے عبادات، نئے اعمال، لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ سب کچھ تو وہی رہے گا جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، پھر یہ ذہنی خلجان کیونکر؟
دوسری بات عیسی علیہ السلام کوئی نئے نبی تو آنے والے ہیں نہیں، بلکہ وہ وہی ہیں جو ایک بار آچکے ہیں، نبوت کی جو عمارت تھی وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مکمل ہوچکی ہے، اب اس میں کسی نئے اینٹ کی گنجائش نہیں، حضرت عیسی علیہ بھلے ہی دوبارہ آئیں گے، مگر وہ نئے نہیں ہیں، وہ تو نبوت کے تاج میں جڑے ہوئے ہیروں میں سے ایک ہیرا ہیں، کبھی کسی نے تاج دیکھا ہے، جب بناتے وقت فنکار اس میں ہیرے جڑتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ کوئی نہ کوئی ہیرا ہوتا ہے جسے اخیر میں جڑا جاتا ہے، تو اگر پہلے جڑے ہوئے ہیروں میں سے کوئی ہیرا تاج سے نکل جائے، اور کاریگر بعینہ اسی ہیرے کو دوبارہ اس کی جگہ پر جڑ دے تو اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ نیا ہیرا جڑا گیا، یا جو سب سے لاسٹ میں ہیرا جڑا گیا تھا، اس کی وجہ سے اس کی پوزیشن میں کچھ تبدیلی آگئی ہے، یا اگر ان ہیروں کی پوزیشن تبدیل بھی کردی جائے تو بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ پرانا والا ہی تھا، جو نکل گیا تھا، اسے دوبارہ لگایا گیا ہے، اس لئے محض اس وجہ سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بعد میں آئیں گے پھر ان کی وفات ہوگی، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیثیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے نبی کی ہوگئی ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مقدم ہیں، مقدم رہیں گے، اور جب ان کا دوبارہ نزول ہوگا تو اپنی شریعت کی تبلیغ کے لئے نہیں، بلکہ شریعت محمدی کے لئے ہوگا.
بہرحال اس سلسلے میں مزید شرحِ صدر کے لئے میں نے شیخِ محترم حافظ عبدالحسیب عمری مدنی حفظہ اللہ سے رابطہ کیا، تو انہوں نے مختصرا جواب لکھا جسے میں قارئین کے فائدے کے لئے یہاں شئیر کردیتا ہوں.
"رہی یہ بات کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول کیا یہ ختم نبوت کے منافی ہے؟ اس سے پہلے ایک سوال یہ بھی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کس حیثیت سے آئیں گے؟ تو اس کے بارے میں دو قول ہیں، ایک تو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے، اور دوسرا یہ کہ ان کی نبی کی حیثیت زائل نہیں ہوگی جیسا کہ صاحب پوسٹ نے مفتی شفیع رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ میں نبی رہیں گے، مگر ان کی نبوت کا جو تشریعی پہلو ہے وہ منسوخ ہوچکا ہے، وہ نبی ہیں، لیکن ان کی تشریعی حیثیت ختم ہوگئی ہے، اور تشریعی حیثیت ختم ہونے کے بعد وہ اگر آرہے ہیں تو ظاہر بات ہے ختم نبوت اپنی جگہ باقی ہے اور ان کی آمد بھی اپنی جگہ باقی ہے، تشریعی حیثیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ختم کردی گئی، تو پھر اس میں ٹکراؤ کہاں ہے؟ کیا کسی ایک بھی روایت میں اس کا ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے تو اپنی شریعت پر عمل کریں گے، یا اپنی شریعت کی طرف دعوت دیں گے؟
اس سلسلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نزول عیسی علیہ السلام کی حکمت پر بات کی ہے کہ اصل میں حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے زندہ اٹھالیا تھا، اس لئے اللہ تعالی کا جو دستور ہے "کل نفس ذائقة الموت” اس کے مطابق زمین پر دوبارہ ان کا بھیجا جانا ضروری ہے، تاکہ وہ زمین پر آئیں اور آکر وہ طبعی موت کا سامنا کریں، اور اللہ تبارک و تعالی کا جو قانون ہے، "کل نفس ذائقة الموت” اس سے وہ بھی گزر کر جائیں، اس مقصد سے اللہ تعالی دوبارہ ان کو دنیا میں بھیجے گا، اور انہیں قیامت کی نشانی بنائے گا، یہ سب اللہ تعالی کے مقاصد ہیں.
خلاصہ یہ ہے تمام احادیث میں کہیں اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خود اپنی نبوت کے مبلغ بن کر آئیں گے، سوال ختم نبوت کا اس وقت اٹھتا ہے جب
1۔ آپ حضرت عیسی علیہ السلام کو یا تو نیا نبی مانیں،
2۔ یا یہ مانیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ آکر اپنی پرانی شریعت پر عمل کریں گے.
یہ دو ہی صورتیں ہیں، اگر آپ ان دو صورتوں کے بغیر حضرت عیسی علیہ السلام کو مانتے ہیں کہ وہ دنیا میں آئیں گے، یعنی وہ نئے نبی نہیں ہیں، وہ پرانے نبی ہیں، کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آرہے، اور دوسری یہ کہ وہ آئیں گے بھی تو اپنی شریعت پر عمل نہیں کروائیں گے، نہ عیسائیوں کو، نہ مسلمانوں کو، تو جو نبوت کے خاتمے کی بات ہے وہ اپنی جگہ پر باقی ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت بھی باقی ہے۔جس طرح دو مختلف علاقوں کے انبیاء یکجا ہوئے ۔۔۔ حضرت موسی حضرت خضر کے علاقہ میں گئے تو ان کی نبوت باقی رہی مگر ان کی شریعت وہاں نافذ نہ تھی ۔۔ وہاں حضرت خضر کی شریعت نافذ تھی ۔۔۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ امتی کی حیثیت سے آئیں گے تو ظاہر بات ہے ان کا مقصد یہی بتلانا ہے کہ عیسی علیہ السلام نئی شریعت یا اپنی شریعت پر عمل نہیں کروائیں گے بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ہی عمل کریں گے۔۔
مذکورہ دونوں صورتوں میں یہ بات صاف ہے کہ ختم نبوت کے معاملہ سے عیسی علیہ السلام کے نزول کا کوئی لینا دینا نہیں ۔۔یہ محض بنا سوچے سمجھے دو باتوں کو آپس میں گڈ مڈ کردینے والی بات ہے "….انتہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے