مسلم دنیا کی خلا میں چھلانگ!

Spread the love


خضر جواہری

گذشتہ دنوں پہلے یہ خوشکن خبر سننے میں آئی کہ متحدہ عرب امارات نے پہل کرتے ہوئے مسلم اور عرب دنیا سے پہلی بار امل نامی ایک اکتشافی جہاز خلا میں بھیجا۔ گرچہ متحدہ عرب امارات سے اکثر بری اور مسلم دنیا کو برباد کرنے والی خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں لیکن یہ خبر بہت ہی حوصلہ افزا تھی اور اس اقدام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مسلم دنیا جو ابھی شکستہ حالی اور بیخ کنی کی شکار ہے اور اندرونی و بیرونی دشمنوں سے گھری ہوئی ہے اسے آگے بڑھانے کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ کیونکہ ہر چیز پاور اور قوت پر آکر ختم ہو جاتی ہے اور قوت کا حصول سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اگر ہم گذشتہ پانچ چھ صدیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی ملے گا کہ عہد وسطی میں جہاں ایک طرف یورپ میں علم کے میدان میں برق رفتاری کے ساتھ ترقی ہو رہی تھی تو ہم "پدرم شہنشاہ است” کے نشہ میں چور سوئے رہے۔ اور سب سے بڑی چوٹ مسلم دنیا کو تب لگی جب پندرہویں صدی کے آخری عشرے میں یورپیوں نے امریکا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کر لیا کیونکہ اس سے قبل جو بھی عالمی تجارت ہوتی تھی اور یورپ تک مشرق سے جو بھی سامان پہنچتا تھا وہ سب مسلم دنیا سے ہوکر گزرتا تھا۔ چنانچہ نئے راستہ کی دریافت سے قبل ہم پاتے ہیں کہ مصر کافی خوشحال ملک تھا اور اس کا سہرا اس کے راستے سے ہوکر گزرنے والی تجارتی شاہراہ تھی۔ لیکن جب یورپیوں کو نیا راستہ مل گیا تو ان کا مسلم دنیا سے انحصار ختم ہو گیا اور شاہراہ ِ ابریشم Silk Road اپنی موت آپ مر گیا اور وہی دوسری طرف کچھ ہی سالوں کے اندر اندر یورپ کے ممالک نے دنیا کے سمندروں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ بحر عرب جو پہلے ایک طرح سے عربوں کی جاگیر تھا اس سے انہیں ہاتھ دھونا پڑ گیا اور تجارت کے ذریعے جو فراوانی اور دولت میسر آتی تھی وہ جاتی رہی۔ بجائے اس کے کہ مسلم دنیا نئی کالونیاں بسائے وہ خود یورپ کی کالونی بننے لگی۔ اور آج تین صدیوں کے استعمار کے بعد ہم اس حالت تک پہنچ گئے۔
لہذا وقت سے آگے دیکھنا اور وقت کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اب زمینی استعمار کا دور ختم ہو گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں اور وقت سے آگے دیکھ رہا ہوں کہ ایک نئے قسم کے استعمار کا دور شروع ہوگا۔ اور مسلم دنیا جتنا جلدی اس حقیقت کا ادراک کرلے اس کے لئے اتنا ہی فائدہ مند اور سود مند ہوگا۔ اور وہ ہے خلائی استعمار۔ اب اس کرہ ارض پر کوئی نا دریافت شدہ زمین تو نہیں بچی جسے ہم اپنی کالونی بنا سکیں لیکن ہمارے سامنے وسیع ترین خلا موجود ہے اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات ابھی کچھ لوگوں کو مذاق لگے لیکن آنے والا وقت بتا دے گا کہ یہ بات کتنی سنجیدہ تھی۔ ہمیں چاند کو اور دیگر سیارے جیسے عطارد ، زہرہ، مریخ وغیرہ کو جتنی جلدی اپنی کالونی بنا لیں ہمارے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ویسے بھی زمین کے وسائل اب بہت زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والے کیونکہ گذشتہ ایک ڈیرھ صدی سے حضرت انسان نے بری طرح اس کے وسائل کو نچوڑا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ چاند اور دیگر سیاروں پر ہمیں بیش بہا وسائل کے بھنڈار ہاتھ لگیں۔ اس کے علاوہ بھی ہمیں دوسرے سیاروں کی اشد ضرورت ہے۔

اگر ہم گذشتہ پانچ چھ صدیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی ملے گا کہ عہد وسطی میں جہاں ایک طرف یورپ میں علم کے میدان میں برق رفتاری کے ساتھ ترقی ہو رہی تھی تو ہم "پدرم شہنشاہ است” کے نشہ میں چور سوئے رہے۔ اور سب سے بڑی چوٹ مسلم دنیا کو تب لگی جب پندرہویں صدی کے آخری عشرے میں یورپیوں نے امریکا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کر لیا کیونکہ اس سے قبل جو بھی عالمی تجارت ہوتی تھی اور یورپ تک مشرق سے جو بھی سامان پہنچتا تھا وہ سب مسلم دنیا سے ہوکر گزرتا تھا۔ چنانچہ نئے راستہ کی دریافت سے قبل ہم پاتے ہیں کہ مصر کافی خوشحال ملک تھا اور اس کا سہرا اس کے راستے سے ہوکر گزرنے والی تجارتی شاہراہ تھی۔ لیکن جب یورپیوں کو نیا راستہ مل گیا تو ان کا مسلم دنیا سے انحصار ختم ہو گیا اور شاہراہ ِ ابریشم Silk Road اپنی موت آپ مر گیا اور وہی دوسری طرف کچھ ہی سالوں کے اندر اندر یورپ کے ممالک نے دنیا کے سمندروں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ بحر عرب جو پہلے ایک طرح سے عربوں کی جاگیر تھا اس سے انہیں ہاتھ دھونا پڑ گیا اور تجارت کے ذریعے جو فراوانی اور دولت میسر آتی تھی وہ جاتی رہی۔ بجائے اس کے کہ مسلم دنیا نئی کالونیاں بسائے وہ خود یورپ کی کالونی بننے لگی۔ اور آج تین صدیوں کے استعمار کے بعد ہم اس حالت تک پہنچ گئے۔

ہم جانتے ہیں کہ انسانوں نے ایسے خطرناک ہتھیار بنا رکھے ہیں کہ جن کے ذریعے ہماری پوری زمین کو کئی بار برباد کیا جا سکتا ہے، ایسے میں ہمیں کسی محفوظ جگہ کی ضرورت ہوگی جہاں ہم پناہ لے سکیں اور اپنی لڑائی زندہ رہ کر جاری رکھ سکیں اور ظاہر ہے یہ جگہ چاند اور دیگر سیاروں کی صورت میں ہمیں ملے گی۔ ان سب کے علاوہ اب ہمیں ایک خلائی فوج کے تشکیل کی اشد ضرورت ہے اور امریکہ نے تو اس سمت میں پہل کر بھی دی ہے۔ آنے والے وقتوں میں لڑائی کی نوعیت بدل جائے گی اور ٹکنالوجی میں ترقی کی وجہ اب بہت سے ممالک براہِ راست خلا سے دشمن ممالک کی زمین پر حملہ کریں گے اور اس طرح کا حملہ کم ترقی یافتہ ممالک کے لئے بہت غیر متوقع ہوگا۔
اب یہ الگ بات ہے کہ فقہاء کرہ ارض کے علاوہ دوسرے کسی سیارہ پر جاکر بسنے کو جائز قرار دیں گے یا نہیں اور وہاں پر جاکر بسنے سے بہت سے فقہی مسائل جنم لیں گے جنکا جواب دینا ان کے لئے آسان نہیں ہوگا جیسے یہی بات کہ وہاں نماز کی توقیت کی کیا شکل ہوگی اور قبلہ کس رخ ہوگا کیونکہ ظاہر ہے کہ کعبہ کو تو کرہ زمین پر سے اٹھاکر وہاں نہیں لے جاسکتے۔ یا پھر یہ کہ وہاں زمین والی شریعت قائم کی جائے یا ان سیاروں کے لئے کچھ الگ کیا جائے۔ وہاں پر حج کیسے کریں، کیا اس کے لئے ہمیں لمبا راستہ طے کرکے زمین پر آنا ہوگا یا وہیں کوئی کعبہ بنا لیا جائے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ابھی بھی ایسے جنم لے چکے ہیں جن کا جواب دینے میں مشکل ہو رہی ہے جیسے یہی بات دیکھ لیجیے کہ آیا انسانی روبوٹ سے مباشرت کرنا "زنا” میں شمار کیا جائے یا اسے مشت زنی کی کیٹیگری میں رکھا جائے۔ لیکن ان سب باتوں کو ہم آنے والی نسلوں کے فقہاء پر چھوڑتے ہیں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہوگی لیکن سائنس کی دنیا کی ایک کہاوت ہے کہ "جب ٹرین چل رہی ہے تو ہم اسے مس نہیں کر سکتے”. لہذا مسلم دنیا کو ہر حال میں خلائی اور مابعد ارضی استعمار کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہی ہوگا ورنہ اس کا وجود اس کرہ ارض پر ہی ختم ہو جائے گا۔

خضر شمیم

خضر شمیم

Muhammad Khizr Shamim hails from Muzaffar pur, Bihar. After learning the Quran by heart in his childhood, he turned to the famous seminary Madrasa al-Islah and there studied up to Fazilat. For higher education, he got admitted at Jawaharlal Nehru University in Delhi, where he did BA and MA in Arabic Language and Literature, then worked for a few months at Amazon and now works as a freelancer. From time to time his articles keep on appearing on various newspapers and social media platforms. You may contact him: [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے